اگرکوئی شخص مصنوعی دانت لگواچکاہوتوکیااس کی وفات کے وقت اس کےوہ مصنوعی دانت اکھیڑنا ضروری ہوگایانہیں؟

الجواب حامداًومصلیاً

آسانی سےنکل سکتےہوں تونکال لیں ورنہ نہیں۔

لمافی المحیط البرھانی:(8/51،داراحیاءالتراث)
وعلی ھذاالاختلاف اذاسقط سنہ،فارادان یتخذسناآخر،علی قول ابی حنیفۃیتخذمن الفضۃدون الذھب وعندمحمد رحمہ اللہ تعالی یتخذمن الذھب ایضا
وفی الموسوعةالفقھیة:(25/273،علوم اسلامیہ)
“ذھب جمھورالفقھاءالی انہ یجوزللرجل ان یتخذسنامن الذھب،والفضۃوان تعددت ۔ “
وکذافی التاتارخانیة :(18/131،فاروقیہ)
وکذافی البحرالرائق:(8/350،رشیدیہ)
وکذافی حاشیةالطحطاوی علی الدر:(1/382،قدیمی)
وکذافی حاشیةالطحطاوی علی مراقی الفلاح:(1/598،قدیمی)
وکذافی الشامیة:(3/172،رشیدیہ)
وکذافی الھندیة:(1/158،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمدعمرفاروق بن عبدالمؤمن بہاولپور
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
8/9/1443/2022/4/10
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:121

آج کل میت کودفن کرنےکےبعدجب قبربندکی جاتی ہےتوکچی اینٹ یالکڑیوں کی بجائےبجری اورسیمنٹ سےبنی ہوئی سلیپ رکھ کربندکی جاتی ہےپھراس کےاوپرمٹی ڈال دی جاتی ہےیہ پکی سلیپ استعمال کرناکیساہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

جائزہے۔

لمافی الشامیةومتنہ:(3/167،رشیدیہ)
ویسوی اللبن علیہ والقصب لاالآجر) المطبوخ والخشب لوحولہ،امافوقہ فلایکرہ۔
قولہ:( لوحولہ الخ) قال فی الحلیۃ: وکرہواالآجروالواح الخشب۔ وقال الامام التمرتاشی: ھذااذاکان حول المیت، فلوفوقہ لایکرہ لانہ یکون عصمۃمن السبع ۔ وقال مشایخ بخاری: لایکرہ الآجرفی بلدتنا للحاجۃ الیہ لضعف الاراضی۔
وفی حاشیةالطحطاوی علی مراقی الفلاح:(1/610،قدیمی)
ولذاقال بعض مشایخنا: انمایکرہ الآجراذااریدبہ الزینۃامااذااریدبہ دفع اذی السباع،اوشیئ آخرلایکرہ۔
قولہ:( ولذاقال بعض مشایخنا) قال فی الخانیۃ: یکرہ الآجراذاکان ممایلی المیت امافیماوراءذلک فلابأس ۔
وکذافی حاشیةالطحطاوی علی الدر:(1/381،رشیدیہ)
وکذافی الموسوعةالفقہیة:(21/14،علوم اسلامیہ)
وکذافی الخانیةعلی الھندیة:(1/194،رشیدیہ)
وکذافی التاتارخانیة:(3/68،فاروقیہ)
وکذافی مجمع الانھر:(1/275،المنار)
وکذافی البحرالرائق:(2/340،رشیدیہ)
وکذافی بدائع الصنائع:(2/61،رشیدیہ)
وکذافی المختصرفی الفقہ الحنفی:(1/222،البشری)

واللہ اعلم بالصواب
محمدعمرفاروق بن عبدالمؤمن بہاولپور
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
8/9/1443/2022/4/10
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:124

تعزیت کیلئےآنےوالوں کیلئےلوگ چوراہے،ڈیرے،مساجدومدارس وغیرہ میں بیٹھتےہیں،پوچھنایہ ہے کہ آنےوالےدعاکاکہتےہیں یاہاتھ اٹھاکردعاکرواتےہیں،اس طرح دعاکی شرعی حیثیت کیاہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

صورت مسئولہ میں تعزیت کےلئےہرآنےوالےکادعاکیلئےہاتھ اٹھانااورباقی سب لوگوں کااس کےساتھ مل کردعاکرنااور پھراس کاالتزام کرنابدعت ہے،تعزیت کا بہترین طریقہ وہ ہےجورسول اللہﷺسےثابت ہے”اِنَّ لِلہِ مَااَخَذَوَلَہُ مَااَعۡطیٰ وَکُلُّ شَئیٍ عِندَہُ بِاَجَلٍ مُسَمّٰی”یاپھران الفاظ کےساتھ”اَعۡظَمَ اللہُ اَجۡرَکَ وَاَحۡسَنَ عَزَاءَکَ وَغَفَرَلِمَیِّتِکَ”یاان کےہم معنی الفاظ کےساتھ اہل میت کوتسلی دے۔

لمافی مشکوٰةالمصابیح:(1/150،حقانیةملتان)
عن اسامۃ بن زیدقال ارسلت ابنۃالنبی صلی اللہ علیہ وسلم الیہ ان ابنالی قبض فاتنافارسل یقرئ السلام ویقول ان للہ مااخذولہ مااعطی وکل عندہ باجل مسمی فلتصبرولتحتسب فارسلت الیہ تقسم علیہ لیاتینَّھافقام ومعہ سعدبن عبادۃومعاذبن جبل وابیّ بن کعب وزیدبن ثابت ورجال فرُفع الیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الصبی ونفسہ تتقعقع ففاضت عیناہ فقال سعدیارسول اللہ ماھذافقال ھذہ رحمۃجعلھااللہ فی قلوب عبادہ فانمایرحم اللہ من عبادہ الرحماء متفق علیہ
وفی الشامیة:(3/174،رشیدیہ)
“والتعزیۃان یقول: اعظم اللہ اجرک،واحسن عزاءک وغفرلمیتک ۔ “
وکذافی الھندیة:(1/167،رشیدیہ)
وکذافی صحیح البخاری:(1/171،قدیمی)
وکذافی الصحیح لمسلم:(1/301،قدیمی)
وکذافیہ ایضا :(1/300،قدیمی)
وکذافیہ ایضا :(1/300،قدیمی)

واللہ اعلم بالصواب
محمدعمرفاروق بن عبدالمؤمن بہاولپور
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
8/9/1443/2022/4/10
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:120

آج کل بعض مقاما ت پراہل میت کی طرف سےتعزیت کرنےوالوں کودعوت کی جاتی ہےکھاناوغیرہ کھلایا جاتاہے،ایساکرناشرعاکیساہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

اگرلازم سمجھ کراورشرعی حکم سمجھ کریابطوررسم کی جائےتومکروہ اوربدعت ہے،اگرمہمانوں کےکھانےکی ضرورت سےکی جائےتوگنجائش ہے۔

لمافی البحرالرائق:(2/337،رشیدیہ)
ولابأس بالجلوس الیھاثلاثامن غیرارتکاب محظورمن فرش البسط والاطعمۃمن اہل البیت لانھاتتخذعند السرور
وفی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/346،الطارق)
ومن بدع التعزیۃ القبیحۃ المنتشرۃفی بعض المجتمعات الاسلامیۃ المخالفۃ لمامر معنامن السنۃ،تقدیم اہل المیت الطعام للمعزین
وکذافی التاتارخانیة:(3/95،فاروقیہ)
وکذافی الھندیہ:(1/167،رشیدیہ)
وکذافی الشامیہ:(3/175،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(2/1578،رشیدیہ)
وکذافی الموسوعةالفقھیة:(12/290،علوم اسلامیہ)
وکذافی حاشیةالطحطاوی علی الدر:(1/383،رشیدیہ)
وکذافی مراقی الفلاح متن حاشیةالطحطاوی:(1/617،قدیمی)
وکذافی البزازیة علی ھامش الھندیة:(4/81،رشیدیہ)

 

واللہ اعلم بالصواب
محمدعمرفاروق بن  عبدالمؤمن بہاولپور
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
23/8/1443/2022/3/26
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:125

میت کو غسل دیتے وقت مکمل غسل تک ہاتھ پرلفافہ پہننا ضروری ہے یاصرف ستر کو ہاتھ لگاتے وقت لفافہ پہننا ضروری ہے؟

الجواب حامداومصلیا

صرف ستر کو ہاتھ لگاتے وقت ہاتھ پر دستانہ وغیرہ پہننا ضروری ہےنہ کے پورے غسل میں ،لیکن اگر پورے غسل میں لفافہ پہن لے توبھی کوئی حرج نہیں ہے۔

لمافی المحیط البرھانی:(3/45،ادارة القراٰن)
ویلف الغاسل علی یدیہ خرقۃویغسل السوأۃ،لأن مس العورۃ حرام کالنظر،فیجعل علی یدیہ خرقۃ لیصیر حائلا بینہ وبین العورۃ
وکذافی الھندیة:(1/158،رشیدیہ)
وصورۃ استنجائہ أن یلف الغاسل علی یدیہ خرقۃ ویغسل السوأۃ لان مس العورۃ حرام کالنظر الیھا …………و لا ینظر الرجل الی فخذ الرجل عند الغسل وکذا المرأۃ لاتنظر الی فخذ المرأۃ
وکذافی المختصر فی الفقہ الحنفی:(214،البشری)
وکذافی الفقہ الاسلام،ی وادلتہ:(2/1493،رشیدیہ)
وکذافی بدائع الصنائع:(2/25،رشیدیہ)
وکذافی البحرالرائق:(2/301،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(3/5،فاروقیہ)
وکذافی التنویر مع الدر:(3/101،رشیدیہ)
وکذافی مجمع الانھر:(1/264،المنار)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:فیصل نذیر غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
3،7،1443/2022،2،5
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:124

تعزیت کے لیے مسجد میں بیٹھنا کیسا ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

مسجد میں تعزیت کے لیے بیٹھنا فقہاء رحمھم اللہ کے ہاں مختلف فیہ ہے، بعض کے ہاں جائز اور بعض کے ہاں مکروہ ہے، البتہ ہمارے زمانے میں چونکہ لوگوں میں دین سے واقفیت بہت کم ہے، اب اگر مسجد میں تعزیت کی اجازت دی جائے تو دوسری خرابیاں سامنے آئیں گی مثلاً حقہ وسگریٹ نوشی، مسجد کے اندر غیبت، چغلخوری، فضول گوئی اور دنیاوی باتیں وغیرہ شروع ہو جائیں گی، اس لیے مسجد میں تعزیت کے لیے بیٹھنا جائز نہ ہو گا۔

لمافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(2/1572،رشیدیہ)
یجلس المعزی عند المصاب للتعزیۃ لما فی ذلک من استدامۃ الحزن وقال الحنفیۃ لابأس بالجلوس للتعزیۃ فی غیر المسجد ثلاثۃ ایام واولھا افضل
وفی حاشیة الطحطاوی علی الدر المختار:(1/383،رشیدیہ)
الجلوس فی المسجد ثلاثۃ ایام للتعزیۃ مکروہ وفی غیرہ جازت الرخصۃ ثلاثۃ ایام للرجال و ترکہ احسن
وکذافی الفتاوی السراجیہ:(315،زمزم)
وکذافی الشامیة:(3/176،دارالمعرفہ)
وکذافی الموسوعة الفقہیة:(12/288،علوم اسلامیہ)
وکذافی خلاصة الفتاوی:(4/342،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(3/95،فاروقیہ)
وکذافی الھندیہ:(1/167،رشیدیہ)
وکذافی غنیة المتملی:(612،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمداحسن ابراہیم غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
24/8/1443-2022/3/28
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:92

پکی اینٹوں کی قبر بنانا کیسا ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

پکی اینٹوں سے قبر بنانا جائز نہیں، البتہ اگر زمین نرم ہو یا قبر کے گر جانے کا اندیشہ ہو اور پکی اینٹوں کے بغیر گزارہ نہ ہوتو پھر اس کی گنجائش ہے۔

لمافی بدائع الصنائع:(2/61،رشیدیہ)
الآجر والخشب للعمران ولان الآجر مما یستعمل للزینۃ ولاحاجۃ الیھا للمیت ولانہ مما مستہ النار فیکرہ ان یجعل علی المیت تفاؤلا کما یکرہ ان یتبع قبرہ بنار تفاؤلا، وکان الشیخ الامام ابوبکر محمد بن الفضل البخاری یقول لابأس بالآجر فی دیارنا لرخاوۃ الاراضی ۔
وفی الموسو عة الفقہیة:(21/14،علوم اسلامیہ)
یکرہ وضع الآجر المطبوخ الا اذا کانت الارض رخوۃ لانھا تستعمل للزینۃ ولاحاجۃ للمیت الیھا ولانہ مما مستہ النار
وکذافی الشامیة:(3/167،رشیدیہ)
وکذافی الھدایة:(1/292،بشری)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(2/1551،رشیدیہ)
وکذافی البحر الرائق:(2/340،رشیدیہ)
وکذافی الھندیة:(1/166،رشیدیہ)
وکذافی المختصر فی الفقہ الحنفی:(222 ،بشری)
وکذافی المحیط البرہانی:(3/92،ادارة القران)

واللہ اعلم بالصواب
محمداحسن ابراہیم غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
24،8،1443/2022،3،28
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:89

بیوی کے کفن وغیرہ کا خرچہ شوہر کے ذمہ ہے یا اس خاتون کے بھائی اور والد کے ذمہ ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

شوہر کے ذمہ ہے۔

لمافی خلاصة الفتاوی:(1/220،رشیدیہ)
فالکفن علی من یجب علیہ النفقۃ الا الزوج فی قول محمد وعند ابی یوسف یجب الکفن علی الزوج وان ترکت مالا و علیہ الفتوی
وفی الھندیہ:(1/161،رشیدیہ)
فالکفن علی من تجب علیہ النفقۃ الا ازوج فی قولہ محممد رحمہ اللہ تعالی وعلی قول ابی یوسف رحمہ اللہ تعالی یجب الکفن علی الزوج وان ترکت مالا وعلیہ الفتوی
وفی الموسوعة الفقہیة:(13/242،علوم اسلامیہ)
“وعلی الزوج تکفین زوجتہ عند الحنفیۃ علی قول مفتی بہ۔”
وکذافی المحیط البرھانی :3(68/ادارة القران،)
وکذافی الشامیة :(3/119،دار المعرفہ)
وکذافی بدائع الصنائع:(2/42،رشیدیہ)
وکذافی البحر الرائق:(2/311،رشیدیہ)
وکذافی الخانیة علی ھامش الھندیہ:(1/189،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمداحسن ابراہیم غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
19،9،1443/2022،4،21
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:188

قبر ستان میں داخل ہونے کا مسنون طریقہ کیا ہے۔

الجواب باسم ملھم الصواب

قبرستان میں جب جائیں تو سب سے پہلے “السَّلَامُ عَلَيْكُمْ يَا أَهْلَ الْقُبُورِ يَغْفِرُ اللَّہُ لَنَا وَلَكُمْ أَنْتُمْ سَلَفُنَا وَنَحْنُ بِالْأَثَرِ”کہے یا پھر “السلامُ عليكم دَارَ قوم مُؤمنينَ، وإنَّا إن شاء اللهُ بكُم لاحِقُون” کہے، پھر میت کے پاوں والی طرف سے میت کے چہرے کی جانب کھڑا ہو،پھر میت کے لیے دعائے مغفرت کرے۔

لما فی سنن ابی داود : (2/ 107، رحمانیة )
“عن أبي هريرة: أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- خرج إلى المقبرة، فقال: “السلام عليكم دار قوم مؤمنين، وإنا إن شاء الله بكم لاحقون”
وکذا فی جامع الترمذی : (1/329، رحمانیة)
عن ابن عباس، قال: مر النبي صلى الله عليه وسلم بقبور بالمدينة، فأقبل عليهم بوجهه، فقال: السلام عليكم يا أهل القبور! يغفر الله لنا ولكم، أنتم سلفنا، ونحن بالأثر
وکذا فی الصحیح لمسلم : ( 1/370، رحمانیة )
وکذا فی الدر المختار : (3/179،دارالمعرفہ )
وکذا فی سنن ابن ماجہ : ( 222، رحمانیة )
وکذا فی تحفة الاحوذی :(4/149،قدیمی )
وکذا فی شرح الطیبی : (3/433،الکتب العلمیة )
وکذا فی مشکاۃ المصابیح : (1/156،رحمانیة )
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ : (2/1571،رشیدیہ)
وکذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید : (1/348،الطارق )

واللہ اعلم بالصواب
محمد مظہر اقبال عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
27، 5، 1440/ 2019، 2، 3
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:137

ایک شخص کاسخت سردی کےدنوں میں انتقال ہوا،وہ رضائی میں لپٹاہواتھا ،اب مر نے کے بعد وہ رضائی اتار دیں ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اس مر نے والے شخص سے رضائی اُتاردی جا ئے اورکسی بڑی چادرسےڈھا نپ دیاجائے۔

لمافی البحر الرائق: (1/301،رشیدیہ)
” قالوا: يجرد كما مات؛ لأن الثياب تحمى فيسرع إليه التغيير.”
وفی: مجع الانھر:(1 / 265، المنار)
” (ويجرد) عن ثيابه ليمكن التنظيف قالوا يجرد كما مات لأن الثياب يحمي فيسرع التغيير. “
وکذافی تبیین الحقائق: ( 1/236 ، رشیدیہ)
وکذا فی الفتاوی الشامية : ( 3/ 101، رشیدیہ)
وکذافی الھندية ( 1/ 157 ، رشیدیہ)
وکذا فی اعلاالسنن: (8 / 215، ادارۃالقرآن)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ: ( 2/ 1490،رشیدیہ )
وکذا فی الھداية: ( 1/ 189، المیزان)
وکذافی البناية: (3 /212 ، رشیدیہ)
وکذا فی فتح القدیر: ( 2/ 190، رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمدعلیم اللہ غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
20-6-1440،2019-02-26
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:115