ایک شخص نفل نماز پڑھ رہا ہے تو نذر کی نماز والا اس کی اقتداء کر سکتا ہے یا نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

نذر کی نماز پڑھنے والانفل پڑھنے والے کی اقتداء نہیں کر سکتا۔

لما فی الشامیة: ( 2/ 392،رشیدیہ )
ولا ناذر بمتنفل لأن النذر واجب فیلزم بناء القوی علی الضعیف
وفی المبسوط: (1 /136، دار المعرفہ)
فأما المفترض اذا اقتدی بالمتنفل عندنا فلا یصح الاقتداء
وکذافی المحیط البرھانی: (2 /196 ،دار احیاء )
وکذا فی الھندیة : (1 /86 ،رشیدیہ )
وکذا فی الفقہ الحنفی: (1 /266 ،طارق )
وکذا فی الھدایة: (1 /90 ،بشری )
وکذا فی الفقہ الاسلامی: (2 /1242 ،رشیدیہ )
وکذا فی الموسوعة الفقھیہ التجرید : (2 /828 ،محمودیہ )
وکذا فی البحر الرائق: (1 /632 ،رشیدیہ )
وکذا فی التاتار خانیة : (2 /268 ،فاروقیہ )

واللہ اعلم بالصواب
ضیاءالرحمان عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2022 /11/38/5/1444/
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:130

ایک شخص نے تین گھنٹوں میں عمرہ مکمل کر لیا ہے اور عمرے کے احرام کے دوران ہی سلے ہوئے کپڑےپہن لیے تو کیا اس شخص پر دم واجب ہوگا یا صدقہ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ میں اس شخص پر صدقہ واجب ہوگا۔

لما فی المبسوط : (4 /126 ،بیروت )
وکذلک لو لبس قمیصا أو سراویل أوقلنسوۃ یوما الی للیل فعلیہ دم وان کان فیما دون ذلک فعلیہ صدقۃ
وفی حاشیة الدرالمختار: (2 /547 ،سعید )
لوأحرم بنسک وھو لابس المخیط وأ کملہ فی أقل من یوم وحل منہ لم أر فیہ نصا صریحا و مقتضی قولھم أن الارتفاق الکامل الموجب للدم لا یحصل الا بلبس یوم کامل أن تلزمہ صدقۃ
وکذافی الھدایہ : (1 /420 ،بشری )
وکذا فی بدائع الصنائع: ( 2/410 ،رشیدیہ)
وکذافی خلاصة الفتاوی: (1 /270 ،رشیدیہ )
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة: (3 /574 ،فاروقیہ )
وکذافی البحر الرائق : (3 / 10 ، رشیدیہ)
وکذا فی غنیةالناسک : ( 71 ،ادارة القرآن )
وکذافی الھندیة: (1 /242 ،رشیدیہ )
وکذا فی ارشاد الساری: ( 509 ،فاروقیہ )
وکذافی غنیةالنا سک: ( 196 ،ادارة القرآن )

واللہ اعلم بالصواب
ضیاءالرحمان عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
23/5/1444 /2022/12/18
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:156

بیوی کو ڈرانے کے لیے کاغذ پر تین بار صرف لفظ طلاق لکھ کر اس کے بیڈ پر رکھ دیا اور اس کی طلاق کی نیت بھی نہیں تھی اور کوئی نسبت بھی نہیں تھی اور مطالبہ طلاق بھی نہیں تھا تو طلاق واقع ہوگی یا نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اگر سوال حقیقت پر مبنی ہے تو صورت مسئولہ میں طلاق نہیں ہوگی۔

لما فی بدائع الصنائع : (3 / 173، رشیدیہ)
واما النوع الثانی فھو ان یکتب علی قرطاس او لوح او ارض او حائط کتابۃ مستبینۃلکن لا علی وجہ المخاطبۃامراتہ طالق فیسال عن نیتہ فان قال نویت بہ الطلاق وقع وان قال لم أنو بہ الطلاق صدق فی القضاء
وفی الفقہ الاسلامی: ( 9/ 6902، رشیدیہ)
واما الکتابۃ غیر المرسومۃ فھی التی لا تکتب الی عنوان الزوجۃاو باسمھا ولا توجہ الیھا کالرسائل المعروفۃکأن یکتب الرجل فی ورقۃزوجتی فلانۃطالق وحکمھا حکم الکنایۃولو کان اللفظ صریحا لا یقع بھا الطلاق الا بالنیۃ
وکذافی المحیط البرھانی: (4 /485 ،دار احیاء )
وکذا فی الھندیة : (1 /378 ،رشیدیہ )
وکذا فی الشامیہ : (4 /442 ،رشیدیہ )
وکذا فی الشرح البحرالرائق : (2 / 433،رشیدیہ )
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة: (2 / 530 ،فاروقیہ )
وکذا فی کتاب الفقہ : (3 /225 ،حقانیة)
وکذا فی خلاصة الفتاوی : (2 / 91 ،رشیدیہ )
وکذا فی فتح القدیر : (4 /61 ،رشیدیہ )

 

واللہ اعلم بالصواب
ضیاءالرحمان عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2022 /11/3/8/5/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:96

بغیر وضو کے اذان اور اقامت کہنا کیسا ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اذان اور اقامت با وضو کہنا ہی اولیٰ و افضل ہےلیکن اگر کسی نے وضوکےبغیر اذان و اقامت کہہ دی تو اذان جائز ہوگی اور اقامت مکروہ ہے۔

لما فی تنویرالابصار مع الدر المختار : ( 2/ 75،رشیدیہ )
و یکرہ اذان جنب واقامتہ محدث لا اذانہ علی المذھب
وفی الھدایة: (1 / 150 ، بشری)
و ینبغی ان یؤذن و یقیم علی طھر فان اذن علی غیر وضوء جاز لانہ ذکر ۔۔۔۔۔۔۔ و یکرہ ان یقیم علی غیر وضوء
وکذافی البحرالرائق: ( 1/ 458 ،رشیدیہ )
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیہ : ( 2/ 143، فاروقیہ)
وکذا فی الھندیة : (1 / 54،رشیدیہ )
وکذا فی بدائع الصنائع: (1 / 374 ، رشیدیہ)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ : ( 1/ 709، رشیدیہ)
وکذا فی تبیین الحقائق : ( 1/ 93 ، رشیدیہ)
وکذا فی المبسوط: ( 1/ 131،بیروت )
وکذا فی کنز الدقائق : ( 19 ، حقانیہ)

واللہ اعلم بالصواب
ضیاءالرحمان عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2022/12/12/17/5/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:107

بچی کا نام رامین رکھنا کیسا ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

رامین فارسی زبان کا لفظ ہے اور اس کا معنی:”دیس کے عاشق کا ہے“،لہذا یہ نام رکھنا درست نہیں ہے۔

واللہ اعلم بالصواب
ضیاءالرحمان غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
22/2/2023/1/8/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:63

زمین کو زراعت پر دینے کی صورت میں اگر بیج اس شرط پر کسی نے دیا کہ پیداوار تقسیم کرنے سے پہلے وہ بیج کو نکال دے گاباقی جو بچے گا رب الارض اور مزارع کے درمیان تقسیم ہوگا تو کیا یہ صورت جائز ہے یا نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

سوال میں مذکورہ صورت ناجائز ہے لیکن اگر کسی نے ایسا کر لیا تو جس کا بیج ہے فصل اس کو دے دی جائےگی اور دوسرے کو علاقے کے اصول کے مطابق کام کی اجرت دی جائے گی۔

لما فی شرح المجلة: (4 / 374،رشیدیہ )
لا تصح المزارعۃ وعلی ھذا اذا شرطا لاحدھما البذر لنفسہ وان یکون الباقی بینھما لا تصح المزارعۃ لجواز ان لا تخرج الارض الا قدر البزر
وفی المبسوط: ( 23/ 32، دار المعرفہ)
واذا اشترطا ان یرفع صاحب البذر بذرہ من الریع والباقی بینھما نصفان فھو فاسد
وکذافی الھدایة: ( 4/ 55،بشرٰی )
وکذا فی البزازیة : (3 /175 ، رشیدیہ)
وکذا فی الفقہ الحنفی : ( 5/106 ،طارق )
وکذا فی مجمع الانھر: ( 4/ 141 ،المنار )
وکذا فی تبیین الحقائق: ( 5/280 ، امدادیہ)
وکذا فی کتاب الفقہ : (3 / 10 ،حقانیہ )
وکذا فی الخلاصتہ الفتاوی: ( 4/ 191، رشیدیہ)
وکذا فی البنایہ: (10 /589 ، رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
ضیاءالرحمان عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2022 /11/3/8/5/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:101

ایک آدمی کو رکوع میں یاد آیا کہ دعائے قنوت نہیں پڑھی اس نے واپس آکر دعائے قنوت پڑھی اور بھول کر چوتھی رکعت ساتھ ملا لی آخر میں سجدہ سہو کر لیا تو اس کی نماز ہو گئی یا نہیں ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ میں اگر یہ آدمی تیسری رکعت کے بعد تشہد کی مقدار بیٹھا تھا تو اس کے وتر ہو گئے ورنہ وتر دوبارہ پڑھے ۔

لما فی الشامیہ : (2 /657،رشیدیہ )
لوتذکر القنوت فی الرکوع فالصحیح انہ لا یعود ولو عاد وقنت لا یرتفض رکوعہ وعلیہ السھو لان القنوت اذا اعیدیقع واجباًلا فرضاً
وفی تنویر الابصار مع الدر المختار : ( 2/ 87،ایچ ایم سعید )
وان قعد فی الرابعۃ مثلاً قدر التشہد ثم قام عاد وسلم ولو سلم قائما صح ثم الاصح ان القوم ینتظرونہ فان عاد تبعوہ وان سجد للخامسۃ سلمو لانہ تم فرضہ اذ لم یبق علیہ الاالسلام وضم الیہا سادسۃلو فی العصر وخامسۃ فی المغرب ورابعۃ فی الفجر بہ یفتیٰ لتیصیر الرکعتان لہ نفلاًوالضم ہنا آکداًولا عہدۃ لو قطع ولا بأ س باتمامہ فی وقت کراہۃ علی المعتمد وسجد لسھو فی الصورتین لنقصان فرضہ بتأخیر السلام فی الاولیٰ وترکہ فی الثانیۃ
وکذافی حاشیة الطحطاوی علیٰ مراقی الفلاح : ( 461 ،قدیمی )
وکذا فی الموسوعة الفقہیة : (34 / 63 ، علوم اسلامیہ )
وکذا فی الدر المنتقی : (1 /193 ،المنار )
وکذا فی بدائع الصنائع : (1 /401 ، رشیدیہ )
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیہ : (2 / 423 ،فاروقیہ )
وکذا فی المحیط البرھانی : (2 /244 ،دار احیاء )
وکذا فی الہندیة : (1 / 125 ،رشیدیہ )
وکذا فی کتاب الفقہ : (1 /290 ،حقانیہ )
وکذا فی البحر الرائق: (2 /75 ،رشیدیہ )
وکذا فی حاشیةرد المختار : (2 /86 ،ایچ ایم سعید )

 

واللہ اعلم بالصواب
ضیاء الرحمٰن عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2022/11/3/8/5/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:98

خودکشی کرنے والے شخص کا نماز جنازہ پڑھنا چاہیے یا نہیں ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

خودکشی کرنے والے شخص کا جنازہ پڑھا جائے گا، لیکن ائمہ علماء اور مقتدا حضرات اس کے جنازہ میں شریک نہ ہوں تاکہ یہ اور لوگوں کیلئے عبرت بنے اور آئندہ ایسا قبیح فعل کوئی نہ کرے۔

لما فی الفتاوی الھندیہ : (1 / 163 ،رشیدیہ )
ومن قتل نفسہ عمدا یصلی علیہ عند ابی حنیفۃومحمد رحمھمااللہ وھو الاصح
وفی المحیط البرھانی: ( 3/83 ،دار أحیا تراث )
وأما من تعمد قتل نفسہ بحدیدہ ھل یصلی علیہ اختلف فیہ المشایخ رحمھمااللہ تعالی بعضھم قالوا لا یصلی علیہ وکان الشیخ الامام الأجل شمس الأئمۃ (ابومحمد عبدالعزیزبن احمد الحلوانی رحمہ اللہ تعالی یقول الأصح عندی أنہ یصلی علیہ
وکذافی التاتار خانیہ: ( 3/ 56،فاروقیہ )
وکذا فی الفقہ الاسلامی: (2/ 1509، رشیدیہ)
وکذا فی الفقہ الحنفی:(1/337،طارق)
وکذا فی مجع الانھر:(1/281،المنار)
وکذا فی البحرالرئق:(2/35،رشیدیہ)
وکذا فی الفتح القدیر:(2/159،رشیدیہ)
وکذا فی تبیین الحقائق:(1/25،امدادیہ)
وکذا فی خلاصتہ الفتاوی:(1/217،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
ضیاءالرحمان عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال

15/11/2022/19/4/1444

جلد نمبر:28 فتوی نمبر:50

گھروں میں عورتیں بالوں میں کنگھی کرتی ہیں اور کچھ بال ٹوٹ جاتےہیں یا گر جاتے تو ان بالوں کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

ان بالوں کو زمین میں دفن کر دینا چاہیے۔

لما فی الفتاوی الھندیہ: (5 / 358 ، رشیدیہ)
فاذا قلم أظفارہ أوجز شعرہ ینبغی أن یدفن ذلک الظفر والشعر المجزوز فان رمٰی بہ فلا بأس وان القاہ فی الکنیف او فی المغتسل یکرہ ذلک لان ذلک یورث داء
وفی المحیط البرھانی: (8 / 87،دار احیاء تراث )
ولو قلم أظفارہ اوجز شعرہ یجب أن یدفن وان رمٰی فلا بأس وان القاہ فی الکنیف والمغتسل فھو مکروہ قیل لأنہ یورث الداء
وکذافی الفتاوی التاتار خانیہ : ( 18/ 210، فاروقیہ)
وکذا فی الحاشیة الطحطاوی علی الدرالمختار: ( 4/ 202 ، رشیدیہ)
وکذا فی شعب الایمان : ( 5/ 232، البیروت)
وکذا فی البحر الرائق: (8 / 375 ،رشیدیہ )
وکذا فی مجمع الا نھر: (4 / 226،المنار )
وکذا فی الفتاوی الھندیہ: (5 / 358 ، رشیدیہ)
وکذا فی الفتاوی التارتارخانیہ: ( 18/ 210 ، فاروقیہ)

واللہ اعلم بالصواب
ضیاءالرحمان عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
19/4/1444 /2022/11/15
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:51

اگر کسی کو غسل کی حاجت یعنی احتلام وغیرہ ہو جائے اور وہ غسل کرتے وقت پہلے اس ناپاکی کو نہ دھوئے بلکہ سیدھا غسل کرے اور تین دفعہ اچھی طرح جسم پر پانی بہا لے تو کیا اس کا جسم پاک ہو جائے گا؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اس طرح اگر چہ غسل تو ہو جائے گا ، لیکن ایسا کرنا خلاف سنت ہے۔

لما فی البحرالرائق:(1/82،رشیدیہ)
و فرض الغسل غسل فیہ و انفہ و بدنہ لا دلکہ واد خال الماء داخل الجلدۃ للاقلف و سنۃ ان یغسل یدیہ و فرجہ و نجاسۃ لو کانت علی بدنہ
وفی الھندیة:(1/14،رشیدیہ)
و ھی ان یغسل یدیہ الی الرسغ ثلاثا ثم فرجہ و یزیل النجاسۃ ان کانت علی بدنہ ثم یتوضأ وضوئہ لصلاۃالا رجلیہ
وکذافی مجمع الانھر:(1/35،المنار)
وکذافی الفقہ الاسلامی:(1/522،رشیدیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(1/225،دار احیاء)
وکذافی تنویر الابصار مع الدر المختار:(1/312،رشیدیہ)
وکذافی کتاب الفقہ:(1/100،حقانیہ)
وکذافی الفقہ الحنفی:(1/105،الطارق)
وکذافی الھدایہ:(1/70،بشری)
وکذافی الفتاوی التاتار خانیة:(1/272،فاروقیہ)

واللہ اعلم بالصواب
ضیاء الرحمان غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
15/11/2023/19/4/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:47