محمد عثمان نامی شخص نے اپنی بیوی زہرہ کو رخصتی سے قبل ، طلاق رجعی دی تو بچی کے والدین نے مفتیان کرام سےرجوع کیاتو مفتیان کرام کے فرمانے کے مطابق، دوبارہ نکاح ہوا اور رخصتی ہو گئی ۔کچھ وقت گزرنے کے بعد شوہر کی ،بیوی سے اور اس کی والدہ محترمہ سے لڑائی ہو گئی۔ زہرہ بی بی اپنے والدین کے پاس چلی گئی، کچھ دنوں کے بعدمحمدعثمان اپنے چچا زاداور ایک رشتہ دار کے ساتھ اپنی بیوی کومنانے گیاتوزہرہ بی بی کے والدین رضا مند نہ ہوئے،محمد عثمان کے ساتھ اس کا چچا زاد اور دوسرا رشتہ دار کہنے لگے کہ آپ ہمارے ساتھ زہرہ بی بی کو روانہ کرو توہم اس کو پابند کریں گے تووالدین نے کہا کہ سوچ لو ،اس سے بھی پوچھ لو اور مشورہ کر لو۔ کچھ دیر کے بعد وہ واپس آئے اور کہنے لگے کہ ہم نے اس کو پابند کر لیا ہے، لہذا عثمان کی والدہ اور اس کے نانکے ،اگر آپ کی بچی سے آئندہ لڑائی کریں گے تو آپ کی بچی کو طلاق ہو جائے گی، اس شرط پر محمد عثمان کے دستخط کروا کے آئے تو والدین اور زیادہ پریشان ہوئے،پھر بچی اور بچے کے والدین نے مفتیان کرام سے رجوع کیاتو ایک مفتی صاحب نے فرمایا : اس کا حل یہ ہے کہ محمد عثمان کی والدہ یا اس کے نانکوں میں سے کوئی بھی یہ شرط کرے،پھر عدت گزرنے کے بعد دوبارہ نکاح کر لو، کیونکہ ایک طلاق باقی ہے ،پھر اس طرح شرط پوری کی گئی اور دوبارہ نکاح ہوا۔ دوبارہ نکاح ہوےکو تقریبا ایک سال گزراتھا کہ میاں بیوی دونوں بیٹھے تھے ۔محمد عثمان موبائل دیکھ رہا تھا ،اس کی بیوی نےاس کوکہا کہ مجھے بھی موبائل دکھاؤ تو اس چھوٹی سی بات پر آپس میں بحث ہونے لگی، محمد عثمان ناراض ہو گیا اور کمرے سے باہر چلا گیااور اپنے پڑوس میں رشتہ دار عورت کے سامنے کہنے لگا کہ:” بس میرے سے فارغ ہے“ تو بچی کے والدین محمد عثمان کولیکر مفتی صاحب کے پاس حاضر ہوئے،مفتی صاحب نےان دونوں عورتوں سےفون پر بات کی تو ایک عورت نے موبائل پر گواہی دی کہ محمد عثمان نے کہا تھا کہ” میں نے چھوڑ دیا ہے“ دوسری عورت نے بات نہیں کی تو مفتی صاحب نے محمد عثمان سے فرمایا کہ حلفاً بتا کہ تو نے کیا کہا؟ محمد عثمان کہنے لگا کہ میں نے کہا تھا کہ میں (چھوڑ دیساں،میں چھٹی کرا دیساں) میں چھوڑ دوں گا ،میں چھٹی کرا دوں گا۔ مفتی صاحب نے کہا کہ گواہی کامل نہیں ہے اور محمد عثمان کے حلفا کہنے کی صورت میں نکاح باقی ہے، کچھ وقت کی بات ہے کہ محمد عثمان اپنے رشتہ داروں کےہمراہ نماز پڑھنے کے بعد ، گھرآ رہا تھا کہ راستے میں محمد ماجد اور محمد فاروق نے پوچھا کہ کیا بنا تیری بیوی کا؟ تو وہ کہنے لگا کے میں فارغ کر چکا ہوں(میں فارغ کیتی ودا ھاں) جب یہ بات زہرہ بیوی کے والدین کو معلوم ہوئی تو انہوں نے ماجد اور فاروق کو بلایا کہ اگریہ بات سچی ہے تو آپ مفتی صاحب کے سامنے قرآن سر پر رکھ کر گواہی دیں گے؟ محمد ماجد اور محمد فاروق نے کہا کہ گواہی کیلئے ہم حاضر ہیں ۔یہ تھی صورت حال۔اب پوچھنا یہ ہے کہ جب تیسری مرتبہ محمد عثمان اپنی بیوی کے بارے میں اس طرح کے الفاظ کہے ہیں تو کیا نکاح باقی ہے یا نہیں؟ براہ مہربانی شرعی رہنمائی فرمائیں ۔

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ اگر حقیقت پر مبنی ہے تواگر محمد عثمان نے ”میں فارغ کیتی ودا ھاں“ (میں فارغ کر چکا ہوں) طلاق کی نیت سے کہا ہے تو اس کی بیوی کو تیسری طلاق بھی ہو چکی ہےاور اگر یہ جملہ اس نے طلاق کی نیت سے نہیں کہا تو تیسری طلاق نہیں ہوئی اور نیت کے سلسلہ میں بھی شوہر ہی سے حلفا ًپوچھا جائے گا کہ آیا طلاق کی نیت تھی یا نہیں؟

لما فی تنویر الابصار مع الدر المختار:(4/516،بیروت)
الکنایات(لا تطلق بھا) قضاء(الا بنیۃ او دلالۃ الحال)وھی حالۃ مذاکرۃ الطلاق او الغضب
وفی الفقہ الحنفی:(2/270،الطارق)
الکنایۃ:وھو الفظ الذی لم یوضع للطلاق ولکن یحتمل الطلاق وغیرہ۔۔۔۔۔۔۔ فلا یقع فیھا الطلاق الا بالنیۃ أو دلالۃ الحال وھی حالۃ مذاکرۃ الطلاق أو الغضب
وکذافی الفقہ الاسلامی:(9/6642،رشیدیہ)
وکذافی القد وری:(172،الخلیل)
وکذافی الھندیة:(1/374،رشیدیہ)
وکذافی القرآن الکریم:(البقرہ آیت نمبر229،230)
وکذافی الصحیح البخاری:(2/300،رحمانیہ)
وکذافی سنن ابی داؤد:(1/317،رحمانیہ)
وکذافی سنن الدار قطنی :(4/20،دار الکتب)
وکذافی السنن الکبری للبیھقی:(7/546،دار الکتب)

واللہ اعلم بالصواب
ضیاء الرحمان غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
8/2/2023/15/7/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:11

اگر میت کو بغیر اجازت کے کسی کی زمین میں دفن کر دیا تو کیا مالک اسے نکالنے پر مجبور کر سکتا ہےاور میت کو قبر سے نکالنا جائز ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اگر مالک وہاں تدفین پر راضی نہ ہو تو اس عذر کی وجہ سے میت کو قبر سے نکالنا جائزہے۔

لما فی الھندیة:(1/167،رشیدیہ)
اذا دفن المیت فی أرض غیرہ بغیرہ اذن مالکھا فالمالک بالخیار ان شاء أمر باخراج المیت وان شاء سوّی الارض وزرع فیھا
وفی تنویر الابصار مع الدرالمختار:(3/170،رشیدیہ)
ولا یخرج منہ)بعد إھالۃ التراب (الا)لحق آدمی (ان تکون الارض مغصوبۃ أو أخذت بشفعۃ)ویخیر المالک بین اخراجہ ومساواتہ بالارض کما جاززرعہ والبناء علیہ اذا بلی وصار ترابا
وکذافی التجنیس والزید:(2/279،ادارۃالقرآن)
وکذا فی تیین الحقائق: (1 /246 ،امدادیہ)
وکذا فی الھندیة: (2 /455 ،رشیدیہ)
وکذا فی فتح القدیر: ( 2/ 149 ، رشیدیہ)
وکذا فی البنایہ:(3/304،رشیدیہ)
وکذا فی مجمع الانھر:(1/276،المنار)
وکذا فی الفقہ الاسلامی و ادلتہ:(2/1556،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
ضیاءالرحمان عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2022/12/31/7/6/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:162

میں نے ایک شخص سے قرض مانگا ہے دوسرا شخص کہتا ہے کہ میری رقم اکاؤنٹ میں ہے اس کو نکالنے کے چارجز لگیں گے اگر آپ ادا کر سکتے ہیں تو میں آپ کو قر ض دینے کیلئےتیار ہوں اور میں اس شرط پر قرض لینے کو راضی ہوں تو یہ معاملہ سودی تو نہیں ہوگا؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسؤلہ میں کوئی ایسا طریقہ اختیارکیا جائے جس میں یہ چارجز ادا نہ کرنے پڑیں لیکن اگر ایسا ممکن نہ ہو تو مذکورہ معاملہ کرنے کی بھی گنجائش ہےیہ معاملہ سودی نہیں ہے کیونکہ یہ چارجز رقم وصولی کے ہیں ،نہ کہ قرض دینے والے کا ذاتی نفع۔

لما فی الشامیہ:(7/413،بیروت)
قولہ (کل قرض جر نفعا حرام) أی اذا کان مشروطا کما علم مما نقلہ عن البحر وعن الخلاصۃ وفی الذخیرۃ وان لم یکن النفع مشروطا فی القرض فعلی قول الکرخی لا بأس بہ
وفی الفح القدیر:(6/272،رشیدیہ)
وأجرۃ الکیال و وزان المبیع و ذراعہ و عادہ)ان کان البیع بشرط الکیل والوزن أو الذرع أو العد (علی البائع)لان علیہ إیفاء المبیع ولا یتحقق ذلک الا بکیلہ ووزنہ و نحوہ و أجرۃ وزان الثمن علی المشتری باتفاق الأمۃ الاربعۃ لانہ یحتاج الی تسلیم الثمن و تمییزہ عنہ فکانت مؤنتہ علیہ
وکذافی الھندیة:(3/202،رشیدیہ)
وکذافی حاشیة الطحطاوی علی الدر:(3/105،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(5/3793،رشیدیہ)
وکذافی بدائع الصنائع:(4/40،رشیدیہ)
وکذافی البحرالرائق:(6/204،رشیدیہ
وکذافی المحیط البرھانی:(10/351،بیروت)
وکذافی الفقہ الحنفی:(4/220،طارق)
وکذافی الھدایہ:(3/45،بشری)

 

واللہ اعلم بالصواب
ضیاءالرحمان عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
5/2/2023/13/7/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:10

ایک شخص کے مسوڑھوں سے خون آتا ہے جس وقت وضو کرتا ہے تو دس منٹ تک خون آتا رہتا ہے تو اب اس شخص کو وضو میں کلی چھوڑنے کی اجازت ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

ایسی مجبوری میں کلی چھوڑنے کی اجازت ہے۔

لما فی الشامیہ:(1/116،سعید)
قولہ وھما سنتان مؤکدتان) فلو ترکھما اثم علی الصحیح سراج قال فی الحلیۃ:لعلہ محمول علی ما اذا جعل الترک عادۃ لہ من غیر عزر
وفی الھندیة:(1/6،رشیدیہ)
ان ترک المضمضۃ ولاستنشاق اثم علی الصحیح لانھما من سنن الھدا وترکھا یوجب الاساءۃ بخلاف السنن الزوائد فان ترکھا لا یوجب الاساءۃ
وکذافی خلاصة الفتاوی:(1/21،رشیدیہ)
وکذا فی البحرالرائق: (1 /45،رشیدیہ)
وکذا فی الھدایة:(1/55،بشرٰی)
وکذا فی الفقہ الحنفی:(1/74،طارق)
وکذا فی کتاب الفقہ:(1/63،المکتبة الحقانیة)
وکذا فی حاشیة الطحطاوی علی الدر:(1/71،رشیدیہ)
وکذا فی الفقہ الاسلامی و ادلتہ:(1/397،رشیدیہ)
وکذا فی البحرالرائق: (1 /45،رشیدیہ)

 

واللہ اعلم بالصواب
ضیاءالرحمان عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2022/12/31/7/6/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:157

امام نے نماز کے اندر” یُوْسُفُ أَعْرِضْ عَنْ ھَذَا وَسْتَغْفِرْ لِذَنْبِک“ پڑھا ،تو کیا نماز ادا ہو جائے گی یا نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ میں نماز ادا ہو جائے گی ،کیونکہ یہ کوئی فاش غلطی نہیں ہے۔

لما فی حاشیة الطحطاوی علی الدر:(1/267،رشیدیہ)
قولہ أو نقص حرفا)کما اذا قال فجاءھم بدل فجاءتھم لم تفسد الا أن یکون الحرف من اصل الکلمۃ کقولہ فی عربیا ربیا او عریا فتفسد أی اذا غیر المعنی
وفی الھندیة:(1/79،رشیدیہ)
منھا)حذف حرف ان کان الحذف علی سبیل الإیجاز والترخیم فان وجد شرائطہ نحو أن قرأ ونادو یا مال لا تفسد صلاتہ
وکذافی تنویر الابصار مع الدر المختار:(2/476،بیروت)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(2/1038،رشیدیہ)
وکذافی خلاصة الفتاوی:(1/106،رشیدیہ)
وکذافی الھندیة:(1/80،رشیدیہ)
وکذافی اعلاء السنن:(4/165،ادرة القرآن)
وکذافی الفتاوی قاضی خان:(4/42،رشیدیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(2/71،بیروت)
وکذافی التاتارخانیة:(2/107،فاروقیہ)

واللہ اعلم بالصواب
ضیاء الرحمان غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
10/2/2023/18/7/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:39

میرے پاس ایک اچھی نسل کی بکری ہے اور وہ حاملہ ہے تو لوگ مجھ سے ابھی سے اس کے بچے خریدنے کا مطالبہ کررہے ہیں تو کیا میں ان کو ابھی سے بیچ سکتا ہوں یا نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

جی نہیں۔

لما فی الھدایة:(3/77،بشری)
ولا بیع الحمل ولا النتاج لنہی النیی صلی اللہ علیہ وسلم عن بیع الحبل وحبل الحبلۃ ولان فیہ غررا
وفی صحیح البخاری:(1/382،رحمانیہ)
عمر أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہی عن بیع حبل الحبلۃ وکان بیعا یتبایعہ اھل الجاھلیۃ کان الرجل یبتاع الجزور الی ان تنتج الناقۃ ثم تنتج التی فی بطنھا
وکذافی القدوری:(323،بشری)
وکذا فی البنایہ: (7 /199،رشیدیہ)
وکذا فی کنز الدقائق: (238 ،حقانیہ)
وکذا فی تبیین الحقائق: (4 /44 ،امدادیہ)
وکذا فی فتح القدیر: ( 1/ 386 ، رشیدیہ)
وکذا فی البحرالرائق: (6 /121 ،رشیدیہ)
وکذا فی مجمع الانھر:(3/80،المنار)
وکذا فی تنویر الابصار مع الدر المختار :(7/237،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
ضیاءالرحمان عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2022/12/31/7/6/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:158

ایک مسجد جہاں باجماعت نماز کی ادائیگی ہوتی ہے عرصہ تقریبا پچاس سال سے قائم ہے اورکل رقبہ دس مرلے پر محیط ہے،جس میں ساڑھےسات مرلے کاغذی طور پر وقف ہے، جبکہ بقیہ حصہ بانی مسجد نےچاہ کو جانے والے راستے کو مسجد میں شامل کردیا تھا ،کیونکہ چاہ ختم ہو چکا تھا۔اب جبکہ مسجد دوبارہ تعمیر کرنے کا ارادہ ہےتو چاہ مذکورہ کے حصہ داران کا مطالبہ ہےکہ مسجد کا وہ حصہ جو دراصل چاہ کا راستہ تھا اس کو بطور راستے کے خالی چھوڑ دیا جائے اور مسجد کو بقیہ حصے تک محدود رکھا جائے۔سوال یہ کہ چونکہ مسجد راستے پر تعمیر کی گئی تھی تو اب حصہ داران کے مطالبے کے مطابق راستے کو چھوڑ دیا جائے تو اہل محلہ گناہ گار تو نہیں ہونگے ؟کیونکہ کہا جاتا ہے کہ جس جگہ ایک بار مسجد قائم ہو جائے اسے تبدیل یا ختم نہیں کیا جا سکتا ،وہ قیامت تک مسجد بن جاتی ہے، یا حصہ دران کی رائے کے مطابق راستے والے حصے پر مسجد قائم کرنا خلاف شرع ہے، لہذا اس حصے کو چھوڑ کرباقی رقبے پر مسجد تعمیر کی جائے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ میں جو حصہ مسجد کا ہے اس پر تو مسجد بنائی جائے اور جو حصہ چاہ کا ہے اہل محلہ کے اعتراض کی وجہ سے اس کو چھوڑ دیا جائےاور اس راستے کو مسجد میں داخل نہ کیا جائے۔

لما فی الھندیة:(2/456،رشیدیہ)
قوم بنوا مسجدا واحتاجو الی مکان لیتسع المسجد وأخذوا من الطریق وأدخلوہ فی المسجد ان کان یضر بأصحاب الطریق لا یجوز وان کان لا یضر بھم رجوت أن لا یکون بہ بأس
وفی تنویر الابصار مع الدر المختار ور د المحتار:(6/578،رشیدیہ)
جعل شیء )أی : جعل البانی شیأ( من الطریق مسجدا) لضیقہ ولم یضر بالمارین (جاز) لانھا للمسلمین قولہ : ( لضیقہ ولم یضر بالمارین ) أقاد أن الجواز مقید بھذین الشرطین:قولہ (جاز) ظاھرہ:أنہ یصیر لہ حکم المسجد الذی یتخذ من جانب الطریق لا یکون لہ حکم المسجد بل ھو طریق بدلیل أنہ رفع حوائطہ عاد طریقا کما کان قبلہ
وکذافی الفتح الباری:(1/742،قدیمی) وکذافی عمدة القاری:(4/255،بیروت)
وکذافی البحر الرائق :(5/428،رشیدیہ) وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(8/158،فاورقیہ)
وکذافی تبیین الحقائق:(3/331،امدادیہ) وکذافی الفقہ الحنفی:(2/375،الطارق)
وکذافی النھر الفائق:(3/332،قدیمی) وکذافی خلاصة الفتاوی:(4/421،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
ضیاء الرحمان غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
10/2/2023/18/7/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:37

ہمارے ساتھ ایک مرتبہ ایک حاجی صاحب تھا وہ حج کی قربانی کرنے سے عاجز تھا تو اب اسے کیا کرنا چاہیےقربانی کے بارے میں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اس کو چاہیے تھا کہ وہ دس روزے اس طرح رکھتا کہ تین روزے ایام حج میں دس ذوالحجہ سے پہلے پہلے رکھتا اس میں بھی بہتر یہ تھا کہ سات آٹھ اور نو ذوالحجہ کو روزے رکھتااور بقیہ سات روزے افعال حج سے فارغ ہو کر تیرہ ذوالحجہ کے بعد مکہ میں یا پھر گھر آ کر رکھتا لیکن اگر وہ روزے نہ رکھ سکا تو اسے حج کی قربانی ہی کرنا تھی اگر اس نے قربانی نہیں کی تو تین قربانیاں(دم)لازم ہونگی(1) حج کی قربانی(2)قربانی سے پہلے”حلق“کروانے کی وجہ سے قربانی(3)قربانی کو بارہ ذوالحجہ سےمؤخر کرنے کی وجہ سے قربانی۔

لما فی مجمع الا نھر:(1/426،المنار)
فان عجزعنہ)أی عن الھدی (صام)القرن عشرۃ أیام بدلا للھدی (ثلاثۃ أیام قبل یوم النحر ولافضل کون آخرھا یوم عرفۃ)لان الصوم بدل عن الھدی فیستحب تأخیرہ الی آخر وقتہ رجاء أن یقدر علی الاصل ۔۔۔۔۔۔(وسبعۃ)أیام (اذا فرغ)أی صام سبعۃ أیام بعد ما فرغ من أعمال الحج لان الصوم منھی فی أیام التشریق(ولو بمکۃ)و عند الشافی و احمد صام سبعۃ اذا رجع الی اھلہ
وفی البحرالرئق:(2/634،رشیدیہ)
فلو لم یقدر علی الھدی تحلل وعلیہ دمان دم التمع و دم التحلل قبل الھدی کذا فی الھدایۃ وقال فیھا یأتی فی آخر الجنایات فان حلق القارن قبل ان یذبح فعلیہ دمان عند أبی حنیفۃ دم بالحلق فی غیر أوانہ لان أوانہ بعد الذبح ودم بتأخیر الذبح عن الحلق وعند ھما یجب علیہ دم واحد وھو لاول فنسبہ صاحب غایۃ البیان الی التخلیط لکونہ جعل احد الدمین ھنا دم الشکر ولآخر دم الجنایۃ وھو صواب وفیھا یأتی أثبت عند أبی حنیفۃ دمین آخرین سوی دم الشکرو نسبہ فی فتح القدیر ایضا فی باب الجنایات الی السھو ولیس کما قالا بل کلامہ صواب فی الموضعین فھنا لما لم یکن جانیا بالتأخیر لانہ لعجزہ لم یلزمہ لاجلہ دم ولزمہ دم للحلق فی غیر أوانہ وفی باب الجنایات لما کان جانیا بحلقہ قبل الذبح لزمہ دمان کما قررہ ولم یذکر دم الشکر لانہ قدمہ فی باب القران ولیس الکلام الا فی الجنایۃ
وکذافی تنویر الابصار مع الدر المختار مع رد المحتار:(3/638،رشیدیہ) وکذافی غنیة الناسک:(358،ادارۃ القرآن)
وکذافی الشامیة:(2/616،سعید) وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(3/3282،رشیدیہ)
وکذافی بدائع الصنائع:(2/386،رشیدیہ) وکذافی المحیط الرھانی:(3/460،بیروت)
وکذافی أحکام القرآن الجصاص:(1/404،قدیمی) وکذافی التاتارخانیة:(3/626،فاروقیہ)

واللہ اعلم بالصواب
ضیاءالرحمان غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
6/2/2023/14/7/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:5

حمل اگر دو ماہ کا ہو تو ضائع کروا سکتے ہیں یا نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

بلا عذر تو ایسا کرنا درست نہیں البتہ اگر حمل کی وجہ سے عورت کی جان کو خطرہ ہو اور کوئی ماہر دین دار ڈاکٹر مشورہ دے تو حمل ضائع کروا نا جائز ہے۔

لما فی الفتاوی الھندیة : ( 5/ 356 ،رشیدیہ )
العلاج لاسقاط الولد اذا استبان خلقہ کالشعر و الظفر ونحوھما لا یجوز و ان کان غیر مستبین الخلق یجوز وأما فی زماننا یجوزعلی کل حال و علیہ الفتوی
وفی الشامیہ: ( 9/ 709 ،دار المعرفة )
قولہ (وجاز لعزر) کالمرضعۃ اذا ظھر بھا الحبل وانقطع لبنھا ولیس۔۔۔۔۔ ویخاف ھلاک الولد قالوا یباح لھا أن تعالج فی استنزال الدم ما دام الحمل مضغۃ أو علقۃ ولم یخلق لہ عضو وقدروا تلک المدۃبمائۃ وعشرین یوما وجاز لانہ لیس بآدمی وفیہ صیانۃ الآدمی
وکذافی المحیط البرھانی: (8 / 83 ،داراحیاء )
وکذا فی الفتاوی التاتار خانیة: (18 /203 ،فاروقیہ )
وکذافی الفقہ الحنفی : (5 /402 ،طارق )
وکذا فی الرد المحتار : (9 / 709، دار المعرفة)
وکذافی الفتاوی الولوالجیة: ( 2/343 ،الحرمین شریفین )
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ: ( 4/ 2647، رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی قاضی خان: (3 /428 ،رشیدیہ )

واللہ اعلم بالصواب
ضیاءالرحمان عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
18/12/2022/23/5/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:153

نماز جنازہ میں امام نے پانچویں تکبیر بھی کہہ دی تو آیا مقتدی اس کی اتباع کرے یا نہ کرے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ میں مقتدی پانچویں تکبیر نہ کہے بلکہ انتظار کرے اور امام کے ساتھ سلام پھیر دے۔

لما فی تنویر الابصار مع الدر المختار: ( 3/ 131،رشیدیہ )
ولو کبر امامہ خمسا لم یتبع لانہ منسوخ (فیمکث المؤتم حتی یسلم معہ اذا سلم)بہ یفتی
وفی حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح: (587، قدیمی)
ولو کبر الامام خمسالم یتبع ) لانہ منسوخ (ولکن ینتظر سلامہ فی المختار) یسلم معہ فی الاصح
وکذا فی الشامیہ: (3 / 131 ،رشیدیہ )
وکذا فی البحرالرائق : (2 /323 ،رشیدیہ )
وکذا فی تبیین الحقائق : (1 /241 ،امدادیہ )
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ: (2 /1516 ، رشیدیہ)
وکذا فی الھندیہ : (1 /164 ،رشیدیہ )
وکذا فی التاتارخانیة: (3 /52 ،فاروقیہ )
وکذا فی کنزالدقائق : ( 52 ،حقانیہ )
وکذا فی النھر الفائق: (1 /394 ،قدیمی )

واللہ اعلم بالصواب
ضیاءالرحمان عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2022/12/12/17/5/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:154