بیت الخلاء میں تھوکنا کیسا ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ میں بلا ضرورت تھوکنا منع ہے۔

لما فی الھندیة:(1/50،رشیدیہ)
ولا ینظر الی ما یخرج منہ ولا یبزق ولا یمتخط
وفی حاشیة الطحطاوی علی الدر:(1/166،رشیدیہ)
ولا ینظر الی ما یخرج منہ ولا یبزق ولا یمتخط
وکذافی الفتاوی التاتار خانیة:(1/230،فاروقیہ)
وکذافی الشامیہ:(1/616،رشیدیہ)
وکذافی البھرالرائق:(1/422،رشیدیہ)
وکذافی الفتح القدیر:(1/213،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
ضیاء الرحمان غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
6/4/2023/15/9/1444
جلد نمبر:30 فتوی نمبر:14

کیا طلاق کے بعد بھی کھانے وغیرہ کا خرچ شوہر کے ذمہ ہوتا ہے یا نہیں

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ میں عدت کے دوران معتدہ کا خرچ شوہر کے ذمہ ہوتا ہے، لیکن اگر معتدہ شوہر کے گھر عدت نہ گزارے یا نافرمان ہو تو پھر شوہر کے ذمہ سے ساقط ہو جائے گا۔

لما فی الھندیة:(1/557،رشیدیہ)
المعتدۃ عن الطلاق تستحق النفقۃ و السکنی کان الطلاق رجعیا او بائنا او ثلاثا حاملا کانت المرأۃ او لم تکن
وفی المحیط الرھانی:(4/328،بیروت)
قال : المعتدۃ اذا خرجت عن بیت العدۃ تسقط نفقتھا، ھکذا روی عن الضحاک مطلقا فھذا عندنا ما دامت علی النشوز
وکذافی الشامیہ:(5/340،رشیدیہ)
وکذافی المبسوط:(5/210،بیروت)
وکذافی البحرالرائق:(4/338،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(1/7404،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی التاتار خانیة:(5/408،فاروقیہ)
وکذافی بدائع الصنائع:(3/419،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
ضیاء الرحمان عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
25/2/2023/4/8/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:61

ایک عورت عدت کے دوران گھر سےنکلی ہے تو محلے کے امام نے فرمایا ہے، کہ عدت توٹ گئی ہے اب آپ بتایئں کے عدت کا کیا حکم ہےٹوٹی ہے یا نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ میں عدت نہیں ٹوٹی لیکن بلا عذر گھر سے نکلنا جائز نہیں ہے۔

لما فی الفتاوی التاتارخانیة:(5/244،فاروقیہ)
المعتدۃ من الطلاق لا تخرج من بیتھا لیلا ولا نھارا فأما المتوفی عنھا زوجھا فلا بأس بأن تخرج فی النھار
وفی الھندیة:(1/534،رشیدیہ)
ان کانت معتدۃ من نکاح صحیح وھی حرۃ مطلقۃ بالغۃ عاقلۃ مسلمۃ والحالۃ حالۃ الاختیار فانھا لا تخرج لیلا ولا نھارا سواء کان الطلاق ثلاثا او بائنا او رجعیا کذا فی البدائع المتوفی عنھا زوجھا تخرج نھارا وبعض اللیل ولا تبیت فی غیر منزلھا کذا فی الھدایۃ
وکذافی الفقہ الحنفی:(2/209،الطارق)
وکذافی المبسوط:(6/32،بیروت)
وکذافی فتاوی قاضی خان:(1/553،رشیدیہ)
وکذافی تنویر الابصار:(5/227،رشیدیہ)
وکذافی البحرالرائق:(4/256،رشیدیہ)
وکذافی مجع الانھر:(2/154،المنار)

واللہ اعلم بالصواب
ضیاءالرحمان عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
12/3/2023/19/8/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:126

وضو کے دوران پاؤں دھوتے ہوے انگلیوں کی طرف سے پانی ڈالنا مسنون ہے یا یڑی کی طرف سے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

وضو میں انگلیوں کی طرف سے پانی ڈالنا مسنون ہے۔

لما فی الفتاوی التاتارخانیة:(1/226،فاروقیہ)
ومن السنۃ عند غسل الرجلین ان یأخذ الاناء بیمینہ ویصبہ علی مقدم رجلہ الایمن ویدلکہ بیسارہ فیغسلھا ثلاثا ثم یفیض الماء علی مقدم رجلہ الایسر ویدلکہ بیسارہ
وفی حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح:(74،قدیمی)
یسن البداءۃ بالغسل من (رؤس الاصابع ) فی الیدین و الرجلین
وکذافی خلاصة الفتاوی:(1/23،رشیدیہ)
وکذافی بدائع الصنائع:(1/113،رشیدیہ)
وکذافی فتح القدیر:(1/36،رشیدیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(1/177،بیروت)
وکذافی الشامیہ:(1/267،رشیدیہ)
وکذافی الھندیة:(1/8،رشیدیہ)
وکذافی البنایة:(1/189،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
ضیاءالرحمان غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
12/3/2023/19/8/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:125

پٹرول پمپ کی مسجد میں نماز جمعہ ہو رہی تھی مسجد سے باہر کچھ لوگوں نے بارش کی وجہ سے پانچ صفیں چھوڑ کر چھت کے نیچے نماز ادا کی تو کیا ان کی نماز ادا ہو گئی یا نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ میں جو صفیں مسجد سے باہر ہیں ان کی نماز نہیں ہوئی کیونکہ صفوں کے درمیان اتصال نہیں پایا گیا۔

لما فی تنویر الابصار مع الدرالمختار:(2/401،رشیدیہ)
ویمنع من الاقتداء)۔۔۔۔۔۔۔(فی الصحراء) او فی مسجد کبیر جدا کمسجد القدس (یسع صفین) فاکثر الا اذا اتصلت الصفوف فیصح مطلقا
وفی البحرالرائق:(1/635،رشیدیہ)
و لو اقتدی بالامام فی الصحراء وبینھم ما قدر صفین فصاعدا لا یصح الاقتداء
وکذافی الھندیة:(1/88،رشیدیہ)
وکذافی غنیة المستملی:(525،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(2/1249،رشیدیہ)
وکذافی بدائع الصنائع:(1/362،رشیدیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(2/192،بیروت)
وکذافی الفقہ الحنفی:(1/270،الطارق)
وکذافی حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح:(292،قدیمی)

واللہ اعلم بالصواب
ضیاء الرحمان غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
25/2/2023/4/8/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:60

ایک شخص اپنے گھر سے مسافت سفر واقع جیل میں قید ہوا ،اس کو معلوم ہے کہ تین ماہ بعد رہا ہونا ہےتو اب اس کی نماز کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ میں قیدی مکمل نماز ادا کرے گا۔

لما فی الموسوعة الفقہیة : (4 /222 ،علوم اسلامیہ )
الاسیرالمسلم فی ایدی الکفاران عزم علی الفرار من الاسر عند التمکن من ذلک،وکان الکفار أقاموا بہ فی موضع یریدون المقام فیہ المدۃ التی تعتبر اقامۃ،ولا تقصر بعدھا الصلوۃ لزمہ ان یتم الصلاۃ
وفی المحیط البرھانی: (2 /395 ،بیروت )
ولاسیر من المسلمین فی ایدی اھل الحرب ھم لہ قاھرون ، ان أقاموا بہ فی موضع یریدون ان یقیموا بہ خمسۃ عشر یوما فعلیہ ان یکمل الصلاۃ
وکذافی التاتار خانیة : (2 /503 ،فاروقیہ )
وکذا فی الولوالجیة: (1 /134 ،الحرمین شریفن )
وکذا فی فتح الملھم: (4 /60 ،دار العلوم کراچی )
وکذا فی الھندیة: (1 /139 ،رشیدیہ )
وکذا فی فتاوی قاضی خان: (1 /166 ،رشیدیہ )
وکذا فی الفتاوی التاتار خانیة: (2 /502 ،فاروقیہ )
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ : (2 /1367 ،رشیدیہ )

واللہ اعلم بالصواب
ضیاء الرحمان عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2023/2/25/4/8/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:59

ایک خاتون نے ساٹھ ہزار نوافل کی نذر مانی تھی، اب اس میں یہ ہمت نہیں کہ وہ اس نذر کو پورا کر سکے اب وہ کیا کرے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ میں یہ خاتون کفارہ قسم ادا کرے، کفارہ قسم یہ ہے کہ دس مساکین کو کپڑوں کے سوٹ دے یا پھر انہیں دو وقت کا کھانا کھلائے یا پھر کھانے کی قیمت ادا کرےاور اگر اس کی بھی استطاعت نہ ہو تو مسلسل تین دن کے روزے رکھے۔

لما فی القدوری:(232،الخلیل)
و ان علق نذرا بشرط فوجد الشرط فعلیہ الوفاء بنفس النذر و روی ان ابا حنیفۃ رحمہ اللہ رجع عن ذلک وقال اذا قال ان فعلت کذا فعلی حجۃ او صوم سنۃ او صدقۃ ما املکہ اجزأہ من ذلک کفارۃ یمین وھو قول محمد رحمہ اللہ
وفی الھندیة:(2/65،رشیدیہ)
و ان علق بشرط لا یرید کونہ کدخول الدار او نحوہ یتخیر بین الکفارۃ و بین عین ما التزمہ وروی ان ابا حنیفۃ رحمہ اللہ رجع الی التخیر ایضا
وکذافی الھدایہ:(2/236،البشری)
وکذافی البنایة:(6/44،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(6/282،فاروقیہ)
وکذافی الجوھرة النیرة:(2/474،قدیمی)
وکذافی سنن ابن ماجة:(رحمانیہ،)
وکذافی سنن ابی داؤد :(2/117،رحمانیہ)
وکذافی عون المعبود:(9/93،قدیمی)
وکذافی بذل المجھود:(14/185،قدیمی)

واللہ اعلم بالصواب
ضیاء الرحمان عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
19/3/2023/26/8/1444
جلد نمبر:29 فتوی :128

پانی کی باری کوآگےکسی کو دینا یابیچنا کیساہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

معتد بہ مقدار میں پانی کا آنا یقینی ہو تو جائز ہے۔

لما فی بحوث فی قضایا فقھیة معاصرة:(1/92،معارف القرآن)
ثم ان السرخسی ذکر ھذہ المسألۃ مرۃ اخری فی کتاب الشرب بأبسط مما ھھنا وذکر فی الأخیر قول المشایخ المتأخرین الذین أجازوا بیع الشرب للعرف ولم ینتقد قولھم بشیء فقال:(وبعض المتأخرین من مشایخنا رحمھم اللہ أفتی أن یبیع الشرب وان لم یکن معہ أرض للعادۃالظاھرۃ فی بعض البلدان وھذہ عادۃ معروفۃ بنسف قالوا:المأجور الاستصناع للتعامل وان کان القیاس یأباہ فکذلک بیع الشرب بدون الارض )
وفی الشامیة:(7/277،رشیدیہ)
قولہ: (وکذا بیع الشرب)أی:فانہ یجوز تبعا للأرض بالاجماع ووحدہ فی روایۃ وھو اختیار مشایخ بلخ لانہ نصیب من الماء
وکذافی فتح القدیر:(6/393،رشیدیہ)
وکذافی الھندیة:(3/123،رشیدیہ)
وکذافی المبسوط:(14/136،بیروت)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(18/363،فاروقیہ)
وکذافی البحرالرائق:(8/397،رشیدیہ)
وکذافی النھر الفائق:(3/430،قدیمی)

واللہ اعلم بالصواب
ضیاءالرحمان غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
22/2/2023/1/8/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:68

امام جب رکوع کی حالت میں ہواور مسبوق نماز میں شریک ہوا تو تکبیر تحریمہ کیلئے قیام ضروری ہے یا رکو ع میں جاتے ہوے تکبیر ِتحریمہ کہہ لے تو کافی ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

تکبیر ِتحریمہ کیلئے قیام شرط ہے،لہذا رکوع میں جاتے ہوئے اس طرح تکبیر تحریمہ کہنا کہ لفظ ”اللہ“ قیام میں اور لفظ ” اکبر“ رکوع میں جا کر ادا ہویہ درست نہیں اور نہ آدمی کی اس طرح نماز میں شرکت درست ہوگی۔

لما فی بدائع الصنائع:(1/337،رشیدیہ)
ثم شرط صحۃ التکبیر أن یوجد فی حالۃ القیام فی حق القادر علی القیام سواء کام اماما او منفردا او مقتدیا حتی لو کبر قاعدا ثم قام لا یصیر شارعا ولا وجد الامام فی الرکوع او السجود او القعود ینبغی ان یکبر قائم ثم یتبہ فی الرکن الذی ھو فیہ ولو کبر للافتتاح فی الرکن الذی ھو فیہ لا یصیر شارعا لعدم التکبیر قائم مع القدرۃ علیہ
وفی البحر الرئق:(1/508،رشیدیہ)
ولو قال المصنف فرضھا التحریمۃ قائما لکان اولی لان الافتتاح لا یصح الا فی حالۃ القیام حتی لو کبر قاعدا ثم قام لا یصیر شارعا لان القیام فرض حالۃ الافتتاح کما بعدہ ولو جاء الی الامام وھو راکع فحنی ظھرہ ثم کبر ان کان الی القیام اقرب یصح وان کان الی الرکوع اقرب لا یصح
وکذافی الفقہ الحنفی:(1/202،الطارق)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(2/53،فاروقیہ)
وکذافی النھر الفائق:(1/194،قدیمی)
وکذافی المحیط البرھانی:(2/37،بیروت)
وکذافی حاشیة الطحطاوی علی الدر:(1/216،رشیدیہ)
وکذافی الھندیة:(1/67،رشیدیہ)
وکذافی الشامیہ:(2/158،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
ضیا ء الرحمان غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
22/2/2023/1/3/1444
جلدنمبر:29 فتوی نمبر:65

گلیسرین میں اگر چوہا گر کر مر جائے تو اس کو پاک کرنے کی کیا صورت ہو سکتی ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اس گلیسرین سے چوہا نکال کر اس میں اوپر سے پاک گلیسرین اتنی ڈالی جائے کہ وہ گلیسرین جس برتن وغیرہ میں ہے، اس کے کناروں سے باہر نکل کر خود بخود بہنے لگے تو ساری گلیسرین پاک ہو جائے گی۔

(ماخوذ احسن الفتاوی:10/190)

واللہ اعلم بالصواب
ضیاء الرحمان غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
12/3/2023/19/8/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:124