حالت اعتکاف میں مسجد میں موبائل پر فون کے ذریعے کاروبار سے متعلق رابطہ کر سکتا ہے یا نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

کاروبار سے متعلق بقدر ضرورت تو رابطہ کر سکتا ہے، مگر بلا ضرورت بات کرنا یا ہر وقت اسی میں لگا رہنا اعتکاف کے آداب کے خلاف ہے۔

لما فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(3/1765،رشیدیہ)
فلا بأ س بان یبیع ویبتاع فی المسجد من غیر ان یحضر السلعۃ لانہ قد یحتاج الی ذلک بان لا یجد من یقوم بحاجتہ لکن یکرہ تحریما البیع لتجارۃ واحضار المبیع او السلعۃ الی المسجد
وفی الھندیة:(1/212،رشیدیہ)
ولا بأس ان یتحدث بمالا اثم فیہ—— ولا بأس للمعتکف ان یبیع و یشتری الطعام ومالا بد منہ واما اذا اراد ان یتخذ متجرا فیکرہ لہ ذلک
وکذافی ا لشامیہ:(3/506،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(3/464،فاروقیہ)
وکذافی البحرالرائق:(2/531،رشیدیہ)
وکذافی فتاوی قاضی خان:(1/222،رشیدیہ)
وکذافی الھدایة:(1/364،البشری)

واللہ اعلم بالصواب
ضیاء الرحمان عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
4/4/2023/13/9/1444
جلد نمبر:30 فتوی نمبر:2

ہمارے ہاں ایک مسئلہ مشہور ہے ،کہ اگر معتکف آدمی مسجد کے محراب میں چلا جائے تو اس کا اعتکاف ٹوٹ جاتا ہے، تو وضاحت فرمائیں کیا ایسا ہی ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اگر محراب مسجد کی زمین میں ہو تو اعتکاف نہیں ٹوٹے گا ورنہ ٹوٹ جائے گا۔ وضاحت:آجکل کی اکثر مساجد کے محراب مسجد ہی کا حصہ ہوتےہیں،مسجد سے خارج نہیں ہوتے۔

لما فی تنویر الابصار مع الدرالمختار:(3/500،رشیدیہ)
وحرم علیہ)ای: علی المعتکف اعتکافا واجبا اما النفل فلہ الخروج لانہ منہ لہ لا مبطل کما مر( الخروج الا لحاجۃ الانسان) طبیعیۃ کبول و غائط وغسل لواحتلم ولا یمکنہ الاغتسال فی المسجد
وفی الھندیة:(1/212،رشیدیہ)
فلا یخرج المعتکف من معتکفہ لیلا ونہارا الا بعذر وان خرج من غیر عذر ساعۃ فسد اعتکافہ فی قول ابی حنیفۃرحمہ اللہ تعالی
وکذافی التاتار خانیة:(3/444،فاروقیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(3/379،بیروت)
وکذافی المبسوط:(3/117،بیروت)
وکذافی خلاصة الفتاوی:(1/267،رشیدیہ)
وکذافی مجع الانھر:(1/378،المنار)

واللہ اعلم بالصواب
ضیاء الرحمان غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
21/3/2023/28/8/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:118

میں نے نظر مانی تھی کہ اللہ تعالی میرے بیٹے کو صحت دے تو میں دس دن کا اعتکاف بیٹھوں گی تو اللہ تعالی نے میرے بیٹے کو صحت دی ہے ،اب میں اعتکاف بیٹھنا چاہتی ہوں تو کیا اعتکاف کیلئے روزہ رکھنا ضروری ہے یا نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

نذر کے اعتکاف کیلئے روزہ رکھنا ضروری ہے۔

لما فی الھندة:(1/211،رشیدیہ)
ولو نذر اعتکاف لیلۃ او یوم أکل فیہ لم یصح ولو قال للہ علی ان اعتکف شہرا بغیر صوم فعلیہ ان یعتکف و یصوم
وفی تنویر الابصار مع الدر المختار:(3/496،رشیدیہ)
وشرط الصوم)لصحۃ(الاول) اتفاقا (فقط) علی المذھب(فلو نذراعتکاف لیلۃ لم یصح )ای: النذر حتی لو قال:للہ علی ان اعتکف شھرا بغیر صوم فعلیہ ان یعتکف و یصوم
وکذافی الفقہ الحنفی:(1/432،الطارق)
وکذافی الفقہ الاسلامیو ادلتہ:(3/1762،رشیدیہ)
وکذافی بدائع الصنائع:(2/276،رشیدیہ)
وکذافی البحر الرائق:(2/534،رشیدیہ)
وکذافی التجنیس و المزید:(2/443،ادارة القرآن)
وکذافی فتاوی قاضی خان:(1/225،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
ضیاء الرحمان غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
20/31/2023/28/8/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:121

عورت اعتکاف کے لیے مسجد میں بیٹھے یاگھرمیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

عورت کامسجدمیں اعتکاف بیٹھنامکروہ ہے،اپنے گھرمیں نمازکے لیے جوجگہ بنائی گئی ہےوہیں اعتکاف بیٹھے۔

لما فی الشامیة: (3 / 494 ،رشیدیة )
امرأۃ فی مسجدبیتھا)ویکرہ فی المسجدای:تنزیھاکماھوظاھرالنھایۃ.وصرح فی البدائع بانہ خلاف الافضل
وفی البحرالرائق: (2 /527 ،رشیدیة )
والمرأۃتعتکف فی مسجد بیتھا یرید بہ الموضع المعد للصلاۃلانہ استرلھا،واشار تعتکف دون ان یقول یجب علیھاالی ان اعتکافھا فی مسجد بیتھاافضل فافاد ان اعتکافھافی مسجد الجماعۃ جائز وھومکروہ
وکذافی حاشیة الطحطاوی علی مراقی: (699 ، قدیمی)
وکذافی المحیط البرھانی: (3 /379 ،داراحیاء )
وکذافی التاتارخانیة: ( 3/ 343 ،فاروقیة )
وکذافی بدائع الصنائع: (2 /281 ،رشیدیة )
وکذافی المبسوط: (3 /119 ،بیروت )
وکذافی تبیین الحقائق: (1/ 350 ،امدادیة )
وکذا فی فتح القدیر: (2 /400 ،رشیدیة )

واللہ اعلم بالصواب
کلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2023/03/25/1444/9/3
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:160

کیا ایسی جگہ جہاں مستقل نماز نہ اذان ہوتی ہو ایسی خانقاہ یا بے آباد مسجد میں اعتکاف مسنونہ کا کیا حکم ہو گا؟

الجواب حامداً ومصلیاً

ایسی مسجد میں اعتکاف مسنونہ نہی ہو گا۔

لما فی الہدایہ:(1/247،المیزان)
لا اعتکاف الا فی مسجد جماعۃ وعن ابی حنیفۃ انہ لا یصح الا فی مسجد یصلی فیہ الصلواۃ الخمس لانہ عبادۃ انتظار الصلٰوۃ فیختص بمکان یؤدی فیہ
وفی الہندیہ:(1/211،رشیدیہ)
ومنہا مسجد الجماعۃ فیصح فی کل مسجد لہ اذان واقامۃ ہو الصحیح کذا فی الخلاصۃ
وکذا فی فتح الباری شرح صحیح البخاری:(4/342،قدیمی)
وکذافی الجوہرہ النیرہ:(1/352،قدیمی)
وکذا فی بدائع الصنائع:(2/280،رشیدیہ)
وکذا فی الفقہ الاسلامی:(3/1750،رشیدیہ)
وکذا فی مجمع الانہر:(1/376،المنار)
وکذا فی البحرالرائق:(2/526،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ اسامہ شفیق عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
21/6/1442/4/2/2021
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:39

کرونا کی وبا کے دوران بعض لوگوں نے ماہ رمضان گھر میں اعتکاف کیا ہے،کچھ لوگ ایسا کرنے کی دعوت بھی دیتے رہے،شرعی حکم سے آشنائی فرما دیں۔

الجواب حامداً ومصلیا

مردحضرات کے اعتکاف کے لئے مسجد شرط ہے،گھر میں اعتکاف کرنے کی دعوت دیناخلاف شرع ہے ،جس سے بچنا واجب ہے،جو ہوا اس پر اللہ سے معافی مانگی جائے ۔

لما فی القرآن العزیز:(المائدہ/6)
ولا تعاونوا علی الاثم والعدوان
وفی الہدایہ:(1/211،رشیدیہ)
الاعتکاف لا یصح الا فی مسجد جماعۃلقول حذیفۃرضی اللہ عنہ لا اعتکاف الا فی مسجد
وفی المبسوط:(3/119،دارالمعرفہ)
ابو حنیفۃ رحمہ اللہ تعالیٰ یقول رکن الاعتکاف ہو المقام فی المسجد والخروج ضدہ فیکون مفوتا رکن العبادۃ
وکذافی ہامش علی الصحیح لمسلم:(1/371،قدیمی)
وکذا فی ہامش علی جامع الترمذی: (1/98،فاروقی)
وکذافی ہامش علی صحیح البخاری :(1/363،رحمانیہ)
وکذافی فتح الباری شرح صحیح البخاری (4/342،قدیمی)
وکذافی جوہرہ النیرہ: (1/352،قدیمی)
وکذافی شرح الوقایہ: (1/321،امدادیہ)
وکذافی الہندیہ: ( 1/211،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ شفیق
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2/6/1442/2021/1/16
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:178

ایک آدمی شہرکی ایسی مسجدمیں اعتکاف بیٹھاجس میں جمعہ کی نمازنہیں ہوتی،بلکہ قریب جامع مسجدمیں ہوتی ہے،اب نمازِجمعہ کےلیےجامع مسجدمیں جانااس شخص کےلیےضروری ہےیانہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

جی ہاں!مقیم معتکف کےلیےجامع مسجدمیں،نمازِجمعہ کےلیےجاناضروری ہے۔

لما فی الموسوعةالفقہیة:(5/221،اسلامیہ)
من وجبت علیہ الجمعۃوکان اعتکافہ متتابعاواعتکف فی مسجدلاتقام فیہ الجمعۃفھوآثم،ویجب علیہ الخروج لصلاۃالجمعۃ،لأنھافرض.فاذاخرج للجمعۃفقدذھب الحنفیۃوالحنابلۃإلی أن خروجہ للجمعۃلایفسداعتکافہ،لأنہ خروج لمالابدمنہ
وفی المبسوط للسرخسی:(3/117،دارالمعرفة)
قال ولاینبغی للمعتکف أن یخرج من المسجد إلالجمعۃأوغائط أوبول…وأمااذاخرج للجمعۃفلایفسداعتکافہ عندنا
وکذافی البدائع:(2/282،رشیدیہ)
وکذافی البحرالرائق:(2/527،رشیدیہ)
وکذافی الھدایة:(1/247،المیزان)
وکذافی الھندیة:(1/144،رشیدیہ)
وفیہ ایضاً:(1/212،رشیدیہ)
وکذافی الخانیة:(1/174،رشیدیہ)
وفیہ ایضاً:(1/221،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی الولوالجیة:(1/241،حرمین)

واللہ اعلم بالصواب
محمدعدنان غفرلہ الکریم
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
16/5/1443/2021/12/21
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:65

معتکف نےبیماری کی وجہ سےروزہ توڑدیا،تواس کے(مسنون) اعتکاف کاکیاحکم ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورتِ مسئولہ میں اس کااعتکاف ٹوٹ جائےگااوروہ ایک دن کی قضاءکرےگا۔

لما فی الشامیة:(2/443،سعید)
قلت: ومقتضی ذلک أن الصوم شرط أیضاًفی الاعتکاف المسنون لأنہ مقدربالعشرالأخیرحتی لواعتکفہ بلاصوم لمرض أوسفرینبغی أن لایصح عنہ بل یکون نفلاًفلاتحصل بہ إقامۃسنۃالکفایۃویؤیدہ قول الکنز’’سن لبث فی مسجد بصوم ونیۃ‘‘فإنہ لایمکن حملہ علی المنذورلتصریحہ بالسنیۃولاعلی التطوع لقولہ بعد’’وأقلہ نفلاساعۃ‘‘فتعین حملہ علی المسنون سنۃمؤکدۃفیدل علی اشتراط الصوم فیہ
وفی الھدایة:(1/246،المیزان)
قال: الإعتکاف مستحب،والصحیح أنہ سنۃ مؤکدۃلان النبیﷺ واظب علیہ فی العشرالأواخرمن رمضان والمواظبۃ دلیل السنۃ،وھواللبث فی المسجدمع الصوم ونیۃالإعتکاف،امااللبث فرکنہ لأنہ ینبیٔ عنہ فکان وجودہ بہ .والصوم من شرطہ عندنا…ولناقولہ علیہ السلام لااعتکاف الابالصوم
وکذافی تبیین الحقائق:(1/347،امدادیہ)
وکذافی البدائع:(2/273،رشیدیہ)
وکذافی منحةالخالق علی ھامش البحرالرائق:(2/524،رشیدیہ)
وکذافی البحرالرائق:(2/530،رشیدیہ)
وکذافی خلاصةالفتاوی:(1/267،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی الولوالجیة:(1/241،حرمین شریفین)
وکذافی الھندیة:(1/211،رشیدیہ)
وکذافی الخانیة:(1/221،رشیدیہ)
وکذافی الموسوعةالفقہیة:(34/41،اسلامیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمدعدنان غفرلہ الکریم
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
17/9/1443/2022/4/19
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:168

معتکف مسجد میں فرش پر شاپر بچھا کر غسل جمعہ کر سکتا ہے؟حالانکہ اس سے مسجد خراب نہیں ہوتی؟

الجواب حامداًومصلیاً

فقہاء نے اس طرح غسل کرنے کی اجازت تو دی ہے لیکن آج کل اس میں زیادہ احتیاط نہیں کی جاتی اور مستعمل پانی عموما مسجد میں گر ہی جاتا ہے،نیز اس طرح غسل کرنے سے مسجد کی بے ادبی بھی محسوس ہوتی ہے۔
البتہ آج کل ایسے عارضی غسل خانے تیار ہوتے ہیں کہ جن سے پانی مسجد میں بالکل نہیں گرتا،اگر اس طرح کا کوئی غسل خانہ بنوا لیا جائے تو زیادہ بہتر ہے۔

لما فی بدائع الصنائع:(2/284،رشیدیة)
وإن غسّل رأسہ فی المسجد فی اناء لا بأس بہ إذا لم یلوث المسجد بالماء المستعمل فإن کان بحیث یتلوّث المسجد یمنع منہ لأںّ تنظیف المسجد واجب ولو توضأ فی المسجد فی إناء فہو علی ہذا التفصیل
وفی الخانیة علی ہامش الہندیة:(1/223،رشیدیة)
وإن غسّلہ [الرأس ]فی المسجد فی إناء لا بأس بہ لأنّہ لیس فیہ تلویث المسجد
وکذا فی الہندیة:(1/213،رشیدیة)
وکذا فی خلاصة الفتاوی:(1/269،رشیدیة)
وکذا فی التاتارخانیة:(3/445،فاروقیة)
وکذا فی الموسوعة الفقہیة:(5/220،علوم اسلامیة)
وکذا فی الدر المختار:(3/501،رشیدیة)
وکذا فی الشامیة:(3/501،رشیدیة)
وکذا فی الدر المنتقی:(1/378،المنار)

واللہ تعالی اعلم بالصواب وعلمہ اتمّ
کتبہ:محمد نوید بن اللہ بخش عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
16/08/1443/2022/03/20
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:25

ایک شخص سگریٹ کا عادی ہے اور وہ اعتکاف میں بیٹھ گیا ،سگریٹ کے بغیر اس کا گزارہ نہیں ہوتا،تو وہ روزہ افطار کرنے کے بعد حدود مسجد میں یا مسجد سے باہر اس کے لئے سگریٹ پینے کی گنجائش ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

حدود مسجد میں سگریٹ پینے کی گنجائش نہیں ہے البتہ قضائے حاجت کے لئے آتے جاتے ہوئے مسجدسے باہر جلدی جلدی سگریٹ پی سکتا ہے ،مگرپھرمسواک وغیرہ سے اچھی طرح منہ صاف کرلے ۔

لما فی الصحیح المسلم:(1/152،رحمانیہ)
عن جابر بن عبداللہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال من أکل ھذہ البقلۃ الثوم وقال مرّۃ من اکل البصل والثوم والکراث فلا یقربن مسجدنا فان الملائکۃ تتاذی مما یتاذی منہ بنو آدم
وفی الفتاوی العالمکیریہ:(1/212،رشیدیہ)
فلایخرج المعتکف من معتکفہ لیلا ولانھارا الا بعذروإن خرج من غیرعذرساعۃ فسدإعتکافہ فی قول ابی حنیفۃ …ومن الأعذار الخروج للغائط ،والبول وأداء الجمعۃ
وفی المحیط البرھانی:(3/379،داراحیاءتراث)
ولا یخرج المعتکف من معتکفہ لیلا ولانھارا إلا بعذر ووإن خرج من غیر عذر ساعۃ فسد اعتکافہ فی قول ابی حنیفۃ …ومن الاعذار الخروج للغائط أ والبول ،أولأداء الجمعۃ
وکذافی صحیح البخاری:(2/332،رحمانیہ)
وکذافی جامع الترمذی:(2/444،رحمانیہ)
وکذافی سنن ابن ماجہ:(241،قدیمی کتب خانہ)
وکذافی سنن الکبریٰ للبیھقی:(3/107،دارالکتب العلمیہ)
وکذافی بدائع الصنائع:(2/282،رشیدیہ)
وکذافی الدر المختار:(3/500،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(3/1776،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد عبداللہ غفرلہ ولوالدیہ کوٹ ادو
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
15/5/1443/2021/12/20
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:52