مسجد کے محراب میں جانے سے اعتکاف ٹوٹے گا یا نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اگر محراب مسجد کی زمین مین ہو (جیسا کہ اکثر علاقوں میں ہوتا ہے)تومحراب میں جانے سے اعتکاف نہیں ٹوٹے گا اور اگر محراب مسجد کی زمین میں نہ ہو(جیسا کہ بعض علاقوں میں ہوتا ہے کہ گلی کی زمین میں محراب بنایا جاتا ہے)تو محراب میں جانے سے اعتکاف ٹوٹ جائیگا۔

لما فی الفتاوی العالمکیریہ:(1/212،رشیدیہ)
” فلا یخرج المعتکف من معتکفہ لیلا ولا نھارا الا بعذر وان خرج من غیر عذر ساعۃ فسد اعتکافہ فی قول ابی حنیفۃ . “
وفی الفتاوی السراجیہ:(172،زمزم)
” لا یخرج المعتکف الا لبول اؤغائط…فان خرج بغیر عذر من اکل اؤشرب اؤ عیادۃ فسد اعتکافہ. “
وکذافی المحیط البرھانی:(3/379،داراحیاء تراث)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیہ:(3/444،فاروقیہ)
وکذافی رد المحتار علی الدر المختار:(3/500،رشیدیہ)
وکذافی خلاصة الفتاویٰ(1/267،رشیدیہ)
وکذافی مجمع الانھر:(1/378،المنار)
وکذافی کتاب المبسوط للسرخسی:(3/117،دارالمعرفة)

واللہ اعلم بالصواب
محمد عبداللہ غفرلہ ولوالدیہ کوٹ ادو
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
17/8/1443/2022/3/20
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:41

ایک عورت نے گھر میں دس دن کا اعتکاف کیا اب اس کو حیض آگیا ہےتو وہ کیا کرے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اس عورت کا اعتکاف ٹوٹ جائیگا اور یہ پاک ہونے پر اعتکاف کی قضاء کرے گی۔اگر دن میں حیض آیا تو صرف دن کی قضاء ہوگی،یعنی صبح صادق سے قبل شروع کرکے غروب آفتاب تک اعتکاف کرنا ہوگا،اگر رات میں حیض آیا تو دن رات دونوں کی قضاء واجب ہوگی،یعنی غروب آفتاب سے شروع کرکے دوسرے دن غروب افتاب تک اعتکاف کرے۔

(کما فی احسن الفتاویٰ)

لما فی بدائع الصنائع:(2/287،رشیدیہ)
 ولو حاضت المراۃ فی حال الاعتکاف فسد اعتکافھا لان الحیض ینافی اھلیۃ الاعتکاف لمنافاتھا الصوم لھذا منعت من انعقاد الاعتکاف فتمنع من البقاء
وفی رد المحتار:(2/445،ایچ ایم سعید)
” اما علی قول غیرہ فیقتضی الیوم الذی افسدہ لاستقلال کل یوم . “
وکذافی کتاب الفقہ علی مذاھب الاربعة:(1/498،حقانیہ)
وکذافی المختصر فی الفقہ الحنفی:(267،البشریٰ)
وکذافی الدر المختار:(3/496،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی العالکیریہ:(1/211،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(3/1763،رشیدیہ)
وکذافی خلاصة الفتاویٰ:(1/268،رشیدیہ)
وکذافی الفتح القدیر:(2/406،رشیدیہ)
وکذافی البحر الرائق:(1/527،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیہ:(3/388،فاروقیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد عبداللہ غفرلہ ولوالدیہ کوٹ ادو
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
17/8/1443/2022/3/20
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:40

کچھ کاروباری حضرات اعتکاف میں بیٹھ کر اپنا کاروبار وغیرہ جاری رکھتے ہیں،کیا ان کا ایسا کرنا جائز ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

مسجد میں سامان لائے بغیر ضرورت کے وقت اگرچہ خریدوفروخت کی گنجائش ہے،مگر باقاعدہ کاروبار چلانا نہ صرف یہ کہ روح اعتکاف کے منافی ہےبلکہ شرعابھی درست نہیں۔

لما فی الفتاوی التاتارخانیہ:(3/464،فاروقیہ)
ولا باس للمعتکف بان یبیع ویشتری فی المسجد،وعن ابی یوسف انہ قال:ھذا اذالم یحضر السلعۃ فی المسجد،فاما اذا احضرھا فھو مکروہ،وقیل:اذا کان یبیع ویشتری للتجارۃ فھومکروہ
وفی الفتاوی العالمکیریہ:(1/213،رشیدیہ)
” ولاباس للمعتکف ان یبیع ویشتری الطعام ومالابد منہ واما اذا اراد ان یتخذ متجرا فیکرہ لہ ذلک ھکذا فی فتاوی قاضیخان . “
وکذافی الفتاوی الخانیہ علی ھامش الھندیة:(1/222،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی السراجیہ:(173،زمزم)
وکذافی ردالمحتار علی الدر المختار:(3/506،دارالمعرفة)
وکذافی المختصر فی الفقہ الحنفی:(270،البشریٰ)
وکذافی حاشیةالطحطاوی علی الدرالمختار:(1/476،رشیدیہ)
وکذافی کتاب المبسوط للسرخسی:(3/122،دارالمعرفة)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(3/1774،رشیدیہ)
وکذافی البحرالرائق:(2/530،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد عبداللہ غفرلہ ولوالدیہ کوٹ ادو
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
5/9/1443/2022/4/7
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:105

مسنون اعتکاف کے لیے 20 رمضان کو مغرب سے پہلے پہنچنا ضروری ہے یا رات کو کسی بھی وقت پہنچ جائے تو اعتکاف مسنون ہی ہو گا؟

الجواب حامداًومصلیاً

سنت اعتکاف کے لیے مغرب سے پہلے پہنچنا ضروری ہے ورنہ سنت اعتکاف نہ ہو گا۔

لمافی معارف السنن:(5/516،ایچ ایم سعید)
قولہ :صلیٰ الفجر ثم دخل فی معتکفہ
استدل بھذا الحدیث الاوزاعی واللیث فی احد قولیہ و احمد فی روایۃ فی بدء الاعتکاف من اول النھار، واختارہ ابن المنذر من الشافعیۃ ،ومذھب الاربعۃ ھو دخول قبل الغروب لمن اراد ان یتم العشر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فیکون المراد من ذلک دخولہ فی معتکفہ المتخذ من الحصیر ونحوہ ،ولیس ذلک وقت ابتداء اعتکافہ بل کان الابتداء بدخولہ المسجد قبیل غروب شمس العشرین من رمضان ،وکل من یرید ان یتم لہ اعتکافہ العشر لزمہ ان یدخل المسجد معتکفاً قبیل غروب الشمس من العشرین والا لم یتم لہ العشر فان اللیالی الماضیۃ لاحقۃ بالایام التالیۃ۔
وفی مرقاۃالمفاتیح:(4/605،مکتبہ التجاریہ)
صلیٰ الفجر ، ثم دکل فی معتکفہ ):بصیغۃ المفعول ای :مکان اعتکافہ۔ قال الطیبی :دل علی ان ابتداء الاعتکاف من اول النھار کما قال بہ الاوزاعی،والثوری،واللیث فی احد قولیہ،وعند الائمۃ الاربعۃ انہ یدخل قبل غروب الشمس ان اراد اعتکاف شھر او عشر وتاولوا الحدیث بانہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم دخل المعتکف وانقطع و تخلیٰ بنفسہ فانہ کان فی المسجد حجرۃ من حصیر ،ولیس المراد ان ابتداءالاعتکاف کان فی النھار

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ طیب کان اللہ لہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
26،8،1443/2022،3،30
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:149

حالت اعتکاف میں مسجد میں موبائل پر فون کے ذریعے دکان،گھر کاروبار سے متعلق رابطہ کر سکتا ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

دکان، گھر،کاروبارسے متعلق بوقت ضرورت،بقدر ضرورت رابطہ کر سکتا ہے،بلا ضرورت بات کرنا یا ہر وقت اسی میں لگے رہنا اعتکاف کے آداب کے خلاف ہے۔

لمافی الفتاویٰ الھندیہ:(1/212،رشیدیہ)
ولا باس ان یتحدث بما لا اثم فیہ وفی صفحۃ 213 ولا باس للمعتکف ان یبیع ویشتری الطعام وما لا بد منہ واما اذا اراد ان یتخذ متجراً فیکرہ لہ ذلک
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(3/1765،رشیدیہ)
فلا باس بان یبیع ویبتاع فی المسجد من غیر ان یحضر السلعۃ، لانہ قد یحتاج الی ذلک بان لا یجد من یقوم بحاجتہ،لکن یکرہ تحریماً البیع لتجارۃ واحضار المبیع او السلعۃ الی المسجد ۔
وکذا فی الشامیہ(3/506،رشیدیہ)      وکذا فی مجمع الانھر(1/379،المنار)
وکذا فی الھدایہ(1/364،البشریٰ)    وکذا فی الفتاویٰ التاتارخانیہ(3/464،فاروقیہ)
وکذا فی فتاویٰ قاضیخان علی ھامش الھندیہ(1/222،رشیدیہ)
وکذا فی البحر الرائق(2/531، رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ طیب کان اللہ لہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
16/8/1443-2022/3/20
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:47

! معتکف بھول کر یا لاعلمی کی وجہ سے مسجد کی حدود سے باہر نکل گیا، تو اعتکاف کا کیا حکم ہے؟ اور کتنی دیر بلاوجہ مسجد کی حدود سے باہر ٹھہرنے کی گنجائش ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

اعتکاف کرنے والا شخص بھول کر یا لاعلمی کی وجہ سے مسجد کی حدود سے باہر تھوڑی دیر کے لیے بھی نکل گیا تو اس سے اعتکاف ٹوٹ جائے گا۔

لمافی الھندیة:(1/212،رشیدیہ)
فلا یخرج المعتکف من معتکفہ لیلا ونھاراالا بعذر وان خرج من غیر عذر ساعۃ فسد اعتکافہ فی قول ابی حنیفۃ رحمہ اللہ تعالی کذا فی المحیط سواء کان الخروج عامدا او ناسیا۔
وفی الخانیة علی ھامش الھندیة:(1/222،رشیدیہ)
“اذا خرج بغیر عذر ناسیا فسد اعتکافہ وان کان ساعۃ فی قول ابی حنیفۃ رحمہ اللہ تعالی ۔ “
وکذافی البحر الرائق:(2/529،رشیدیہ)
وکذافی بدائع الصنائع:(2/284،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(3/444،فاروقیہ)
وکذافی التجنیس والمزید:(2/447،ادارةالقران)
وکذافی المحیط البرھانی:(3/379،ادارةالقران)
وکذافی المختصر فی الفقہ الحنفی:(269،بشری)
وکذافی الھدایة:(1/248،میزان)

واللہ اعلم بالصواب
محمداحسن ابراہیم غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
15-3-2022،1443-8-11
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:2