بغیر خطبہ کے جمعہ کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

چونکہ خطبہ جمعہ کے لیے شرط ہے اس لیے خطبہ کے بغیر جمعہ نہیں ہوگا۔

لما فی البدائع:(1/589،رشیدیہ)
واما الخطبۃ فالکلام فی الخطبۃ فی مواضع ، فی بیان کونھا شرطا لجواز الجمعۃ ۔۔۔۔۔۔۔ اماالاول: فالدلیل علی کونھا شرطا قولہ تعالی: (فَاسْعَوْ اِلٰی ذِکْرِاللہِ ) والخطبۃ ذکراللہ فتدخل فی الامر بالسعی لھا من حیث ھی ذکراللہ۔ اوالمراد من الذکر الخطبۃ، وقد امر بالسعی الی الخطبۃ، فدل علی وجوبھا وکونھا شرطا لانعقاد الجمعۃ
وفی البحرالرائق: (2 /256 ،رشیدیہ)
والخطبۃ قبلھا ) ای وشرط صحتھا الخطبۃ وکونھا قبل الصلاۃ لما قدمناہ من ان النبی ﷺ ما صلاھا دون الخطبۃ ونقل فی فتح القدیر الاجماع علی اشتراط نفس الخطبۃ ولانھا شرط وشرط الشیئ سابق علیہ
وکذافی الھندیة: (1 /146 ،رشیدیہ)
وکذافی مجمع الانھر:(1/246،المنار)
وکذافی شرح العینی:(1/98،ادارة القرآن)
وکذافی المحیط البرھانی:(2/449،بیروت)
وکذافی الفقہ الاسلامی و ادلتہ:(2/1303،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة: (2 /561 ،فاروقیہ)
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید :(1/320،الطارق)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(19/177،علوم اسلامیہ)

واللہ اعلم بالصواب
سید ممتاز شاہ بخاری
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2023/3/25/3/9/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:149

جمعہ کےخطبہ کے دوران چندہ کرنا کیسا ہے؟کہ خطیب خطبہ دے رہا ہواورکچھ لوگ صفوں کے درمیان چل پھر کرچندہ وصول کررہےہوں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

خطبہ سننا واجب ہے،لہذاخطبہ کے دوران چندہ کرنا درست نہیں۔

لما فی تنویرالابصارمع الدرالمختار:(3/39 ،رشیدیہ )
وکل ماحرم فی الصلاۃحرم فیھا)ٰأی:فی الخطبۃ۔خلاصۃوغیرھا۔فیحرم أکل وشرب وکلام ولو تسبیحاً، أوردّسلام أوأمربمعروف بل یجب علیہ أن یستمع و یسکت۔
وفی: (فتح القدیر:2 /66،رشیدیہ )
یحرم فی الخطبۃالکلام وإن کان أمراًبمعروف أوتسبیحاً،والأکل والشرب والکتابۃ،ویکرہ تشمیت العاطس وردالسلام
وکذافی البحرالرائق: (2 /272 ،رشیدیہ) وکذا فی المبسوط: (2 /28 ،دارالمعرفہ )
وکذا فی خلاصتہ الفتاوی: (1 /206 ،رشیدیہ ) وکذا فی الھندیہ: (1 /147 ،رشیدیہ )
وکذا فی المحیط البرھانی: (2 /460 ،دارأحیاءتراث ) وکذا فی بدائع الصنائع : ( 1/ 593 ، رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیہ: (2 /574 ،فاروقیہ )
وکذافی الھدایہ: (1 /271 ،البشرٰی )

واللہ اعلم بالصواب
محمدامجدڈوگرغفرلہ ولوا لدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
9/11/2022/13/4/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:35

جمعہ کا خطبہ سننا واجب ہے، جب لاؤڈ سپیکر میں پڑھاجائے تو جو لوگ باہر ہیں ان پر سننا بھی واجب ہے یا نہیں؟

الجواب باسم ملھم الصواب

لاؤڈسپیکر پر دیے جانے والے خطبہ کی آواز جہاں تک جائے گی وہاں تک موجود جن لوگوں پر جمعہ واجب ہے، ان پر جمعہ کی جگہ آکر خطبہ سننا واجب ہوگا۔

لما فی التنویر و الدر :(2/159،ط: ایچ ایم سعید)
و کل ماحرم فی الصلوۃ حرم فیھا ای فی الخطبۃ. . . ، و غیرھا فیحرم اکل و شرب و کلام و لوتسبیحا او رد سلام او امرا بمعروف بل یجب علیہ ان یستمع و یسکت بلافرق بین قریب و بعید فی الاصح
وفی بدائع الصنائع:(1/593،ط: رشیدیہ)
و کذا کل ماشغل عن سماع الخطبۃ من التسبیح و التحلیل و الکتابۃ و نحوھا، بل یجب علیہ ان یستمع و یسکت، و اصلہ قولہ تعالیٰ: “و اذا قرئ القرآن فاسمتعوا لہ و انصتو” قیل نزلت الآیۃ فی شان الخطبۃ
وکذافی الھندیة:(1/147،ط: رشیدیہ)
وکذافی فتاوی قاضی خان:(1/182،ط: رشیدیہ)
وکذافی البرجندی:(1/171،ط: حقانیہ)
وکذافی المبسوط للسرخسی:(2/28،ط: دارالفکر)
وکذافی المحیط البرھانی:(2/460،ط: داراحیاء التراث العربی)
وکذافی الفقہ الاسلامی و ادلتہ:(2/1316،ط: رشیدیہ)
وکذافی البحر الرائق:(2/272،ط: رشیدیہ)
وکذافی منحة الخالق علی البحر الرائق:(2/272،ط: رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ: محمد زکریا غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
21/9/1442/2021/5/4
جلدنمبر:24 فتوی نمبر:165

ہمارے گاؤں میں کچھ دنوں سے جمعہ کی نمازکے بارے میں بات چل رہی ہے، احباب کا اصرار ہے کہ نمازِ جمعہ گاؤں میں ہی ادا کی جائے، گاؤں کے احوال کو دیکھتے ہوئے آپ ہماری رہنمائی فرمائیں کہ شریعت کا کیا حکم ہے؟ گاؤں میں آبادی ساٹھ سے ستر گھر ہیں اور مسجد میں نمازیوں کی تعداد بیس سے پچیس ہے۔ ایک دوکان ہے جس سے تمام ضرورت کی چیزیں میسر نہیں ہوتیں، سبزی گوشت وغیرہ نہیں ملتا اور کپڑے وغیرہ کی بھی کوئی دوکان نہیں ہے، ڈاکٹر کی سہولت بھی نہیں ہے، غرضیکہ ضرورتہائے زندگی کا کوئی مناسب نظم نہیں ہے۔ اڑھائی تین کلومیٹر قریب بڑا گاؤں ہے جس سے تمام ضروریات مثلاً کھانا، پینا، راشن، دوا، تعلیم وغیرہ پوری کی جاتی ہیں۔ ازراہِ کرم آپ ہماری رہنمائی فرمائیں کہ ہم اپنے گاؤں میں نمازِ جمعہ ادا کرسکتے ہیں یا حسبِ سابق ساتھ والے گاؤں میں اداکریں۔ اللہ پاک آپ کو جزائے خیر عطاء فرمائیں، اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا پڑوس نصیب فرمائیں۔

الجواب حامداً ومصلیاً

جمعہ کے صحیح ہونے کے لئے ایسا بڑا شہر یا قصبہ ہونا ضروری ہے جس میں اکثر ضروریاتِ زندگی بآسانی میسر ہوں۔ مثلاً اس میں ایسا بازار ہو جس میں کریانہ، منیاری اور جوتے کپڑے کی دوکانیں، آٹاچکی، میڈیکل سٹور اور ڈاکٹر، لوہار و درکھان وغیرہ موجود ہوں۔
چونکہ مذکورہ گاؤں میں اکثر ضروریاتِ زندگی میسر نہیں ہیں اس لئے وہاں جمعہ جائز نہیں ہے۔

لما فی المحیط البرھانی:(2/439،ط: دار احیاء التراث العربی)
ظاھر المذھب ان المصر الجامع ان یکون فیہ جماعات الناس و جامع و اسواق للتجارات .. . الخ
وفی الشامیہ:(2/137،ط: رشیدیہ)
عن ابی حنیفۃ انہ بلدۃ کبیرۃ فیھا سکک و اسواق و لھا رساتیق و فیھا وال یقدر علی انصاف المظلوم من الظالم بحشمتہ و علمہ او علم غیرہ یرجع الناس الیہ فیما یقع من الحوادث و ھذا ھو الاصح
وکذافی بدائع الصنائع:(1/585،ط: رشیدیہ)
وکذا فی البحر الرائق:(2/246،ط: رشیدیہ)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیہ:(2/547-549،ط: فاروقیہ کوئتہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ: محمد زکریا غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
8/8/1442/2021/3/23
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:53

ایک جامعہ میں ایک دارالاقامہ کےاندر طلباء کی رہائش ہے۔ جمعہ کے دن مقررہ وقت پر اس کا گیٹ بند کر دیا جاتا ہے۔بعض دفعہ کچھ طلباء اس دارالاقامہ میں موجود ہوتے ہیں کہ باہر سے گیٹ بند ہوجاتا ہے۔جامعہ کی مسجد میں جمعہ ادا ہوجانے کے بعد دروازہ کھلتا ہے۔اگر طلباء اس دارالاقامہ میں اپنی جمعہ کی نماز خطبہ کے ساتھ ادا کرلیں تو کیا حکم ہے؟حالانکہ دروازہ کھل جانے کے بعد باہر شہر کی دوسری مساجد میں جمعہ ادا کر سکتے ہیں۔

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ میں اذن عام نہ ہونے کی وجہ سے دارالاقامہ کے اندر نماز جمعہ کی ادائیگی درست نہیں۔

لما فی الفقہ الاسلامی وأدلتہ:(2/1297،رشیدیہ)
والثاني الإذن العام: وهو أن تفتح أبواب الجامع ويؤذن للناس بالدخول إذناً عاماً، بأن لا يمنع أحد ممن تصح منه الجمعة عن دخول الموضع الذي تصلى فيه
وفی المحیط البرھانی:(2/464،بیروت)
والشرط السادس: الإذن العام، وهو أن تفتتح أبواب الجامع، ويؤذن للناس كافة حتى أن جماعة لو اجتمعوا في الجامع وأغلقوا الأبواب على أنفسهم وجمعوا لم يجزئهم ذلك
وفی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/319،الطارق)
و یشترط أن تؤدی فی مکان عام یسمح بدخولہ لجمیع الناس و لو اغلق جماعۃ باب الجامع و صلوا فیہ الجمعۃ لایجوز
وکذافی المختصر فی الفقہ الحنفی:(201،البشری)
وکذافی کتاب الفقہ:(1/327،الحقانیہ)
وکذافی الدرالمختار:(3/28،رشیدیہ)
وکذافی الشامیة:(3/28،رشیدیہ)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(27/203،علوم اسلامیہ)
وکذافی حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح:(510،قدیمی)
وکذافی الفتاوی الھندیة:(1/148،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
فرخ عثمان غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
19/6/1442/2021/2/2
جلد نمبر:23 فتوی نمبر: 82

جمعہ کے دن خرید و فروخت اور دیگر معاملات ترک کرنے کا تعلق جمعہ کی پہلی اذان سے متعلق ہے یا دوسری سے؟ میں نے پڑھا تھا کہ یہ حکم دوسری اذان سے متعلق ہے،جبکہ ہمارے معمول میں اور اسی طرح اس سے متعلق سنا بھی تھا کہ یہ حکم پہلی اذان سے متعلق ہے اور پہلی اذان تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دور سے شروع ہوئی ،جبکہ دوسری اذان شروع سے چلی آرہی ہے،لہذا فقہی حوالے سے اس بارے جو تحقیق ہو وہ بیان کردی جائے۔

الجواب حامداً ومصلیاً

راجح قول کے مطابق خریدوفروخت اور دیگر معاملات ترک کرنے کا حکم پہلی اذان سے متعلق ہے۔

لما فی التنویر مع الدر المختار:(3/42،رشیدیہ)
وجب سعی الیھا و ترک البیع بالاذان الاول) فی الاصح و ان لم یکن فی زمن الرسول بل فی زمن عثمان
وفی الموسوعة الفقھیة:(27/205،علوم اسلامیہ)
وجوب السعی الیھا و ترک معاملات البیع و الشراء عند الاذان الثانی و ھو قول الجمھور …و قال الحنفیۃ فی الاصح عندھم انما یجب ذلک عند الاذان الاول
وفی الھدایة:(1/154،رشیدیہ)
واذا اذن المؤذنون الاذان الاول ترک الناس البیع و الشراء و توجھوا الی الجمعۃ
وکذافی کنز الدقائق:(45،حقانیہ)
وکذافی مجمع الانھر:(1/253،المنار)
وکذافی الدر المنتقی مع مجمع الانھر:(1/253،المنار)
وکذافی العنایة مع فتح القدیر:(2/66،رشیدیہ)
وکذافی الھندیة:(1/149،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی و ادلتہ:(2/1283،رشیدیہ)
وکذافی البحر الرائق:(2/273،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ فرخ عثمان غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2/6/1442/2021/1/16
جلد نمبر:22 فتوی نمبر: 162