میت کو دفن کرنے کے بعد قبر پر اذان دینے کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

الجواب حامداومصلیا

قبر پراذان دینا شرعا ناجائز ہے

لمافی الشامیة:(2/235،رشیدیہ)
تنبیہ)فی الاقتصار علی ماذکرمن الوارد اشارۃإلی انہ لایسن الأذان عند ادخال المیت فی قبرہ کما ھو المعتاد الآن،وقد صرح ابن حجر فی فتاویہ بأنہ بدعۃ وقال:ومن ظن أنہ سنۃ قیاسا علی ندبھما للمولود إلحاقالخاتمۃ الأمر بابتدائہ فلم یصب
وکذافی المختصرفی الفقہ الحنفی:(224،البشری)
الأذان عند إدخال المیّت فی القبر:بدعۃ
وکذافی منحةالخالق علی البحرالرائق:(1/445،رشیدیہ)
وکذافی الموسوعةالفقہیة:(8/23،علوم اسلامیہ)
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/190،الطارق)
وکذافی مشکٰوةالمصابیح:(1/27،رحمانیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(1/720،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:فیصل نذیر غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
22،5،1443/2021،12،27
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:85

محلے کی مسجد میں آذان دینے کے بعد اگر کوئی نہ آئے تو اکیلا نماز پڑھنے سے نماز باجماعت کا ثواب مل جائے گا یا نہیں؟

الجواب حامداومصلیا

دوسری مسجد میں جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے سے اسی مسجد میں اکیلے نماز پڑھنا اس لئے افضل ہوگا کہ اس عمل کی وجہ سے اس مسجد کی آبادی بھی شروع ہو جائے گی۔

لمافی الشامیة:(2/523،دار المعرفہ)
قولہ ومسجد حیۃ افضل من الجامع ای:الذی جماعۃ اکثر من مسجد الحی وھذا احد قولین حکا ھما فی القنیۃ … … …بل فی الخانیۃ :لو لم یکن لمسجد منزلہ مؤذن فانہ یذھب الیہ ویؤذن فیہ ویصلی ولو کان وحدہ لأن لہ حقا علیہ فیؤدیہ
وکذافی الخانیة:(1/67،رشیدیہ)
مؤذن مسجد لا یحضر مسجدہ أحد قالوا یؤذن ھو ویقیم ویصلی وحدہ فذلک أحب من أن یصلی فی مسجد آخر
وکذافی الفتاوی الوالوالجیة:(1/81،الھرمین)
مؤذن مسجد لیس یحضر مسجدہ احد یؤذن ویقیم ویصلی وحدہ احب الیّ من ان یصلی فی غیرہ لأن حق المسجد علیہ وحق مسجد آخر لیس علیہ
وکذافی السراجیہ:(96،زمزم)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(15/280،علوم اسلامیة)
وکذافی بدائع الصنائع:(1/385،رشیدیہ)
وکذافی البحرالرائق:(1/604،رشیدیہ)
وکذافی الھندیة:(1/83،رشیدیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(2/210،ادارة القراٰن)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:فیصل نذیر غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
17،8،1443/2022،3،21
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:60

وقت سےپہلےاذان دےدی تواعادہ ضروری ہے کہ نہیں؟

الجواب حامداومصلیا

اعادہ ضروری ہے

لمافی بدائع الصنائع:(1/381،رشیدیہ)
وامابیان وقت الاذان والاقامۃفوقتھماماھووقت الصلوات المکتوبات،حتی لواذن قبل دخول الوقت لایجزئہ ویعیدہ ازا دخل الوقت فی الصلوات کلھا
وفی الھندیہ:(1/53،رشیدیہ)
تقدیم الاذان علی الوقت فی غیر الصبح لایجوزاتفاقاوکذافی الصبح عندابی حنیفۃومحمدرحمھمااللہ تعالی وان قدم یعادفی الوقت………وعلیہ الفتوی
وفی المبسوط:(1/134،دار المعرفة)
وفی البحرالرائق:(1/456،رشیدیہ)
وفی الفقہ الحنفی:(1/193،الطارق)
وفی مجمع الانھر:(1/113،المنار)
وفی تبیین الحقائق:(1/93،امدادیہ)
وفی الھدایہ:(1/90،المیزان)
وفی کتاب الفقہ:(1/270،حقانیہ)
وفی تنویر الابصار:(2/63،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:فیصل نذیر غفرلہ
دارالافتاءجامعةالحسن ساہیوال
21/2/1443-2021/9/29
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:57

اذان دینے کے لیے جو مسجد میں مقرر ہے، اس کی اجازت کے بغیر دوسرا شخص اقامت کہہ سکتا ہے یا اس کی اجازت ضروری ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

اگر مؤذن ناراض نہ ہو تو بغیر اجازت کےاقامت کہہ سکتے ہیں، لیکن اگر اس کے ناراض ہونے کا اندیشہ ہو تو پھر اس کی اجازت کے بغیر اقامت کہنا ناپسندیدہ ہے۔

لمافی الفقہ الاسلامی وادلتہ :(1/718،رشیدیہ)
الافضل فی المذاھب الاربعۃ ان یتولی الاقامۃ من اذن اتباعا للسنۃ فھو مقیم۔۔۔۔ لکن قال الحنفیۃ یکرہ ان یقیم غیر من اذن ان تأذی بذلک لان اکتساب اذی المسلم مکروہ، ولا یکرہ ان کان لایتأذی بہ
وفی المختصر فی الفقہ الحنفی:(99،بشری)
من اذن فھو احق بان یقیم فان اقام غیرہ یکرہ الان یغٰب المؤذن او یرضی لغیرہ فیجوز بلا کراھۃ
وکذافی الشامیة:(2 /79،دارالمعرفہ)
وکذافی الھندیة:(1/54،رشیدیہ)
وکذافی البحر الرائق:(1/447،رشیدیہ)
وکذافی خلاصة الفتاوی:(1/50،رشیدیہ)
وکذافی الخانیة علی ھامش الھندیة:(1/79،رشیدیہ)
وکذافی التجنیس والمزید:(1/392،ادارة القران)

 

واللہ اعلم بالصواب
محمداحسن ابراہیم غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
7/9/1443-2022/4/9
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:88

اذان کے کلمات کا جواب انھیں کلمات اذان کے دہرانے سے دیا جاتا ہے، لیکن “حیّ علی الصلوۃ اور حی علی الفلاح” کے جواب میں ‘لاحول ولاقوۃ’ کہتے ہیں اس کی کیا وجہ ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

اذان میں ‘حی علی الصلوۃ و حی علی الفلاح’ کے علاوہ تمام کلمات میں توحید ورسالت کا ذکر ہے، اس لیے اس کے جواب میں ذکر کرنا اور موذن کی دعوت کی تصدیق انھیں الفاظ میں کرنا مناسب ہے، لیکن ‘حی علی الصلوۃ اور حی علی الفلاح’ کا جواب انھیں الفاظ میں دینا یہ موذن اور دعوت دینے والے کی توہین اور اس کا مذاق اڑانا ہے، اور’ لا حول ولاقوۃ الاباللہ’ اس لیے کہا جاتا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو شیطان اس کو نماز سے بھٹکا دے یا یہ خود اس عبادت پر فخر محسوس کرنے لگے، بلکہ یہ سوچے کہ میں نماز کے لیے اللہ کی توفیق سے جا رہا ہوں میرا اس میں کچھ کمال نہیں۔

لمافی حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح:(203،قدیمی)
قال لا حول ولا قوۃ الا باللہ ای لا حول لنا عن معصیۃ ولا قوۃ لنا علی طاقۃ الا بفضلاللہ فی سماعہ الحیعلتین ھما حی علی الصلوۃ حی علی الفلاح کما ورد لانہ لو قال مثلھما صار کالمستھزئ لان من حکی لفظ الآمر بشئ کان مستھزئاً بہ بخلاف الکلمات ۔
وفی البحر الرائق:(1/452،رشیدیہ)
اذا قال حی علی الصلوۃ قال حی علی الصلوۃ الی اخرہ، وقولھم انہ یشبہ الاستھزاء لا یتم اذ لامانع من صحۃ اعتبار المجیب بھما داعیا لنفسہ محرکا منھا السواکن مخاطبا لھا، وقد اطال رحمہ اللہ الکلام فیہ و بھذا ظہر ان ما فیہ غایۃ البیان من ان سامع الحیعلۃ لا یقول مثل ما یقول المؤذن لانہ یشبہ الاستھزاء وما یفعلہ بعض الجھلۃ فذاک لیس بشیئ ۔
وکذافی الشامیة:(2/82،دار المعرفہ)
وکذافی الموسوعة الفقہیة:(2/372،علوم اسلامیہ)
وکذافی تبیین الحقائق :(1/89،امدادیہ)
وکذافی فتح القدیر:(1/255،رشیدیہ)
وکذافی التجنیس و المزید:(1/391،ادارة القران)

واللہ اعلم بالصواب
محمداحسن ابراہیم غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
17،9،1443/2022،4،19
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:185

جس مسجد میں امام اور مؤذن مقرر نہ ہوں وہاں اگر جماعت کے وقت سے پہلے دو آدمی اذا ن دے کر جماعت کروا لیں تو کیا حکم ہے؟

الجواب باسم ملہم الصواب

جس مسجد میں امام اور مؤذن مقرر نہ ہوں اس میں اذان و اقامت کے ساتھ دوسری جماعت نہ صرف یہ کہ جائز ہے بلکہ افضل ہے۔

لما فی حاشیہ الطحطاوی علی الدر:(1/240،رشیدیہ)
“(قولہ لا فی مسجد طریق)ای مسجد علی قارعۃطریق بحر(قولہ او مسجدلاامام لہ ولا مؤذن)ای ویصلی الناس فیہ فوجا فوجا فالافضل ان یصلی کل فریق باذان واقامۃ علی حدۃ بحر.”
وکذا فی الفقہ الاسلامی:(2/1182،رشیدیہ)
وکذا فی الدرالمختارعلی ردالمحتار:(2/342،رشیدیہ)
وکذا فی ردالمحتار:(2/342،رشیدیہ)
وکذا فی البحرالرائق:(1/605،رشیدیہ)
وکذا فی منحہ الخالق علی البحر:(1/605،رشیدیہ)
وکذا فی کتاب الفقہ:(1/373،الحقانیہ)
وکذا فی البنایہ:(2/383،رشیدیہ)
وکذا فی اعلاءالسنن:(4/279،ادارہ القرآن)

واللہ اعلم بالصواب
محمدسلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
27/7/1440-2019/4/4
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:134

نومولود کے کان میں جو اذان دی جاتی ہےاس کے بارے میں تقریرات رافعی میں ہے کہ ”ویلتفت فیھما بالصلاۃ لجھۃالیمین وبالفلاح لجھۃالیسار“(شامیہ:2/66،دارالمعرفہ)جبکہ اعلاءالسنن کے حاشیہ میں حضرت فرماتے ہیں کہ” وما ذکرہ بعض الفقھاء من تحویل الوجہ فی ھذاالأذان یمینا وشمالا لم أجد لہ أصلا،ولا یصح قیاسہ علی التحویل فی الأذان للصلاۃ لأنہ للاعلام ،ولا حاجۃ الی مثل ھذا الاعلام ھھنا،کما لا یخفی“(اعلاءالسنن:17/123،ادارۃالقرآن)۔برائے مہربانی دیگر دلائل کی روشنی میں صحیح بات کی راہنمائی فرمائیں۔

الجواب باسم ملہم الصواب

جیساکہ اقامت کو اذان پر قیاس کرتے ہوئے یہ فرمایا گیا ہےکہ جس طرح اذان میں دائیں اور بائیں التفات ہےاسی طرح اقامت میں بھی ہوگا،اسی طرح بچے کے کان میں اذا ن دیتے وقت بھی التفات کیا جائے گاکیونکہ یہ التفات اور کھڑے ہونا اور قبلہ کی طرف منہ کرنا یہ سب اذان کی سنتیں ہیں،جیسا کہ اگر کوئی شخص بیابان میں اکیلا ہو اور وہ اذان کہے تو اس کےلیے بھی یہی حکم ہے کہ اذان کی سنتوں کی رعایت رکھتے ہوئے اذان دے گا ۔اسی طرح بچے کے کان میں اذان دیتے وقت بھی ان سنتوں کی رعایت کی جائے گی سوائے اس کے کہ آواز بہت بلند نہ کی جائے گی اور نہ ہی کانوں میں انگلیاں ڈالی جائیں گی۔

لما فی حاشیہ الطحطاوی علی الدر:(1/185،186،رشیدیہ)
قولہ بصلاۃ وفلاح)لف و نشر مرتب یعنی أنہ یلتفت یمینا بالصلاۃ وشمالا بالفلاح وھوالصحیح(قولہ ولو وحدہ)ولایخل المنفرد بشیئ من سننہ،نحر،وأشار بہ الی ردقول الحلوانی أنہ لا یلتفت لعدم الحاجۃ الیہ،والجواب ما أشار الیہ الشارح بقولہ لأنہ سنۃ الأذان مطلقا(قولہ مطلقا)للمنفرد وغیرہ والمولود وغیرہ
وفی الھندیہ:(1/56،رشیدیہ)
واذا انتھی الی الصلاۃ والفلاح حول وجھہ یمینا وشمالا وقدماہ مکانھما سواء صلی وحدہ أو مع الجماعۃ وھوالصحیح حتی قالوا فی الذی یؤذن للمولود ینبغی أن یحول وجھہ یمنۃ ویسرۃ عند ھاتین الکلمتین ھکذا فی المحیط
وکذ افی تنویرالابصار وشرحہ مع ردالمحتار:(2/66،رشیدیہ)
وکذا فی ردالمحتار:(2/66،رشیدیہ)
وکذا فی تقریرات الرافعی علی ردالمحتار:(2/66،رشیدیہ)
وکذا فی البحرالرائق:(1/449،رشیدیہ)
وکذا فی المحیط البرھانی:(2/88،89،داراحیاءتراث)
وکذا فی البنایہ:(2/99،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
26/7/1440-2019/4/3
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:134

بجلی نہ تھی اس لئے بغیر اسپیکراذان دی گئی کچھ دیر بعدبجلی آگئی تودوبارہ اذان دیناکیساہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اگر پہلی اذان اتنی پست تھی کہ اکثراھل محلہ نےنہیں سنی تودوبارہ اذان دینادرست ہے۔

لما فی البحرالرائق : (1/448،رشیدیہ)
ولوجعل الاذان اقامة يعيد الاذان ،ولو جعل الاقامة اذانالايعيد لا ن تكرار الاذان مشروع دون الاقامة.
وفی الخانية بهامش الهنديه : (1/72،رشیدیہ)
جماعة من اهل المسجداذنو افي المسجدعلي وجه المخافةبحيث لم يسمع غيرهم ثم حضرقوم من اهل المسجدولم يعلمواماصنع الفريق الاول فاذنواعلي وجه الجهروالاعلان ثم علمواماصنع الفريق الاول فلهم ان يصلوا بالجماعةعلي وجهها ولاعبرة للجماعة الاولي لانهامااقيمت علي وجه السنةباظهارالاذان والاقامةفلايبطل حق الباقين.
وکذافی الهنديه : (1/54،رشیدیہ)
وکذا فی الموسوعةالفقهية : ( 2/357،علوم الاسلامیہ)
وکذا فی الهدایة :(1/79،المیزان)
وکذا فی بدائع الصنائع:(1/378،رشیدیہ)
وکذا فی مجمع الانھر :(1/118،المنار)
وکذا فی المحيط البرهانی:(2/94،داراحیاء)
وکذا فی صحیح البخاری :(1/86)

واللہ اعلم بالصواب
ایثارالقاسمی غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
26/7/1440،2019/4/3
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :169

اگر غلطی سے کوئی چھوٹے بچے کے دائیں کان میں اقامت اور بائیں کان میں اذان دے دے، تو کیا یہ صحیح ہو گا یا دوبارہ دینی پڑے گی؟

الجواب باسم ملھم الصواب

دوبارہ دینے کی ضرورت نہیں۔

والله اعلم بالصواب
محمد عابد عفی الله عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
26/7/1440، 2019/4/3
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :156

جمعہ کی اذان ثانی جو خطبہ کے لیے دی جاتی ہے،اس کا جواب دینا چاہیے؟

الجواب باسم ملھم الصوب

“جمعہ کی اذان ثانی کا جواب دینے میں علماء متقدمین ومتاخرین کا اختلاف ہے،کچھ علماء کی رائےیہ ہےکہ اذان ثانی کا زبان سےجواب دینا درست نہیں،ان کا استدلال حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان”اذا خرج الامام فلاصلاۃولاکلام”کےعموم سےہےکہ امام خطبہ دینے کے لیے آجائے تو اب ہر طرح کی نمازاور بات چیت منع ہے۔
جبکہ متعددعلماءکرام کی رائےیہ ہے کہ جمعہ کی اذان ثانی کا جواب دینا جائزہے،اسے ناجائز نہیں کہا جا سکتا،ان کی دليل یہ ہے کہ بخاری شریف میں حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا اثر موجود ہے،کہ خوداس اذان کا جواب دیتے تھے۔
خلاصہ یہ ہےکہ جمعہ کی اذان ثانی کا جواب دینا جائز ہےاور دینے میں بھی کوئی حرج نہیں،چونکہ دونوں طرف فقہاءکرام ہیں ،اور دونو ں کے پاس دلائل موجود ہیں،مگردوسرے فریق کا موقف اس لیے مضبوط اور راجح ہے کہ اس کی تائید صحابی رسول کاتب وحی حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کے عمل سے ہوتی ہے جبکہ دوسرے فریق کا اپنے نقطہ نظر پر استدلال نص سے نہیں بلکہ عموم نص سے ہے ۔

(ماخوذ از تبوب جامعۃالحسن ساہیوال:8 /100)

واللہ اعلم بالصوب
محمد عابد عفی اللہ عنہ
دارالافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
14/6/1440، 2019-2-20
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :114