ایک شخص پرزکوٰۃ فرض ہوئی پھروہ فوت ہوگیا توکیااب اس کے مال سے زکوٰۃ اداکی جائے گی یا نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اگراس نے وصیت کی تھی تواس کے تہائی مال سے زکوٰۃ دی جائے گی ورنہ نہیں۔البتہ اگربالغ ورثاء اپنے حصے سے زکوٰۃ اداکریں توامید ہے کہ اللہ تعالی اس کومعاف فرمادیں گے۔

لما فی الشامیة: (3 /207 ،رشیدیة )
بیان لاشتراط النیۃ فانھاشرط بالاجماع فی مقاصد العبادات کلھا۔۔۔۔۔۔۔حتی لوارتدبعدوجوبھاسقطت کمافی الموت
وفی البحرالرائق: (2 / 369 ،رشیدیة )
والی انہ لومات من علیہ الزکاۃ لاتؤخذ من ترکتہ لفقد شرط صحتھاوھوالنیۃ الااذااوصی بھافتعتبرمن الثلث
وکذافی التاتارخانیة: (3 /196 ،فاروقیة ) وکذافی بدائع الصنائع: ( 2/ 144 ،رشیدیة )
وکذافی البنایة: (3 /368 ،رشیدیة ) وکذافی کنزالدقائق: ( 56 ،حقانیة )
وکذافی الھدایة: (1 /301 ،بشری ) وکذافی البحرالرائق: (2 /370 ،رشیدیة )
وکذا فی الھندیة: (1 /170 ،رشیدیة )

واللہ اعلم بالصواب
کلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
5/3/2023/12/8/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:108

ایک شخص نے دو سال سے سونے کی زکوۃ ادا نہیں کی اب اداکرنا چاہتا ہے،دوسال قبل سونے کی قیمت موجودہ قیمت کے حساب سے کم تھی تو اب وہ شخص کس حساب سے زکوۃ اداکرے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اس مسئلے میں اختلاف ہے ایک قول یہ کہ موجودہ قیمت کے اعتبار سے زکوۃ دی جائے،دوسرا قول یہ کہ سابقہ قیمت کے اعتبار سے زکوۃ ادا کی جائے،دوسرا قول زیادہ صحیح اور مستحقین کے لیے فائدہ مند ہے کیونکہ اس قول کے اعتبار سے لوگ زیادہ سے زیادہ زکوٰۃ ادا کریں گے جبکہ پہلا قول مستحقین کے لیے اس طرح نقصان دہ ہے کہ ہر آئے دن سونے کی قیمت بڑھ رہی ہے اس اعتبار سے لوگ زکوٰۃ ادا کرنا چھوڑ دیں گے۔

لما فی الھندیة: (1 /180 ،رشیدیة )
اذاکان لہ مائتا قفیز حنطۃ للتجارۃ تساوی مائتی درھم فتم الحول ثم زاد السعراو انتقص فان ادی من عینھا ادی خمسۃ اقفزۃ وان ادی القیمۃ تعتبر قیمتھا یوم الوجوب لان الواجب احدھما ولھذا یجبرالمصدق علی قبولہ وعندھما یو م الاداء وکذاکل مکیل او موزون اومعدود وان کانت الزیادۃ فی الذات بان ذھبت رطوبتہ تعتبرالقیمۃ یوم الوجوب اجماعا لان المستفاد بعد الحول لایضم وان کان النقصان ذاتا بان ابتلیت یعتبر یوم الاداء عندھم
وفی بدائع الصنائع: (2/111 ، رشیدیة)
وعند ابی یوسف ومحمد:ان ادی من عینھا یؤدی خمسۃ اقفزۃ فی الزیادۃ والنقصان جمیعا کما قال ابو حنیفۃ ،وان ادی من القیمۃ یؤدی فی النقصان درھمین ونصفا وفی الزیا دۃ عشرۃ درھم،لان الواجب الاصلی عندھما ھو ربع عشرالعین وانما لہ ولایۃ النقل الی القیمۃ یوم الاداءفیعتبر قیمتھا یوم الاداء،والصحیح ان ھذا مذھب جمیع اصحابنا لا ن المذھب عندھم انہ اذاھلک النصاب بعدالحول تسقط الزکاۃ سواء کان من السوائم اومن اموال التجارۃ
وکذافی التاتارخانیة: (3 /170 ،فاروقیة ) وکذا فی الشامیة: (3 /250 ،رشیدیة )

واللہ اعلم بالصواب
کلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2022/12/4/9/5/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:100

زکوۃ میں سونا اورچاندی یا سونا اورنقدی کو جمع کرکے نصاب چاندی مکمل کیا،سال کے آخر میں صرف سونا یاصرف چاندی یا صرف نقدی ہے،جوکہ نصاب سے بھی کم ہے،تو کیا اس پر زکوۃ واجب ہوگی یانہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ میں زکوۃ واجب نہیں،کیونکہ زکوۃ کے فرض ہونے کے لئےسال کے آخر میں بھی کامل نصاب کا مالک ہونا شرط ہے۔

لما فی بدائع الصنائع: ( 2/ 100 ،رشیدیة )
ولنا:ان کمال النصاب شرط وجوب الزکاۃ فیعتبر وجودہ فی اول الحول وآخرہ لاغیر،لان اول الحول وقت انعقادالسبب،وآخرہ وقت ثبوت الحکم،فاما وسط الحول فلیس بوقت انعقادالسبب ولا وقت ثبوت الحکم فلا معنی لاعتبار کمال النصاب
وفی التاتارخانیة: (3 /172 ،فاروقیة )
ولوکان الزیادۃوالنقصان فی العین قبل الحول ثم حال الحول وھی کذلک،ففی الزیادۃ تجب الزکاۃ زائدۃ؛لان تلک الزیادۃمستفادۃ فی خلال الحول فیضم الی الاصل،وفی النقصان لاتجب الزکاۃ،لان النصاب غیر کامل
وکذافی مجمع الانھر: (1 /307 ،المنار ) وکذافی المحیط البرھانی: (3 /156 ،داراحیاء )
وکذافی الفقہ الاسلامی: (3 /1803 ،رشیدیة ) وکذافی الشامیة: (3 /278 ،رشیدیة )
وکذافی حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح: (717 ،قدیمی ) وکذافی فتح القدیر: (2 /228 ،رشیدیة )
وکذافی الھندیة: (1 /176 ،رشیدیة ) وکذا فی الھدایة: (1 /314 ،بشری )

واللہ اعلم بالصواب
کلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2022/12/4/9/5/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:102

اگر بیوی صاحبِ نصاب ہو تو کیا شوہر کی ذمہ داری ہے کہ زکوۃ کی ادائیگی کے لئے رقم مہیا کرے؟

الجواب باسم ملھم الصوب

بیوی کی زکوۃ کی ادائیگی کے لئے رقم کا انتظام کرنا خاوند کی ذمہ داری تو نہیں، لیکن اگر بیوی کے پاس رقم نہ ہو اور خاوند اپنی خوشی سے رقم مہیا کردے تو اسے ان شاء اللہ ثواب ملے گا۔

لما فی الموسوعة الفقھیة:(23/232،ط: علوم اسلامیہ)
اتفق الفقھاء علی ان البالغ العاقل المسلم الحر العالم بکون الزکوۃ فریضۃ، رجلا کان او امراۃ تجب فی مالہ الزکوۃ اذا بلغ نصابا، و کان متمکنا من اداء الزکوۃ، و تمت الشروط فی المال
وفی الفقہ الاسلامی و ادلتہ:(3/1796،ط: قدیمی)
للزکوۃ شروط وجوب و شروط صحۃ، فتجب بالاتفاق علی الحر المسلم البالغ العاقل اذا ملک نصاباً ملکاً تاماً، و حال علیہ الحول
وکذافی المختصر للقدوری:(43،ط: مکبتة الخلیل)
وکذافی الھدایة:(1/167،ط: رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/355،ط: مکتبة الطارق)
وکذافی مجمع الانھر:(1/285-286،ط: مکتبة المنار)
وکذافی اللباب فی شرح الکتاب:(1/136،ط: قدیمی)
وکذافی الھندیة:(1/171-172،ط: رشیدیہ)
وکذافی کنز الدقائق:(56،ط: مکتبہ حقانیہ)
وکذافی البحر الرائق:(2/353-355،ط: رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ: محمد زکریا غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
21/9/1442/2021/5/4
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:164

ایک شخص کے کاروبار میں اس کے بیٹے ہاتھ بٹاتے ہیں، اور باپ انہیں نفع میں سے کچھ رقم دے دیا کرتا ہے، زکوۃ کس پر ہوگی، صرف باپ پر یا دونوں پر؟

الجواب باسم ملھم الصواب

صورتِ مسئولہ میں زکوۃ باپ پر ہوگی، بیٹوں پر نہیں۔

لما فی الشامیہ: (4/325، ط: ایچ ایم سعید)
الاب و ابنہ یکتسبان فی صنعۃ واحدۃ … فالکسب کلہ للاب … لکونہ معینا لہ
و فی الھندیہ: (2/329، ط: رشیدیہ)
الاب و ابنہ یکتسبان فی صنعۃ واحدۃ … فالکسب کلہ للاب … لکونہ معینا لہ
و کذا فی الھندیہ (1/172، ط: رشیدیہ)
و کذا فی بدائع الصنائع (2/82، ط: رشیدیہ)
و کذا فی التنویر و الدر مع الرد (2/263، ط: ایچ ایم سعید)
و کذا فی البحر الرائق (2/355 الی 356، ط: رشیدیہ)
و کذا فی المبسوط للسرخسی (2/164، ط: دار المعرفہ)
و کذا فی الفتاوی التاتارخانیہ (3/234، ط: فاروقیہ)
و کذا فی البنایہ للعینی (3/344 الی 345، ط: رشیدیہ)
و کذا فی حاشیہ الطحطاوی (1/390، ط: رشیدیہ)
و کذا فی المبسوط للشیبانی (2/60، ط: عالم الکتب بیروت)
و کذا فی الفقہ الاسلامی و ادلتہ (3/1797، ط: رشیدیہ)

و اللہ اعلم بالصواب
کتبہ: محمد زکریا غفرلہ
دار الافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2/06/1442/2021/01/16
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:2

ایک آدمی کو وراثت میں زمین اور کچھ دیگر سامان ملا ہے۔ اس میں اس کے چچازاد بھائی بھی شریک ہیں ۔ اب اس زمین اور سامان پر ان چچازاد بھائیوں کا ہی قبضہ ہے۔ اس آدمی کو زمین اور اس کی پیداوار میں کسی قسم کے تصرف کا کوئی اختیار نہیں ہے،نہ ہی کاغذات میں زمین کا انتقال اس آدمی کی طرف ہوا ہے،البتہ ایک ثالث نے اس کے حق میں فیصلہ کیا ہے،مگر اس پر بھی عمل درآمدنہیں ہوا۔ اب معلوم یہ کرنا ہے کہ اس آدمی پر اس زمین ،اس کی پیداوار اور دیگر سامان کی زکوۃ واجب ہے یا نہیں؟ اور کیا ایسا شخص زکوۃ لے سکتا ہے یا نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ میں مذکورہ زمین اور اس کی پیداوار وغیرہ کی زکوۃ اس مذکورہ شخص پر واجب نہیں ہے۔
مذکورہ شخص کے پاس اس مقبوضہ زمین اور اس کی پیداوار وغیرہ کے علاوہ اگر سونا،چاندی، مال تجارت اور ضرورت سے زائد دیگر سامان یا ان میں سے کوئی ایک یا متعدد اشیاء ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کے برابر ہے تو یہ شخص زکوۃ لینے کا حق دار نہیں ہے اور اگر اس سے کم مالیت کا مالک ہے تو زکوۃ وصول کرسکتا ہے۔

لما فی الموسوعة الفقھیة:(23/237،علوم اسلامیة)
الشرط الثانی أن یکون ملکیۃ المال مطلقۃ….و ھو ما کان فی ید مالکہ ینتفع بہ و یتصرف فیہ
وفیہ ایضاً:(23/314،علوم اسلامیة)
من ملک نصابا من أی مال زکوی کان فھو غنی فلا یجوز أن تدفع الیہ الزکاۃ…. و من لم یملک نصابا کاملا فھو فقیر أو مسکین فیجوز أن تدفع الیہ الزکوۃ
وفی الفقہ الاسلامی و ادلتہ:(3/1800،رشیدیة)
أن یکون مملوکا فی الید أی مقبوضا ، فلو ملک شیئاً و لم یقبضہ کصداق المرأۃ قبل قبضہ فلا زکوۃ علیھا فیہ و لا زکوۃ فی المال الضمار :و ھو کل مال غیر مقدور الانتفاع بہ مع قیام اصل الملک
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(23/237،علوم اسلامیہ)
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/357،الطارق)
وکذافی البحر الرائق:(2/362،رشیدیہ)
وکذافی بدائع الصنائع:(2/88،رشیدیہ)
وکذافی الھندیة:(1/174،رشیدیہ)
وکذافی التنویر مع الدر المختار:(3/219،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
فرخ عثمان عفی اللہ عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
27/6/1442/2021/2/10
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:146

اگر کوئی شخص دوسرے کو زکوۃ ادا کرنے کا وکیل بنائے اور وکیل سے زکوۃ کی رقم چوری ہوجائے تو کیا مؤکل کی زکوۃ ادا ہوجائے گی یا دوبارہ ادا کرنا ہوگی؟ وکیل پر کوئی ضمان ہے یا نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

زکوۃ ادا نہ ہوگی اور وکیل پر بھی کوئی ضمان نہیں ،بشرطیکہ اس نے حفاظت میں غفلت وکوتاہی نہ کی ہو ،البتہ وکیل پر لازم ہے کہ مؤکل کو زکوۃ کی رقم چوری ہونے کی اطلاع کرے۔

لما فی الدرالمختار مع رد المحتار:(3/225،رشیدیہ)
ولا یخرج عن العھدۃ بالعزل بل بالاداء للفقراء (و فی الشامیہ )فلو ضاعت لاتسقط عنہ الزکوۃ
وفی الموسوعہ الفقھیہ:(45/86،علوم اسلامیہ)
لان الوکیل نائب المؤکل -المالک -فی الید و التصرف فکان الھلاک فی یدہ کالھلاک فی ید المالک المؤکل
وکذافی البحر الرائق:(2/369،رشیدیہ)
وکذا فی خلاصہ الفتاوی:(1/238،رشیدیہ)
وکذا فی الھندیہ:(1/182،رشیدیہ)
وکذا فی الخانیہ علی ھامش الھندیہ:(1/263،رشیدیہ)
وکذا فی الموسوعہ الفقھیہ:(45/86،علوم اسلامیہ)
وکذا فی المبسوط للسرخسی:(10/186،دارالمعرفہ)
وکذا فی بدائع الصنائع:(5/38،رشیدیہ)
وکذا فی حاشیہ الطحطاوی علی الدرالمختار:(1/395،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
حررہ فرخ عثمان عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
15/4/1442/2020/11/30
جلد نمبر:21 فتوی نمبر:190

فیکٹری کی مشینری دو یا تین سال سے خراب پڑی ہے،جس کی قیمت بھی نصاب کو پہنچتی ہے ۔ آیا سال گزرنے پر اس میں زکوۃ واجب ہوگی؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ میں مشینری پر زکوۃ واجب نہیں ہے۔

لما فی المختصر فی الفقہ الحنفی:(232،البشری)
العروض انما تجب علیھا الزکوۃ اذا کانت للتجارۃ و ان لم تکن للتجارۃ لاتجب …..العروض انما تکون للتجارۃ اذا اشتراھا بنیۃ البیع فان لم یشتر بنیۃ البیع بل بنیۃ الاستخدام ثم نوی بیعھا لاتکون للتجارۃ فلاتجب علیھا الزکوۃ
وفی الفقہ الاسلامی و أدلتہ:(3/1799،رشیدیہ)
فلا زکوۃ فی الجواھر و اللآلی…. وآلات الصناعۃ و کتب العلم الا ان تکون للتجارۃ
وکذافی التاتارخانیة:(3/169،فاروقیہ)
وکذافی التنویر مع الدر المختار:(3/218،رشیدیہ)
وکذافی الشامیة:(3/218،رشیدیہ)
وکذافی بدائع الصنائع:(2/95،رشیدیہ)
وکذافی الھدایة:(1/169،رشیدیہ)
وکذافی النھر الفائق:(1/415،قدیمی)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(1/109،علوم اسلامیة)
وکذافی خلاصة الفتاوی:(1/238،رشیدیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(3/163،بیروت)

واللہ اعلم بالصواب
فرخ عثمان غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
1/8/1442/2021/3/16
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:21

سرکاری سکول کے چند اساتذہ مل کر مشترکہ زکوۃ اور عشر کی رقم سے سکول میں نلکا لگواسکتے ہیں؟

الجواب حامداً ومصلیا

نلکا لگوانے سے زکوۃ ادا نہیں ہو گی، کیونکہ زکوۃ کی ادائیگی کے لیےیہ شرط ہے کہ کسی مستحق کواس کا مالک بنایا جائے۔

لما فی التنویر وشرحہ:(3/342،دارالمعرفہ)
لا) يصرف (إلى بناء) نحو (مسجد و) لا إلى (كفن ميت وقضاء دينه) .وفی الشامیۃ:(قوله: نحو مسجد) كبناء القناطر والسقايات وإصلاح الطرقات وكري الأنهار والحج والجهاد وكل ما لا تمليك فيه زيلعي
وفی الھندیہ:(1/188،رشیدیہ)
ولا يجوز أن يبني بالزكاة المسجد، وكذا القناطر والسقايات وإصلاح الطرقات وكري الأنهار والحج والجهاد وكل ما لا تمليك فيه
وکذافی کتاب الفقہ:(1/527،حقانیہ)
وکذا فی الموسوعة الفقھیة:(23/182،علوم اسلامیہ)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(3/1958،رشیدیہ)
وکذا فی حاشیة الطحطاوی علی الدر:(1/425،رشیدیہ)
وکذا فی الفتاوی السراجیہ:(1/156،زمزم)
وکذا فی الفتاوی الولوالجیہ:(1/180،حرمین)
وکذا فی خلاصةالفتاوی:(1/243،رشیدیہ)
وکذا فی المختصرفی الفقہ الحنفی:(/239،بشری)

واللہ اعلم بالصواب
اسدالرحمن عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
4/5/1442/2020/12/20
جلد نمبر:22 فتوی نمبر: 43

موکل نے وکیل کو کچھ رقم دی کہ کسی مستحق پر خرچ کر نا کسی خاص شخص کی تعیین نہیں کی وکیل خود بھی مستحق ہے تو کیااپنے اوپر خرچ کر سکتا ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

موکل جب وکیل کو خرچ کرنے کا مکمل اختیار دےدے مثلا یوں کہے”جہاں چاہو خرچ کرو“یاکہے”جسے چاہو دےدو“ وغیرہ ،اب موکل اور وکیل کے درمیان تعلقات کو دیکھا جائے گااگر ان میں بے تکلفی ہے،موکل وکیل کی مالی حالت جانتا ہے، اس کو مستحق بھی سمجھتا ہے اور پہلے بھی اس پر خرچ کرتا رہتا ہےتو اس صورت میں وکیل اس رقم کو اپنے اوپر خرچ کر سکتا ہے۔
اگر ان میں ایسی بے تکلفی نہیں ہے اور موکل کے ذہن میں بھی یہی ہے کہ وکیل اس رقم کو آگئے خرچ کرے گا تو اس صورت میں وکیل اپنے اوپر خرچ نہ کرے،البتہ بہتر یہ ہے کہ وکیل بہر صورت اپنے استعمال میں لانے کے لیے موکل سے صراحتاً اجازت لےلے۔

لما فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(3/1976،رشیدیہ)
ولا یجوز لہ ان یاخذ الزکاۃ لنفسہ الا اذا قال لہ الموکل ضعھا حیث شئت
وفی البحر الرائق :(2/369،رشیدیہ)
وللوكيل بدفع الزكاة أن يدفعها إلى ولد نفسه كبيرا كان أو صغيرا، وإلى امرأته إذا كانوا محاويج، ولا يجوز أن يمسك لنفسه شيئا الا اذا قال لھاضعها حيث شئت فله أن يمسكها لنفسه
وفی الدر المختار:(3/224،رشیدیہ)
وللوکیل ان یدفع لولدہ الفقیر وزوجتہ لا لنفسہ الا اذا قال ربھا ضعھا حیث شئت
وکذافی التاتارخانیہ:(3/227،فاروقیہ)
وکذافی حاشیة الطحطاوی:(1/394،رشیدیہ)
وکذافی المختصر فی الفقہ الحنفی:(237،بشری)
وکذافی الجوھرة النیرة:(1/288،قدیمی)
وکذا فی حاشیة تبیین الحقائق:(1/305،258،امدادیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہر غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
17/1/2021/1442/6/3
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:198