نابالغ بچے کے مال کو اس کا ولی نفلی صدقات میں خرچ کرسکتا ہے یا نہیں؟ اور کیا اس سے نا با لغ کے مہمانوں کا اکرام کیا جا سکتا ہے یا نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

نا بالغ بچے کے مال سے نہ تو نفلی صدقہ کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی مہمانوں کا اکرام کیا جا سکتا ہے۔

لما فی الموسوعہ الفقھیہ الکویتیہ: ( 26/326 ،علوم اسلامیہ )
أن يكون المتصدق من أهل التبرع، أي: عاقلا بالغا رشيدا، ذا ولاية في التصرف.وعلى ذلك فلا تصح صدقة التطوع من الصغير.
وفی التنویر وشرحہ مع الشامیہ: (9 / 526،دارالمعرفہ )
قال ولیس للاب ان یفعلہ من مال طفلہ، ورجحہ ابن الشحنۃ۔۔۔فمال الصبی لا یحتمل صدقۃ التطوع، وعزاہ للمبسوط فلیحفظ
وکذافی درر الحکام شرح مجلۃالاحکام: (2 /452و676 ،المکتبۃ العربیۃ )
وکذا فی شرح المجلۃ : (3 /375 ، رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیہ: (14 /502 ،فاروقیہ-کوئٹہ )
وکذا فی بدائع الصنائع: (5 /168،رشیدیہ )

واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ بن طارق غفر لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
29-07-1440، 2019-04-6
جلد نمبر :18 فتوی نمبر:165

عید الاضحی سےتقریبا آٹھ، نو مہینے پہلے جانور کو خرید لیا جاتا ہے، اس نیت سے کہ عید الاضحی کے موقع پر اس کو بیچ دوں گا اور اس شخص کی ہر سال یہی ترتیب ہے، یا اسی طرح اپنے گھر کی بکریوں میں یہ نیت کی جاتی ہے کہ جب ضرورت پڑے گی ان کو بیچ دوں گا، چناچہ ان میں کچھ بکرے یا بکریاں، عید الاضحی کے موقع پر بیچی بھی جاتی ہیں۔ان کے بارے میں زکاۃ کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

گھر کی پالتو بکریوں میں تو زکاۃ نہیں۔البتہ جو بکریاں بیچنے کے لیے خریدی جاتی ہیں، اگر ان کا مالک صاحب نصاب ہو (خواہ پہلے سے یا بکریاں خریدنے کے بعد)تو ان پر زکاۃ آئے گی ورنہ نہیں۔

لما فی حاشیہ الطحطاوی علی الدر المختار: (1 / 397،رشیدیہ )
” (قولہ ولو للتجارۃ)ای لو اسامھا بقصد التجارۃ ففیھا زکاۃ التجارۃ ای الذھب والفضۃ ولایعتبر عددھا بل تجب زکاتھا وان کانت علوفۃ کما یاتی . “
وفی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید: ( 1/ 361، الطارق)
فلو اشتری مواشی للتجارۃ ثم جعلھا سائمۃ اعتبر اول الحول من وقت جعلھا للسوم، ولو باعھا قبل انتھاء الحول بدراھم او ماشیۃ ضم الثمن الی جنسہ، فیضم الدراھم الی الدراھم، والماشیۃ الی الماشیۃ
وکذافی الشامیہ: (3 /235و245 ، دار المعرفہ)
وکذا فی الھدایہ مع فتح القدیر: (2 / 225الی 230، رشیدیہ)
وکذافی مراقی الفلاح مع حاشیہ الطحطاوی: ( 717 ، قدیمی)
وکذا فی الھندیہ: (1 / 179،رشیدیہ )
وکذافی المحیط البرھانی: (3 / 165، دار احیاء التراث)
وکذا فی المبسوط: ( 2/190 ،دار المعرفہ )

واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ بن طارق غفر لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
27-06-1440، 2019-03-05
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :94