زکوٰۃ کی مد سے ایسی چیز لے کر کسی کو دی جائے جو اس کی ضرورت نہ ہو اور وہ مستحق زکوٰۃ بھی ہو ،ایسی چیز اس لیے لیکر دی تاکہ جس کے کام کی ہے وہ اس کو دے دے حالانکہ جس کے کام کی ہے وہ صاحب نصاب ہے ،یہ جائز ہے یا نہیں؟

الجواب حامداًومصلیاًو مسلماً

مستحق کو مالک بنا کر وہ چیز دے دی جائے تو زکوٰۃ ادا ہو جائے گی اور مستحق بغیر کسی زبردستی اور دباؤ کے اپنی مکمل رضا مندی سے کسی مالدار کو وہ چیز دے تو یہ جائز ہے۔مگر اس طرح سے پلاننگ کرکے مستحق کو زکوٰۃ دینا نہایت قبیح ہے۔

لما فی البحر الرائق(2/428،)
و للغنی ان یشتری الصدقۃ الواجبۃ من الفقیر و یا کلھا، وکذا لو وھبھا لہ لما علم ان تبدل الملک کتبدل العین،فلو اباحھالہولم یملکھا منہ ذکر ابو المعین النسفی انہ لا یحل تناولہ للغنی ․و قال خواھرزادہ:یحل ․کذا فی الفوائد الناجیہ ․والذی یظھر ترجیح الاول لان الاباحۃ لو کانت کافیۃلما قال علیہ الصلاۃوالسلام فی واقعۃ بریرۃ”وھو لھا صدقۃ ولنا ھدیۃ
وفی حاشیہ الطحطاوی علی الدر(4/63،رشیدیہ)
قولہ واصلہ حدیث بریرۃ )قال فی التبیین وتبدل الملک کتبدل العین فصار کعین آخر والیہ اشار النبی صلی اللہ علیہ و سلم بقولہ فی حدیث بریرۃ ھی لھا صدقۃ ولنا ھدیۃ
وکذا فی الشامیہ(9/195،رشیدیہ) وکذا فی البحر الرائق(2/353،رشیدیہ)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ(3/1810رشیدیہ) وکذا فی التنویر و الدر(3/222،رشیدیہ)
وکذا فی الھندیہ(1/170،رشیدیہ) وکذا فی کنز الدقائق(55،حقانیہ)
وکذا فی الھدایہ(1/170،رشیدیہ) وکذا فی الشامیہ(9/195،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ طیب کان اللہ لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
10/5/1443-2021/12/15
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:200

میں نے اپنے مال کی زکوۃ سال گزرنے سے پہلے ایک ایسے شخص کو دی جو زکوۃ لینے کامستحق تھا اور سال گزرنے سے پہلے اس شخص کی لاٹری نکل آئی اور وہ مالدار ہو گیا، تو کیا زکوۃ ادا ہو گئی یا دوبارہ زکوۃ دینا ہو گی؟

الجواب حامداًومصلیاً

زکوۃ ادا ہو گئی، دوبارہ دینے کی ضرورت نہیں۔

لمافی التجنیس والمزید:(2/333،ادارة القران)
ولو عجل زکاتہ ودفع الی الفقیر المسلم فصار غنیا او ارتد ۔والعیاذ باللہ۔ قبل تمام الحول جاز عن زکوتہ لان العبرۃ لوقت الاداء لاستثناد الوجوب الی اول الحول فصار کما اذا ادی بعد الوجوب۔
وفی الھندیة:(1/176،رشیدیہ)
” ولو عجل اداء الزکاۃ الی فقیر ثم ایسر قبل الحول اومات او ارتد جاز مادفعہ عن الزکاۃ کذا فی السراج الوھاج۔ “
وکذافی الفتاوی الولوالجیة:(1/194،حرمین شریفین)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(3/191،فاروقیہ)
وکذافی حاشیة الطحطاوی علی الدر المختار:(1/405،رشیدیہ)
وکذافی التنویر مع الدر المختار:(2/294،ایچ۔ایم۔سعید)

 

واللہ اعلم بالصواب
محمداحسن ابراہیم غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
25،8،1443/2022،3،29
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:90

تجارت و بیچنے کے لیے خریدے گئے پلاٹ پر زکوۃ ہوگی یا نہیں؟اور کیا اس پر سال کا گزرنا بھی شرط ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

اگر اس پلاٹ کا مالک پہلے سے صاحب نصاب ہے تو باقی مال کا سال پورا ہونے پر اس پلاٹ کی موجودہ قیمت پر بھی زکوۃ ادا کرے گا اور اگر ا س پلاٹ کی وجہ سے صاحب نصاب بنا ہے تو سال گزرنے کے بعد پلاٹ کی کرنٹ ویلیو پر زکوۃ دے گا اور اگر صاحب نصاب نہیں ہے تو اس پر زکوۃ فرض نہیں ہے۔

لمافی الہندیة:(1 /179 ،رشیدیہ)
الزکوۃ واجبۃ فی عروض التجارۃ کائنۃ ما کانت اذا بلغت قیمتھا نصابا من الورق والذھب…. و تعتبر القیمۃ عند حولان الحول بعد ان تکون قیمتھا فی ابتداء الحول مائتی درھم من الدراھم الغالب علیھا الفضۃ
وفی المختصر الفقہ الحنفی:(233،بشری)
رجل یملک شیئا من الذہب او الفضۃ ای اقل من النصاب و عندہ عروض التجارۃ تضم قیمۃ العروض الی الذھب والفضۃ فان بلغت قیمتھا جمیعا نصاب الذھب او الفضۃ تجب علیھا الزکوۃ.
وکذافی الھدایة :(1/212،میزان)
وکذافی الفتاو السراجیہ :(137،زمزم)
وکذافی المحیط البرھانی :(3/163،ادارة القرآن)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة :(3/164،فاروقیہ)
وکذافی الموسوعة الفقہیة :(23/271،علوم اسلامیہ)

واللہ اعلم بالصواب
احسن ابراہیم غفر لہ و لوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
12/5/1443،2021/12/17
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:7

ہمارے گاؤں میں تقریباً ہر آدمی کے پاس بندوق ہے اور ان میں سے بعض کی قیمت نصاب کی مقدار سے بھی زیادہ ہے، کوئی حفاظت کے لیے اور کوئی شکار کے لیے رکھتا ہے اور ان پر سالہا سال گزر گئے ہیں، ان پر زکوۃ ہے یا نہیں؟

الجواب حامداًومصلیاً

استعمال کی غرض سے رکھے ہوئے ہتھیار پر زکوۃ نہیں ہے، اگرچہ ان کی قیمت نصاب کے برابر ہی کیوں نہ ہو۔

لمافی کتاب الفقہ علی المذاھب الاربعة:(1/506،حقانیہ)
لاتجب الزکاۃ فی دور السکنی و ثیاب البدن واثاث المنزل ودواب الرکوب وسلاح الاستعمال ومایتحمل بہ من الاوانی اذا لم یکن من الذھب او الفضۃ ۔
وفی الھندیة:(1/172،رشیدیہ)
فلیس فی دور السکنی و ثیاب البدن وأثاث المنزل و دواب الرکوب وعبید الخدمۃ وسلاح الاستعمال زکوۃ۔
وکذافی اللباب فی شرح الکتاب:(1/136،قدیمی)
وکذافی فتح القدیر:(2/173،رشیدیہ)
وکذافی الشامیة:(3/213،دارالمعرفہ)
وکذافی الھدایة:(1/299،بشری)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(3/1795،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(3/173،فاروقیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمداحسن ابراہیم غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
2،9،1443/2022،4،4
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:91

بندہ آپ سے قرآن و حدیث کی روشنی میں یہ سوال پوچھنا چاہتا ہے کہ میری ایک ہمشیرہ ہے جو کہ اوکاڑہ سٹی میں رہائش پذیر ہے ان کے شوہر 7دسمبر 2018بروز جمعۃالمبارک کو خالق حقیقی سے جا ملے ہیں اب ان کے بعد ان کی بیوی بیوہ ہے اور ان کے 3 یتیم بچے ہیں ،ان میں سب سے بڑا بیٹا ہے جس کا نام حماد ہے اس کی عمر 12 سال ہے اور اس کے بعد چھوٹی بیٹی ہے جس کا نام ہادیہ ہے اس کی عمر 10سال ہے اور اس کے بعد سب سے چھوٹی بیٹی ہے جس کا نام حرا ہے اس کی عمر 6سال ہے،ذرائع آمدن ان کے کوئی بھی نہیں ہیں خدا کے سہارے کے علاوہ حالات حاضرہ کے مطابق کوئی بھی سہارا نہیں ہے،اب ان بچوں کے دادا ابو اپنی وراثتی جگہ ایک مکان جو کہ رانا نرسری ایم جناح روڈ اوکاڑہ میں واقع ہے اور ایک دکان جو کہ دہلی سویٹس بیکرز کی آؤٹ سائیڈ میں واقع ہےتو یہ دونوں چیزیں داداابو بغیر کسی کو محروم کرتے ہوئے ان تین یتیم بچوں کے نام رجسٹری کروانا چاہتے ہیں ،اس رجسٹری کے 101000 اخراجات ہیں جو کہ بچوں کے دادا ابو اور ان بچوں کی والدہ ادا کرنے سے قاصر ہیں ،آیا ان اخراجات کو زکاۃ کی مد میں ادا کیا جا سکتا ہےیا نہیں؟اگر اد اکیا جا سکتا ہے تو راہنمائی فرمائی جائے۔اگر ادا نہیں کیا جاسکتا تو یہ 101000رقم بچوں کی والدہ کے سپرد کر دی جائے جو کہ مستحقہ ہیں وہ اپنی مرضی سے اس کام پر خرچ کر سکتی ہیں ؟

الجواب باسم ملہم الصواب

صورت مذکورہ میں تینوں بچے اور ان کی والدہ چونکہ زکوۃ کے مستحق ہیں ،اس لیے اس مذکورہ رقم کا ان سب کو مالک بنا کر انہی کے فائدے کے لیے اس مذکورہ کام میں خرچ کیا جا سکتا ہے ۔اور ان کو مالک بنانے کا طریقہ یہ ہو کہ چھوٹے دو بچوں کی طرف سے دادا ابو قبضہ کر لیں اور بڑا بچہ اور والدہ اپنے لیے خود قبضہ کر لیں ،پھر ساری رقم جمع کر کے مذکورہ کا م میں لگا دی جائے۔

لما فی الھندیہ:(1/187،رشیدیہ)
منھاالفقیر)وھو من لہ ادنی شیئ وھو ما دون النصاب او قدر نصاب غیرنام وھو مستغرق فی الحاجۃفلا یخرجہ عن الفقر ملک نصب کثیرۃ غیر نامیۃ اذا کانت مستغرقۃ بالحاجۃ
وفی مجمع الانھر:(1/328،المنار)
ولا یصرف الی مجنون،وصبی غیر مراھق الا اذا قبض لھما من یجوز لہ قبضہ کالاب والوصی،ویصرف الی مراھق یعقل الاخذ کما فی المحیط
وکذا فی الھندیہ:(1/190،رشیدیہ)
وکذا فی القرآن المجید:(سورۃالتوبہ:59)
وکذا فی کتاب الفقہ:(1/526،الحقانیہ)
وکذا فی ردالمحتار:(3/204،341،رشیدیہ)
وکذا فی خلاصہ الفتاوی:(1/242،رشیدیہ)
وکذا فی الفقہ الحنفی:(1/371،الطارق)
وکذا فی التاتارخانیہ:(3/211،فاروقیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
27/7/1440-2019/4/4
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:102

میری ساری آمدنی سال میں ایک دفعہ میرے پاس آتی ہے ،اور میرے کئی عزیزوں نے مجھے اپنے اپنے اکاؤنٹ استعمال کرنے کا اختیار دیا ہے ،سال کے دورانیے میں ،میں ان رشتہ داروں کی رقوم استعمال کرتا رہتا ہوں اور سال مکمل ہونے پر جب میری آمدنی آتی ہے تواس سے ان کی رقوم واپس کر دیتا ہوں اور کھاتے صاف کرلیتا ہوں ۔دریافت طلب بات یہ ہے کہ میں زکوۃ اپنی کل آمدنی سے ادا کروں گا یا رشتہ داروں کے قرضے ادا کرنے کے بعد باقی رقم کی زکوۃ ادا کروں گا ؟

الجواب باسم ملہم الصواب

قرض ادا کرنے کےبعد جو آمدنی بچے، اگر وہ بقدر نصاب ہو تو اس کی زکوۃ دینا فرض ہے ۔

لما فی بدائع الصنائع :
“ومنھا :ان لا یکون علیہ دین مطالب بہ من جھۃ العباد عندنا فان کان فانہ یمنع وجوب الزکاۃ بقدرہ حالا کان او مؤجلا۔”
(بدائع الصنائع :2/83،م:رشیدیہ)
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ:
“قال الحنفیۃ: الدین الذی لہ مطالب من جھۃ العباد یمنع وجوب الزکاۃ سواء اکان للہ کزکاۃ وخراج (ضریبۃ الارض )،ام کان لانسان ،ولو دین کفا لۃ ۔”
(الفقہ الاسلامی وادلتہ :3/1807،م:رشیدیہ)
(کذا فی تنویر الابصار وشرحہ:ردالمحتار ،3/208،209،210،م:رشیدیہ)
(کذا فی تبیین الحقائق :1/252،253،254،م:امدادیہ)
(کذا فی رد المحتار :3/210،م:رشیدیہ)
(کذافی المبسوط للسرخسی :2/160،م:دارالمعرفہ)
(کذافی القدوری :اللباب ،1،136،م:قدیمی)
(کذا فی اللباب :1/136،م:قدیمی)
(کذا فی المحیط البرھانی :3/228،م:دار احیاءتراث)
(کذا فی الفتاوی التاتار خانیہ:3/231،م:فاروقیہ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
1/5/1440،2019/1/8
جلد نمبر:17 فتوی نمبر:70

کہ جن جانوروں کو پورا سال جنگل میں چرایا جائے، اور رات کو کبھی کبھار تھوڑا بہت گھاس وغیرہ گھر میں ڈالا جاتا ہےتو ان جانوروں پر زکوۃ ہو گی یا نہیں؟

الجواب باسم ملھم الصواب

صورت مسئولہ میں ان جانوروں پر زکوۃ فرض ہو گی۔

لما فی بدائع الصنائع:(2/126،رشیدیہ)
“ثم السائمة هي الراعية التي تكتفي بالرعي عن العلف ويمونها ذلك ولا تحتاج إلى أن تعلف، فإن كانت تسام في بعض السنة وتعلف وتمان في البعض يعتبر فيه الغالب؛ لأن للأكثر حكم الكل “
وکذا فی مجمع الانھر:(1/292،المنار)
“السائمة التی تکتفی بالرعی فی اکثر الحول ۔۔۔۔۔۔ فان علفھا نصف الحول او اکثر فلیست بسائمة”
وکذا فی البحرالرائق:(2/372، رشیدیہ)
وکذا فی المحط البرھانی :(3/171،دار احیاء تراث العربی )
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیہ: (3/292،مکتبہ المنار )
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(3/1915 ،فاروقیہ)
وکذا فی الدر المختار:(3/232،دارالمعرفہ )
وکذا فی المبسوط :(2/150،دارالمعرفہ )
وکذا فی الفتاوی العالمگیریہ :(1/176،رشیدیہ )
وکذا فی خلاصة الفتاوی :(1 /235، رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد مظہر اقبال عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
14-1-2019،1440-5-7
جلد نمبر:17 فتوی نمبر:104

ایک شخص کے پاس بقدر نصاب نقدی ہے،سال پورا ہونے سے دو روز قبل اس نے تمام روپوں کے بدلے چاندی خرید لی ،تو اس پر زکوۃ کب آئے گی؟

الجواب باسم ملھم الصواب

اس چاندی پراسی سال کے دو دن گزرنے کے بعد زکوۃ آئے گی۔

لما فی الھندیۃ:(1/175،رشیدیہ)
“ولواستبدل مال التجارۃ او النقدین بجنسھا او بغیرجنسھا لا ینقطع حکم الحول.”
وفی المحیط البرھانی:(3/188،داراحیاء تراث)
“اذااستبدل الدراھم والدنانیر بجنسھا او بخلاف جنسھا،لم ینقطع حکم الحول،حتی لو تم حول الاصل یجب الزکوۃ.”
وکذا فی بدائع الصنائع: (2/98،رشیدیہ)
وکذا فی التجرید:(3/1342،محمودیہ)
وکذا فی التاتارخانیہ:(3/181 فاروقیہ)
وکذا فی رد المحتار:(2/284،سعید)
وکذا فی منحۃ الخالق :(2/382، رشیدیہ)
وکذا فی الفقہ الاسلامی:(3/1814،رشیدیہ)
وکذا فی المبسوط :(2/197،دارالمعرفۃ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد عابد عفی اللہ عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
12/6/1440،2019/2/18
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :1

ایک بندے نے اس نیت سے پلا ٹ لیا کہ بیٹی بیمار ہے ،جب ضرورت پڑے گی اس کے علاج کے لیے بیچ دوں گا،تو ایسے پلاٹ پر زکوۃ ہے یا نہیں؟

الجوا ب باسم ملھم الصواب

اگر سائل نے واقعی اس پلاٹ کو مشکل وقت میں بیچ کر محض اپنی ضرورت پوری کرنے کی نیت سے خریداہے، تجارت کی نیت سے نہیں خریدا تو اس پر زکوۃ نہیں آئے گی ،اس لیے کہ فقہاء کرام نے صراحت کی ہے کہ زکوۃ ان اراضی پر آتی ہے جو تجارت کی نیت سےخریدی گئی ہوں۔

لما فی بدائع الصنائع:(2/93،رشیدیہ)
“ولواشتری عینا من الاعیان ونوی ان تکون للبذلۃ والمھنۃ دون التجارۃ لا تکون للتجارۃ.”
وفی الفقہ الاسلامی:(3/1866،رشیدیہ)
اشترط الفقہاء لوجوب زکوۃ عروض التجارۃ شروطا…… منھا ثلاثۃ شروط متفق علیھا وھی بلوغ النصاب وحولان الحول ونیۃالتجارۃ.
وکذا فی تنویرالابصار مع شرحہ:(2/268،سعید)
وکذا فی الفقہ الحنفی :(1/358،الطارق)
وکذا فی المحیط البرھانی:(3/165،داراحیاء تراث)
وکذا فی الھندية:(1/174،رشیدیہ)
وکذا فی التاتارخانیة:(3/166،فاروقیہ)
وکذا فی البحرالرائق:(2/366،رشیدیہ)
وکذا فی تبیین الحقائق:(1/277،امدادیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد عابد عفی اللہ عنہ
دارالافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
7/6/1440، 2019/2/23
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :10

ایک شخص پر زکوۃ فرض ہوئی ،پھر اس نے اپنا آدھا مال محض نفل صدقے کی نیت سے اللہ کی راہ میں خرچ کر دیا تو اس پر کتنے مال کی زکوۃ ہو گی؟ سارے مال کی یا باقی مال کی۔

الجواب باسم ملھم بالصواب

اس شخص پر سارے مال کی زکوۃ ہو گی۔

لما فی الولوالجية:(1/181،الحرمین شریفین)
ولو تصدق ببعض مالہ لاینوی الزکاۃ لا یعتبر،فعلیہ زکاۃالکل عندابی یوسف رحمہ اللہ تعالی،وعند محمدرحمہ اللہ تعالی:تسقط عنہ زکاۃ (ما) تصدق عنہ، لان الواجب شائع فی الکل،لابی یوسف: ان الاصل لا یتادی الزکاۃ بدون النیۃ فما بقی شیءمن النصاب بفتیا الواجب فیہ جریا علی قضیۃ الاصل.
وفی الفقہ الاسلامی :(3/1811،رشیدیہ)
ولو تصدق ببعض النصاب لم تسقط زکاۃ ما تصدق بہ عند ابی یوسف وہو المختار عند صاحب الھدایۃ، فتجب زکاتہ وزکاۃ الباقی لان البعض المؤدی لم یتعین لاداءالواجب،وقال محمد: تسقط زکاۃ الجزء المؤدی، کما فی حالۃ التصدق بکل المال، باخراج الجزء الذی ہو الزکاۃ.
وکذا فی المحیط البرھانی:(3/207،داراحیاء تراث) وکذا فی بدائع الصنائع:(2/144،45، رشیدیہ)
وکذا فی البحر الرئق :(2/370،رشیدیہ) وکذا فی الدرالمختار:(2/270،سعید)
وکذا فی القول الراجح:(1/165،رشیدیہ) وکذا فی التاتار خانیة:(3/194،فاروقیہ)
وکذا فی شرح العینی:(1/117،ادارة القرآن) وکذا فی البناية:(3/370،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد عابد عفی اللہ عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
17/6/1440،2019/2/23
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :113