ایک آدمی نے اپنی زندگی میں وصیت کی کہ میری قبر میرے ڈیرے میں ہی بنانا،اب اس کے مرنے کے بعد بیٹے ڈیرےکے بجائےقبرستان میں دفناناچاہتے ہیں،کیا وہ عام قبرستان میں دفن کرسکتے ہیں یا وہاں دفناناضروری ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اس طرح کی وصیت پر عمل نہیں کرنا چاھیے،لھذااسے عام قبرستان میں دفن کرناچاھیے۔

لما فی البحرالرائق: (9 /300 ،رشیدیہ)
ولو أوصی أن یکفن فی ثوب کذا ویدفن فی موضع کذا فالوصیۃفی تعین الکفن وموضع القبر باطلۃ
وفی الھندیة: (6 /95 ،رشیدیہ)
أوصی بأن یدفن فی دارہ فوصیتہ باطلۃ الاأن یوصی أن یجعل دارہ مقبرۃ للمسلمین وفی الفتاوی الخلاصۃولو أوصی أن یدفن فی بیتہ لایصح ویدفن فی مقابر المسلمین
وکذا فی حاشیہ الطحطاوی علی الدرالمختار:(4/321،رشیدیہ)
وکذا فی فتح القدیر: ( 2/ 149 ، رشیدیہ)
وکذا فی فتاوی قاضی خان:(6/440،رشیدیہ)
وکذا فی خلاصةالفتاوی:(4/236، رشیدیہ)
وکذافی حاشیہ الطحطاوی علی مراقی الفلاح:(612،قدیمی)

واللہ اعلم بالصواب
محمدامجدڈوگرغفرلہ ولوا لدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
5/4/2023/14/9/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:195

ایک بندہ بستر مرگ پر وصیت کرے کہ میری پنشن میں سے پانچ ہزار 5000 ماہانہ مسجد میں دینا،اس وصیت کو ہر ماہ پورا کرنا ضروری ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

مرنے کے بعد ملنے والی پنشن میت کا ترکہ شمار نہیں ہوگا اور نہ ہی میت کی ملکیت ہے،بلکہ حکومت جس کو دے اسی کا حق ہوگا ،لھٰذا اس میں میت کی وصیت نافذ نہیں ہوگی ،ہاں جسے یہ پنشن ملے گی ،اگر وہ اپنی خوش دلی سے اس میں سے وصیت کے بقدر یا کم وبیش مسجد میں دے دیا کرے تو یہ مرنے والے اور خرچ کرنے والےدونوں کے لئے باعثِ اجر ہوگا۔

لمافی الھندیة:(6/94،رشیدیة)
ولو أوصی بألف درھم من مال رجل أوبعبدہ أو بثوبہ فأجاز ذٰلک الرجل قبل موتہ أو بعد موتہ فلہ أن یرجع عنہ مالم یدفعہ الی الموصی لہ فاذا دفعہ الیہ جاز ،لان وصیتہ من مال غیرہ بمنزلۃ الھبۃ کأنہ وھب مال غیرہ فلایصح الا بالتسلیم والقبض
وکذا فی المبسوط:(27/154،دار المعرفة)
ولو أوصی بألف درھم من مال رجل أوبعبدہ أو بثوبہ فأجاز ذٰلک الرجل قبل موتہ أو بعد موتہ فلہ أن یرجع عنہ مالم یدفعہ الی الموصی لہ فاذا دفعہ الیہ جاز ،لان وصیتہ من مال غیرہ بمنزلۃ الھبۃ کأنہ وھب مال غیرہ فلایصح الا بالتسلیم والقبض
وکذا فی خلاصةالفتاوی:(4/228،رشیدیہ)
رجل اوصی بألف درھم من مال رجل ثم مات الموصی فأجاز صاحب المال الوصیۃ بعد موتہ فان دفعہ جاز،وان منعہ لہ ذٰلک
وکذا فی مجع الانھر:(4/434،المنار)
وکذا فی کنزالدقائق:(481،حقانیة)
وکذا فی الھدایہ:(4/666، رشیدیة)
وکذا فی البحر الرائق:(9/251،رشیدیة)
وکذا فی تبیین الحقائق:(6/194،امدادیة)
وکذا فی بدائع الصنائع:(6/483،رشیدیة)
وکذافی التنویر مع الدر:(6/677،678،سعید)

واللہ اعلم بالصواب
عبدالقدوس بن خیرالرحمٰن
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
26/4/1442/2020/12/12
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:9

ایک شخص وصیت کرے کہ کہ میرے مرنے کے بعد میری آنکھیں فلاں شخص کودے دی جائیں اوراسی طرح دیگر اعضاء کی بھی وصیت کردےتو اس وصیت کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

ہر انسان کے پاس اس کے تمام اعضاء امانت ہیں ان کے مالک اللہ تعالی ہیں، لہٰذا کسی بھی انسانی عضو کی کسی دوسرےشخص کے لئے وصیت کرنا درست نہیں ہے۔

لما فی الدرالمختار:(19/356،رشیدیہ)
کون الموصی بہ قابلا للتملیک بعد موت الموصی بعقد من العقودمالااونفعا موجوداللحال اومعدوما
وفی الانتفاع باجزاء الآدمی لم یجز قیل للنجاسۃ
وفی الہندیہ:(5/354،رشیدیہ)
وفی الانتفاع باجزاء الآدمی لم یجز قیل للنجاسۃ قیل للکرامۃ ہو الصحیح قال ابو حنیفۃ رحمہ اللہ ولا ینتفع بجلدہ ولا غیرہا الا الشعر للاساکفۃ وقال ابو یوسف رحمہ اللہ یکرہ الانتفاع ایضا با لشعر وقول ابی حنیفۃ رحمہ اللہ اظہر
وکذافی البحرالرائق:(6/133،رشیدیہ)
وکذافی الکفایہ فی فتح القدیر:(6/90،رشیدیہ)
وکذافی الہدایہ:(3/58،رشیدیہ)
وکذافی النہر الفائق:(3/428،قدیمی)

واللہ اعلم بالصواب
محمداسامہ شفیق عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
11/5/1442/2020/12/27
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:123

ایک خاتون نےاپنے داماد کو کچھ رقم بطور قرض دی جب وہ واپس کرنے لگا توکہنےلگی کہ ابھی اپنے پاس رکھو جب ضرورت ہوئی میں لے لوں گی اور سا تھ ہی اپنی بیٹی سے کہا کہ اگر میں مر جاؤں تو یہ رقم مسجد میں دے د ینا وہ خاتون فوت ہو گئی اب اس رقم کا کیا کریں ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اگر یہ رقم میت کے تہائی مال سے کم یا تہا ئی مال کے بقدر ہے تو اس وصیت کو پورا کیا جائے گا، لیکن اگر تہائی مال سے زیادہ ہو تو ورثہ کی اجا زت پر مو قوف ہو گی بشر طیکہ ورثہ بالغ ہوں ۔

لما فی المحیط البرھانی:(22/252،دار احیاء تراث)
اذا اوصی بثلث مالہ لأجنبی فھذہ الوصیۃ جائزۃ ولا یحتاج فیھا الی اجازۃ الورثۃ …..وان أوصی با کثر من ثلث مالہ لأ جنبی فھذہ الوصیۃ فیما زاد علی الثلث لا تجوز الا با جاز ۃ الوارث
وفی تنویر الا بصار وشرحہ:(6/650،ایچ ایم سعید)
وتجوز بالثلث لأجنبی )عندعدم المانع (وان لم یجز الوارث ذلک لاالزیادۃ علیہ الا ان تجیز ورثتہ بعد موتہ) . . .(وھم کبار)
وکذافی البحرالرائق:(9/246،رشیدیة)
وکذا فی التاتارخانیة:(19/381،فاروقیة)
وکذافی ملتقی الابحر:(4/418،المنار)
وکذافی الھندیة:(6/90،رشیدیة)
وکذافی المبسوط:(27/144،دارالمعرفة)
وکذافی الصحیح لمسلم:(2/50،رحمانیة)
وکذافی البزازیة:(6/433،رشیدیة)
وکذافی بدائع الصنائع:(6/422،رشیدیة)

واللہ اعلم بالصواب
عبدالوہاب غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
10/5/1442/2020/12/26
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:89

ایک آدمی اپنی زندگی میں وصیت کرتا ہے کہ جب میں مَروں تو میرے فلاں رشتہ دار کو میرے جنازے میں نہیں آنے دینا، کیا ایسی وصیت کو پورا کرنا ضروری ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

ہر وہ وصیت جو خلاف شریعت ہو اس کو پورا کرنا جائز نہیں ہے۔ لہذا ،صورت مسئولہ میں مذکور وصیت کو بھی پورا کرنا جائز نہیں۔

لما فی الموسوعة الفقہیة:(43/258،علوم اسلامیة)
خامسا:أن لا یکون الموسی بہ معصیة أو محرماً شرعاً
وفی الفقہ الاسلامی وأدلتہ:(10/7483،رشیدیة)
۔۔۔۔۔۔۔أن لا یکون الموسی بہ معصیة أو محرماً شرعاً:لأن القصد من الوصیۃ تدارک ما فات فی حال الحیات من الاحسان فلا یجوز أن تکون معصیة
وکذا فی الموسوعة الفقیة:(43/258،علوم اسلامیة)
وکذا فی الشامیة:(10/419،رشیدیة)
وکذا فی مصنف عبد الرزاق:(11/335،المکتب الاسلامی)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وأدلتہ:(10/7484،رشیدیة)
وکذا فی بدائع الصنائع:(6/440،رشیدیة)
وکذا فی بدائع الصنائع:(6/439،رشیدیة)
وکذا فی البزازیة علی ہامش الہندیة:(6/433،رشیدیة)
وکذا فی الخانیة علی ہامش الہندیة:(3/494،495،رشیدیة)
وکذا فی البحر الرائق:(9/303،رشیدیة)
وکذا فی مجمع الأنہر:(4/4510،المنار)

واللہ تعالی اعلم بالصواب وعلمہ اتمّ
کتبہ:محمد نوید بن اللہ بخش عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
22/08/1443/2022/03/26
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:98