نکاح کی فیس لینا کیسا ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اگر اس علاقہ میں نکاح پڑھانے والا ایک ہی شخص ہو تو چونکہ نکاح پڑھانا اس کا شرعی فریضہ ہے، لہذا اس کے لیے اجرت لینا جائز نہیں، لیکن اگر اس کے علاوہ بھی کئی لوگ نکاح پڑھانے کی اہلیت رکھتے ہوں تو پھر نکاح پڑھانے اور پڑھوانے والوں کی باہمی رضامندی سے طے شدہ رقم بطور اجرت لینا جائز ہے۔

لما فی الھندیة:(3 /345 ،رشیدیہ )
وکل نکاح باشرہ القاضی وقد وجبت مباشرتہ علیہ کنکاح الصغار والصغائر فلا یحل لہ اخذالاجرۃ علیہ وما لم تجب مباشرتہ علیہ حل لہ اخذالاجرۃ علیہ
وفی الھندیة:(4 /411 ،رشیدیہ )
واما شرائط الصحۃ: فمنھا رضا المتعاقدین
وکذافی البدائع:(4 /43 ،رشیدیہ )
وکذا فی القرآن الکریم:(النساء :29 )
وکذا فی البحرالرائق:(5 /408،رشیدیہ )
وکذا فی خلاصة الفتاوی:(4 /48 ،رشیدیہ)
وکذا فی المحیط البرھانی :(12 /232 ،بیروت )

واللہ اعلم بالصواب
سید ممتاز شاہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2023/03/25/3/9/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:153

ایک آدمی کی نو، دس ماہ کی بچی ہے مگر دوسرا حمل بھی ہے جو تقریبا ایک ماہ سے زائد کا ہے اور اس کی وجہ سے عورت اور اس کی بچی کی صحت بھی خراب ہوتی ہے تو کیا اس حالت میں وہ حمل گرا سکتی ہے یا نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

بلا عذر تو حمل ضائع کروانا جائز نہیں، البتہ اگر حمل کی وجہ سے عورت کی جان کو خطرہ ہو اور کوئی ماہر، دین دار ڈاکٹر مشورہ دے تو حمل ضائع کروانا جائز ہے۔

لما فی الشامیة :(9/709،رشیدیہ)
قولہ:( وجاز لعذر) کالمرضعۃ اذا ظھر بھا الحبل وانقطع لبنھا ولیس لابی الصبی ما یستاجر بہ الظئر ویخاف ھلاک الولد قالوا: یباح لھا ان تعالج فی استنزال الدم مادام الحمل مضغۃ او علقۃ ولم یخلق لہ عضو وقدروا تلک المدۃ بمائۃ وعشرین یوما، وجاز لانہ لیس بآدمی وفیہ صیانۃ الآدمی
وفی الفقہ الحنفی :(5/402،الطارق)
ومن الاعذار ایضا المرضعۃ اذا ظھر بھا الحبل، وانقطع لبنھا، ولیس لاب الصبی ما یستاجر بہ الظئر المرضع ویخاف ھلاک الولد قالوا: یباح لھا ان تعالج فی استنزال الدم مادام الحمل مضغۃ او علقۃ ولم یخلق لہ عضو۔ وقدروا تلک المدۃ بمائۃ وعشرین یوما، وجاز لانہ لیس بآدمی وفیہ صیانۃ الآدمی
وکذافی الھندیة: (5 /356،رشیدیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(8/83،بیروت)
وکذافی الدرالمختار: (9 /709 ،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی الولوالجیة :(2/343،الحرمین )
وکذافی الفقہ الاسلامی و ادلتہ:(4/2647،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة: (18 /203،فاروقیہ)
وکذافی فتاوی قاضی خان علی ھامش الھندیة :(3/428،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
سید ممتاز شاہ بخاری
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2023/2/25/4/8/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:83

موبائل اگر نجس پانی میں گر جائے تو اسے پاک کرنے کا کیا طریقہ ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

موبائل کو صاف کرنے والے کیمیکل ( تِھنَّر ) سے یا پھر اس جیسے کسی اور کیمیکل وغیرہ کے ذریعے تین مرتبہ دھویا جائے۔

لما فی مختصرالقد وری :(70،بشری)
ویجوز تطھیر النجاسۃ بالماء ، وبکل مائع طاھر یمکن ازالتھابہ کالخل وماء الورد
وفی خلاصة الفتاوی :(1/42،رشیدیہ)
واصل ھذا ان ازالۃ النجاسۃ بما سوی الماء من المائعات الطاھرات جائز
وکذافی الھندیة: (1 /41،رشیدیہ)
وکذافی البدائع:(1/242،رشیدیہ)
وکذافی البحرالرائق: (1 /414 ،رشیدیہ)
وکذافی الشامیة :(1/332،ایچ ایم سعید)
وکذافی الجوہرة النیرة:(1/100،103،قدیمی)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة: (1 /455 ،فاروقیہ)

واللہ اعلم بالصواب
سید ممتاز شاہ بخاری
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2023/2/25/4/8/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:84

گندم کی پسوائی کے وقت آٹا چکی والےجو آٹا لیتے ہیں مثلا:اگر انہیں ایک من گندم دی جائے تو وہ آٹا بنانے کے بعد 38 یا 39 کلو آٹا واپس کرتے ہیں جبکہ ایک یا دو کلو آٹا رکھ لیتے ہیں، تو ان کا یہ آٹا رکھ لینا کیسا ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ میں چکی والے کی طرف سے” جلن اور اڑان“ کے عنوان سے آٹا اپنے پاس رکھنا درست ہے، بشرطیکہ یہ کٹوتی مناسب اور عرف کے مطابق ہو۔ نیز اس میں دھوکہ اور عوام کے ساتھ زیادتی بھی نہ ہو۔

لما فی دررالحکام شرح مجلة الاحکام:(1/46،المکتبة العربیة)

والحاصل ان استعمال الناس غیر المخالف للشرع و لنص الفقہاء یعد حجۃ

وفی مشکوة المصابیح:(1/261،رحمانیہ)
عن ابی حرۃ الرقاشی عن عمہ قال قال رسول اللہ ﷺ الا لا تظلموا الا لا یحل مال امرئ الا بطیب نفس منہ۔ رواہ البیھقی فی شعب الایمان والدار قطنی فی المجتبی
وکذافی القرآن الکریم:(ھود،85)
وکذافی القرآن الکریم:(النساء،29)
وکذافی الشامیة :(5/47،ایچ ایم سعید)
وکذافی شرح المجلة:(1/100،رشیدیہ)
وکذافی البحر الرائق:(6/189،رشیدیہ)
وکذافی مجلة الاحکام العدلیة:(21،قدیمی)
وکذافی جامع الترمذی :(1/378،رحمانیہ)
وکذافی فقہ البیوع:(1/27،معارف القرآن)
وکذافی الدر المختار:(5/47،ایچ ایم سعید)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(31/220،مکتبہ علوم اسلامیہ)
وکذافی الجامع الصغیر مع فیض القدیر :(6/241،دارالکتب العلمیہ)

واللہ اعلم بالصواب
سید ممتاز شاہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2023/2/5/13/7/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:192

جھینگا کھانے کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

بعض فقہاء نے چونکہ جھینگے کو مچھلی کی قسم شمار نہیں کیا اس لیے ان کے نزدیک اسے کھانا درست نہیں ہے، جبکہ بعض فقہاء نے اسے مچھلی کی قسم شمار کر کے حلال قرار دیا ہے۔ اس اختلاف کی وجہ سے جھینگے کی حلت و حرمت کے سلسلہ میں تشدد سے کام نہیں لینا چاہیے۔ تلخیص از تکملہ فتح الملہم:(3/513،دارالعلوم)

لما فی تکملة فتح الملہم:(3/513،دارالعلوم کراچی)
واما الروبیان او الاربیان الذی یسمی فی اللغۃ المصریۃ ”جمبری“ ، و فی اللغۃ الاردیۃ ” جھینگا “ ۔۔۔۔ فلا شک فی حلتہ عند الائمۃ الثلاثۃ، لان جمیع حیوانات البحر حلال عندھم۔ واما عند الحنیفۃ ، فیتوقف جوازہ علی انہ سمک او لا۔ فذکر غیر واحد من اھل اللغۃ انہ نوع من السمک، قال ابن درید فی جمھرۃ اللغۃ 3:414: ((واربیان ضرب من السمک))، واقرہ فی القاموس و تاج العروس 1 :146 ، و کذالک قال الدمیری فی حیاۃ الحیوان 1 :473: (( الروبیان ھو سمک صغیر جدا احمر )) و افتی غیر واحد من الحنفیۃ بجوازہ بناء علی ذالک، مثل صاحب الفتاوی الحمادیۃ ۔۔۔۔۔۔ وقد اسلفنا ان اھل اللغۃ امثال ابن درید، والفیروزابادی، والزبیدی، والدمیری کلھم ذکروا انہ سمک۔ فمن اخذ بحقیۃ الاربیان حسب علم الحیوان قال بمنع اکلہ عند الحنفیۃ، ومن اخذ بعرف اھل العرب قال بجوازہ، وربما یرجع ھذا القول بان المعہود من الشریعۃ فی امثال ھذہ المسائل الرجوع الی العرف المتفاھم بین الناس، دون التدقیق فی الابحاث النظریۃ، فلا ینبغی التشدید فی مسئلۃ الاربیان عند الافتاء، ولا سیما فی حالۃ کون المسئلۃ مجتھدا فیھا من اصلھا، ولا شک انہ حلال عند الائمۃ الثلاثۃ، وان اختلاف الفقہاء یورث التخفیف کما تقرر فی محلہ، غیر ان الاجتناب عن اکلہ احوط و اولیٰ و احری

واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
سید ممتاز شاہ بخاری
18/12/2022/23/5/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:140

ایک بوڑھی خاتون کے بال لمبے ہیں اور وہ کنگھی نہیں کرسکتی تو کیا وہ اپنے بال کٹوا سکتی ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اگر اس خاتون کے لیے بال کٹوائے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے تو مجبوری میں بقدرِ ضرورت بال کٹوا نے کی گنجائش ہے۔

لما فی الھندیة:(5/357،رشیدیہ)
ولو حلقت المراۃ راسھا فان فعلت لوجع اصابھا لاباس بھ وان فعلت ذالک تشبھا بالرجل فھو مکروہ کذا فی الکبری
وفی المبسوط:(18/96،مکتبہ علوم اسلامیہ)
واما اذا کان حلق المراۃ شعر راسھا لعذر او وجع فلا باس بہ عند الحنیفۃ والحنابلۃ ۔۔۔۔۔۔۔۔ سمعت ابا عبداللہ یسال عن المراۃ تعجز عن شعرھا وعن معالجتہ، وتقع فیہ الدواب قال: اذاکان لضرورۃ فارجو ان لایکون بہ باس
وکذافی فتح الباری:(10/459،قدیمی)
وکذا فی المحیط البرھانی:(8/87،بیروت)
وکذا فی الدر المختار:(9/671،رشیدیہ)
وکذا فی التاتارخانیہ:(18/212،فاروقیہ)
وکذا فی الصحیح المسلم:(1/182،رحمانیہ)
وکذا فی مشکوٰة المصابیح:(2/393،رحمانیہ)

واللہ اعلم بالصواب
سید ممتاز شاہ بخاری
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2022/12/6/11/5/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:83

کسی خوشی کے موقع پر تالیاں بجانا کیسا ہے؟ واضح رہے کہ یہ تالیاں بجانا محض اپنے جذبہ کا اظہار ہوتا ہے، کسی کی نقالی مقصود نہیں ہوتی اور نہ ہی یہ آج کل کافروں کا شعار ہے۔

الجواب حامداً ومصلیاً

کسی اچھے اور قابلِ ستائش عمل پر داد دینے یا کسی اچھی بات کو سراہنے کے لیے دعائیہ یا برکت والے جملے یا شکر کے کلمات کہنا چاہیے،مثلاً:”سبحان اللہ“ ”الحمد للہ“ ”ماشاء اللہ“ ”تبارک اللہ“ یا ”بہت خوب ،اعلیٰ، واہ واہ وغیرہ “یا اس جیسے دیگر تحسینی کلمات کہے جائیں اور تالیاں بجا کر داد وغیرہ دینااصلاً تو کفار وغیرہ کا طریقہ تھا، مگر رفتہ رفتہ ابھی کفار کی ہی تخصیص نہیں رہی بلکہ مسلمانوں کے عام خوشی کے مواقع میں بھی یہ طریقہ رائج ہوچکا ہے،اس لیے اسےقابلِ تعریف تو نہیں کہا جاسکتا ، البتہ بوقتِ مجبوری اس کی گنجائش ہو سکتی ہے جیسا کہ حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی مد ظلہ نے بھی اس کی گنجائش کا قول نقل کیا ہے۔

(جدید فقہی مسائل: 2/450،زمزم پبلشر)

واللہ اعلم بالصواب
سید ممتاز شاہ بخاری
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2022/12/6/11/5/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:89

ہوٹلوں میں رائج کھاناکھانےکےبوفےسسٹم کاشرعی حکم کیاہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

بوفےسسٹم میں کھاناکھانادرست ہے۔

لما فی بدائع الصنائع: (4 /355 ،رشیدیہ )
ومنھا:أن یکون المبیع معلوماوثمنہ معلوماًعلماًیمنع من المنازعۃ، فان کان أحدھمامجھولاً جھالۃمفضیۃﺇلی المنازعۃفسدالبیع ، وﺇن کان مجھولاجھالۃلاتفضیﺇلی المنازعۃلایفسد
وفی الھندیہ: (4 / 411 ، رشیدیہ )
فان کان مجھولاجھالۃمفضیۃالی المنازعۃیمنع صحۃالعقدوالافلا
وکذافی فیض الباری : (3 /535 ، رشیدیہ)
وکذا فی البحرالرئق: ( 8/ 65، رشیدیہ)
وکذا فی الھدایة: (3 /21 ،رحمانیہ )
وکذا فی فتح القدیر: ( 6/ 240، رشیدیہ )
وکذا فی البنایة: (7/ 28، رشیدیہ)
وکذا فی حاشیہ مختصرالقدوری: (302، البشریٰ)
وکذا فی الشامیہ: ( 9/ 90 ، رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمدامجدڈوگرغفرلہ ولوا لدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
6/12/2022/11/5/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:92

عورت کاعورت کے لئے ستر ہے یا نہیں،اگر ہے تو کتنا ستر ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

عورت کا عورت کے لیے ستر دو طرح کا ہے غلیظ اور خفیف۔ستر خفیف اتنا ہے جتنا ایک مرد اپنی محارم عورتوں کا ستر دیکھ سکتا ہےاور ستر غلیظ وہ ناف سے لے کر گھٹنے تک کا ہے۔عورت،عورت کا بوقت ضرورت ستر خفیف تو دیکھ سکتی ہے،مگر ستر غلیظ کو بغیر شدید مجبوری کے دیکھنا جائز نہیں۔

لما فی الفتاوی التاتارخانیة: (18 /19 ،فاروقیہ)
وعن ابی حنیفۃ رحمہ اللہ تعالی أن نظرالمر أۃ الی المر أۃ کنظر الرجل إلی محارمہ
وفی فی فتح القدیر: ( 10/ 37 ، رشیدیہ)
قولہ:(وعن ابی حنیفۃ رحمہ اللہ تعالی أن نظرالمر أۃ الی المر أۃ کنظر الرجل إلی محارمہ)یعنی لا تنظر الی ظھرھا وبطنھا،وھذا معنی قول صاحب الکافی: حتی لا یباح لھاالنظرالی ظھرھاوبطنھا
و فی المبسوط:(10/147،بیروت)
فأما نظرالمرأۃ فھوکنظر الرجل الی الرجل باعتبارالمجانسۃألاتری أن المرأۃتغسل المرأۃ بعد موتھا کما یغسل الرجل الرجل وقد قال بعض الناس نظرالمرأۃالی المرأۃ کنظرالرجل الی ذوات محارمہ حتی لا یباح لھاالنظرالی ظھرھاوبطنھا
وکذا فی الھندیة: (5 /327 ،رشیدیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(8/25،بیروت)
وکذا فی الھدایة:(4/463،رحمانیہ)
وکذا فی البدائع:(4/299،رشیدیہ)
وکذافی الموسوعةالفقھیة:(40/359،علم اسلامیة)
وکذا فی الفقہ الاسلامی و ادلتہ:(4/2656،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمدامجدڈوگرغفرلہ ولوا لدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
11/4/2023/20/9/1444
جلد نمبر:30 فتوی نمبر:6

عورت کا سر کے بالوں میں مہندی لگانا جائز ہےیانہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

جائز ہے۔

لما فی الفتاوی قاضی خان:(3/412،رشیدیہ)
والخضاب بالحناء والوسمۃحسن۔۔۔۔۔ولابأس بہ للنساء
وفی کتاب الفقہ:(2/44،المکتبة الحقانیة)
یکرہ صباغۃاللحیۃوالشعربالسوادالاالخضاب بالصفرۃوالحمرۃفانہ جائز
وکذا فی الھندیة: (5 /359 ،رشیدیہ)
وکذافی الشامیہ: (9 /696 ،رشیدیہ)
وکذا فی البحرالرائق: (8 /335 ،رشیدیہ)
وکذا فی سنن ابی داؤود :(2/225،رحمانیہ)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة: (18 /215 ،فاروقیہ)
وکذا فی الجوہرة النیرة:(2/617،قدیمی)
وکذافی الموسوعةالفقھیة:(2/281،علوم اسلامیہ)
وکذا فی بذل المجھود:(17/46،قدیمی)

واللہ اعلم بالصواب
محمدامجدڈوگرغفرلہ ولوا لدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
1/4/2023/10/9/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:175