حدیث پاک میں عورت کے لیےتین دن اور تین رات بغیر محرم کے سفر کرنا منع ہےحالانکہ آج کل کے حساب سے تو یہ بہت لمبا سفر بھی بن سکتا ہےمثلاًجہاز وغیرہ پر تو چاہےجتنے ملکوں کاسفر کرلیاجائے؟اور دوسری بات یہ کہ اگرعورت نے سفر کرلیا چاہے محرم کے ساتھ ہویا بغیر محرم کے ،اب دوسری جگہ کمائی کے لیے،تعلیم(دینی یادنیاوی)کے لیے یا کسی اور مقصد کے لیے محرم کے بغیر رہنے کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ میں جس حدیث پاک کا ذکر ہے اس سے اس وقت کے عرف کے مطابق پیدل یا اونٹ پر سفر مراد ہےجو 77کلو میٹر بنتا ہےلہذابغیر محرم کے77کلو میٹر سفر کرنا عورت کے لیے جائز نہیں ہے(2)اگرگھر کے قریب کوئی تعلیمی ادارہ ہو تو وہاں تعلیم حاصل کرےورنہ محرم کے ساتھ سفر ہواور اس ادارے میں پردہ کااور ہر قسم کےشروروفتن سےحفاظت کامکمل انتظام ہوتو وہاں تعلیم حاصل کرنے کی گنجائش ہے۔

لما فی الصحیح لمسلم:(1/499،رحمانیہ)
عن ابن عمر رضی اللہ عنہ ان رسولﷺقال لا تسافر المرأۃثلاثاالاومعھاذومحرم
وفی البدائع:(1/261،رشیدیہ)
قال أصحابنا:مسیرثلاثۃ أیام سیرالإبل ومشی الأقدام
وکذافی مشکوةالمصابیح:(1/221،حقانیہ)
وکذافی سنن أبی داؤد:(1/254،رحمانیہ)
وکذا فی فتح القدیر: ( 2/ 27 ، رشیدیہ)
وکذافی الشامیہ: (3 /533 ،رشیدیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(3/394،بیروت)
وکذا فی البحرالرائق: (2 /551 ،رشیدیہ)
وکذا فی الھندیة: (1 /218 ،رشیدیہ)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة: (3 /474 ،فاروقیہ)
وکذا فی الھدایة:(1/251،المیزان)

 

واللہ اعلم بالصواب
محمدامجدڈوگرغفرلہ ولوا لدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
25/2/2023/4/8/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:53

سینے کے بال منڈوانا جائز ہے یا نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

درست نہیں۔

لما فی فی الھندیة: (5 /358 ،رشیدیہ)
وفی حلق الشعرالصدروالظھرترک الادب کذا فی القنیۃ
وفی الشامیہ: (3 /313 ،رشیدیہ)
وفی حلق الشعرالصدروالظھرترک الادب
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة: (18 /211 ،فاروقیہ)
وکذا فی البحرالرائق: (8/375 ،رشیدیہ)
وکذا فی حاشیہ الطحطاوی علی الدرالمختار:(4/203،رشیدیہ)
وکذا فی المبسوط:(4/73،بیروت)
وکذا فی الصیح البخاری:(2/398،رحمانیہ)
وکذا فی:الموسوعةالفقھیة(18/100،علوم اسلامیہ)

 

واللہ اعلم بالصواب
محمدامجدڈوگرغفرلہ ولوا لدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
19/12/2022/24/5/1444
جلد نمبر :28 فتوی نمبر:152

 

آج کل اکثر مالش کرنے والے جب مالش کرتےہیں توٹانگوں پر گھٹنوں کے اوپر بھی تیل کی مالش کرتے ہیں بغیر کسی چیز کے حائل کے،توکیاران پرتیل کی مالش کرانا شرعاًجائز ہے یانہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

شرعی عذر کے بغیر گھٹنوں سے اوپر مالش کرنا جائز نہیں۔

لما فی المحیط البرھانی:(8/24،بیروت)
یجوز أن ینظر الرجل إلی الرجل إلی جمیع جسدہ الا الی عورتہ،وعورتہ مابین سرتہ حتی یجاوز رکبتہ۔۔۔۔۔ وماجازالنظرالیہ جاز مسہ،لان مالیس بعورۃ فمسہ والنظرالیہ علی السواء
وفی الھندیة: (5 /327 ،رشیدیہ)
أما بیان القسم الاول)فنقول ویجوزأن ینظر الرجل الی الرجل الاالی عورتہ،کذافی المحیط وعلیہ الاجماع کذافی الاختیار شرح المختار،وعورتہ مابین سرتہ حتی تجاوز رکبتہ۔۔۔۔۔ومایباح النظر للرجل من الرجل یباح المس
وکذافی الشامیہ: (9 /602 ، دارالمعرفة)
وکذا فی البحرالرائق: (8 /353 ،رشیدیہ)
وکذا فی الجوہرة النیرة:(2/385،قدیمی)
وکذا فی الھدایة:(4/102،بشرٰی)
وکذا فی المبسوط:(10/146،بیروت)
وکذا فی تبین الحقائق:(6/18،امدادیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمدامجدڈوگرغفرلہ ولوا لدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
1/4/2023/10/9/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:174

شارک مچھلی حلال ہے یاحرام ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

شارک مچھلی کے بارے میں بعض علماء فرماتے ہیں کہ حلال ہے جیساکہ ”الموسوعۃ الفقہیۃ“وغیرہ میں اوربعض دیگراھل علم حضرات فرماتے ہیں کہ حرام ہے،لیکن ہم نے جب اس میں غورکیا تویہ صرف شکل وصورت میں مچھلی کے مشابہ ہے باقی جتنی صفات ہیں وہ مچھلی والی نہیں مثلا(1) حیض کاآنا(2) انڈے نہیں ،بچے دینا(3) حملہ آور ہونا،لہذاچونکہ یہ مچھلی کے صرف صورت میں مشابہ ہے،باقی اس کے دوسرے اوصاف درندوں اور دیگرجانوروں والے ہیں،مچھلی والے نہیں اس لیے یہ حرام ہے۔

لما فی الموسوعة الفقھیة: (5 /131 ،علوم اسلامیة )
والتمساح لان لہ نابا یفترش بہ لکنھم لم یستثنواسمک القرش فھوحلال ،وان کان لہ ناب یفترش بہ والظاھران التفرقۃ بینھما مبنیۃ علی ان القرش نوع من السمک لایعیش الا فی البحر بخلاف التمساح
وفی وفی فتح الباری: (9 /773 ،قدیمی )
وذکرالاطباء ان الضفدع نوعان بتی وبحری،فالبری یقتل آکلہ والبحری یضرہ،ومن المستثنی ایضا التمساح لکونہ یعدو بنابہ وعنداحمد فیہ روایۃ،ومثلہ القرش فی البحرالملح خلافالماافتی بہ
وکذافی الھندیة: (5 / 289 ،رشیدیة ) وکذافی تنویرالابصار: (6 /306 ،ایچ،ایم سعید )
وکذافی الفقہ الاسلامی: (4 /2791 ، رشیدیة) وکذافی تکملة فتح الملھم: (3 /507 ،دارالعلوم )
وکذافی التجرید: (12 /6366 ،محمودیة ) وکذافی الھدایة: (4 /77 ،بشری )
وکذافی التاتارخانیة: (18 /490 ،فاروقیة ) وکذا فی بدائع الصنائع: (4 /114 ،رشیدیة )

واللہ اعلم بالصواب
کلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2023/02/8/16/7/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:27

قرآن پاک کی تلاوت کے وقت سلام کاجواب دیناکیساہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

تلاوت کرنے والے کوسلام کرنامکروہ ہےاورتلاوت کرنے والے کے ذمہ جواب دیناضروری نہیں اوراگرجواب دے دے توکوئی حرج بھی نہیں۔

لما فی الھندیة: (5 /325 ،رشیدیة )
یکرہ السلام عند قراءۃ القرآن جھراوکذاعند مذاکرۃ العلم وعند الآذان والاقامۃ والصحیح انہ لایرد فی ھذہ المواضع
وفی الشامیة: (1 /618 ،ایچ،ایم سعید )
یکرہ السلام علی العاجزعن الجواب حقیقۃ کالمشغول بالاکل اوالاستفراغ،اوشرعاکالمشغول با لصلاۃ وقراءۃ القرآن ولوسلم لایستحق الجواب
وکذافی الفقہ الاسلامی: (4 /2685 ،رشیدیة ) وکذافی المحیط البرھانی: (8 /20 ،داراحیاء )
وکذافی الموسوعة الفقہیة: (25 /164 ،علوم اسلامیة ) وکذافی خلاصة الفتاوی: (1 /50 ،رشیدیة )
وکذافی تبیین الحقائق: (1 /91 ،رشیدیة ) وکذافی الفقہ الحنفی: ( 5/ 409 ،الطارق )
وکذا فی التاتارخانیة: (18 /83 ،فاروقیة )

واللہ اعلم بالصواب
کلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2023/02/8/16/7/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:32

آج کل واٹس ایپ گروپوں میں لکھ کرسلام بھیجاجاتاہے اوراس بھیجنے والے کابھی اکثراوقات پتانہیں چلتاپھرکافی دنوں کے بعدوہ میسج دیکھتے ہیں تواس میسج میں سلام کاجواب دینامیسج کے ذریعے ضروری ہے یاصرف زبان سے کہہ دینا ضروری ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

زبان سے سلام کا جواب دینا ضروری ہے۔اگرممکن ہوتومیسج کے ذریعہ بھی جواب دے دیا جائے۔

لما فی فی الصحیح البخاری: (1 / 244 ،رحمانیة )
ان اباھریرۃ قال سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول حق المسلم علی المسلم خمس ردالسلام وعیادۃ المریض واتباع الجنائز واجابۃ الدعوۃ وتشمیت العاطس
وفی الشامیة: (9 /685 ،رشیدیة )
ویجب ردجواب کتاب التحیۃ)لان الکتاب من الغائب بمنزلۃ الخطاب من الحاضر مجتبی والناس عنہ غافلون،اقول:المتبادرمن ھذاان المرادردسلام الکتاب لاردالکتاب،لکن فی جامع الصغیرللسیوطی: ردجواب الکتاب حق کردالسلام قال شارحۃ المناوی:ای:اذاکتب لک رجل بالسلام فی کتاب ووصل الیک وجب علیک الردباللفظ
وکذافی الصحیح المسلم: (1 /221 ،رحمانیة ) وکذافی حاشیة الصحیح المسلم: ( 2/ 220، رحمانیة)
وکذافی الموسوعة الفقہیة: (25 /160 ،علوم اسلامیة ) وکذافی سنن ابی داود: (2 /367 ،رحمانیة )
وکذافی جامع الترمذی: (2 /557 ،رحمانیة ) وکذا فی الموسوعة الفقہیة: (25 /160 ،علوم اسلامیة )

 

واللہ اعلم بالصواب
کلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2022/12/17/22/5/ 1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:177

آج کل گلی محلے میں عورتوں کے بال خریدنے والے گھومتے ہیں جوکہ چار پانچ ہزار روپے کلو لیتے ہیں،کیا عورتوں کے بالوں کی خریدوفروخت جائز ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

انسانی بالوں کی خریدوفروخت شرعا جائز نہیں ہے۔

لما فی الھندیة:(3/115،رشیدیہ)
ولایجوزبیع شعورالانسان
وفی المحیط البرھانی: (9/234،داراحیاء)
وشعرالادمی طاھر،ولایجوزالانتفاع بہ
وکذافی الشامیہ: (5/ 58 ،ایچ،ایم،سعید )
وکذا فی التاتارخانیہ: (9 /346 ،فاروقیہ )
وکذا فی بدائع الصنائع: (4 /323 ،رشیدیہ)
وکذافی تبیین الحقائق: ( 4/ 51 ، امدادیہ)
وکذا فی البحرائق: ( 6/ 133 ،رشیدیہ )
وکذافی الھدایة: ( 3/ 82، حسن)
وکذا فی فتح القدیر: (6 /351 ،رشیدیہ )
وکذافی تنویرالابصارمع الدرالمختار: ( 5/ 58، سعید)

واللہ اعلم بالصواب
احتشام مجیدغفرلہ ولوا لدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
6/12/2022/11/5/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:114

زیبرے کا گوشت کھانا جائز ہے یانہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

زیبرے کاگوشت حلال ہے۔

لما فی تنویرالابصار مع الدرالمختار: (9/508 ،رشیدیہ )
والحمرالاھلیۃ)بخلاف الوحشیۃ،فانھاولبنھاحلال
وفی بدائع الصنائع: (4/151 ،رشیدیہ )
واما المتوحش نحوالظباءوبقرالوحش وحمرالوحش وابل الوحش فحلال باجماع المسلین
وکذافی الھندیة: (5/289،رشیدیہ )
وکذا فی الشامیة: (9/508 ،رشیدیہ )
وکذافی الصحیح البخاری: (1 /333 ، رحمانیہ)
وکذافی الصحیح البخاری: (1/334 ،رحمانیہ )
وکذافی الصحیح المسلم: (1/379 ،رحمانیہ )
وکذافی الصحیح المسلم: (1/ 381 ،رحمانیہ )
وکذافی موطاللامام مالک: (362 ،قدیمی )

واللہ اعلم بالصواب
احتشام مجیدغفرلہ ولوا لدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
4/8/1444/25/2/2023
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:88

ٹی وی یا موبائل پر لائیو کرکٹ میچ اور دیگر پروگرام دیکھنا کیسا ہے؟

الجواب باسم ملھم الصواب

ٹی وی یا موبائل پر بوقتِ ضرورت ایسے پروگرام دیکھنے کی گنجائش ہے جو ناجائز مناظر اور موضوعات سے پاک ہوں، لیکن کرکٹ میچ دیکھنا درج ذیل مفاسد کی وجہ سے ناجائز ہے: (1)میچ دیکھنے والے کو دینی اور دنیوی کسی قسم کا فائدہ نہیں ہوتا۔ (2)وقت اور پیسہ کے ضائع ہونے کے ساتھ ساتھ دیکھنے والا ایسے مناظر دیکھ بیٹھتا ہے جنہیں دیکھنا حرام ہے۔ (3)دورانِ میچ، میچ دیکھنے والے آپس میں ناجائز شرطیں لگاتے ہیں۔ (4)میچ دیکھنے کے شوقین یا تو نمازیں چھوڑدیتے ہیں، یا غفلت و بےتوجہی کے ساتھ ادا کرتے ہیں۔

لما فی تکملہ فتح الملھم: (4/164، ط: مکتبہ دار العلوم کراتشی)
اما التلفزیون و الفدیو فلاشک فی حرمۃ استعمالھما بالنظر الی مایشتملان علیہ من المنکرات الکثیرۃ …و لکن ھل یتاتی فیھما حکم التصویر بحیث اذا کان التلفزیون و الفدیو خالیاً من ھذہ المنکرات باسرھا، ھل یحرم بالنظر الی کونہ تصویراً؟ فان لھذا العبد الضعیف عفا اللہ عنہ فیہ وقفۃ.و ذالک لان الصور المحرمۃ ماکانت منقوشۃ او منحوتۃ بحیث یصبح لھا صفۃ الاستقرار علی شیئ …اما الصورۃ التی لیست لھا ثبات و استقرار و لیست منقوشۃ علی شیئ بصفۃ دائمۃ، فانھا بالظل اشبہ منھا بالصورۃ.و یبدو ان صورۃ التلفزیون و الفدیو لاتستقر علی شیئ
و فی الفقہ الاسلامی و ادلتہ: (1/659، ط: رشیدیہ)
فقال الحنفیۃ: تارک الصلوۃ تکاسلا فاسق یحبس و یضرب –علی المذھب- ضربا شدیدا حتی یسیل منہ الدم حتی یصلی او یموت فی السجن
و فی الموسوعہ الفقھیہ: (35/337، ط: علوم اسلامیہ)
اللھو فی اللغۃ: “کل باطل الھی عن الخیر و عمایعنی” …الاصل فی ھذہ المسئلۃ ھو قول النبی صلی اللہ علیہ و سلم: “کل شیئ یلھو بہ ابن آدم فھو باطل الا ثلاثا: رمیہ عن قوسہ، و تادیبہ فرسہ، و ملاعبتہ اھلہ”. و ذالک لانہ افاد ان کل مایتلھی بہ الانسان ممالایفید فی العاجل و الآجل فائدۃ دینیۃ فھو باطل، و الاعتراض فیہ متعین
و کذا فی الشامیہ (6/348، ط: ایچ ایم سعید)
و کذا فی القرآن الکریم (سورہ المائدہ: ع:13، الآیہ: 104)
و کذا فی القرآن الکریم (سورہ الماعون: الآیہ: 4الی5)
و کذا فی القرآن الکریم (سورہ النور: ع: 3، الآیہ: 30الی31)
و کذا فی الھندیہ (5/352، ط: رشیدیہ)
و کذا فی الموسوعہ الفقھیہ (40/341، ط: علوم اسلامیہ)
و کذا فی الموسوعہ الفقھیہ (39/407، ط: علوم اسلامیہ)

و اللہ اعلم بالصواب
کتبہ: محمد زکریا غفرلہ
دار الافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
03/06/1442/ 2021/01/17
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:174