ہمارے علاقہ میں ایک حیلہ مروج ہے، جس کی حقیقت یہ ہے کہ جنازہ کے بعد کچھ لوگ دائرہ بناتے ہیں، میت کے وارث ایک قرآن شریف اور اس کے ساتھ کچھ نقدی باندھ کر اور کبھی صرف نقدی اس دائرہ میں لاتے ہیں، اور اس پر مخصوص الفاظ پڑھ کر دائرہ میں بیٹھنے والوں کے حوالے کرتے ہیں، جو ایک دوسرے کی ملکیت کرتے ہیں، اور متعدد دفعہ اس رقم کو اس دائرہ میں پھیرا جاتا ہے، اس کے بعد نصف رقم امام مسجد کو اور نصف رقم غرباء کو دے دی جاتی ہے۔ زید اس محلے کا فرد ہے، جو اس حیلۂ مروجہ کی مخالفت کرتا ہے او ر کہتا ہے کہ اس مروجہ حیلہ کا ثبوت ادلۂ شرعیہ سے نہیں، لہٰذا یہ بدعت ہے، کیا زید کا دعویٰ درست ہے؟ نیز جن شرائط کے ساتھ بعض فقہاء نے اس حیلہ کی اجازت دی ہے انہیں تفصیل سے تحریر فرمادیں۔ اور کیا آج کل ان شرائط کا لحاظ رکھاجاسکتا ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

شرعی نقطۂ نظر سے حیلۂ اسقاط کی حقیقت یہ ہے کہ کسی میت کے ذمے نمازوں اور روزوں کا فدیہ لازم ہے، اور اس نے ترکہ میں مال نہیں چھوڑا کہ جس سے فدیہ ادا ہوسکے، اس صورت میں فدیہ کی ادائیگی کا حیلہ یہ ہے کہ مجموعی فدیہ کی رقم کا اندازہ لگایا جائے، مثلاً چالیس ہزار روپے، اور کچھ رقم قرض لی جائے، مثلاً ایک ہزار روپے، اب اس ہزار روپے کا کسی فقیر کو اس نیت سے مالک بنادیا جائے اور قبضہ دےدیا جائے کہ یہ میت کے فدیہ کی رقم ہے، پھر وہ فقیر اپنی خوشی سے کسی دباؤ کے بغیر یہ ہزار روپے دینے والے کو ہبہ کردے اور قبضہ بھی دےدے، اب پہلا آدمی فقیر کو مذکورہ نیت کے ساتھ ہزار روپے کا بمع قبضہ مالک بنائے، فقیر حسبِ سابق رقم ہبہ کردے، اس طرح چالیس مرتبہ حقیقی طور پر ہزار روپے کے ہبہ کرنے اور مالک بنانے سے امید ہے کہ میت کا فدیہ ادا ہوجائے گا۔
لیکن مروجہ حیلۂ اسقاط چونکہ مندرجہ ذیل کئی مفاسد پر مشتمل ہے، اس لئے ناجائز ہے، اور اس کا چھوڑنا واجب و ضروری ہے: 1) جو قرآن اور نقد رقم دائرہ میں رکھی جاتی ہے وہ ورثہ کی اجازت کے بغیر میت کے ترکہ سے لی جاتی ہے۔ 2) اگر ورثہ میں کوئی یتیم ہوتو اس کا اجازت دینا معتبر نہیں ہے۔ 3) اگر سب ورثہ بالغ ہوں اور سب نے اجازت دےدی ہو تو بھی یہ معلوم کرنا مشکل ہے کہ اجازت طعنوں کے خوف اور رواج کے دباؤ میں آئے بغیر پوری خوش دلی سے دی گئی ہے۔ 4) اگر یہ سب باتیں نہ ہوں بلکہ کسی آدمی نے اپنی جیب سے رقم کا انتظام کردیا ہو تب بھی مروجہ حیلہ درست نہیں، کیونکہ جن لوگوں کو قرآن شریف اور نقد رقم دی جاتی ہے انہیں صحیح معنی میں مالک نہیں بنایاجاتا، اس کی واضح دلیل یہ ہے کہ جس شخص کو رقم دی جاتی ہے اگر وہ اسے اپنے پاس رکھ لے اور دوسرے کو مالک نہ بنائے تو دینے والے اس کو ہرگز برداشت نہیں کریں گے۔ 5) یہ بھی ضروری ہے کہ جس شخص کو مالک بنایا جائے وہ زکوۃ کا مستحق ہو۔ 6) اگر اس کا بھی اہتمام کرلیاجائے تو آخر میں رقم جس کے پاس پہنچے گی وہ اس کامالک ہوگا، اس کی رضامندی کے بغیر آدھی رقم امام مسجد کو دینا اور آدھی رقم غرباء میں تقسیم کرنا حرام اور ناجائزہے۔
اگر بالفرض حیلۂ اسقاط مذکورہ تمام مفاسد سے خالی ہو تب بھی اس کو ہر میت کے لئے لازم و ضروری سمجھنا اور جو یہ حیلہ نہ کرے اس کو برا بھلا کہنا بجائے خود بدعت ہے، جس کا ناجائز ہونا حدیثِ پاک سے ثابت ہے۔
اللہ کریم ہم سب کو بدعات و رسومات سے بچ کر شریعت کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطاء فرمائے، آمین۔

لما فی التنویر و الدر:(2/72-73،ط: ایچ ایم سعید)
و لومات و علیہ صلوات فائتۃ و اوصی بالکفارۃ یعطی لکل صلاۃ نصف صاع من بر . . .و انما یعطی من ثلث مالہ و لولم یترک مالا یستقرض وارثہ نصف صاع مثلاً و یدفعہ لفقیر ثم یدفعہ الفقیر للوارث ثم و ثم حتی یتم
وفی الھندیہ:(1/125،ط: رشیدیہ)
اذا مات الرجل و علیہ صلوات فائتۃ فاوصی بان تعطی کفارۃ صلواتہ یعطی لکل صلاۃ نصف صاع من بر . . .و ان لم یترک مالا یستقرض ورثتہ نصف صاع و یدفع الی مسکین ثم یتصدق المسکین علی بعض ورثتہ ثم یتصدق ثم و ثم حتی یتم لکل صلوۃ ماذکرنا
وفی الفقہ الاسلامی و ادلتہ:(2/1152،ط: رشیدیہ)
و تؤخذ الکفارۃ و فدیۃ الصوم من ثلث مال المتوفی فان لم یکن لہ مال یستقرض وارثہ نصف صاع مثلاً و یھبہ للفقیر، ثم یھبہ الفقیر لولی المیت و یقبضہ، ثم یدفعہ الولی للفقیر، فیسقط من الصلاۃ و الصوم بقدرہ، و ھکذا حتی یتم اسقاط ماکان علیہ من صلاۃ و صوم
وکذافی خلاصہ الفتاوی:(1/192،ط: رشیدیہ)
وکذا فی ھامش حاشیہ الطحطاوی علی الدر:(1/307-308،ط: رشیدیہ)
وکذا فی غنیہ المتملی:(535،ط: رشیدیہ)
وکذا فی الفتاوی الولوالجیہ:(1/88،ط: مکتبہ الحرمین الشریفین)
وکذا فی صحیح البخاری:(2/642،ط: رحمانیہ)
وکذا فی سنن ابی داود:(2/290،ط: رحمانیہ)
وکذا فی مشکوہ المصابیح:(1/261،ط: رحمانیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ: محمد زکریا غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
8/8/1442/2021/3/23
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:54

بارہ ربیع الاول کے دن اگر چند دوست اکٹھے ہوکر سیرت کے عنوان سے جلسہ کا انعقاد کریں اور کھانے کا انتظام کرنے کے لئے پیسے اکٹھے کریں اور کھانا کھائیں، کھلائیں۔ کیا یہ سب جائز ہے؟

الجواب باسم ملھم الصواب

1)

نبی کریم ﷺکی حیاتِ طیبہ کے تذکرہ میں اس بات کا اہتمام کرنا چاہئے کہ یہ مبارک مجلس بدعات و رسومات سے پاک ہو اور محض رواج کے دباؤ پر اس کا اہتمام نہ ہو بلکہ آقاءِ کریم ﷺکی سیرت اور سنتوں کی ترویج ہو تو نہ صرف یہ کہ ایسی مجالس جائز بلکہ باعثِ نجات ہوں گی۔ 2) اگر دوست خوش دلی سے پیسے دینے پر آمادہ ہوں تو کھانے کا انتظام کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ 3) اللہ تعالیٰ ہم سب کو نبیِ کریم ﷺکی مبارک سنتوں پر عمل کرنے اور بدعات سے بچنے کی توفیق عطاء فرمائے۔ آمین۔

لما فی امداد الفتاوی:(6/312، ط: مکتبہ دارالعلوم)
و الاحتفال بذکر الولادۃ الشریفۃ ان کان خالیاً من البدعات المروجۃ فھو جائز بل مندوب کسائر اذکارہ
و فی الصحیح لمسلم: (2/77، ط: قدیمی)
قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم: من احدث فی امرنا ھذا مالیس منہ فھو رد
و فی سنن ابی داود: (2/290، ط: رحمانیہ)
و ایاکم و محدثات الامور فان کل محدثۃ بدعۃ و کل بدعۃ ضلالۃ
و کذا فی الموافقات للشاطبی (1-2/499، ط: دارالمعرفہ)
و کذا فی مشکوۃ المصابیح (1/261، ط: رحمانیہ)
و کذا فی صحیح البخاری: (2/642، ط: رحمانیہ)
و کذا فی سنن النسائی (1/253، ط: رحمانیہ)
و کذا فی سنن ابن ماجہ (99، ط: رحمانیہ)
و کذا فی سنن الدارمی (1/57، ط: قدیمی)
و کذا فی الموسوعہ الفقھیہ (8/24، ط: علوم اسلامیہ)
و کذا فی الترغیب و الترھیب (1/40، ط: رشیدیہ)

و اللہ اعلم بالصواب
کتبہ: محمد زکریا غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
18/07/1442/ 2021/03/03
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:109

انٹرنیٹ پرویب سائٹ او جی ای ،ویڈیوز/وائے زیڈ ویڈ،وغیرہ ہیں،ان پر جا کر اکاؤنٹ بنواؤ وہ آپ کو ویڈیوز بھیجیں گے،جو مختلف کمپنیوں کے اشتہارات کے طورپر ہوتی ہیں،جن کو دیکھنے کے بعد آپ کے اکاؤنٹ میں پیسے بھیجیں گے،ویڈیوزدیکھنے کے درمیان آپ موبائل پر کوئی دوسرا کام نہیں کرسکتے،ویڈیوز میں بعض دفعہ تشہیر کرنے والی لڑکیاں بھی ہوتی ہیں،اورویب سائٹ والوں کا موقف یہ ہے کہ رقم ان کمپنیوں سے ہی ملتی ہے جن کے اشتہارات ہوتے ہیں،کیا یہ درست ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اگران ویڈیوزمیں ناجائزامور( مثلا:نامحرم کی تصویر،ناجائزکاروبارمثلا:سودیاشراب وغیرہ کی تشہیراور میوزک وغیرہ)نہ ہوں اورویب سائٹ سے کئے گئے معاہدے کی خلاف ورزی اور کسی قسم کی دھوکہ دہی نہ ہوتو یہ پیسے لیناجائز ہے،ورنہ جائز نہیں۔

وکذافی الھندیة:(4/449،رشیدیة)
ولاتجوزالاجارۃ علی شئ من الغناء والنوح والمزامیروالطبل وشئ من اللھو
وکذا فی بدائع الصنائع:(4/39،رشیدیة)
وعلی ھٰذایخرج الاستیجارعلیالمعاصی انہ لایصح لانہ استیجار علی منفعۃ غیر مقدورۃ الاستیفاء شرعاکاستیجارالانسان للعب واللھووکاستیجارالمغنیۃ والنائحۃ للغناء والنوح
وکذا فی الھدایة:(3/301،رشیدیة)
وکذا فی البحرالرائق:(8/36،رشیدیة)
وکذا فی سنن الدارمی:(2/323،قدیمی)
وکذا فی المبسوط:(6/143 ،دار المعرفة)
وکذا فی سنن ابن ماجة:(278، رحمانیة)
وکذا فی الصحیح لسلم:(1/95،رحمانیة)
وکذا فی سنن ابی داؤد:(2/133،رحمانیة)
وکذا فی جامع الترمذی:(1/157،فاروقیة)
وکذا فی خلاصةالفتاوی:(3/116،رشیدیة)
وکذافی تنویرالابصارمع شرحہ:(6/55،سعید)
وکذا فی المحیط البرھانی:(11/346،دار احیاء)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(5/3817،رشیدیة)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة:(15/132،فاروقیة)
وکذا فی تکملةفتح الملھم لشیخ الاسلام مفتی محمدتقی عثمانی دامت برکاتھم العالیة:(4/164،دارالعلوم کراتشی)

واللہ اعلم بالصواب
عبدالقدوس بن خیرالرحمٰن
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
8/ 7/1442/2021/3/23
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:81

ستر چھپائے بغیر نہانے والے کی گواہی معتبر نہیں ہے“کیا اس بات کی کوئی حقیقت ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

پہلے زمانے میں لوگ”حمام“میں نہاتے تھے ،اس میں پردے کا انتظا م نہیں ہوتاتھا،بغیر چادر لوگوں کے سامنے ستر ظاہر ہوتاتھا،اس طرح نہانے والے کی گوہی یقینا معتبر نہ تھی،لیکن آج کل غسل خانے میں مکمل پردے انتظا م ہوتا ہے ،،لہٰذا بغیر چادربھی نہانا جائز ہے،اس سے گواہی غیر معتبر نہیں ہوتی ۔

وکذا فی حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح:(106،قدیمی)
وآداب الاغتسال هي”مثل آداب الوضوءوقدبیناھا إلا أنہ لا یستقبل القبلۃ حال اغتسالہ لأنہ یکون غالبا مع كشف العورۃ فإن كان مستورا فلا بأس بہ ویستحب أن لا یتکلم بكلام معہ ولو دعاء لأنہ فی مصب الأقذار ویکرہ مع كشف العورۃ ویستحب أن یغتسل بمكان لا یراہأحد لایحل لہ النظر لعورتہ لاحتمال ظھورھافی حال الغسل أو لبس الثیاب لقولہ صلى اللہ علیہ وسلم:”إن اللہ تعالى حیی ستیر یحب الحیاء والستر فإذا اغتسل أحدكم فلیستتر” رواه أبو داود وقال العلامۃاحمدبن محمد بن اسمٰعیل الطحاوی
قولہ:”ویکرہ مع كشف العورۃ” ولو فی مكان لا یراہ فیہ احد۔۔۔وقیل یجوز أن یتجردللغسل وحدہ اعلم أنہ ذكر فی القنیۃ اختلافا فی جواز الكشف فی الخلوۃ فقال: تجرد فی بیت الحمام الصغیر لقصر إزارہ أو حلق عانتہ یأثم وقیل یجوز فی المدۃ الیسیرۃ وقیل لا بأس بہ
وکذا فی غنیة المتملی فی شرح منیة المصلی:(51، رشیدیة)
وان لا یستقبل القبلۃ وقت الغسل ان کانت عورتہ مکشوفۃ وان کان مستورۃ فلا بأس بہ۔۔۔۔وان یغتسل فی موضع لایراہ احد لاحتمال بدو العورۃ حال الاغتسال۔۔۔۔ان النبیﷺقال ان اللہ حی ستیر یحب الحیاء والسترفاذااغتسل احدکم فلیستتر۔۔۔بل ذکر فی جوازکشف العورۃ فی الخلوۃ فی القنیۃ اختلافافقال تجرد فی بیت الحمام الصغیرلعصر ازارہ اولحلق العانۃ یأثم وقیل یجوز فی المدۃ الیسیرۃ وقیل لا بأس بہ وقیل یجوز أن یتجرد للغسل
وکذافی التنویر مع الدر:(1/156سعید)
وکذا فی البحر الرائق:(1/97،رشیدیة)
وکذا فی المحیط البرھانی:(1/284،دار احیاء)
وکذا فی بدائع الصنائع:(5/404، رشیدیة)
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/108،الطارق)

واللہ اعلم بالصواب
عبدالقدوس بن خیرالرحمٰن
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
3/7/1442/2021/3/18
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:71

عام آدمی کے لئے مکہ مکرمہ میں موجود پودوں اور درختوں کو کاٹنا یا اکھاڑنا یا ان کی درستگی کےلئے کانٹ چھانٹ کرنا جائز ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اس مسئلہ کے بارے میں ”حضرت شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتھم العالیہ“ درسِ ترمذی میں فرماتے ہیں کہ”مکہ کی نباتات تین قسم کی ہیں ، ایک وہ جو کسی شخص نے اپنی محنت سے اگائی ہوں ، ان کو کاٹنا یا اکھاڑنا بالاتفاق جائز ہے ،دوسری قسم وہ کہ ان کو کسی نے اگایا تو نہیں لیکن انہی نباتات کی جنس سے ہوں جنہیں لوگ عام طور سے اگاتے ہیں ، اس دوسری قسم کی نباتات کو کو کاٹنا یا اکھاڑنا بالاتفاق جائز ہے ، تیسری قسم خود رو گھاس وغیرہ اس میں سے صرف اِذخر کو کاٹنا یااکھاڑنا جائز ہے نیز خود رو پودوں میں سے اگر کوئی پودا مرجھا گیا ہو ،یا جل گیا ہو یا ٹوٹ گیا ہو تو اس کو کاٹنا بھی جائز ہے“۔

لما فی صحیح البخاری:(1/300،301،رحمانیة)
عن ابن عباس رضي الله عنهما، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم فتح مكة: «إن هذا البلد حرمه الله لا يعضد شوكه، ولا ينفر صيده، ولا يلتقط لقطته إلا من عرفها»
وکذا فی شرح الطیبی:(5/407،دارالکتب)
ولا بأس بقطع الحشیش والشجر الیابسین کالصید المیت بعدہ
وکذافی التنویر مع الدر:(1/566،567،سعید)
قوله وقطع حشيشه وشجره)حال كونه (غير مملوك) يعني النابت بنفسه سواء كان مملوكا أو لا؛ حتى قالوا لو نبت في ملكه أم غيلان فقطعها إنسان فعليه قيمة لمالكها وأخرى لحق الشرع بناء على قولهما المفتى به من تملك أرض الحرم (ولا منبت) أي ليس من جنس ما ينبته الناس فلو من جنسه فلا شيء عليه كمقلوع وورق لم يضر بالشجر، ولذا حل قطع الشجر المثمر “وقال ابن عابدین فی شرحہ :اعلم أن النابت في الحرم إما جاف أو منكسر أو إذخر أو غيرها، والثلاثة الأول مستثناة من الضمان كما يأتي. وغيرها إما أن يكون أنبته الناس أو لا، والأول لا شيء فيه، سواء كان من جنس ما ينبته الناس كالزرع أو لا كأم غيلان.والثاني إن كان من جنس ما ينبتونه فكذلك وإلا ففيه الجزاء، فما فيه الجزاء هو النابت بنفسه وليس مما يستنبت، ومنكسرا ولا جافا ولا إذخرا
وکذافی الھندیة:(1/252،رشیدیة)
واعلم أن شجر الحرم أنواع أربعة) ثلاثة منها يحل قطعها والانتفاع بها من غير جزاء وهي كل شجر أنبته الناس وهو من جنس ما ينبته الناس وكل شجر أنبته الناس وهو ليس من جنس ما ينبته الناس وكل شجر ينبت بنفسه وهو من جنس ما ينبته الناس وواحد منها لا يحل قطعه ولا الانتفاع به فإذا قطعه رجل فعليه الجزاء وهو كل شجر نبت بنفسه وهو ليس من جنس ما ينبته الناس ويستوي في هذا الواحد أن يكون مملوكا لإنسان أو لم يكن حتى قالوا في رجل نبت في ملكه أم غيلان فقطعها إنسان: فعليه قيمتها لمالكها وعليه قيمة أخرى لحق الشرع،
وکذا فی مرقاة المفاتیح:(5/597، التجاریة)
وکذا فی معا رف السنن:(6/5،6،سعید)
وکذا فی المبسوط:(4/103،104 ،دار المعرفة)
وکذا فی الفتاوٰی التاتارخانیة:(3/598،فاروقیة)
وکذا فی العنایة:(3/93،94،رشیدیة)
وکذا فی البحر الرائق:(3/76،رشیدیة)
وکذا فی بدائع الصنائع:(2/450،451،دار احیاء)
وکذا فی الھدایة:(1/267،قدیمی)

واللہ اعلم بالصواب
عبدالقدوس بن خیرالرحمٰن
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
19/6/1442/2021/2/2
جلدنمبر:23 فتوی نمبر:65

کھانے پینے کی اشیاء میں پھونک مارنا کیسا ہے ،بڑوں سے سنا ہےکہ اس طرح پھونک نہیں مارنا چاہئے،یہ فرمائیں کہ اس بابت شرعی نقطۂ نظر کیا ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

جی ہاں! کھانے پینے کی اشیاء میں بلا ضرورت پھونک مارنا مکروہ اور نامناسب ہے۔

لما فی جامع الترمذی:(2/453،رحمانیہ)
عن ابن عباس رضی اللہ عنہ ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم نھی ان یتنفس فی الاناءاو ینفخ فیہ ھٰذا حدیث حسن صحیح
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(4/2622،رشیدیہ)
یستحب الأکل بثلاث اصابع….والاینفخ فی الطعام ولا فی الشراب
وکذا فی المحیط البرھانی:(8/54،دار احیاء)
ولاینفخ فی الطعام والشراب،لان ذٰلک سوء الادب
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(41/23،علوم اسلامیة)
وکذا فی البحرالرائق:(8/337،دار المعرفة)
وکذافی الشامیة:(6/340،سعید)
وکذا فی الفتاوی الھندیة:(5/337،رشیدیة)
وکذا فی الفتاوٰی التاتارخانیة:(18/137،فاروقیة)
وکذا فی حاشیة الطحطاوی علی الدر:(4/171،رشیدیة)
وکذافی خلاصة الفتاوی:(4/360،رشیدیة)
وکذا فی الفتاوٰی قاضیخان:(1/377،رشیدیة)

واللہ اعلم بالصواب
عبدالقدوس بن خیرالرحمٰن
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
26/4/1442/2020/12/12
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:12

تغییر فی خلق اللہ” کی حدود کیا ہیں ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اللہ تعالی نے جسم انسانی کی جس طرز پر تخلیق فرمائی ہے ،اس میں انسانوں کی جانب سے کی جانے والی تبدیلیاں اگر خلافِ شریعت امور کے ارتکاب کے ذریعہ ہوں ، مثلا: مردوں کا داڑھی منڈوانا ،یا کتروانا ،سر کے بال فیشنی طرز پر کٹوانا ،عورتوں کا سر کے بال کٹوانا، یا کتروانا ، یا ابروؤں کو بلا ضرورت باریک کرنا یا کٹوانا ،کسی دوسرے انسان کو اپنا گردہ دینا ،یا دیگر اعضاء دینے کی وصیت کرنا ،زیادہ بچوں سے بچنے کے لئے نس بندی کروانا ،دشمنی یا سزا کے طور پر کسی کی ناک وغیرہ کاٹنا، یا کسی کے نام پر ناک ،کان چھدوانا ،یا کسی کے نام کی چوٹی رکھنا وغیرہ یہ سب صورتیں”تغییر فی خلق اللہ”میں شامل ہیں۔

لما فی القرآن الکریم:( النساء:119)
{وَلَأُضِلَّنَّهُمْ وَلَأُمَنِّيَنَّهُمْ وَلَآمُرَنَّهُمْ فَلَيُبَتِّكُنَّ آذَانَ الْأَنْعَامِ وَلَآمُرَنَّهُمْ فَلَيُغَيِّرُنَّ خَلْقَ اللَّهِ وَمَنْ يَتَّخِذِ الشَّيْطَانَ وَلِيًّا مِنْ دُونِ اللَّهِ فَقَدْ خَسِرَ خُسْرَانًا مُبِينًا
وکذا فی صحیح البخاری:(2/878،رحمانیة)
عن علقمة، قال عبد الله:«لعن الله الواشمات والمستوشمات، والمتنمصات، والمتفلجات للحسن،المغيرات خلق الله تعالى»مالي لا ألعن من لعن النبي صلى الله عليه وسلم،وهو في كتاب الله:”وما آتاكم الرسول فخذوه “[الحشر: 7]

 

واللہ اعلم بالصواب
عبدالقدوس بن خیرالرحمٰن
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
12/7/1442/2021/2/25
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:195

آج کل لڑکیاں بالوں کو ڈائی (مختلف قسم کے رنگ)کرواتی ہیں ،کیا یہ جائز ہے یا نا جائز،کیا یہ تغییر فی خلق اللہ میں تو شامل نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

عورت کے لئے زینت اختیار کرنا جائز ہے بشرطیکہ فساق،فجار اور کفار کی مشابہت مقصود نہ ہو اور فضول خرچی کے زمرے میں بھی نہ آتا ہو،یہ تغییر فی خلق اللہ میں بھی شامل نہیں۔

لما فی القرآن الکریم:(بنی اسرائیل:26،27)
ولا تبذر تبذیرا ان المبذرین کانوا اخوان الشیٰطین وکان الشیطٰن لربہ کفورا
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(4/2679،رشیدیہ)
وأما خضاب الشعر بالأحمر والأصفر والأسود وغیر ذٰلک من الالوان فھو جائز
وکذا فی المحیط البرھانی:(8/88،دار احیاء)
عن ابی حنیفة أنہ قال: لابأس بأن تخضب المرأة یدھا ورجلھا تتزین بذٰلک لزوجھا،مالم یکن خضابا فیہ تماثیل
وکذافی الجامع لاحکام القرآن:(10/210،داراحیاء)
وکذا فی اکلیل علی مدارک التنزیل:(4/551 ،دار الکتب العلمیة)
وکذا فی التفسیر المنیر:(8/55،امیر حمزہ)
وکذا فی تفسیر البحرالمحیط:(6/27،دار الکتب العلمیة)
وکذا فی الموسوعة الفقھیة:(2/285،علوم اسلامیة)
وکذافی بذل المجھود:(17/46،قدیمی)

واللہ اعلم بالصواب
عبدالقدوس بن خیرالرحمٰن
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
22/5/1442/2021/1/7
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:133

قرآن کریم کے شہید اوراق کو جلانا کیسا ہے بے ادبی کے خوف کی وجہ سے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

قرآن کے اوراق ِ مبارکہ کو جلانا صحیح نہیں ہے،بلکہ ایسے اوراق کو ”تحفظ اوراقِ مقدسہ“والے بکس میں رکھ دیا جائے یاپانی میں بہا دیا جائےیا کسی مناسب جگہ مثلا:قبرستان میں دفن کردیاجائے۔

لمافی الفقہ الحنفی:(5/507،الطارق)
المصحف اذاصار خلقا وتعذرت القراءۃ منہ لا یحرق بالنار،الیہ اشار محمد ،وبہ نأخذ
وکذا فی الموسوعة الفقھیة:(38/23 ،علوم اسلامیہ)
ذھب الحنفیة الی ان المصحف اذا بلی وصار بحال لایقرأ فیہ یجعل فی خرقة طاھرة ویدفن فی محل غیر ممتھن لا یوطأ۔۔۔وقالوا:ولایجوز احراقہ بالنار،۔۔۔وقال المالکیة:یجوز احراقہ،بل ربما وجب،وذٰلک اکرام لہ،وصیانة عن الوطئ بالاقدام
وکذافی الشامیة:(6/422،سعید)
وکذا فی المحیط البرھانی:(8/10،دار احیاء)
وکذا فی الفتاوی السراجیة:(313،زمزم)
وکذا فی الفتاوی الھندیہ:(5/323،رشیدیة)
وکذا فی الفتاوی البزازیہ:(6/380،رشیدیة)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(1/451،رشیدیة)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة:(18/69،فاروقیة)
وکذا فی حاشیة الطحطاوی علی الدر:(4/210،رشیدیة)

واللہ اعلم بالصواب
عبدالقدوس بن خیرالرحمٰن
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
8/5/1442/2021/12/24
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:84

مردوں کےلئے چست پائجامہ پہننا کیسا ہے؟ اور کیااس کو پہن کر نماز پڑھنامکروہ ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اگر ایسے پاجامہ کے ساتھ لمبی قمیض یا جبہ وغیرہ پہننے کا بھی معمول ہے تو پھر اسے پہننے میں کوئی حرج نہیں لیکن شرٹ یا شارٹ قمیض کے ساتھ ایسا چست پائجامہ پہننا جس میں اعضاء کی بناوٹ واضح ہوتی ہو، فساق کے لباس سے مشابہت ہونے کی وجہ سے درست نہیں ہے،اور اسے پہن کر نماز پڑھنامکروہ ہے۔

لما فی مجمع الزوائد:(5/164،بیروت)
قال فتسرولو انتم وائتزروا قالو یا رسول اللہ فان المشرکین یحتفون ولا ینتعلون قال فاحتفواانتم وانتعلوا وخالفوا اولیاءالشیطان بکل ماستطعتم
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(1/740،رشیدیہ)
وتنعقد الصلاۃ مع الکراھۃ التحریمیۃ عند الحنفیۃ بما لا یحل لبسہ کثوب حریر للرجل ویاثم بلا عذر کالصلاۃ فی
الارض المغصوبۃ
وفی تکملہ فتح الملہم: (4/88،دارالعلوم)
 فکل لباس ینکشف معہ جزء من عورۃ الرجل والمراۃ لا تقرہ الشریعۃ الاسلامیۃ مہما کان جمیلا او موافقا لدور الازیاءوکذالک اللباس الرقیق اوالاصق بالجسم الذی یحکی للناظر شکل حصۃ من الجسم الذی یجب سترہ، فہو فی حکم ما سبق فی الحرمۃ وعدم الجواز
وکذافی الشامیہ:(1/404،سعید)
وکذافی مرقاۃ المفاتیح:(8/155،التجاریہ)
وکذافی بذل المجہود:(16/196،قدیمی)
وکذا فی السنن ابی داؤد:(2/203،رحمانیہ)
وکذا فی المشکوۃ:(2 /388،رحمانیہ)
وکذا فی الموسوعہ الفقہیہ:( 6/137،علوم اسلامیہ)
وکذافی مجمع الزوائد: (5/164،بیروت،)
وکذا فی الفقہ الاسلامیہ:(2 /976،رشیدیہ)
وکذا فی ردالمحتار:(1/103،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمداسامہ شفیق غفراللہ ما اجرم
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
25/7/1442/2021/10/3
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:37