ایک کمپنی میں مختلف مذاہب کے لوگ کام کرتے ہیں مسلمان،ہندو،سکھ اور عیسائی وغیرہ ،ہفتے میں ایک دن سب کے کپڑے دھلنے کے لیے جاتے ہیں معلوم نہیں کپڑے کس طرح دھوئے جاتے ہیں (1)مسلمانوں کے کپڑے اس طرح دھلنے کے بعد پاک ہوں گے یا نہیں ؟(2)مسلمانوں اور غیر مسلموں کے کپڑے ایک ساتھ دھلے ہوں تو کیا مسلمانوں کے کپڑے ناپاک ہو جائیں گے؟(3)اگر غیر مسلم کا گیلا ہاتھ کپڑے پر لگ جائے تو اس سے کپڑا ناپاک ہوجائے گا؟

الجواب حامداً ومصلیا

(1)

اگر تو مسلمانوں کے کپڑے علیحدہ دھوئے جاتے ہیں تو حکم یہ ہے کہ کپڑے اپنی حالت پر رہیں گے،یعنی پاک کپڑے دیے تھے تودھلنے کے بعد بھی پاک ہوں گے ،ناپاک دیے تھے تو بعد میں بھی ناپاک ہوں گے۔(2)اگر مسلم وغیر مسلم کے کپڑے اکٹھے دھلتے ہیں تب بھی حکم تو وہی ہے جو اوپر بیان ہوا،لیکن چونکہ غیر مسلموں کے کپڑوں سے متعلق پاکی یا ناپاکی کے بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا ،لہذا اپنے دھوبی کو احتیاطا اس بات کا پابند کر دیا جائےکہ کپڑے دھلنے کے بعد ان کو تین مرتبہ الگ الگ پانی سے اچھا طرح نچوڑ دیا کرےیا بڑے تالاب یا بہتے ہوئے پانی مثلا ٹونٹی کے نیچےاچھی طرح دھو لیا کرے۔(3)غیر مسلم کے ہاتھ پر اگر ظاہری طور پر نجاست نہ لگی ہو تو ہاتھ لگانے سے کپڑا ناپاک نہ ہو گا۔

لما فی الشامیة:(1/310،رشیدیہ)
قوله: ولو شك إلخ) في التتارخانية: من شك في إنائه أو في ثوبه أو بدن أصابته نجاسة أو لا فهو طاهر ما لم يستيقن، وكذا الآبار والحياض والجباب الموضوعة في الطرقات ويستقي منها الصغار والكبار والمسلمون والكفار؛ وكذا ما يتخذه أهل الشرك أو الجهلة من المسلمين كالسمن والخبز والأطعمة والثياب اهـ ملخصا
وفی الھندیہ:(1/41،رشیدیہ)
ثوب نجس غسل في ثلاث جفان أو في واحدة ثلاثا وعصر في كل مرة طهر لجريان العادة بالغسل. هكذا فلو لم يطهر لضاق على الناس
وکذافی التتارخانیہ:(1/269،فاروقیہ)
وکذلک الثیاب التی ینسجھا أھل الشرک أو الجھلۃ من أھل الاسلام ،وکذلک الحباب الموضوعۃ أو المرکبۃ فی الطرقات والسقایات التی یتوھم فیھا اصابۃ النجاسۃ کل ذلک محکوم بطہارتہ حتی یتیقن بنجاستھا
وکذا فی البدائع:(1/236،241،رشیدیہ) وکذا فی المختصر فی الفقہ الحنفی:(/73،78،بشری)
وکذا فی الاشباہ والنظائر:(/60،قدیمی) وکذا فی البحر الرائق:(1/412،رشیدیہ)
وکذا فی عمدة القاری:(4/69،داراحیاء)

واللہ اعلم بالصواب
اسدالرحمن عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
26/6/1442/2021/2/9
جلد نمبر: 23 فتوی نمبر:173

کرکٹ میں کام آنے والی اشیاءکا خریدنا(2) اور کرکٹ کھیلنا جائز ہے یا نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیا

(1)

کسی بھی کھیل کے جواز کی چند شرطیں ہیں مثلا (1)کھیل کا مقصد جسمانی ورزش اور بدن کی تقویت ہو(2) اس میں ناجائز کام کا ارتکاب نہ ہو مثلا شرط لگانا ،ستر کھولنا،موسیقی بجانا،فحاشی اورمرد و زن کا اختلاط وغیرہ۔(3)اس کھیل کو زندگی کا مقصد نہ بنا لیا جائے۔(4)اس میں اس قدر انہماک نہ ہوکہ حقوق اللہ اور حقوق العباد سے غفلت و سستی برتی جائے،لہذا اگر ان شرائط کو مدنظر رکھتے ہوئے کوئی کھیل کھیلا جائےتو جائز ہے۔آج کل کرکٹ کھیلتے ہوئے عموما ان شرائط کو مد نظر نہیں رکھا جاتا ،لہذا جہاں ایسی صورت حال ہو تو کھیلنا جائز نہ ہو گا ۔(2)ان اشیاء کی خریدو فروخت جائز ہے،کیونکہ ان کا صحیح استعمال بھی ہے۔

لما فی الموسوعة الفقھیة:(35/268،علوم اسلامیہ)
وإباحة اللعب إنما يكون بشرط أن لا يكون فيه دناءة يترفع عنها ذوو المروءات، وبشرط أن لا يتضمن ضررا فإن تضمن ضررا لإنسان أو حيوان كالتحريش بين الديوك والكلاب ونطاح الكباش والتفرج على هذه الأشياء فهذا حرام، وبشرط أن لا يشغل عن صلاة أو فرض آخر أو عن مهمات واجبة فإن شغله عن هذه الأمور وأمثالها حرم، وبشرط أن لا يخرجه إلى الحلف الكاذب ونحوه من المحرمات
وفی الھندیہ:(3/116،رشیدیہ)
ويجوز بيع البربط والطبل والمزمار والدف والنرد وأشباه ذلك في قول أبي حنيفة – رحمه الله تعالى – وعندهما لا يجوز بيع هذه الأشياء قبل الكسر ذكر المسألة في إجارات الأصل من غير تفصيل وذكر في السير الكبير تفصيلا على قولهما فقال إن باعها ممن لم يستعملها ولا يبيع هذا المشتري ممن يستعملها فلا بأس ببيعها قبل الكسر فإن باعها ممن يستعملها أو يبيعها هذا المشتري ممن يستعملها لا يجوز بيعها قبل الكسر
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(4/2662،رشیدیہ)
وما خلا من القمار، وهو اللعب الذي لا عوض فيه من الجانبين ولا من أحدهما، فمنه ما هو محرم، ومنه ما هو مباح، لكن لا يخلو كل لهو غير نافع من الكراهة؛ لما فيه من تضييع الوقت والانشغال عن ذكر الله وعن الصلاة وعن كل نافع مفيد
وکذا فی بذل المجھود:(11/242،قدیمی) وکذا فی ابی داؤد:(1/363،رحمانیہ)
وکذا فی تکملہ فتح الملھم:(4/434،دارالعلوم کراچی) وکذا فی الشامیة:(9/664،رشیدیہ)
وکذا فی احکام القرآن للشیخ شفیع عشمانی رحمہ اللہ:(3/201،ادارة القرآن)

واللہ اعلم بالصواب
اسدالرحمن عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
26/5/1442/2021/1/11
جلد نمبر: 22 فتوی نمبر: 132

ایک شخص کی داڑھی کے اکثر بال سفید ہو چکے ہیں،ان سے دوسرے شخص نے کہا کہ آپ اپنی داڑھی کو کلر کر لیں ورنہ آپ کی داڑھی یہودیوں کے مشابہ ہے،یہ بات شرعی اعتبار سے درست ہے؟

الجواب حامداً ومصلیا

احادیث میں اس بات کا ثبوت ملتا ہےکہ آپ ﷺ نے بالوں کو رنگنے کا کہا اور یہود و نصاری کی مشابہت سے منع فرمایا،لہذا سیاہ کلر کے علاوہ باقی کلر استعمال کیے جاسکتے ہیں ،لیکن چونکہ یہ عمل مستحب ہے، لہذا اگر کوئی کلر نہ بھی کرے تو وہ یہودیوں کی مشابہت کا مرتکب نہ ہو گا،بلکہ احادیث میں سفید بالوں کو مسلمان کا نور اور قیامت کے دن کا نور کہا گیا ہے۔

لما فی الترمذی:(1/438،رحمانیہ)
عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہﷺغیرو الشیب ولا تشبہوا بالیہود
وفی الصحیح للبخاری:(2/875،قدیمی)
عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ قال قال النبی ﷺان الیہود والنصاری لایصبغون فخالفوہم
وکذافی الشامیہ:(9/696،رشیدیہ)
قال فی الذخیرہ: أما الخضاب بالسواد للغزو، ليكون أهيب في عين العدو فهو محمود بالاتفاق وإن ليزين نفسه للنساء فمكروه، وعليه عامة المشايخ، وبعضهم جوزه بلا كراهة
وکذا فی الھندیہ:(5/359،رشیدیہ)
وکذا فی بذل المجھود:(17/46،قدیمی)
وکذا فی مرقاة المفاتیح:(8/214،تجاریہ)
وکذا فی فتح الباری:(10/435،قدیمی)
وکذا فی نیل الاوطار:(1/139،دارالباز)
وکذا فی نیل الاوطار:(1/140،دارالباز)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(4/2679،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
اسدالرحمن عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
18/5/1442/2021/1/3
جلد نمبر:22 فتوی نمبر: 120

جسم پر جو بال ہوتے ہیں مثلا ہاتھ کی پشت پر،بازوؤں پراور ٹانگوں پر ان کا مونڈنا یا کسی سائنٹفک طریقے سے بالکل ختم کر دینا شرعی نقطہ نظر سے ٹھیک ہے یا غلط؟

الجواب حامداً ومصلیا

جسم کے مذکورہ بال صاف کرنا یا ختم کرنا عام حالات میں درست نہیں خلاف ادب ہے،خاص کر بازوؤں اور ٹانگوں کے بال صاف کروانے میں عورتوں کے ساتھ مشابہت ہے اور حدیث پاک میں اس سے منع کیاگیا ہے،البتہ اگر ضرورت ہومثلا کسی بیماری وغیرہ کیوجہ سے تو مونڈنے یا ختم کروانے میں حرج نہیں۔

لما فی الصحیح للبخاری:(2/398،رحمانیہ)
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: «لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ المُتَشَبِّهِينَ مِنَ الرِّجَالِ بِالنِّسَاءِ، وَالمُتَشَبِّهَاتِ مِنَ النِّسَاءِ بِالرِّجَالِ
وفی الشامیة:(9/671،رشیدیہ)
وفی حلق شعر الصدر والظہر ترک الادب
وکذافی الھندیہ:(5/358،رشیدیہ)
وفی حلق شعر الصدر والظہر ترک الادب کذا فی القنیۃ
وکذا فی المبسوط:(4/73،دارالمعرفہ)
وکذا فی سنن ابن ماجہ:(1/401،رحمانیہ)
وکذا فی التتارخانیہ:(18/211،فاروقیہ)
وکذا فی البحر الرائق:(8/375،رشیدیہ)
وکذا فی المختصر فی الفقہ الحنفی:(423،بشری)
وکذا فی حاشیة الطحطاوی:(4/203،رشیدیہ)
وکذا فی الموسوعة الفقھیة:(18/100،علوم اسلامیہ)

واللہ اعلم بالصواب
اسدالرحمن عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
5/5/1442/2020/12/21
جلد نمبر: 22 فتوی نمبر:41

چھوٹی بچیوں کے سر پر پونیاں لگانا کیسا ہے؟جس سے کچھ بال کھڑے ہو جاتے ہیں ۔

الجواب حامداً ومصلیا

جائز ہے۔

لما فی سنن ابی داؤد:(2/220،رحمانیہ)
عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ ان رسول اللہ ﷺ قال من کان لہ شعر فلیکرمہ
وفی مرقاة المفاتیح:(2/230،تجاریہ)
فلیکرمہ) ای فلیزینہ ولینظفہ بالغسل والتدھین ولا یترکہ متفرقا ،فان النظافۃ وحسن المنظر محبوب
وکذافی الشامیہ:(9/615،رشیدہ)
وفی الخانیہ ولا باس للمراۃ ان تجعل فی قرونھا وذوائبھا شئیا من الوبر
وکذا فی الھندیہ:(5/358،رشیدیہ)
وکذا فی سنن ابی داؤد:(2/221،رحمانیہ)
وکذا فی الاشباہ والنظائر:(/69،قدیمی)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(4/2632،رشیدیہ)
وکذا فی تکملہ فتح الملھم:(4/191،دارالعلوم کراچی)
وکذا فی الموسوعة الفقھیة:(11/265،علوم اسلامیہ)

واللہ اعلم بالصواب
اسدالرحمن عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2/6/1442/2021/1/16
جلد نمبر: 22 فتوی نمبر: 166

ایسے صفحات جن پر آیات قرآنیہ ہوں یا احادیث مبارکہ ہوں ان کو جلانا یا پانی میں بہانا کیسا ہے؟

الجواب حامداً ومصلیا

ایسے اوراق مقدسہ کو جاری پانی میں بہانا بھی درست ہے،البتہ بہتر یہ ہے کہ ان کو کسی پاک صاف کپڑے میں لپیٹ کرمحفوظ جگہ مثلا قبرستان وغیرہ میں لحد کھود کر دفن کر دیا جائےیا اگر ممکن ہو تو”تحفظ اوراق مقدسہ” کے لیے لگائے گئے بکس وغیرہ میں رکھ دیے جائیں۔اگر ان میں سے کوئی بھی صورت ممکن نہ ہو تو ان سے اسماء مقدسہ کو مٹا کر جلا سکتےہیں،لیکن یہ حکم انتہائی مجبوری کے وقت کا ہے۔

لما فی الھندیہ:(5/323،رشیدیہ)
 المصحف إذا صار خلقا لا يقرأ منه ويخاف أن يضيع يجعل في خرقة طاهرة ويدفن، ودفنه أولى من وضعه موضعا يخاف أن يقع عليه النجاسة أو نحو ذلك ويلحد له؛ لأنه لو شق ودفن يحتاج إلى إهالة التراب عليه، وفي ذلك نوع تحقير إلا إذا جعل فوقه سقف بحيث لا يصل التراب إليه فهو حسن أيضا، كذا في الغرائب .المصحف إذا صار خلقا وتعذرت القراءة منه لا يحرق بالنار، أشار الشيباني إلى هذا في السير الكبير وبه نأخذ، كذا في الذخيرة
وفی عمدة القاری:(20/19،داراحیاء)
قولہ (کل صحیفۃ او مصحف ان یخرق)وقال ابن بطال: في هذا الحديث جواز تحريق الكتب التي فيها اسم الله، عز وجل، بالنار وإن ذلك إكرام لها وصون عن وطئها بالأقدام، وقيل: هذا كان في ذلك الوقت، وأما الآن فالغسل إذا دعت الحاجة إلى إزالته، وقال أصحابنا الحنيفة: إن المصحف إذا بلي بحيث لا ينتفع به يدفن في مكان طاهر بعيد عن وطء الناس
وکذافی الشامیة:(9/696،رشیدیہ)
وکذا فی الفتاوی السراجیہ:(313،زمزم)
وکذا فی التتارخانیہ:(18/68،فاروقیہ)
وکذا فی الدر المختار:(9/696،رشیدیہ)
وکذا فی المحیط البرھانی:(8/10،داراحیاء)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(1/45،رشیدیہ)
وکذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(5/507،طارق)
وکذا فی الموسوعة الفقھیة:(38/35،علوم اسلامیہ)

واللہ اعلم بالصواب
اسدالرحمن عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
8/5/1442/2020/12/24
جلد نمبر :22 فتوی نمبر: 91

دھوپ میں اس طرح سونا کہ جسم کا کچھ حصہ دھوپ میں اور کچھ چھاؤں میں ہو ،جائز ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

حضور ﷺنے کچھ دھوپ اور کچھ چھاؤں میں بیٹھنے سے منع کیا ہے اور ایسی جگہ بیٹھنا طبی طور پر بھی انسان کے لئے مضر ہے۔

لما فی ابو داؤد:(2/320،رحمانیہ)
عن ابی ھریرةرضی اللہ تعالی عنہ یقول ابوالقاسم ﷺاذا کان احدکم فی الشمس وقال مخلد فی الفئ فقلص عنہ الظل فیصار بعضہ فی الشمس وبعضہ فی الظل فلیقم
وفی الکتاب المصنف:(5/268،دارالکتب العلمیة)
عن قتادۃرضی اللہ تعالی عنہ قال :نھی رسول اللہ ﷺان یقعد الرجل بین الظل والشمس
وکذافی عون المعبود:(13/74،قدیمی کتب خانہ)
وکذافی بذل المجھود:(13/74،قدیمی کتب خانہ)
وکذافی المشکوۃ المصابیح:(2/418،رحمانیہ)
وکذافی الموسوعةالفقھیة:(29/168،علو م اسلامیہ)
وکذافی المرقاۃ:(8/490،التجاریہ)
وکذافی اشعةاللمعات:(4/39،رشیدیہ)
وکذافی التعلیق الصبیح:(5/134،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
یاسر عرفات جھنگوی عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
28/4/1442/2020/12/14
جلد نمبر:22 فتوی نمبر: 50

پاگل آدمی خودکشی کر لے تو کیا حکم ہے؟کیا اس کی موت شہادت کی موت ہے یا خودکشی کی؟روایات میں خودکشی سے متعلق جو وعیدات آئی ہیں یہ شخص بھی ان وعیدات کا مستحق ہو گا ؟

الجواب حامداً وّمصلّیاً

پاگل آدمی اگر خودکشی کر لے تو وہ ان وعیدوں کا مستحق نہیں ہوگا جو احادیث میں منقول ہیں کیونکہ وہ معذور ہے،ایسے شخص کو شہید نہیں کہا جائے گااور اس کاغسل و جنازہ وغیرہ ہوگا۔

لما فی المختصر فی الفقہ الحنفی:(227،البشری)
فمن قتل وھو مجنون او صبی لا یثبت لہ احکام الشہید
وفی الموسوعةالفقھیة :(16/101،علوم اسلامیہ)
رفع القلم عن ثلاثۃوالجنون الأصلی لا یفارق العارض فی شیء من الأحكام
وفیہ ایضا :(16/106،علوم اسلامیہ)
رفع القلم عن ثلاثۃ: عن النائم حتى یستیقظ، وعن الصبی حتى یحتلم، وعن المجنون حتى یعقل
وکذافی الشامیة :(3/127،رشیدیہ)
وکذافی العالمکیریة:(1/163،رشیدیہ)
وکذافی البحرالرائق :(2/350،رشیدیہ)
وکذافی کتاب الفقہ:(1/447،حقانیہ)

واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم بالصواب
یاسر عرفات غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
12/9/1442/2021/4/25
جلد نمبر: 24 فتوی نمبر: 55

اپنی اولاد ،شاگرد اور ملازمین کو تنبیہ کیلئے کس حد تک سزا دینے کی گنجائش ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

(1)

والدین اور اساتذہ کرام کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپٌنے بچوں اور شاگردوں کو انتہائی پیار و محبت سے سمجھائیں اور وقتا فوقتا فضائل وواقعات کے ذریعے ترغیبات کاسلسلہ بھی جاری رکھیں اگر کبھی بچوں سے غلطی ہو جائے تو زبانی سمجھانے کی کوشش کی جائےاگر یہ مفید نہ ہو تو مہذب انداز وکلمات کے ساتھ زبانی تنبیہ اور ڈانٹ ڈپٹ کریں،گالم گلوچ سے اجتناب کریں،اگر یہ بھی مفید نہ ہو تو بقدر ضرورت اور بوقت ضرورت مارنے کی گنجائش ہےمگر جسمانی سزامیں چند باتوں کا خیال رکھنا چاہیے1:اتنا مارا جائے جس سے جسم پر نشان نہ پڑیں۔2:تحمل سے زیادہ نہ مارا جائے۔3:چہرے اور نازک اعضاء پر نہ مارا جائے۔4:ہاتھ سے ماراجائے ،ڈنڈے اور چھڑی وغیرہ کا استعمال نہ کیا جائے۔(2)ملازمین کو مارنے کی اجازت نہیں ہے۔ملازمین کے ساتھ حسن سلوک،فضائل اور ترغیب کا معاملہ کرنا چاہیے اور اگر کبھی سرزنش کی ضرورت ہو تو زبانی ڈانٹ ڈپٹ بھی کی جا سکتی ہےاور اگر یہ بھی مفید نہ ہو تو ان کو بر طرف کر دیا جائے۔

لما فی تفسیر المحیط:(3/252،دارالکتب العلمیہ)
قال ابن عباس:بالسواک ونحوہ،والضرب غیر مبرح ھو الذی لا یھشم عظماَ،ولا یتلف عضوا،ولایعقب شیئاوالناھک البالغ،ولیجتنب الوجہ
وفی الھندیة:(5/379،رشیدیہ)
والخامس ان یضرب الصبیان ضربا مبرحا ولا یجاوز الحد فانہ یحاسب یوم القیامۃ
وفی حاشیةالطحطاوی :(1/170،رشیدیہ)
لا یضرب بالعصاَ۔۔۔۔۔۔۔والمنصوص انہ یجوز للمعلم ان یضربہ باذن ابیہ نحو ثلاث ضربات ضربا وسطا سلیماولم یقید بغیرالعصا
وکذافی الشامیة:(1/352،ایچ ایم سعید کمپنی)
وکذا فی التفسیر المنیر :(5/60،امیر حمزہ )
وکذا فی نظم الدرر :(2/252،دارالباز)
وکذا فی الجامع لاحکام القرآن :(5/172،دار احیاء تراث العربی)
وکذا فی الموسوعةالفقھیة:(28/176،علوم اسلامیہ)
وکذا فی التاتارخانیہ :(15/86،فاروقیہ)
وکذا فی شرح الطیبی :(6/167،دار الکتب العلمیہ)

 

واللہ اعلم بالصواب
یاسر عرفات عفی عنہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
19/5/1442/2020/1/4
جلد نمبر: 22 فتوی نمبر: 143

واٹس ایپ پر جو وائیس میسج آتا ہے، کیا اس سلام کا جواب دینا ضروری ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

میسج پر سلام سنتے ہی زبان سے جواب دینا تو واجب ہے۔میسج کی صورت میں جواب بھیجنا ضروری نہیں، ھاں اگر کسی وجہ سے ریپلائی کرنا ہی ہو تو اس میں سلام کا جواب بھی دے دے۔

لما فی الشامیہ:(9/685،رشیدیہ)
قول: المتبادر من هذا أن المراد رد سلام الكتاب لا رد الكتاب. لكن في الجامع الصغير للسيوطي رد جواب الكتاب حق كرد السلام قال شارحه المناوي: أي إذا كتب لك رجل بالسلام في كتاب ووصل إليك وجب عليك الرد باللفظ أو بالمراسلة وبه صرح جمع شافعية؛ وهو مذهب ابن عباس وقال النووي: ولو أتاه شخص بسلام من شخص أي في ورقة وجب الرد فورا
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(25/160،علوم اسلامیہ)
وکذافی الدر المختار:(9/685،رشیدیہ)
وکذافی تکملة فتح الملھم:(4/246،دارالعلوم کراتشی)
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(5/406،الطارق)
وکذافی الصحیح للبخاری:(1/244،رحمانیہ)
وکذافی الصحیح لمسلم:(2/221،رحمانیہ)
وکذافی حاشیة الصحیح المسلم:(2/220،رحمانیہ)
وکذافی الاذکار للنووی:(323،دارالبشائر الاسلامیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہر غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
16/3/2021/1442/8/1
جلد نمبر:24 فتوی نمبر: 29