دف کے ساتھ اناشید(عربی نعت ونظم وغیرہ)پڑھنااور ان کا سننا کیسا ہے ؟اور رمضان میں افطاری وغیرہ کے وقت جو بجایا جاتا ہے اسکا کیا حکم ہے ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

کسی صحیح غرض مثلا اعلانِ نکاح وافطاروسحروغیرہ کے لیےسادہ طریقے سےدف اور طبل کا استعمال کیا جائے تو وہ جائز ہے،لیکن دف بجانے میں ایسی صورت حال نہ پیدا کی جائے کہ دیکھنے والےاسے موسیقی کی محفل سمجھیں یا پھر مردوزن کا مخلوط اجتماع ہو جائے لھٰذا ایسی صورت کی شریعت میں قطعا اجازت نہیں۔

لما فی رد المحتار:(6/55،سعید)
واذا کان الطبل لغیر اللھوفلاباس بہ کطبل الغزاۃ والعرس لما فی الاجناس ولا باس ان یکون لیلۃالعرس دف یضرب بہ لیعلن بہ النکاح وفی الولوالجیہ وان کان للغزو او القافلۃ یجوز اتقانی ملخصا (قولہ یباح) کذا فی المحیط
وفی الہندیہ:(5/،253،رشیدیہ)
وسئل ابو یوسف رحمہ اللہ تعالیٰ عن الدف اتکرہہ فی غیرالعرس بان تضرب المراۃ فی غیر فسق للصبی قال لا اکرہہ واماالذی یجیئ منہ اللعب الفاحش للغناءفانی اکرہہ کذافی محیط السرخسی
وفی المحیط البرہانی،(8/76بیروت)
الاتری انہ لا باس بضرب الدف فی الاعراس والولیمۃ، وان کان ذالک نوع لہو،وانما لم یکن بہ باس لان فیہ اظہار النکاح واعلانہ وبہ امرنا صاحب الشریعۃ حیث قال : اعلنواالنکاح ولو بالدف
ایضاً
وحدیث البراءبن مالک رضی اللہ عنہ محمول علی انہ کان ینشد الشعر المباح یعنی بہ الشعرالذی کان فیہ الوعظ والحکمۃ
وکذا فی الھندیہ:(1/351-352،رشیدیہ)
وکذا فی البحرالرائق:(1/347،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ اسامہ شفیق عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
17/6/1442/2021/1/31
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:11

استرے سے مونچھیں صاف کرنے میں کوئی حرج ہے یا نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

مونچھوں کا قصر(یعنی قینچی وغیرہ سے تراشنا) اور حلق (یعنی استرے وغیرہ سے بالکل صاف کرنا) دونوں جائز ہیں،البتہ افضلیت میں اختلاف ہے۔
بعض علماء کے ہاں حلق(استرے وغیرہ سے صاٖف کرنا) افضل ہے۔ امام طحاوی رحمہ اللہ نے اسے امام صاحب اور صاحبین رحمہم اللہ کا مذہب قرار دیا ہے، چنانچہ فرماتے ہیں

قصہ حسن و احفاءہ أحسن و أفضل و ھذا مذھب ابی حنیفۃ و ابی یوسف و محمد رحمہم اللہ

(شرح معانی الآثار:2/317،رحمانیہ)
اسی قول کی بناء پر فقیہ العصر حضرت مفتی رشید احمد صاحب رحمہ اللہ فرماتے ہیں
”صحیح یہی ہے کہ حلق بھی سنت ہے ،بلکہ سنت کا اعلی درجہ ہے“ (احسن الفتاوی:8/448،سعید)
البتہ اکثر اہل علم کے ہاں قصر افضل ہے ۔علامہ کاسانی علیہ الرحمۃ نے اسی قول کو صحیح قرار دیا ہے،چنانچہ فرماتے ہیں

قوله ” أخذ من شاربه ” إشارة إلى القص، وهو السنة في الشارب لا الحلق.وذكر الطحاوي في شرح الآثار: أن السنة فيه الحلق، ونسب ذلك إلى أبي حنيفة، وأبي يوسف ومحمد رحمهم الله والصحيح أن السنة فيه القص
(بدائع الصنائع:2/422،رشیدیہ)

حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں
مونچھیں اتنی چھوٹی کرنا کہ ہونٹ کے کنارے کے برابر ہو جائیں سنت ہے اور استرے یا بلیڈ سے منڈوانے میں اختلاف ہے، بعض اس کو بدعت کہتے ہیں اور بعض اجازت دیتے ہیں، لہٰذا نہ منڈانے میں احتیاط ہے۔“ (تسہیل بہشتی زیور:2/280،الحجاز کراچی)
اسی طرح بعض دیگر فتاوی مثلاًفتاوی محمودیہ(19/423،جامعہ فاروقیہ)،کفایت المفتی(12/338،ادارۃ الفاروق)اور آپ کے مسائل اور ان کا حل(8/314،لدھیانوی)وغیرہ میں بھی قصر(قینچی وغیرہ سے تراشنے ) کاافضل ہونا مذکور ہے۔
ہماری ناقص رائے میں بھی ان جمہور اہل علم کا قول راجح ہے،لہذا قصر افضل ہے۔

واللہ اعلم بالصواب
فرخ عثمان غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
1/8/1442/2021/3/16
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:23

میں ایک قادیانی مبلغ تھا ، پھر میں نے اور میری بیوی نے اسلام قبول کرلیا ۔ اس پر میرے قادیانی باپ نے مجھے اور میری بیوی کو گھر سے نکال دیا۔ باقی خاندان والوں نے بھی بائیکاٹ کردیا ۔ہم میاں بیوی جب گھر سے نکالے گئے تو ہمارے پاس تن کے کپڑوں کے سوا کچھ نہ تھا۔ اس وقت بھی ہم انتہائی فقر اور کسمپرسی کی حالت میں ہیں،انتہائی سخت حالات کا سامنا ہے۔ اب میرا باپ فوت ہوا ہے اور اس کی طرف سے مجھے سینکڑوں ایکڑ زمین وراثت میں مل سکتی ہے ،مگر اہل علم سے معلوم ہوا ہے کہ مسلمان کسی کافر کا وارث نہیں بن سکتا ۔ اب معلوم یہ کرنا ہے کہ کیا میرے لیے موجودہ فقر اور تنگی کی حالت میں وراثت سے حصہ لینے کی کوئی صورت ہے یا نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

شریعت کا اصول ہے کہ مسلمان کسی کافر کا اور کافر کسی مسلمان کا وارث نہیں بن سکتا، لہذا آپ بھی اپنے قادیانی باپ کے وارث نہیں بن سکتے۔
باقی دین اسلام کو قبول کرنے پر تکالیف اور آزمائشوں کا سامنا ہونا تو یہ کوئی عجب بات نہیں۔ اسلام کی تاریخ ایسے جانثاروں سے بھری پڑی ہے جنہیں اسلام قبول کرنے پر بےشمار آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑا ۔ دشمنان دین نے انہیں تپتی ریت اور دہکتے انگاروں پر لٹایا، انہیں زنجیروں میں باندھ کر پتھروں پر گھسیٹا گیا ۔انہیں گھر بار، قبیلہ و خاندان ، مال و دولت، اہل و عیال سب سے جدا کرکے وطن سے بےوطن کیا گیا۔ ان کا سوشل بائیکاٹ کیا گیا ۔ زمین کی وسعتوں کو ان پر تنگ کردیا گیا۔ خاتم النبیین ﷺ کی ختم نبوت پر ایمان لانے کی وجہ سے بعضوں کے جسموں کو ٹکڑے ٹکڑے کیا گیا، مگر وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے مخلصین محبین آزمائشوں کی ان کٹھن وادیوں کو دل و جان سے عبور کرگئے اور دنیا و آخرت میں ہمیشہ کی سعادتوں کو حاصل کر گئے۔
آپ بھی ان مشکل حالات میں صبر و استقامت سے کام لیں، اللہ تعالی سے عافیت کا سوال کریں اور اللہ کی رحمت سے امید رکھیں۔ یہ تکالیف اور آزمائشیں بندے پر اللہ تعالی کی جانب سے کچھ وقت کےلیے بطور امتحان نازل ہوتی ہیں ، اگر آدمی ہمت اور استقامت سے کام لے تو اللہ تعالی جلد ہی کشادگی و فراخی کی راہیں کھول دیتے ہیں۔ اللہ تعالی کا وعدہ ہے

من یتق اللہ یجعل لہ مخرجا و یرزقہ من حیث لایحتسب(الطلاق:3)

ترجمہ:”جو کوئی اللہ سے ڈرے گا ، اللہ تعالی اس کے لیے مشکل سے نکلنے کا کوئی راستہ پیدا کردے گا اور اسے ایسی جگہ سے رزق عطاء کرے گا جہاں سے اسے گمان بھی نہیں ہوگا۔

اور اللہ تعالی کا وعدہ ہے

من یتق اللہ یجعل لہ من أمرہ یسراً (الطلاق:4)

ترجمہ:جو کوئی اللہ سے ڈرے گا اللہ اس کے کام میں آسانی پیدا کرے گا۔

دوسرے اہل اسلام کا بھی حق بنتا ہے کہ وہ اپنے اس مسلمان بھائی کا دل و جان سے تعاون کریں اور اس کی مشکلات کو دور کرنے میں حتی الوسع کوشش کریں۔

 

لما فی الصحیح للبخاری:(2/533،رحمانیہ)
عن أسامة بن زيد رضي الله عنهما: أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: لا يرث المسلم الكافر ولا الكافر المسلم
وفی الفقہ الاسلامی و أدلتہ:(10/7718،رشیدیہ)
اختلاف الدين بين المورث والوارث بالإسلام وغيره مانع من الإرث باتفاق المذاهب الأربعة، فلا يرث المسلم كافراً، ولا الكافر مسلماً، سواء بسبب القرابة أو الزوجية، لقوله صلّى الله عليه وسلم:لا يرث المسلم الكافر، ولا الكافر المسلم وقوله علیہ السلام: لا يتوارث أهل ملتين شتى
وفی الموسوعة الفقھیة:(3/24،علوم اسلامیہ)
ذهب جمهور الفقهاء وهو قول أبي طالب من الحنابلة وقول علي وزيد بن ثابت وأكثر الصحابة إلى أن الكافر لا يرث المسلم….وذهب جمهور الفقهاء أيضا إلى أن المسلم لا يرث الكافر
وکذافی الصحیح لمسلم:(2/43،رحمانیہ)
وکذافی الفتاوی الھندیہ:(6/454،رشیدیہ)
وکذافی البحر الرائق:(9/365،رشیدیہ)
وکذافی إعلاء السنن:(18/336،ادارة القرآن)

واللہ اعلم بالصواب
فرخ عثمان عفی اللہ عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
17/8/1442/2021/4/1
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:75

ایک شخص نے پارکنگ سٹینڈ میں پیسے دے کر گاڑی پارک کی اور ٹوکن بھی لیا۔ جب واپس آیا تو گاڑی نہیں تھی۔ نگران سے پوچھا تو کہنے لگا کہ مجھے تو نہیں پتا کہ کون لے گیا۔ کیا اس نگران سے گاڑی یا اس کی قیمت وصول کی جاسکتی ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

گاڑی کی حفاظت کرنا سٹینڈ نگران کی ذمہ داری ہے اور اس میں کوتاہی کی وجہ سے گاڑی گم ہوجانے پر وہ ضامن ہے،لہذا نگران کا جرم ثابت ہوجانے پر اس سے قیمت وصول کی جاسکتی ہے۔

لما فی التنویر مع الدر المختار:(12/423،رشیدیة)
و ھی امانۃ فلا تضمن بالھلاک )الّا اذا کانت الودیعۃ بأجر
وفی الشامیة:(12/423،424،رشیدیة)
صرح الزیلعی فی کتاب الاجارۃ فی باب ضمان الأجیر: الودیعۃ اذا کانت بأجر تکون مضمونۃ ….و عللوہ بأن الحفظ حینئذ مستحق علیہ کما قدمنا فأفاد أن الأجرۃ تخرج الودیعۃ عن کونھا امانۃ الی الضمان ….المودع باجر فانہ یقال لہ: احفظ ھذہ الودیعۃ و لک من الاجر کذا
وفی شرح المجلة للشیخ خالد الاتاسی:(3/243،رشیدیة)
وجہ الضمان علی المودع بأجر ان الحفظ مستحق علیہ مقصودا اذ العقد عقد الحفظ و الأجر فی مقابلۃ الحفظ
وکذافی مجلة الاحکام العدلیة:(148،قدیمی)
وکذافی دررالحکام:(2/270،العربیة)
وکذافی مجمع الضمانات:(125،الحقانیة)
وکذافی الاشباہ و النظائر:(268،قدیمی)
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(2/402،الطارق)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(43/24،علوم اسلامیة)

واللہ اعلم بالصواب
فرخ عثمان عفی اللہ عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
27/6/1442/2021/2/10
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:151

عورت کا گھر میں اپنے محارم کے سامنے بغیر ڈوپٹہ وغیرہ کے رہنا کیسا ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

شرم و حیاء کا تقاضا یہ ہے کہ عورت گھر میں بھی ڈوپٹہ اوڑھے رہے، بوقت ضرورت اتار سکتی ہے۔

لما فی القرآن الکریم:(النور:31)
وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا لِبُعُولَتِهِنَّ أَوْ آبَائِهِنَّ أَوْ آبَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ أَبْنَائِهِنَّ أَوْ أَبْنَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي أَخَوَاتِهِنَّ أَوْ نِسَائِهِنَّ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُنَّ
وفی أحکام القرآن للجصاص رحمہ اللہ:(3/462،قدیمی)
وروى منذر الثوري أن محمد ابن الحنفية كان يمشط أمه وروى أبو البختري أن الحسن والحسين كانا يدخلان على أختهما أم كلثوم وهي تمشط وعن ابن الزبير مثله في ذات محرم منه وروي عن إبراهيم أنه لا بأس أن ينظر الرجل إلى شعر أمه وأخته وخالته وعمته
وفی الشامیة:(2/93،رشیدیہ)
یرخص للمرأۃ کشف الرأس فی منزلھا وحدھا فأولی لھا لبس خمار رقیق یصف ما تحتہ عند محارمھا
وکذافی الاکلیل علی مدارک التنزیل:(5/315،بیروت)
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(5/375،الطارق)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(31/48،علوم اسلامیة)
وکذافی الفتاوی الھندیة:(5/333،رشیدیة)
وکذافی فتح القدیر:(10/40،رشیدیہ)
وکذافی الھدایة:(4/459،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
فرخ عثمان عفی اللہ عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
13/9/1442/2021/4/26
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:171

ہم اپنے ڈیپارٹمنٹل اسٹورز کا اشتہار کیبل پر (نیچے چلنے والی پٹی پر) دیتے ہیں،تو کیا یہ اشتہار دینا جائز ہے؟(2) انہیں اسٹورز میں ہم ایچ بی ایل کی کریڈٹ کارڈ مشین بھی استعمال کررہے ہیں اس کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

کیبل کا چونکہ غالب استعمال حرام کاموں میں ہوتا ہے اور اس پر چلنے والے اکثر پروگرامز ناجائز اور فحش امور پر مشتمل ہوتے ہیں،لہذا بلاضرورت محض اپنے اسٹورز کی تشہیر کےلیے ایسے آلہ لہوولعب کو استعمال کرنا اور اس طرح اسے مالی نفع پہنچانے کا ذریعہ بننا مناسب نہیں۔(2) اسٹورز میں کریڈٹ کارڈ مشین کا استعمال درست ہے۔

لما فی الفقہ الاسلامی و أدلتہ:(4/2676،رشیدیہ)
ھذا ینطبق ایضاً علی صور التلفاز و ما یعرض فیہ من رقص و تمثیل و غناء مغنیات کل ذلک حرام فی رأیی
وفی فقہ البیوع:(1/463،معارف القرآن)
و اشتدت الحاجۃ الی مثل ھذہ البطاقۃ فالمرجو أن حاملہ یعتبر معذورا فی الدخول فی ھذہ العقد إن شاء اللہ تعالی بعد أخذ جمیع الاحتیاطات اللازمۃ لأن لا یلجأ الی دفع الفائدۃ الربویۃ
وکذافی الفقہ الاسلامی و أدلتہ:(4/2665،رشیدیہ)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(1/108،علوم اسلامیة)
وکذافی تکملة فتح الملھم:(4/164،دارالعلوم کراتشی)
وکذافی فقہ البیوع:(1/459،معارف القرآن)

واللہ اعلم بالصواب
فرخ عثمان غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
1/8/1442/2021/3/16
جلد نمبر: 24 فتوی نمبر: 22

ایک آدمی کہتا ہے کہ احادیث کا کوئی ثبوت نہیں ہے،کچھ لوگوں نے مل بیٹھ کر مشورہ سے حدیثیں بنا لیں،ہر ایک نے کہا کہ میں نے یہ حدیث سنی ہے ۔اس آدمی کا یہ عقیدہ بھی ہے کہ جنت میں صرف روحیں ہوں گی انسانی جسم نہیں ہوں گے اور کہتا ہے کہ بیوی کے ساتھ ہمبستری کے بعد غسل کرنا ضروری نہیں ہے اور بغیر وضو کے نماز کو جائز سمجھتا ہے ۔ اب معلوم یہ کرنا ہے کہ کیا ایسے شخص کے ساتھ میل جول،شادی غمی میں ان کو بلانا یا ان کی شادی غمی میں شریک ہونا ،اس کے ساتھ کھانا پینا جائز ہے ؟اور کیا یہ شخص مسلمان کہلانے کے قابل ہے؟قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں ۔

الجواب حامداً ومصلیاً

اس شخص کے مذکورہ عقائد واضح طور پر قرآن و سنت کی تعلیمات کے خلاف ہیں،لہذا ایسے ملحدانہ و کافرانہ عقائد رکھنے والا شخص خارج از اسلام اور ملحد و زندیق ہے ۔یہ شخص جب تک اپنے ان کفریہ عقائد سے توبہ کر کے تجدید ایمان نہ کر لے اس وقت تک اس سے کسی قسم کا میل جول رکھنا اور اس کی خوشی و غمی میں شریک ہونا درست نہیں ۔

لما فی القرآن الکریم:(النساء،65)
“فلا و ربک لا یؤمنون حتی یحکموک فیما شجر بینھم.”
وفی جامع الترمذی :(1/90،رحمانیہ)
عن ابن عمر عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال:لا تقبل صلاۃ بغیر طھور
وفی الفتاوی الھندیة:(2/268،رشیدیة)
ولو صلى بغير وضوء متعمدا يكفر قال الصدر الشهيد – رحمه الله تعالى – وبه نأخذ
وفی الموسوعة الفقھیة:(35/14،علوم اسلامیة)
الكفر شرعا: هو إنكار ما علم ضرورة أنه من دين محمد صلى الله عليه وسلم
وفی الدر المختار:(6/344،رشیدیة)
الكفر لغة: الستر. وشرعا: تكذيبه – صلى الله عليه وسلم – في شيء مما جاء به من الدين ضرورة
وکذافی التفسیر المنیر:(3/145،امیر حمزہ) وکذافی مجمع الانھر:(2/506،المنار)
وکذا فی سنن ابی داؤد:( 2/287،رحمانیة) وکذا فی البحر الرائق:(5/202،رشیدیة)
وکذافی مرقاة المفاتیح:(9/602،التجاریة) وکذا فی الفتاوی التاتار خانیة:(7/300،322،فاروقیة)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
فرخ عثمان غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
21/9/1442/2021/5/4
جلد نمبر: 24 فتوی نمبر:174

ایک آدمی “یا شمنون”پڑھ کر دم کرتا ہے، اس کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

دم یا تعویذ میں ایسے کلمات ہونا ضروری ہے جن کا معنی مفہوم معلوم ہواور شرکیہ یا کفریہ نہ ہو۔شمنون کا معنی معلوم نہ ہوسکا،البتہ اس سے ملتا جلتا کلمہ”شمن ” کامعنی “بت پرست”ہے،اس اعتبار سے “یا شمنون ” میں شرکیہ معنی کا شائبہ ہے،لہذا اس سے دم کرنا جائزنہیں۔

لما فی الشامیہ:(9/600،رشیدیہ)
قالوا: إنما تكره العوذة إذا كانت بغير لسان العرب، ولا يدرى ما هو ولعله يدخله سحر أو كفر أو غير ذلك، وأما ما كان من القرآن أو شيء من الدعوات فلا بأس به
وفی لغات فارسی:(2/81،عمر)
شمن (ف) بت پرست
وفی بھجة المحافل وبغیة الاماثل:(1/53،شاملہ)
قال الجوهري وهو الصنم واحد الاصنام ويقال انه معرب شمن وهو الوثن وقال غيره الوثن الجثة من أجزاء الارض أو الخشب يعبد
وکذافی فتح الباری:(10/240،قدیمی)
وکذافی النھایہ لابن الاثیر:(2/214،عصریہ)
وکذافی مرقاة المفاتیح:(8/318،320،تجاریہ)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(23/97،علوم اسلامیہ)

واللہ اعلم بالصواب
اسدالرحمن عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
7/9/1442/2021/04/20
جلد نمبر: 24 فتوی نمبر: 115

واش روم کے اندر وضو کرتے ہوئےوضو کی دعائیں پڑہنا کیسا ہے ؟

الجواب حامداً ومصلیا

جو جگہیں نجاست کو زائل کرنے کے لیے بنائی گئی ہیں ان میں دعائیں زبان سے پڑہنا اللہ جل شانہ کے نام کی عظمت و احترام کے خلاف اور بے ادبی ہے اس لیے درست نہیں،لہذا واش روم سے نکل کر دعائیں پڑھ لی جائیں۔

لما فی الشامیة:(3/99،رشیدیہ)
وتكره قراءة القرآن في موضع النجاسة كالمغتسل والمخرج والمسلخ وما أشبه ذلك، وأما في الحمام فإن لم يكن فيه أحد مكشوف العورة وكان الحمام طاهرا لا بأس بأن يرفع صوته بالقراءة، وإن لم يكن كذلك فإن قرأ في نفسه ولا يرفع صوته فلا بأس به
وفی کتاب الفقہ:(1/62،حقانیہ)
ولہ ان یسمی قبل الاستنجاءوبعدہ بشرط ان لا یسمی فی حال الانکشاف ولا فی محل النجاسۃ
وکذافی الجوھرة:(1/29،قدیمی)
وکذا فی معارف السنن:(1/77،سعید)
وکذا فی بذل المجہود:(1/41،قدیمی)
وکذا فی مرقاة المفاتیح:(2/55،تجاریہ)
وکذا فی حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح:(/51،قدیمی)

واللہ اعلم بالصواب
اسدالرحمن عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
18/7/1442/2021/3/3
جلد نمبر:23 فتوی نمبر: 176

ایک سیلزمین جو مرچ مصالحہ جات کا کام کرتا ہے،خالص مال بیچتا ہے،ایک دکاندار اسے کہتا ہےکہ آپ مجھے اس میں تیل رنگ وغیرہ ملا کر دو،یعنی ملاوٹ کر کے دو، آیا سیلزمین کے لیے ایسا کرنا شرعا جائز ہے یا نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

ایسا کرنا شرعاجائزنہیں،کیونکہ یہ معصیت اور گناہ کے کام میں اس کی مدد کرنا ہے اور اس سے ہمیں روکا گیا ہے۔

لمافی القرآن الکریم:( المائدة:2)
وتعاونواعلی البر والتقوی ولا تعاونوا علی الاثم والعدوان
وفی الصحیح المسلم:(1/70،قدیمی)
عن ابی ھریرۃان رسول اللہﷺ قال:من حمل علینا السلاح فلیس منا،ومن غشنا فلیس منا
وکذافی التنویر وشرحہ:(6/408،رشیدیہ)
ویکرہ)تحریما(بیع السلاح من اھل الفتنۃ ان علم)لانہ اعانۃ علی المعصیۃ .وفی الشامیۃ:قولہ:(لانہ اعانۃ علی المعصیۃ)لانہ یقاتل بعینہ،بخلاف مالایقاتل بہ الابصنعۃتحدث فیہ کالحدید ونظیرہ کراھۃ بیع المعازف لان المعصیۃ تقام بھا عینھا
وکذا فی بدائع الصنائع:(4/481،رشیدیہ)
ومنھا بیع السلاح من اھل الفتنۃ وفی عساکرھم،لانہ بیعہ منھم من باب الاعانۃ علی الاثم والعدوان وانہ منھی
وکذا فی البحر الرائق:(8/371،رشیدیہ)
وکذا فی الفقہ البیوع:(1/192،معارف القرآن)
وکذا فی المبسوط:(24/26،دار المعرفہ)
وکذا فی المحیط البرھانی:(10/370،دار احیا)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(4/2687،رشیدیہ)
وکذا فی النھر الفائق:(3/268،قدیمی)

واللہ اعلم بالصواب
اسدالرحمن عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
14/4/1442/2020/12/1
جلد نمبر:21 فتوی نمبر: 185