الکوحل ملے پرفیوم کا کیا حکم ہے؟اس کو لگانے سے نماز میں کوئی حرج واقع ہو گا؟

الجواب حامداً ومصلیاً

پرفیومز میں استعمال ہونے والا الکوحل اگرکھجور یا انگور سے کشید کیاگیا ہوتو وہ ناپاک ہے اور ایسے پرفیومزکااستعمال کرنا درست نہیں ہے،اور اگر الکوحل گندم،جُواور پیٹرول سے حاصل کیا گیاہو(آج کل عموماً یہی ہوتا ہے) تو وہ پاک ہے اور اس کا استعمال جائز ہے۔

لما فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(7/5493، رشیدیہ)
نبیذ العسل والتین والبر والذرۃ یحل سواء طبخ او لا
وفی تکملة فتح الملھم:(1/551،دارالعلوم کراتشی)
والظاھر ان معظم الکحول لا تصنع من عنب ولا ثمر فینبغی ان یجوز بیعھا لاغراض مشروعۃ فی قول علماء الحنفیۃ جمیعاً
وکذافی الھندیہ:(5/414،رشیدیہ)
وکذافی التنویر مع الشرح:(10/40،رشیدیہ)
وکذافی فتح القدیر:(10/118،رشیدیہ)
وکذافی البحر الرائق:(8/402،رشیدیہ)
وکذافی التاتار خانیہ:(8 1/433،فاروقیہ)
وکذافی فقہ البیوع:(1/292،294،معارف القراٰن)
وکذافی تکملة فتح الملھم:(3/608،دارالعلوم کراتشی)

واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہر غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
11/5/2020/1442/12/27
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:64

یورپین ممالک میں ہوٹل پر، جہاں حلال و حرام سب پکتا ہے،وہاں ملازمت کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداً وّمصلّیاً

مغربی ممالک کے ہوٹلوں میں اگر غیر شرعی امور سر انجام دینے پڑتے ہوں،مثلاًخنزیر،مردار اور شراب وغیرہ بنانا یا پیش کرنا،توان ہوٹلوں میں ملازمت جائز نہیں ہے،ورنہ جائز ہے۔

لما فی القرآن الکریم:(المائدة:2)
وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ
وفی احکام القرآن للجصاص:(2/429،قدیمی کتب خانہ کراچی)
وقوله تعالى:(ولا تعاونوا على الإثم والعدوان)نهي عن معاونة غيرنا على معاصي الله تعالى
وفی جامع الترمذی:(1/374،رحمانیة لاھور)
عن أنس بن مالك قال: ” لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم في الخمر عشرة: عاصرها، ومعتصرها، وشاربها، وحاملها، والمحمولة إليه، وساقيها، وبائعها، وآكل ثمنها، والمشتري لها، والمشتراة له
وکذافی تفسیر المظھری:(2/268،رشیدیة کوئٹہ)
وکذافی التفسیر المنیر:(3/418،امیر حمزہ افغانستان)
وکذافی تفسیر القرآن العظیم لابن کثیر:(2/7،دار المعرفة بیروت)

واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم بالصواب
اختر حسین فتح پوری عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
19/7/1442/2021/3/4
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:190

اگرکسی ورق پر انگلش میں لفظ اللہ یا محمد صلّی اللہ علیہ وسلم لکھا ہو تو اس کو جلانا کیسا ہے؟

الجواب حامداً وّمصلّیاً

ایسے اوراق جن پر مقدس نام وغیرہ لکھے ہوں،خواہ کسی بھی زبان میں ہوں،ان کی حفاظت کا طریقہ بالترتیب درج ذیل ہے:(1)یہ اوراق اگر ممکن ہو تو”تحفظ اوراقِ مقدسہ“ والی جگہوں یا ڈبوں میں رکھ دیے جائیں۔(2)ان کو کسی پاک جگہ مثلاً قبرستان وغیرہ میں دفن کر دینا چاہیے۔(3)ان کو جاری پانی میں ڈال دینا چاہیے۔(4)اگر مذکورہ صورتیں ممکن نہ ہوں تو اسمائے مقدسہ کو مٹا کر جلا دیا جائے۔

لما فی الدر المختار:(6/422،(3/740،ایچ.ایم سعید کمپنی کراچی)
الكتب التي لا ينتفع بها يمحى عنها اسم الله وملائكته ورسله ويحرق الباقي ولا بأس بأن تلقى في ماء جار كما هي أو تدفن وهو أحسن كما في الأنبياء
وفی عمدة القاری:(20/19، دار احیاء التراث العربی بیروت)
قولہ(کل صحیفة او مصحف ان یحرق) وقال ابن بطال: في هذا الحديث جواز تحريق الكتب التي فيها اسم الله، عز وجل، بالنار وإن ذلك إكرام لها وصون عن وطئها بالأقدام، وقيل: هذا كان في ذلك الوقت، وأما الآن فالغسل إذا دعت الحاجة إلى إزالته، وقال أصحابنا الحنيفة: إن المصحف إذا بلي بحيث لا ينتفع به يدفن في مكان طاهر بعيد عن وطء الناس
وفی الفقه الاسلامی وادلته:(1/451، رشیدیة کوئٹہ)
ولا بأس أن تدفن كتب الشرع، أوتلقى في ماء جارٍ، أو تحرق، والأول أحسن
وکذافی فتاوی النوازل:(301،حقانیة پشاور)
وکذافی التاتارخانیة:(18/69،فاروقیة کوئٹه)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(34/192،علوم اسلامیة چمن)

واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم بالصواب
اختر حسین فتح پوری عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
13/9/1442/2021/4/26
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:129

کیا عورت حکمران بن سکتی ہے؟

الجواب حامداً وّمصلّیاً

عورت کی حکومت شرعاً جائز نہیں ہے۔

لما فی صحیح البخاری:(2/119،رحمانیة لاھور)
لما بلغ رسول الله صلى الله عليه وسلم أن أهل فارس، قد ملكوا عليهم بنت كسرى، قال:لن يفلح قوم ولوا أمرهم امرأة
وفی جامع الترمذی:(2/500، رحمانیة لاھور)
عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إذا كان أمراؤكم خياركم، وأغنياؤكم سمحاءكم، وأموركم شورى بينكم فظهر الأرض خير لكم من بطنها، وإذا كان أمراؤكم شراركم وأغنياؤكم بخلاءكم، وأموركم إلى نسائكم فبطن الأرض خير لكم من ظهرها
وفی الدر المختار:(1/548، ایچ.ایم سعید کمپنی کراچی )
ويشترط كونه مسلما حرا ذكرا عاقلا بالغا قادرا.
وقال العلامۃ ابن عابدین تحت قولہ:(ذکرا)لأن النساء أمرن بالقرار في البيوت فكان مبنى حالهن على الستر،وإليه أشار النبي – صلى الله عليه وسلم – حيث قال:كيف يفلح قوم تملكهم امرأة
وکذافی شرح العقائد:(113،مجیدیة ملتان)
وکذافی الشامیة:(5/440، ایچ.ایم سعید کمپنی کراچی)
وکذافی روح المعانی:(5/23، دار احیاء التراث العربی بیروت)
وکذافی الجامع لاحکام القرآن للقرطبی:(1/270، دار احیاء التراث العربی بیروت)

واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم بالصواب
اختر حسین فتح پوری عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
13/9/1442/2021/4/26
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:130

صحیح اسلامی لباس کونسا ہے ؟ کوئی متعین لباس ہے یا ہر علاقہ کے اعتبار سے مختلف ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

شریعت میں لباس کا کوئی متعین حلیہ مقرر نہیں کیا گیا،بلکہ لباس کے سلسلہ میں مقررہ اصول دیئے گئے ہیں،مثلاً1:ستر کو چھپانے والا ہو۔2:ڈھیلا ڈھالا ہو کہ اعضاء کی بناوٹ ظاہر نہ ہو۔3:اتنا باریک نہ ہو کہ ستر نظر آئے۔4:کفار اور فاسق وفاجر لوگوں کی مشابہت مقصود نہ ہو۔5:ریا اور تکبر کے لیے نہ پہنا جائے۔
لہذا ان اصولوں پر پورا اترتا ہوا لباس شرعی لباس ہوگا۔

لما فی تکملة افتح الملھم:(4/87.88،دار العلوم کراچی)
فان الاسلام لم یقصرہ علی نوع دون نوع،ولم یقرر للانسان نوعا خاصا،او ھیئۃ خاصۃ من اللباس،ولا اسلوبا خاصا للمعیشۃ،وانما وضع مجموعۃ من المبادیٔ والقواعد الاساسیۃ یجب علی المسلم ان یحتفظ بھا فی امر لباسہ،ثم ترکہ حرا فی اختیارما یراہ من انواع الملابس،…….فمن مقدمۃ ھذہ المبادیٔ ان اللباس یجب ان یکون ساترا لعورۃ الانسان،…… وان اللباس الذی یخل بھذا المقصد……فیحرم علی الانسان استعمالہ.فکل لباس ینکشف معہ جزء من عورۃ الرجل والمراۃ،لا تقرہ الشریعۃ السلامیۃ،مھما کان جمیلا،او موافقا لدور الازیاء.وکذلک اللباس الرقیق اواللاصق بالجسم الذی یحکی للناظر شکل حصۃ من الجسم الذی یجب سترہ،فھو فی حکم ما سبق فی الحرمۃ وعدم الجواز.والمبدء الثانی:ان اللباس انما یقصد بہ الستر والتجمل…….واما مایقصد بہ الخیلاء،والکبر او الاشروالبطر او الریاء،فھو حرام……والمبدء الثالث:ان اللباس الذی یتشبہ الانسان باقوام کفرۃ،لایجوز لبسہ لمسلم اذا قصد بذلک التشبہ بھم
وفی الموسوعة الفقھیة:(6/128.129،علوم اسلامیہ چمن)
استعمال اللباس تعتریہ الاحکام الخمسۃ:فالفرض منہ:مایستر العورۃ ویدفع الحر والبرد،…..والمنداب الیہ او المستحب:ھو ما یحصل بہ اصل الزینۃ واظھار النعمۃ،…….ومن المندوب اللبس للتزین،ولا سیما فی الجمع والاعیاد ومجامع الناس،……والمکروہ :ھواللباس الذی یکون مظنۃ للتکبر والخیلاء،……والحرام:ھو اللبس بقصد الکبر والخیلاء
وکذافیه ایضاً:(6/128.129.136.137،علوم اسلامیہ چمن)
وکذافی البحر الرائق:(2/18،رشیدیہ کوئٹہ) وکذافی صحیح البخاری:(2/383،رحمانیہ لاھور)
وکذافی مشکوة المصابیح:(2/388،رحمانیہ لاھور) وکذافی مرقاة المفاتیح:(8/155،التجاریہ مکة المکرمہ)

واللہ اعلم بالصواب
اختر حسین فتح پوری عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
10/5/1442/2020/12/26
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:87

بعض اوقات والدین اپنی بچی کو ڈاکٹر کے پاس لاتے ہیں کہ یہ غفلت کے نتیجے میں حاملہ ہو چکی ہے،اس کا بچہ ضائع کر دیں۔کیا ڈاکٹر کے لیے یہ حمل ضائع کرنا درست ہے؟

الجواب حامداً وّمصلّیاً

اگر حمل میں روح پڑ چکی ہو یعنی حمل کو چار ماہ گزر گئے ہوں تو حمل ضائع کرنا جائز نہیں ہے اور گناہ کے کام میں ان کی معاونت ہے اور اگر چار ماہ سے کم عرصہ گزرا ہو تو پھر حمل ضائع کرنے کی گنجائش ہے۔

لما فی القرآن الکریم:(المائدة:2)
وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ
وفی الفقه الاسلامی و ادلته:(4/2647،رشیدیة کوئٹہ)
يباح الإسقاط بعد الحمل، ما لم يتخلق منه شيء، ولن يكون ذلك إلا بعد مئة وعشرين يوماً؛ لأنه ليس بآدمي. وهذا يقتضي أنهم أرادوا بالتخليق: نفخ الروح. وقيل عندهم: إن ذلك مكروه بغير عذر
وفی الدر المختار مع رد المحتار:(3/176،ایچ.ایم سعید کمپنی کراچی)
وقالوا يباح إسقاط الولد قبل أربعة أشهر
قوله وقالوا إلخ) قال في النهر: بقي هل يباح الإسقاط بعد الحمل؟ نعم يباح ما لم يتخلق منه شيء ولن يكون ذلك إلا بعد مائة وعشرين يوما، وهذا يقتضي أنهم أرادوا بالتخليق نفخ الروح وإلا فهو غلط لأن التخليق يتحقق بالمشاهدة قبل هذه المدة
وکذافیه ایضاً:(6/429، ایچ.ایم سعید کراچی)
وکذافی الھندیة:(5/356، رشیدیة کوئٹہ)
وکذافی الھندیة:(1/335، رشیدیة کوئٹہ)
وکذافی البحر الرائق:(8/376، رشیدیة کوئٹہ)
وکذافی الشامیة:(6/374، ایچ.ایم سعید کمپنی کراچی)
وکذافی الخانیة علی ھامش الھندیة:(3/410، رشیدیة کوئٹہ)

واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم بالصواب
اختر حسین فتح پوری عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2/9/1442/2021/4/15
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:82

آج کل فیس بک اور واٹس ایپ پر تصویریں سینڈکی جاتی ہیں اور ان پر کمنٹ میں”ماشاء اللہ“اور”سبحان اللہ“کہا جاتا ہے۔کیا تصویروں پر اس طرح کے کلمات کہنا درست ہے؟

الجواب حامداً وّمصلّیاً

موبائل وغیرہ کی سکرین پر نظر آنے والے عکس میں تصویر کی بنیادی شرط”استقرار و قائم ہونا“موجود نہیں ہے،اس لیے علمائے کرام اور مفتیانِ عظام کی ایک بڑی جماعت کے نزدیک یہ شرعاً تصویر میں داخل نہیں ہیں۔دار الافتاء جامعۃ الحسن،ساہیوال کی بھی اس بارے میں یہی رائے ہے۔
چونکہ یہ شرعاً تصویر میں داخل نہیں،اس لیے ان پر ”سبحان اللہ“اور”ماشاء اللہ“وغیرہ کے کمنٹ دینے کی گنجائش ہے،البتہ بلا ضرورت اس طرح تصویریں بنانا اور ان کو فیس بک وغیرہ پر”اپ لوڈ“کرنا اور ان پر کمنٹ وغیرہ کرنا ناپسندیدہ اور تضییعِ اوقات کا سبب ہے۔

لما فی تکملة فتح الملھم:(4/164.165،دار العلوم کراچی)
فان کانت صور الانسان حیۃ بحیث تبدو علی الشاشۃ فی نفس الوقت الذی یظھر فیہ الانسان امام الکیمرا،فان الصورۃ لا تستقر علی الکیمرا ولا علی الشاشۃ،وانما ھی اجزاء کھربائیۃ تنتقل من الکیمرا الی الشاشۃ و تظھر علیھا بترتیبھا الاصلی،ثم تفنی و تزول.واما اذا احتفظ بالصورۃ فی شریط الفیدیو،فان الصور لا تنتقش علی الشریط وانما تحفظ فیھا الاجزاء الکھربائیۃ التی لیس فیھا صورۃ فاذا ظھرت ھذہ الاجزاء علی الشاشۃ ظھرت مرۃ اخری بذلک الترتیب الطبیعیّ،ولکن لیس لھا ثبات ولا استقرار علی الشاشۃ،وانما ھی تظھر و تفنی.فلا یبدو ان ھناک مرحلۃ من المراحل تنتقش فیھا الصورۃ علی شیئ بصفۃ مستقرۃ او دائمۃ.وعلی ھذا،فتنزیل ھذہ الصورۃ منزلۃ الصورۃ المستقرۃ مشکل

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
اختر حسین فتح پوری عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
28/5/1442/2021/1/13
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:163

یوٹیوب چینل بنا کر اس سے کمائی حاصل کرنا جائز ہے ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

یوٹیوب چینل پر ”اَپ لوڈ“ کیا جانے والا مواد یعنی ویڈیوز وغیرہ اگر ناجائز امور مثلا : گانا بجانا ،فحش گوئی اور عورتوں کی تصاویر وغیرہ پر مشتمل نہ ہو تو اس کی کمائی جائز ہے ،ورنہ نہیں ۔

لمافی الھندیة:(4/449،رشیدیة)
ولا تجوز الإجارة على شيء من الغناء والنوح والمزامير والطبل وشيء من اللهو وعلى هذا الحداء وقراءة الشعر وغيره ولا أجر في ذلك وهذا كله قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمهم الله تعالى
وکذا فی خلاصة الفتاوی:(3/116،رشیدیة)
ولا یجوز الاستیجار علی شئ من الغناء و النوح والمزامير ولا أجر لہم
وکذافی المحیط البرھانی:( 11/217،داراحیاء)
وکذا فی بدائع الصنائع:(4/31،رشیدیة)
وکذا فی البحرالرائق:(8/36 ، رشیدیة)
وکذا فی التاتارخانیة:(15/7،فاروقیة)
وکذا فی مجمع الانھر:(3/533، المنار)
وکذا فی الولوالجیة:( 3/333، الحرمین)

واللہ اعلم بالصواب
عبدالوہاب بن قاسم خان
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
20/6/1442/2021/2/3
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:61

کیا مرد کسی نا محرم عورت کا جھوٹا کھا ،پی سکتا ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

نا محرم عورت کا جھوٹا اس لیے مکروہ ہے کہ اس سے پینے والے کے دل میں ناجائز خیالات ووساوس پیدا ہوتے ہیں اور لذت محسوس کرتا ہے ،لہذا اگر جھوٹے کا پتہ نہ ہو یاپتہ تو ہو لیکن ان خیالات و وساوس کا ڈرنہ ہو تو غیر محرم کا جھوٹا استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں ہوگا۔

لما فی الھندیة:(1/23،رشیدیة)
و کراھۃ سؤر المرأۃللا جبنی کسؤر ہ لھالیس لعدم طھارتہ بل للا ستلذاذ
وفی الشامیہ:(1/424،رشیدیة)
نعم یکرہ سؤرھا الخ) ای :فی الشرب لا فی الطھارۃ( بحر) قال الرملی :ویجب تقییدہ بغیر الزوجۃ و المحارم… والذی یظھرأن العلۃ الاستلذاذ فقط ،و یفھم منہ أنہ حیث لا استلذاذ لا کراھۃ و لا سیما اذا کان یعافہ
وکذافی التنویر مع الدر:(1/424، رشیدیة)
وکذافی النھرالفائق:(1/92،قدیمی)
وکذافی البحرالرائق:(1/222، رشیدیة)
وکذافی منحة الخالق علی البحرالرائق:(1/222، رشیدیة)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(1/282، رشیدیة)
وکذافی حاشیة الطحطاوی:(1/121، رشیدیة)

واللہ اعلم بالصواب
عبد الو ہا ب بن قاسم خان ڈیروی
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
11/9/1442/1202/4/24
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:145

اگر کو ئی شخص نا خنو ں کو دانتو ں سے تو ڑ کرپھینکتا ہےتو کیا یہ حرام فعل ہے ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

یہ فعل حرام تو نہیں ،تا ہم نا پسند ید ہ اور مکروہ ہے۔ بہتر طر یقہ یہ ہے کہ ان کو ناخن تراش وغیر ہ سے کا ٹ کر دفن کر دیاجائے۔

لما فی الھند یة:(5/358،رشید یة)
قطع الظفر بالا سنا ن مکرو ہ یو رث البر ص
وفی حا شیة الطحطا وی :(4/202،رشیة)
قو لہ ویستحب قلم ا ظا فیر ہ )و قطعھا باسنان مکرو ہ یو رث البر ص فا ذا قلم اظفا رہ او جز شعرہ ینبغی أن ید فن ذلک الظفر و الشعر المجزوز فا ن رمی بہ فلا بأ س و ان ألقا ہ فی الکنیف او فی المغتسل یکر ہ ذلک لان ذلک یو رث داء
وکذافی رد المحتا ر :(6/405،سعید)
وکذا فی المحیط البر ھا نی:(8/87،دار احیاء تر اث)
وکذا فی خلا صة الفتا وی:(4/341،رشید یة )
وکذا فی البحر الر ائق :(8/375،رشید یة )
وکذا فی الخا نیة علی ھا مش الھند یة:(3/411،رشید یة )
وکذا فی مجمع الا نھر :(4/226،المنار )

واللہ اعلم بالصواب
عبد الو ہاب بن قا سم خا ن ڈ یر وی
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
7/9/1442/2021/4/20
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:109