اگر قرآن پاک غلاف میں ہو تو کیا اس کو بلا وضوپکڑ سکتے ہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

جو غلاف قرآن پاک کے ساتھ متصل نہ ہو بآ سانی جدا ہو جاتا ہو ایسے غلاف کے ساتھ قرآن پا ک کو بلا وضو پکڑ سکتے ہیں اور جوغلا ف متصل ہو (یعنی سلا ہوا ہو )اس کے ساتھ بلا وضو پکڑنا جا ئز نہیں ۔

لما فی الھند یة:(1/38،رشید یة)
ومنها) حرمة مس المصحف لا يجوز لهما وللجنب والمحدث مسالمصحف إلا بغلاف متجاف عنه كالخريطة والجلد الغير المشرز لا بما هو متصل به، هو الصحيح.
وفی بدائع الصنائع:(1/141،رشید یة)
قال – صلى الله عليه وسلم -لا صلاة إلا بوضوء ، ولا مس المصحف من غير غلاف عندنا،… ثم ذكر الغلاف، ولم يذكر تفسيره، واختلف المشايخ في تفسيره فقال بعضهم: هو الجلد المتصل بالمصحف وقال بعضهم: هو الكم، والصحيح أنه الغلاف المنفصل عن المصحف، وهو الذي يجعل فيه المصحف وقد يكون من الجلد وقد يكون من الثوب، وهو الخريطة، لأن المتصل به تبع له فكان مسه مسا للقرآن، … فأما المنفصل فليس بتبع، حتى لا يدخل في بيع المصحف من غير شرط
وکذافی التنو یر مع الدر:(1/173،سعید)
وکذا فی التاتار خانیة:(1/270،فارو قیة)
وکذا فی المحیط البر ھانی :(1/219،دار احیاء ترا ث)
وکذا فی الجو ھرة النیرة:(89،قدیمی)
وکذا فی القدو ری:(14،الخلیل)
وکذا فی الھدایة:(1/64،رشید یة)
وکذا فی الفقہ الا سلامی واد لتہ:(1/450،رشید یة)

واللہ اعلم بالصواب
عبد الو ہاب غفر لہ ولوالد یہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
30/6/1442/2021/2/13
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:171

عطاء محمد“ اور”عطاء حسین“ نام رکھنا کیساہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

عطاء کا معنی ہے” عطیہ“”بخشش“اس اعتبار سے عطاء محمد ، عطاء حسین، کا معنی ہوگا محمد صلی اللہ علیہ و سلم کا عطا کردہ ، حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا عطاکردہ ، جبکہ اولاد تو اللہ تعالی کی عطا ہوتی ہے لہذا یہ نام رکھنا درست نہیں۔

لما فی مشکوة المصابیح:(2/422،رحمانیہ)
وعن ابی الدرداء قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تدعون یوم القیٰمۃ باسمائکم واسماءاٰبائکم فاحسنوا اسمائکم
وفی فتح الباری:(10/707،قدیمی)
أخرجہ مسلم من حدیث المغیرۃ بن شعبۃ عن النبی صلی اللہ علیہ و سلم قال :انھم کانوا یسمون بأسماء انبیائھم والصالحین قبلھم
وکذافی السنن ابی داؤد:(2/334،رحمانیہ)
وکذافی الھندیة:(5/362،رشیدیة)
وکذافی تحفة الاحوذی:(8/128،قدیمی)
وکذافی مرقاة المفاتیح:(8/535،التجاریة)

واللہ اعلم بالصواب
عبد الو ہا ب بن قاسم خان ڈیروی
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
7/9/1442/1202/4/20
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:118

اگر کوئی شخص ہا تھوں سے با لکل معذور ہو جائے تو کو ئی اور شخص اس کے زیر ناف بال صاف کر سکتا ہے ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئو لہ میں اگر یہ شخص واقعتاً معذو ر ہے تو اس کی بیو ی اس کے با ل صاف کر دے یا کوئی اور شخص ہاتھ پر دستانہ پہن کر اور نطر کی حتی الا مکان حفا ظت کر تے ہوئے اس کے بال صاف کر سکتا ہے ، ایسے معذور کے لیے یہ بھی جا ئز ہے کہ وہ بال صفا پوڈر خود یا دوسرے کی مدد سے استعمال کرے ۔

لما فی المبسوط :(10/156،دار المعر فة)
اذا جاء العذر فلا بأس بالنظر الی العو رۃ لا جل الضرورۃ فمن ذلک ان الخاتن ینظر ذلک الموضع والخا فضۃ کذ لک تنظر لأن الختان سنۃ وہو من جملۃ الفطرۃ فی حق الر جال
وفی خلا صة الفتاوی :(4/440،رشیدیة)
ولا یجوز النظر الی العورۃ الا عند الضرورۃ و ہی الا حتقان والختان والمداواۃ والولاد ۃ و البکا رۃ فی العنۃ و الر د با لعیب
وکذافی فتح الباری :(10/422،قد یمی)
وکذا فی الھند یة:(5/358،رشید یة)
وکذا فی التاتار خانیة:(18/213،فارو قیة)
وکذا فی البحر الرائق:(8/375،رشید یة)
وکذا فی المو سو عة الفقھیة :(29/235،علوم اسلا میة)

واللہ اعلم بالصو اب
عبد الوہا ب غفر لہ ولوالد یہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
26/6/1442/2021/2/9
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:170

پہاڑی علاقوں میں پہاڑوں پر گھاس خود بخود اُگ آتی ہے ،وہ زمین جس کی ملکیت ہو تی ہے وہ اس گھاس کوفرخت کر تا ہے اور دوسروں کو کا ٹنے سے منع کر تا ہے ۔اس کا گھا س کو فر وخت کر نا اور دو سروں کو منع کر نا کیسا ہے ؟الناس شرکاء فی ثلاث والی رو ایت کی وجہ سے ممنوع کہنا کیسا ہے ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اگر مالک زمین خود رُو گھاس کی دیکھ بھا ل کر تا ہے اور اسے پا نی و غیرہ لگا نے کی مشقت اٹھا تا ہے تو اس گھاس کو بیچنا جائز ہے اور لوگوں کو اس کے کاٹنے سے منع کر نادرست ہے اور اگر گھا س خود بخود اُگ آئی اور مالک زمین نے اس کی دیکھ بھا ل کے لئے کو ئی محنت و مشقت نہیں کی تو اس کی بیع جا ئز نہیں دوسرے لو گ بھی اس گھاس کو کاٹ سکتے ہیں مگر مالک زمین کو یہ حق حاصل ہے کہ لو گوں کو اپنی اس زمین میں داخل ہو نے سے روک دے تو اس پر لازم ہے کہ گھاس کاٹ کر طالب کے حوالہ کر ے ۔

لما فی الھند یة:(3/109،رشید یة)
ولا یجو ز بیع الکلأو اجارتہ و ان کان فی أر ض مملو کۃ غیر ان لصاحب الأر ض أن یمنع الدخول فی أرضہ و اذا امتنع فلغیرہ أن یقول ان لی فی أرضک حقا فاما أن توصلنی الیہ او تحشہ و تد فعہ لی ھذا اذا نبت بنفسہ فلمااذا کا ن سقی الأرض و اعدّھا للا نبات فنبت ففی الذ خیر ۃ وا لمحیط والنوازل یجوز بیعہ لأنہ ملکہ
وکذافی فقہ البیوع :(1/334،معارف القرآن )
وکذا فی التنو یر وشرحہ:(5/66،سعید)
وکذا فی المحیط البر ھا نی :(9/321،دار احیاء تراث)
وکذا فی التاتار خانیة:(8/328،فارو قیة)
وکذا فی بدائع الصنائع :(4/339،رشید یة)
وکذا فی الفقہ الحنفی:(4/52،الطارق)
وکذا فی الخا نیة :(2/134،رشید یة)
وکذا فی البحر الر ائق :(2/134،رشید یة)
وکذا فی شرح العینی:(2/34،ادار ة القرآن)

واللہ اعلم بالصواب
عبد الو ہاب غفر لہ ولو الد یہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
26/6/1442/2021/2/9
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:161

انگو ٹھی کو نسے ہاتھ میں اور کو نسی انگلی میں پہننا مسنون ہے ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے انگو ٹھی دونوں ہاتھوں میں پہننا ثابت ہے ،لیکن دا ئیں ہاتھ کی چھنگلی میں پہننا افضل ہے ۔

لما فی مشکوٰة المصا بیح:(2/391،رحمانیة)
وعنه قال: كان خاتم النبي صلى الله عليه وسلم في هذه وأشار إلى الخنصر من يده اليسری
وفی صحیح البخا ری:(2/873،قد یمی)
عن أنس رضي الله عنه قال:ا صطنع النبي صلى الله عليه وسلم خاتما، فقال: إنا قد اتخذنا خاتما، ونقشنا فيه نقشا، فلا ينقشن عليه أحد قال: فإني لأرى بريقه في خنصره
وکذافی شرح الطیبی:(8/248،دارالکتب)
عن أنس أنه قال:كان خاتم النبي صلى الله عليه وسلم في هذه.وأشار إلى الخنصر في يده اليسرى.وروى نافع عن ابن عمر مثله ولا تعارض بينهما؛ لجواز أنه فعل الأمرين فكان يتختم في اليمين تارة، وفي اليسرى أخرى حسبما اتفق، وليس في شيء منهاما يدل صريحا على المداومة والإصرار على واحد منهما (مح) قد أجمعوا على جواز التختم في اليمين وعلى جوازه في اليسار.واختلفوا في أيتهما أفضل، والصحيح في مذهبنا أن اليمين أفضل؛ لأنه زينة، واليمين أشرف وأحق بالزينة والإكرام
وکذا فی شمائل الترمذی:(2/728،رحمانیة)
وکذا فی فتح الباری:(10/398،قدیمی)
وکذا فی سبل الھدٰی والرشاد:(7/326،نعمانیة)
وکذا فی مرقاة المفاتیح:(8/186،التجاریة)
وکذا فی عمدة القاری:(22/37،داراحیاء )

واللہ اعلم بالصواب
عبدالوہاب بن قاسم خان
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
28/6/1442/2020/2/11
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:165

ایک آدمی نے خانیوال سے ٹکٹ لیا “علامہ ایکسپریس ” کا ،اور “پاکستان ایکسپریس” اس سے پہلے آگئی ، وہ اس میں سوار ہوگیا ۔ کیا اس کا دوسری گاڑی میں سوار ہونا درست ہے ؟ جبکہ دونوں گاڑیوں کا ٹکٹ ایک ہی مالیت کا ہو ۔

الجواب حامداً ومصلیاً

اگر ریلوے قوانین میں اس طرح کرنے کی صراحۃ یا دلالۃ اجازت ہو اور ٹکٹ بھی دونوں کا ایک ہی مالیت کا ہے ، تو گنجائش ہے ورنہ نہیں۔

لما فی القرآن الکریم:(سورة النساء/آیة،59)
یاایھاالذین آمنوا اطیعوا اللہ واطیعوا الرسول واولی الامر منکم
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(6/4582،رشیدیہ)
ومن المقرر عند الفقھاء ان لولی الامر ان ینھی اباحۃ الملکیۃ بحضر یصدر منہ لمصلحۃ تقتضیہ …..فان طاعۃ اولی الامر واجبۃ
وکذافی بذل المجھود:(19/94،قدیمی)
وکذافی السنن لابی داؤد:(2/334،رحمانیہ)
وکذافی الھندیہ:(4/488،رشیدیہ)
وکذافی الاشباہ والنظائر:(1/331،ادارہ القرآن)

واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
15/9/1442/2021/4/28
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:132

محمد مھدی” نام رکھنا کیسا ہے ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

جائز ہے ۔

لما فی فتح الباری:(10/707،قدیمی)
اخرجہ مسلم من حدیث المغیرۃ بن شعبۃ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال انھم کانوا یسمون باسماء انبییآءھم والصالحین قبلھم
وفی:(التاتار خانیہ18/228،فاروقیہ)
روی عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال سموا اولادکم اسماء الانبیآء
وکذافی فیض القیر:(4/148،دارالکتب)
وکذافی ردالمحتار:(9/688،رشیدیہ)
وکذافی الھندیة:(5/362، رشیدیہ)
وکذافی مرقاة المفاتیح:(8/526،تجاریہ)
وکذافی الموسوعة:(11/339،علوم اسلامیہ)
وکذافی السنن لابی داؤد:(2/334،رحمانیہ)
وکذافی اسد الغابة:(3/1175،وحیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
5/6/1442/2021/1/19
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:6

ایک شادی شدہ شخص اپنی بیوی کو اس بات سے روکتا ہے کہ وہ اپنے چچازاد بھائیوں کے سامنے آئے ،جبکہ بیوی یہ کہتی ہے کہ وہ میرے بھائیوں کی طرح ہیں آپ کے ذہن میں صرف شک ہے ۔ شوہر کا مطالبہ ہے کہ وہ کبھی وہاں نہ جائے جہاں اس کے چچازاد بھائی موجود ہوں ، جب جب کوئی ایسا موقع آئے کہ اس لڑکی کے بھائی یا بہن یا ماں باپ کے ہاں کسی قسم کی خوشی یا غمی ہو ، تب تب ان دو(میاں بیوی ) کے درمیان بڑی حد تک لڑائی ہوجاتی ہے اور بات طلاق تک پہنچ جاتی ہے ۔ اب شادی کو دو سال سے زائد کا عرصہ ہوچکا ہے اور دوبچے بھی ہوگئے ہیں ، اب شوہر لڑائی اور فساد سے تنگ آکر یہ کہتا ہے کہ تم نے ماں ،باپ اور بہن بھائیوں کےگھر اس صورت میں نہیں جانا جس صورت میں وہاں تمھارے چچازاد بھائی موجود ہوں حتی کہ اگر اس کا باپ بھی فوت ہوجائےیا کوئی بھی خوشی کا موقع ہو ،ورنہ شوہر کہتا ہے کہ اگر بیوی آئیندہ پھر چچازاد بھائیوں کی موجودگی میں وہاں جاتی ہے تو شوہر کوئی سخت فیصلہ کرنے پر مجبور ہوجائے گا ۔ علمائے کرام رہنمائی فرمائیں؟ (نوٹ) شوہر اپنی بیوی کو اس کے بھائی ،بہن اور ماں باپ سے ملنے پر کوئی پابندی نہیں لگاتا، مگر صرف ان حضرات کے سامنے جانے سے منع کرتا ہے جن سے ملنا اس کو ناپسند ہے اور وہ نامحرم بھی ہیں۔

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ میں نامحرم رشتہ داروں سے بے پردہ ملاقات کرنا ، شوہر کی اجازت سے بھی جائز نہیں ہوتی چہ جائیکہ شوہر کی اجازت ہی نہ ہو ؟ اور بلاوجہ شوہر کی نافرمانی ، عورت کو بسا اوقات لعنت جیسی سخت سزا کی مستحق بنادیتی ہے ،اس لیے عورت کو چاہیے کہ جائز امور میں شوہر کی خوشی کو ترجیح دیکر اخروی بشارتوں کی مستحق بنے ، البتہ شوہر کو بھی چاہیے کہ اعتماد کی فضاء پیدا کرکے محبت و نرمی سے افہام و تفہیم کا راستہ اختیار کرے ۔ اور مصلحت کے ساتھ اسے پردہ کی تلقین کرے ۔

لما فی السنن لابن ماجة:(1/248،رحمانیہ)
عن عائشۃ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال لو امرت احدا ان یسجد لاحد لامرت المراۃ ان تسجد لزوجھا ولو ان رجلا امر امراۃ ان تنقل من جبل احمر الی جبل اسود ومن جبل اسود الی جبل احمر لکان نولھا ان تفعل
وفی الدرالمختار:(3/603،سعید)
ویمنعھا من زیارۃ الاجانب وعیادتھم والولیمۃ وان اذن کانا عاصیین
وکذافی ردالمحتار:(3/603،سعید)
وکذافی احکام القرآن للجصاص:(3/529،قدیمی)
وکذافی الھندیة:(1/557،رشیدیہ)
وکذافی حاشیةالطحطاوی:(2/268،رشیدیہ)
وکذافی البحرالرائق:(4/331،رشیدیہ)
وکذافی مجمع الانھر:(2/187،المنار)

واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
18/7/1442/2021/3/3
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:133

غیرمسلم مثلا شیعہ اور عیسائی مذہب کے لوگوں کے ساتھ کھانا جائز ہے ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

قادیانی کے علاوہ غیرمسلموں کے ساتھ بوقت ضرورت کھانے کی گنجائش ہے بشرطیکہ کھانا حلال اور پاک ہو اور ان کے ہاتھوں پر کوئی ظاہری نجاست نہ ہو ، تاہم حتی الوسع بچنا اولیٰ ہے ۔

لما فی التاتارخانیة:(18/166،فاروقیہ)
ولاباس بطعام المجوسی کلھا الا الذبیحۃ….. ولم یذکر محمد الاکل مع المجوسی ومع غیرہ من اھل الشرک انہ ھل یحل ام لا حکی عن الحاکم الامام عبدالرحمٰن الکتاب انہ ان ابتلی بہ المسلم مرۃ او مرتین فلاباس بہ واما الدوام علیہ یکرہ
وفی خلاصة الفتاوی:(4/346،بیروت)
والاکل معہم وعن الحاکم عبد الرحمٰن لو ابتلی بہ المسلم مرۃ او مرتین لاباس بہ اماالدوام علیہ فمکروہ ولاباس بالذھاب الی ضیافۃ اھل الذمۃ
وکذافی الھندیة:(5/345،رشیدیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(8/69،بیروت)
وکذافی تفسیر ابن کثیر:(2/360،بیروت)
وکذافی الطبقات الکبری:(1/152،عمریہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
15/9/1442/2021/4/28
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:170

عورت کا سر کے بالوں پر مہندی لگانا جائز ہے ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

سیاہ مہندی کے علاوہ عورت کے لیے ہر طرح کی مہندی لگانا جائز ہے ۔

لما فی السنن ابی داؤد:(2/225،رحمانیہ)
عن جابر بن عبد اللہ قال اتی بابی قحافۃیوم مکۃ وراسہہ ولحیتہ کالثغامۃ بیاضا فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غیروا ھذا بشیئ واجتنبوا السواد
وفی کتاب الفقہ:(2/44،حقانیہ)
یکرہ صباغۃ اللحیۃ والشعر بالسواد الا الخضاب بالصفرۃ والحمرۃ فانہ جائز
وفی الخانیة:(3/412،رشیدیہ)
والخضاب بالحناء والوسمۃ حسن….. ولاباس بہ للنساء
وکذافی الھندیة:(5/359،رشیدیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(8/88،بیروت)
وکذافی التاتارخانیة:(18/215،فاروقیہ)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(2/281،علوم اسلامیہ)
وکذافی بذل المجھود:(17/46،قدیمی)
وکذافی ردالمحتار:(9/696،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2/8/1442/2021/3/17
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:61