میت کےورثہ میں سےکوئی عورت حاملہ ہو،تو کیاحمل کےمذکرومؤنث کی تعیین الٹراساؤنڈکےذریعے شرعاًمعتبرہوگی۔

الجواب حامداً ومصلیاً

الٹراساؤنڈکےذریعےمذکرومؤنث کی تعیین نہیں،بلکہ تخمینہ اورگمان ہوتاہے،لہذاایک اندازےکےطورپرتوبتانااورپوچھنا درست ہےالبتہ قطعی طورپربتانااوربتائےہوئےپرمکمل یقین کرنابہرحال جائزنہیں۔

لما فی القرآن المجید:(لقمٰن:34)
اِنَّ اللّٰہَ عِنْدَہٗ عِلْمُ السَّاعَۃِۚوَیُنَزِّلُ الْغَیْثَ ۚوَیَعْلَمُ مَافِی الْاَرْحَامِ ؕوَمَاتَدْرِیْ نَفْسٌ مَّاذَاتَکْسِبُ غَدًاؕوَمَاتَدْرِیْ نَفْسٌۭ بِاَیِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ ؕاِنَّ اللّٰہَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ
وقال تعالٰی:(الانعام:59)
وَعِنْدَہٗ مَفَاتِحُ الْغَیْبِ لَایَعْلَمُہَآاِلَّاھُوَ ؕ
وفی فتح الباری:(8/659،قدیمی)
قولہ:(قال النبیﷺ:مفاتح الغیب خمس ثم قرأ:إن اللہ عندہ علم الساعۃ)…وقال الشیخ أبومحمدبن أبی جمرۃ:عبر بالمفاتح لتقریب الأمرعلی السامع لأن کل شییٔ جعل بینک وبینہ حجاب فقد غیب عنک،والتوصل إلی معرفتہ فی العادۃ من الباب فإذاأغلق الباب احتیج إلی المفتاح،فإذاکان الشییٔ الذی لایطلع علی الغیب إلابتوصیلہ لایعرف موضعہ فکیف یعرف المغیب
وکذافی الجامع لأحکام القرآن،للقرطبی:(14/82،دار احیاءالتراث)
وفیہ ایضاً:(7/2،داراحیاءالتراث)
وکذافی صحیح البخاری:(2/155،رحمانیہ)
وکذافی احکام القرآن:(3/517،قدیمی)
وکذافی الکشاف،للزمخشری:(3/505،نشرالبلاغة)
وکذافی تفسیرابی السعود:(5/204،الوحید)
وکذافی تفسیرالمظھری:(5/464،رشیدیہ)
وکذافی التفسیرالمنیر:(11/198،امیرحمزہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمدعدنان غفرلہ الکریم
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
26/6/1443/2202/1/30
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:100

ایک آدمی کا دانت کمزور ہے، کھانا کھانے میں بہت پریشانی ہوتی ہے، کیا اس کے لیے مصنوئی دانت لگوانا جائز ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

فقہاء کرام رحمہم اللہ نے سونا چاندی کے دانت لگوانے کی اجازت دی ہے،چونکہ مصنوعی دانت جس مواد سے تیار ہوتے ہیں ان میں بھی کوئی نا جائز چیزاستعمال نہیں ہوتی ،اس لیے مصنوئی دانت لگوانے کی اجازت ہو گی۔

لما فی المحیط البرہانی:(8/51،ادارة القرآن)
لو تحرک ثنیۃ رجل وخاف سقوطہا فشدّہا بذہب أو فضۃ لم یکن بہ بأس عند أبی حنیفۃ وأبی یوسف۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وفی الشامیة:(5/231،رشیدیة)
إذا سقطت ثنیۃ رجل فإن أبا حنیفۃ یکرہ أن یعیدہا ویشدہا بذہب أو فضۃ ویقول ہی کسن میتۃ ولکن یأخذ سن شاۃ ذکیۃ یشد مکانہا وخالفہ أبو یوسف فقال: لا بأس بہ ولا یشبہ سن میتۃ استحسن ذالک۔۔۔۔۔۔۔ زاد فی التاتارخانیة: قال بشر: قال أبو یوسف: سألت أبا حنیفۃ عن ذالک فی مجلس اخر فلم یر بإعادتہا بأسا
وکذا فی البنایة شرح الہدایة:(11/134،رشیدیة)
وکذا فی حاشیة الطحطاوی:(4/182،رشیدیة)
وکذا فی بدائع الصنائع:(4/316،رشیدیة)
وکذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(5/365،الطارق)
وکذا فی المحیط البرہانی:(8/52،إدارة القرآن)
وکذا فی الہدایة:(3/83،البشری)
وکذا فی بدائع الصنائع:(4/333،رشیدیة)
وکذا فی الہندیة:(5/354،رشیدیة)
وکذا فی بدائع الصنائع:(4/315،رشیدیة)

واللہ تعالی اعلم بالصواب وعلمہ اتمّ
کتبہ:محمد نوید بن اللہ بخش عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
22/08/1443/2022/03/26
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:99

رمضان شریف میں مسافر،حالت سفر میں گھر سے کھانا پکوا کر دوران سفر لے جا کر کھاتا ہے،کیا اس کے لیے ایسا کرنا جائز ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

شرعی مسافر کے لیے کھانا ساتھ لے جانے میں کوئی حرج نہیں۔

لما فی الہندیة:(1/206،رشیدیة)
منہا[من الأعذار التی تبیح الإفطار]السفر)الذی یبیح الفطر وہو لیس بعذر فی الیوم الذی أنشأ السفر فیہ
وفی الفقہ الاسلامی وأدلتہ:(3/1695،رشیدیة)
۔۔۔۔۔۔۔۔عند الجمہور:أن ینشأ السفر قبل طلوع الفجر ویصل إلی مکان یبدأ فیہ جواز القصر۔۔۔۔۔۔إذ لا یباح لہ الفطر با الشروع فی السفر بعد ما أصبح صائماً۔۔۔۔۔۔۔فإذا شرع بالسفربأن جاوز عمران بلدة قبل طلوع الفجر جاز لہ الإفطار وعلیہ القضاء
وکذا فی رد المحتار:(3/462،رشیدیة)
وکذا فی الدر المختار:(3/465،رشیدیة)
وکذا فی المحیط البرہانی:(3/358،ادارة القرآن)
وکذا فی التاتارخانیة:(3/403،فاروقیة)
وکذا فی الموسوعة الفقہیة:(28/48،علوم اسلامیة)
وکذا فی الموسوعة الفقہیة:(28/48،علوم اسلامیة)
وکذا فی الموسوعة الفقہیة:(28/50،علوم اسلامیة)
وکذا فی البحر الرائق:(2/494،رشیدیة)

واللہ تعالی اعلم بالصواب وعلمہ اتمّ
کتبہ:محمد نوید بن اللہ بخش عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
15/08/1443/2022/03/19
جلد نمبر:27 فتوی نمبر: 24

اگر کوئی مرد اپنی بیوی کے لیے ہیئر ٹرانس پلانٹ کروانا چاہے یعنی مصنوئی بال بذریعہ سرجری لگوانا چاہے تو کیا اس کیلیے اس طرح کرنا جائز ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

اپنے ہی بال یا کسی جانور(خنزیر کے علاوہ) کے بال سرجری کے ذریعے سر پر لگوانا بوقت ضرورت جائز ہے۔

لما فی الہندیة:(3/115،رشیدیة)
ولا یجوز بیع شعور الإنسان ولا یجوز الإنتفاع بہا
وفی الہندیة:(5/358،رشیدیة)
ووصل الشعر بشعر الآدمی حرام سواء کان شعرہا أو شعر غیرہا ولا بأس للمرأۃ أن تجعل فی قرونہا وذوائبہا شیئا من الوبر
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة:(18/198،فاروقیة)
وکذا فی المحیط البرہانی:(8/52،إدارة القرآن)
وکذا فی الشامیة:(9/696،رشیدیة)
وکذا فی الشامیة:(9/615،رشیدیة)
وکذا فی الہندیة:(5/358،رشیدیة)
وکذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(5/365،الطارق)
وکذا فی الشامیة:(5/231،رشیدیة)
وکذا فی بدائع الصنائع:(4/316،رشیدیة)
وکذا فی السنن الدار قطنی:(1/43،دار الکتب)
وکذا فی الہدایة:(3/83،البشری)
وکذا فی بدائع الصنائع:(4/316،رشیدیة)
وکذا فی الدر المختار:(1/401،رشیدیة)
وکذا فی بدائع الصنائع:(4/333،رشیدیة)

واللہ تعالی اعلم بالصواب وعلمہ اتمّ
کتبہ:محمد نوید بن اللہ بخش عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
03/09/1443/2022/03/07
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:27

کوئی شخص کسی سے کہ دے کہ تو مسلمان نہیں ہے،وہ جواب میں کہ دے کہ ٹھیک ہے میں مسلمان نہیں ہوں ،تو کیا وہ شخص اسلام سے خارج ہو گا یا نہیں؟

الجواب حامداًومصلیاً

عام طور پر اس طرح کا جملہ کسی کی باتوں سے تنگ آ کر اس کے جواب میں بول دیا جاتا ہے،کہنے والا، یہ جملہ اسلام کو چھوڑنے کی نیت سے نہیں کہ رہا ہوتا۔چنانچہ اگر صورت مسئولہ میں ایسا ہی ہے تو مذکورہ جملے سے کافر نہیں ہو گا،لیکن ایسا جملہ بولنے سے بچنا چاہیے،یہ بہت سخت جملہ ہے،بولنے والے کو استغفار کرنا چاہیے۔

لما فی البحر الرائق:(5/27،رشیدیة)
“و[یکفر]بقولہ عمداً لا جواباً لمن قال لہ ألست مسلماً حین ضرب عبدہ أو ولدہ ضرباً شدیداً إلا إن غلط أو قصد الجواب.”
وفی الفتاوی الہندیة:(2/277،رشیدیة)
رجل ضرب إمرأۃ فقالت المرأۃ ألست بمسلم فقال الرجل ھبی[أفرضی]أنی لست بمسلم قال الشیخ۔۔۔۔۔۔۔محمد بن فضل: لا یصیر کافراً بذالک
وکذا فی المحیط البرہانی:(7/423،ادارة القرآن)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة:(7/338،فاروقیة)
وکذا فی حاشیة الطحطاوی:(2/413،رشیدیة)
وکذا فی الدر المختار مع الرد:(4/69،رشیدیة)
وکذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ:(5/520،الطارق)

واللہ تعالی اعلم بالصواب وعلمہ اتمّ
کتبہ:محمد نوید بن اللہ بخش عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
29/06/1443/2022/02/02
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:118

خواتین کا بیوٹی پارلر کا کام کرنا کیسا ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

اگر مندرجہ ذیل شرائط کے ساتھ ہو تو جائز ہے:(1):خواتین ،خواتین ہی کا میک اپ کریں۔(2):میک اپ کرنا شریعت کے احکام کی پاسداری کرتے ہوئے ہو،چنانچہ میک اپ سے متعلقہ سامان اور طریقہ کار سے متعلق تمام تفاصیل بتلا کر احکام ِشریعت معلوم کر لیے جائیں۔

لما فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(2/112،الطارق)
جاء فی حدیث انس ابن مالک أن رسول اللہ ﷺ لما تزوّج السیّدۃ صفیّۃأرسلہا إلی أم سلیم فأصلحتہا أی:زیّنتہا وہذا یدل علی أنہ یجوز أن تذہب المرأۃ إلی امرأۃ خبیرۃ بشؤون تزیین النساء لِتزیّنہا لزوجہا لکن یشترط أن تکون المرأۃ المزیّنۃ مسلمۃ فلا یجوز فی الاسلام أن تتولی المرأۃ الکافرۃ تزیین المرأۃ المسلمۃ کما لا یجوز أن تذہب المرأۃ إلی المحلات التی یقوم فیہا الرجال بتزیین النساء سواء کان ہؤلاء الرجال مسلمین أو غیر مسلمین
وفی الموسوعة الفقہیة:(11/266،علوم إسلامیة)
وقد تعرض للتزیّن أحکام تکلیفیۃاخری،فمنہ ماہوواجب،وماہومکروہ،وماہو حرام۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔ ۔ ومن أمثلۃ ما ہو واجب:سترالعورۃ وتزیّن الزوجۃ لزوجہا متی طلب منہا ذالک۔۔۔۔۔۔۔۔ومن أمثلۃ ما ہو حرام:تشبّہ الرجال بالنساء والعکس فی التزیّن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وتزیّن المرأۃ لغیر زوجہا
وکذا فی الفتاوی الہندیة:(5/359،رشیدیة)
وکذا فی السنن أبی داؤد:(2/221،رحمانیة)
وکذا فی البحر الرائق:(8/352،353،رشیدیة)
وکذا فی الفتح الباری:(10/462،قدیمی)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة:(18/213،فاروقیة)
وکذا فی الفتاوی الشامیة:(9/615،رشیدیة)
وکذا فی المشکوة المصابیح:(2/275،رحمانیة)
وکذا فی صحیح البخاری:(2/789،قدیمی)
وکذا فی سنن أبی داؤد:(1/229،رحمانیة)
وکذا فی فتح الملہم:(6/389،مکتبة دار العلوم کراچی)
وکذا فی صحیح المسلم:(1/456،قدیمی)

واللہ تعالی اعلم بالصواب وعلمہ اتمّ
کتبہ:محمد نوید بن اللہ بخش عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
22/05/1443/2021/12/27
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:77

اگر چوہا کسی چیز میں منہ ڈال لے یا اسے مختلف جگہوں سے کھا لے تو اس چیز کے استعمال کا کیا حکم ہے؟ نیز اگر چوہا کپڑا کتر ڈالے تو اس میں نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

تنگ دست کے لیے ایسی چیز کا کھانا بلا کراہت جائز اور دولت مند کے لیے مکروہ تنزیہی ہے۔(2):دوسرے کپڑوں کے ہوتے ہوئے یا انہیں کپڑوں کو دھوئے بغیر ان میں نماز پڑھ لینا مکروہ تنزیہی ہے۔

لما فی الفتاوی الہندیة:(1/24،رشیدیة)
وسؤر حشرات البیت کالحیّۃ والفآرۃ والسنور مکروہ کراہۃ تنزیہ ہو الأصح کذا فی الخلاصۃ. ویکرہ أن تلحس الہرۃ فی کف انسان ثم یصلی قبل غسلہا أو یأکل من بقیۃ الطعام الذی أکلت منہ.کذا فی التبیین. وإنما یکرہ ذالک فی حق الغنی لأنہ یقدرعلی بدلہ أما فی حق الفقیر فلا یکرہ للضرورۃ.کذا فی السراج الوہاج
وفی المحیط البرہانی:(1/286،إدارة القران)
وکذالک سؤر ما یسکن البیوت من الحشرات کالفأرۃ والحیّۃ والوزغۃ مکروہ۔۔۔۔۔۔۔۔(وعلی الصفحۃ الاٰتیۃ288) وکذالک قالوا: الہرۃ اذا أکلت بعض الطعام کرہ للرجل أن یأکل الباقی لأن ما بقی لا یخلو عن ریقہا وریقہا لیس بطیب
وفی البحر الرائق:(1/232،رشیدیة)
“تکرہ الصلوۃ مع حمل ما سؤرہ مکروہ کالہرۃ.”
وکذا فی ملتقی الأبحر:(1/55،المنار)
وکذا فی مجمع الأنھر علی ہامش ملتقی الأبحر:(1/56،المنار)
وکذا فی الدر المنتقی علی ہامش ملتقی الأبحر:(1/56،المنار)
وکذا فی الدر المختار مع الرد:(1/426،رشیدیة)
وکذا فی الجوہرة النیرة:(1/61،قدیمی)
وکذا فی المحیط البرہانی:(1/288،إدارة القران)
وکذا فی تبیین الحقائق:(1/33،رشیدیة)

واللہ تعالی اعلم بالصواب وعلمہ اتمّ
کتبہ:محمد نوید بن اللہ بخش عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
21/05/1443/2021/12/26
جلدنمبر:26 فتوی نمبر:92

کیا عورت دکان سے سودا سلف خرید کر لا سکتی ہے حالانکہ گھر میں مرد موجود ہیں۔اگر عورت اس طرح پردے میں جائے کہ صرف ہاتھ ،چہرہ اور پاؤں کھلے ہوں تو یہ جائز ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

عورت مکمل پردے کے ساتھ(جس میں چہرے کا پردہ بھی داخل ہے)بوقت ضرورت خریداری کے لیے جا سکتی ہے،اگر بازار،شرعی مسافت پر یا اس سے زیادہ دور ہو تو محرم کا ساتھ ہونا ضروری ہے۔

لما فی بدائع الصنائع:(2/300،رشیدیة)
ثم المحرم أو الزوج:إنما یشترط اذا کان بین المرأۃ وبین مکۃ ثلثۃ أیام فصاعداً فإن کان أقل من ذالک حجت بغیر محرم لأن المحرم یشترط للسفر وما دون ثلثۃ أیام لیس بسفر فلا یشترط فیہ المحرم کما لا یشترط للخروج من محلۃ الی محلۃ
وفی وفی فتح القدیر:(2/427،رشیدیة)
لأنہ یباح لہا الخروج الی ما دون مدۃ السفر بغیر محرم) یعنی اذا کان لحاجۃ
وکذا فی الدر المختار:(3/531،رشیدیة)
وکذا فی الفتاوی الہندیة:(1/219،رشیدیة)
وکذا فی الفتاوی الولوالجیة:(1/254،حرمین شریفین)
وکذا فی البحر الرائق:(8/351،رشیدیة)
وکذا فی مجمع الأنہر شرح ملتقی الابحر علی ھامشہ:(1/122،المنار)
وکذا فی النھر الفائق:(1/183،قدیمی)
وکذا فی الدر المنتقی علی ھامش ملتقی الابحر:(1/121،المنار)
وکذا فی البحر الرائق:(1/470،رشیدیة)

واللہ تعالی اعلم بالصواب وعلمہ اتمّ
کتبہ:محمد نوید بن اللہ بخش عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
12/05/1443/2021/12/17
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:19

ایک آدمی نوکری کی کوشش کر رہا ہے،جہاں بھی جائے رشوت مانگتے ہیں،رشوت دے کر نوکری لینا کیسا ہے؟اگر رشوت نہ دے تو نوکری ملتی نہیں۔اگر رشوت دے کر نوکری لے لی تو اس کی تنخواہ جائز ہوگی یا نہیں؟

الجواب حامداًومصلیاً

عام حالات میں رشوت دے کر نوکری لینا نا جائز اور حرام ہے،البتہ نوکری ایسی ہو کہ جس کا یہ شخص سب سے زیادہ اہل ہو،وہ نوکری اس شخص کے علاوہ کو ملنے کی صورت میں عامّۃ الناس کے حقوق ضائع ہونے کا خدشہ ہو تو اس کے حصول میں کچھ دینے کی گنجائش ہے۔
بہر صورت،اگر وہ شخص نوکری کا اہل ہو اور اپنے فرائض بخوبی سر انجام دے رہا ہو تو تنخواہ لینا جائز ہو گا۔

لما فی السنن الکبری:(1/235،دار الکتب العلمیة)
واخبرنا ابن الفضل انبأ عبد اللہ ابن جعفر ثنا یعقوب ابن سفیان ثنا زید ثنا عبد الملک ابن عبد الرحمن عن محمد ابن سعید عن ابیہ وہب ابن منبہ قال :لیست الرشوۃ التی یأثم فیہا صاحبہا بأن یرشو فیدفع عن مالہ ودمہ إنما الرشوۃ التی تأثم فیہا أن ترشو لتعطی ما لیس لک
وفی البحر الرائق:(6/441،رشیدیة)
وذکر الأقطع أن الفرق بین الہدیة والرشوۃ :أن الرشوۃ ما یعطیہ بشرط أن یعینہ۔۔۔۔۔۔(وبعد أسطر) ومنہا :ای من الرشوۃ إذا دفع الرشوۃ خوفاً علی نفسہ او مالہ فہو حرام علی الآخذ غیر حرام علی الدافع وکذا اذا طمع فی مالہ فرشاہ ببعض المال
وکذا فی الفتاوی الہندیة:(3/311،رشیدیة)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة:(11/79،فاروقیة)
وکذا فی البحر الرائق:(6/439،رشیدیة)
وکذا فی النہر الفائق:(3/ 598،قدیمی)
وکذا فی المحیط البرہانی:(12/192،دار احیاء التراث)
وکذا فی البحر الرائق:(7/506،رشیدیة)
وکذا فی رمز الحقائق:(2/116،ادارة القرآن)
وکذا فی تبیین الحقائق:(4/175،امدادیة)
وکذا فی البنایة:(8/7،رشیدیة)
وکذا فی الفتاوی الشامیة:(8/42،رشیدیة)
وکذا فی کنز الدقائق:(275،حقانیة)

واللہ تعالی اعلم بالصواب وعلمہ اتمّ
کتبہ:محمد نوید بن اللہ بخش عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
27/05/1443/2021/12/06
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:24

میں توامتی ہوں اے شاہ امم ،کردے میرے آقا اب نظر کرم “اس نعت میں میرے خیا ل میں یہ الفاظ شرک ہیں کیونکہ “نظر کرم “کی دعا ہمیں صرف اللہ سے کرنی چاہیے ،اس نعت اور ایسی دوسری نعتوں کے متعلق کیا حکم ہے ؟

الجواب حامداومصلیا

مذکورہ شعر میں شاعر اگر آپ علیہ الاسلام کو قادر مطلق سمجھ کر پکار رہا ہے تب تو شر ک ہے ،ہاں اگر روضہ اقدس پر حاضری کا تصور کر کے اور آپ ﷺکی شفاعت مراد لے کر یہ شعر پڑھا جائے تو گنجائش معلوم ہوتی ہے ۔

لما فی القرآن المجید :(یونس :106)
“ولاتدع من دون اللہ مالا ینفعک ولایضرک فان فعلت فانک اذا من الظالمین “
وفی جامع التر مزی :(2/530،رحمانیة)
عن ابن عباس قال کنت خلف النبی یوما فقال یاغلام ۔۔۔۔۔اذا سالت فاسال اللہ واذااستعنت فاستعن باللہ ۔۔۔۔۔الخ
وفی الموسو عة الفقھیة:(4/18،علوم اسلامیة)
ان یسال المستغاث بہ مالا یقدر علیہ ولا یسا ل اللہ تبارک وتعالی کان یستغیث بہ ان یفرج الکرب او یاتی لی با لرزق فھذا غیر جائز وقد عدہ العلماء من الشرک لقولہ عزوجل ﴿ولاتدع من دون اللہ مالا ینفعک ولایضرک فان فعلت فانک اذا من الظالمین
وکذا فی المرقات المفاتیح شرح مشکاةالمصابیح (9/162،التجاریة)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ مدثر شریف غفرلہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
11/2/2022/9/7/1443
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:173