تصویر کے متعلق سب کو پتہ ہے کہ حرام لیکن کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ حکم کاغذ پر پینسل سے تصویر بنانے کے بارے میں ہے ،کیمرے کے بارے میں نہیں ہے، اس بارے میں تفصیل بتادیں ؟

الجواب حامداومصلیا

کاغذوغیرہ کسی چیز پر ہاتھ سے بنی ہوئی یا پرنٹ تصویر تو بالاتفاق حرام ہے البتہ کیمرے کی ان تصاویر کے بارے میں جن کا پرنٹ نہ نکالا گیا ہو ان میں علماء کا اختلاف ہے ۔بعض علماء کے نزدیک یہ بھی تصویر ہے اور حرام ہے ۔جبکہ بعض علماء کے نزدیک یہ تصویر نہیں بلکہ عکس ہے ،جو شعاعوں اور ذرات کی صورت میں محفوظ ہوتا ہے ۔ان کے نزدیک یہ حرام نہیں ،بشرطیکہ کسی جائز منظر کی ہو ۔ہمارا رجحان بھی دوسری رائے کی طرف ہے کہ کیمرے سے عکس بندی کی گنجائش ہے ،بشرطیکہ کسی حرام چیز کا عکس نہ ہو اور اس کا پرنٹ نہ نکلوایا جائے ۔

لما فی تکملہ فتح الملھم:(4/164،درالعلوم کراچی)
اماالصورۃ التی لیس لھا ثبات و استقرار ولیست منقوشۃ علی شیئ بصفۃ دائمۃ فانھا بالظل اشبہ منھا بالصورۃ ویبدو ان صورۃالتلفزیون والفیدیو لاتستقر علی شیئ فی مرحلۃ من المراحل الا اذا کان فی صورۃ “فیلم” فان کانت صورالانسان حیۃ بحیث تبدو علی الشاشۃ فی نفس الوقت الذی یظھر فیہ الانسان امام الکیمرا فان الصورۃلا تستقر علی الکیمرا ولا علی الشاشۃ وانما ھی اجزاءکھربائیۃ تنتقل من الکیمرا الی الشاشۃ وتظھر علیھا بترتیبھا الاصلی ثم تفنی و تزول واما اذ ااحتفظ بالصورۃ فی شریط الفید یو فان الصور لا تنقش علی الشر یط وانما تحفظ فیھا الاجزاء الکھربائیۃ التی لیس لھا صورۃ فاذاظھرت ھذہ الاجزاء علی الشاشۃ ظھرت مرۃ اخری بذلک الترتیب الطبیعی و لکن لیس لھا ثبات و لااستقرار علی الشاشۃ و انما ھی تظھر و تفنی فلا یبدو ان ھناک مرحلۃ من المراحل تنتقش فیھا الصورۃ علی شیئ بصفۃ مستقرۃ او دائمۃ وعلی ھذا فتنزیل ھذہ الصورۃ منزلۃ الصورۃ المستقرۃ مشکل

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ مدثر شریف غفرلہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
12/2/2022/10/7/1443
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:174

ایک آدمی دعوت وتبلیغ یاجہاد کےلیےجاناچاہتاہےوالدین سےاجازت لیتاہےاوروہ اجازت بھی دےدیتےہیں ،مگریہ شخص جانتاہےکہ اس کےوالدین دل سےراضی نہیں،وہ چاہتےہیں کہ ان کا بیٹاان کی خدمت کرے،توایسی صورت میں نکلناافضل ہےیاوالدین کی خدمت کرناافضل ہے؟

الجواب حامداومصلیا

اگروالدین اسکی خدمت کےمحتاج ہیں یااس کےجانےکی وجہ سےان کوکوئی مشقت ہوتی ہوتواس شخص کاوالدین کی خدمت کرناافضل ہے۔

لمافی القرآن الکریم:(الاسراء:23)
“وقضیٰ ربک الاتعبدوا الاایاہ وبالوالدین احسانا ۔”
وفی الصحیح لمسلم:(2/317،رحمانیہ)
عن عبداللہ بن عمروبن عاص رضی اللہ عنہ قال:اقبل رجل الی نبی اللہﷺفقال ابایعک علی الہجرۃوالجہادابتغی الاجرمن اللہ،قال:فہل من والدیک احدحی قال نعم،بل کلاھما،قال فتبتغی الاجرمن اللہ؟قال نعم!قال فارجع الی والدیک فاحسن صحبتہما
وفی ابی داوٗد:(1/365،رحمانیہ)
“عن عبداللہ بن عمروقال:جاءرجل الی رسول للہﷺفقال یارسول اللہ اجاھد،قال :الک ابوان ؟قال نعم!قال ففیھما فجاھد۔”
وکذافی التاتارخانیة:(18/240،فاروقیہ)
وکذافی الصحیح البخاری:(1/142،رحمانیہ)
وکذافیہ ایضاً:(1/529،رحمانیہ)
وکذافی المحیط البرہانی:(8/110،ادارةالقرآن)
وکذافی مجمع الزوائد:(8/177،العلمیة)

واللہ اعلم بالصواب
محمدرفیق غفرلہ
متخصص جامعۃالحسن ساہیوال
23/4/1443/2021/11/29
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:142

محمدحنین”نام رکھناکیساہے؟

الجواب حامداومصلیا

حُنین(ح کےپیش کےساتھ)ایک صحابی کانام ہےجوآپﷺکےخادم تھےاس لیےیہ نام رکھنابالکل جائزہے۔

اورحَنِین(“ح “کےزبراور”ن”کےزیر کےساتھ )اس کامعنی ہےبےحدشوق رکھنےوالا،تڑپ رکھنےوالا۔

لمافی اسدالغابہ:(1 /310،الوحیدیہ)
حُنَین،مولی العباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ،کان عبداًوخادماللنبیﷺفوھبہ لعمہ العباس رضی اللہ عنہ فاعتقہ ،وھوجدابراہیم بن عبداللہ بن حنین
وفی لسان العرب:(3 /367،احیاءالتراث)
الحَنین،الشوق وتوقان النفس،والمعنیان متقاربان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔حنین الناقۃ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔حنینہاصوتھااذااشتاقت الی ولدھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وکذالک”حنت”الی ولدھا،قال الشاعر:؎ یعارضن ملواحاکأن حنینھا، قبیل انفتاق الصبح ترجیع زامری
وکذافی القاموس الوحید:(385،ادارہ اسلامیات)
وکذافی المنجد:( 157،دارالمشرق بیروت)
وکذافی معجم الوسیط:(1/203،دارالدعوۃ)
وکذافی المحیط فی اللغة:(2/317،عالم الکتب)

واللہ اعلم بالصواب
محمدرفیق غفرلہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃالحسن ساہیوال
2/7/1443/2022/2/4
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:122

ایک آدمی کاپیٹ بڑاہےآگےکونکلاہواہےاسی طرح ایک ضعیف آدمی ہےجس کی نظرکمزورہےیاصحت خراب ہےان کوزیرناف بال صاف کرنےمیں دشواری ہےکیایہ لوگ پاؤڈروغیرہ استعمال کرسکتےہیں اسی طرح بغل کےبالوں کے بارےمیں بھی بتادیجیئے!

الجواب حامداومصلیا

جی!استعمال کرسکتےہیں۔

لمافی الہندیة:(5 /358، رشیدیہ)
“ویبتدئ فی حلق العانۃمن تحت السرۃ،ولوعالج بالنورۃفی العانۃیجوز ۔”
وفی الفقہ الحنفی:( 5/390،الطارق)
والاستحداد:ھوحلق العانۃ۔۔۔۔۔۔۔۔ویبتدئ من تحت السرۃولوعالج بالنورۃ،مادۃ مصنوعۃ لازالۃ الشعرجاز،ونتف الابط ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ویتأدی اصل السنۃ بالحلق ولاسیمامن یؤلمہ النتف
وکذافی ردالمحتار:(6 /406،ایچ،ایم،سعید)
وکذافی المختصرفی الفقہ الحنفی:( 423،البشریٰ)
وکذافی الفتح الملہم:(2 /332،دارالعلوم کراچی)
وکذافی الموسوعةالفقھیة:( 3/216،علوم اسلامیہ)
وکذافی حاشیةالطحطاوی علی الدر:( 4/203،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمدرفیق غفرلہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃالحسن ساہیوال
15/5/1443/2021/12/20
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:39

سمارٹ فون یاکمپیوٹروغیرہ پرانٹرنیٹ استعمال کرنےکےدوران عورتوں کی جوتصویریں باربارسامنےآتی رہتی ہیں اوربغیر ارادےکےان پرنگاہ پڑتی رہتی ہے،شہوت کی نگاہ سےبھی دیکھنےکاامکان پیداہوجاتاہے،اس دیکھنےکاکیاحکم ہے؟شہوت کی قیدہےیانہیں؟یاایک آدھ مرتبہ دیکھناتومستثنیٰ ہوباقی پرعقاب ہو،اس قسم کاکوئی معاملہ تونہیں؟

الجواب حامداومصلیا

سوشل میڈیاکےاستعمال میں غیرمحارم پر نظرکامعاملہ ایسےہی ہےجیسےروڈپرچلتےہوئےغیرمحارم کاہے،ارادہ وقصد کے ساتھ دیکھناناجائزاوربلاارادہ نظرمعاف ہوتی ہے۔

لمافی مشکوٰةالمصابیح:(2/277،رحمانیہ)
“عن بریدۃقال: قال رسول اللہﷺلعلی،یاعلی!لاتتبع النظرۃ النظرۃفان لک الاولی ولیست لک الآخرۃ۔”
وفی الفقہ الاسلامی :(4/2651،رشیدیہ)
وان وقع البصر علی محرم من غیرقصد،وجب ان یصرف عنہ،ولیس علی المرءاثم فی المرۃ الاولی غیرالمقصودۃ،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وان کان لایأمن الشہوۃلاینظرالی وجہہاالالحاجۃضروریۃ،وبہ یظہرانّ حل النظرمقیدبعدم الشہوۃ والافحرام
وفی الہندیة:(5/329،رشیدیہ)
واماالنظرالی الاجنبیات۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وان غلب علی ظنہ انہ یشتہی فہوحرام”کذافی الینابیع
وکذافی المبسوط:(10/153،دارالمعرفت)
وکذافی الدرالمختار:(9/610،رشیدیہ)
وکذافی التاتارخانیہ:(18/95،فاروقیہ)
وکذافی البدائع:(4/294،رشیدیہ)
وکذافی الصحیح لمسلم:(2/212،قدیمی)
وکذافی البزازیہ علی ہامش الہندیة:(6/373،رشیدیہ)
وکذافی التفسیرالمنیر:(9/548،امیرحمزہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمدرفیق غفرلہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
2/5/1443/2021/12/07
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:180

کھانےکےدوران سلام کرناکیساہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

مکروہ ہے۔

لمافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(4/2685،رشیدیہ)
“ویکرہ السلام فی الحمام،وعلی من یأکل اویقاتل لاشتغالہ ۔ “
وفی البحرالرائق:(8/380،رشیدیہ)
“ویکرہ ان یسلم علی من ہوفی الخلاءولایردعلیہ السلام وکذاالآکل والقاری الخ ۔ “
وکذافی کتاب الفقہ:(2/51،حقانیہ پشاور)
وکذافی الموسوعةالفقھیة:(25/164،علوم اسلامیہ )
وکذافی الشامیة:(2/452،رشیدیہ)
وکذافی حاشیةالطحطاطی علی الدر:(1/262،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمدعمرفاروق بن عبدالمؤمن بہاولپور
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
18/9/1443/2022/4/20
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:175

کہ کسی غیرمسلم ملک میں کسب کےلئےجاناکیساہے؟اگر وہاں جاکرحلال یاحرام روزگارکرےتواس کاکیاحکم ہے؟جبکہ اپنےمسلم ملک میں بھی گزارہ ہوسکتاہے۔

الجواب حامداًومصلیاً

اگرمسلم ملک میں آمدنی کاایساذریعہ موجودہو،جس سےضروریات زندگی مناسب اندازمیں پوری ہوسکتی ہیں ،تواس کے باوجودبغیرمجبوری کےغیرمسلم ملک کسب معاش کےلیئےجانابہت ناپسندیدہ اورنامناسب ہے،باقی حرام روزگارتو ہرجگہ ناجائزہے۔

لمافی بحوث فی قضایافقھیہ معاصرہ:(1/330،معارف القران)
اما اذاکان الرجل، تتیسر لہ وسائل المعاش فی بلدہ المسلم علی مستوی اھل بلدہ،ولکنہ ھاجر الی بلادالکفار للاستزادۃ منھا،والحصول علی محض الترفۃ والتنعم،فان ذلک لایخلو من کراھۃ،لما فیہ من عرض النفس علی المنکرات الشائعۃ ھناک وتحمل خطر الانھیار الخلقی والدینی من غیر ضرورۃ داعیۃ لذلک والتجربۃ شاھدۃ علی ان الذین یتجنسون بھذہ الجنسیات الاجنبیۃ لمجرد الترفۃ،ینتقض فیھم الوازع الدینی فیذوبون امام الاغراءات الکافرۃ ذوباناذر یعا،ومن ھنا وردفی الحدیث النھی عن مساکنۃ المشرکین دون حاجۃ ملحۃ
وفی بذل المجھود:(12/93،قدیمی)
قال الخطابی!فی معناہ ثلاثۃ وجوہ قیل معناہ لایستوی،حکمھا،قیل معناہ ان اللہ فرق بین داری الاسلام والکفر،فلایجوز لمسلم ان یساکن الکفار فی بلادھم،حتی اذا اوقدو نارا کان منھم بحیث یری نارھم،ویرون نارہ اذااوقدت
وکذافی جامع الترمذی:(1/422،رحمانیہ) وکذافیہ ایضاً:(1/422،رحمانیہ)
وکذافی تحفةالاحوذی:(5/221،قدیمی) وکذافی سنن ابی داؤد:(2/37،رحمانیہ)
وکذافی عون المعبود:(7/241،قدیمی) وکذافی بذل المجھود فی حل ابی داؤد :(12/253،قدیمی)
وکذافی سنن ابی داؤد:(1/379،رحمانیہ) وکذافی معالم السنن:(2/256،المعارف للنشروالتوزیع)
وکذا فی الجامع لاحکام القران (18/215،داراحیاءالتراث العربی)
وفی شرح سنن النسائی (8/26،دارالکتب)

واللہ اعلم بالصواب
محمدعمرفاروق بن عبدالمؤمن بہاولپور
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
10/7/1443/2022/2/11
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:146

کتابوں میں ہم پڑھتے ہیں کہ غزوات میں عورتیں مرہم پٹی کا کام سر انجام دیتی تھیں،جبکہ اسلام میں پردہ کا بھی حکم ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

غزوات میں شریک ہونےوالی عورتیں باپردہ ہوتی تھیں،اپنےخیموں میں ہوتی تھیں اورکھانابنانےاورپانی لانےکاکام کرتی تھیں اورمرہم پٹی عمررسیدہ(بوڑھی)عورتیں کرتی تھیں اوراپنےمحرم(جن سے پردہ ضروری نہیں)مَردوں کی مرہم پٹی کرتی تھیں، جہاں غیر محرم کی مر ہم پٹی کی ضرورت پیش آتی بغیر چھوئےپردہ کاخیال رکھتےہوئےکرتی تھیں جبکہ زخمی حالت میں چھونافتنہ سےبھی خالی ہےاورکچھ واقعات پردہ کاحکم نازل ہونےسےبھی پہلےکےہیں جبکہ وہ زمانہ بھی پاکیزہ لوگوں کاتھا،خلاصہ یہ کہ جہاں شرکت ثابت ہے وہاں پردہ کی پوری پوری رعائت بھی ہمیشہ رکھی گئی ہے۔

لمافی صحیح البخاری:(2/69،رحمانیہ)
عن عائشۃزوج النبی صلی اللہ علیہ وسلم حین قال لھاالافک۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بعداسطر۔ ۔ ۔ ۔ قالت عائشۃ فاقرع بیننافی غزوۃ غزاھافخرج فیھاسھمی فخرجت مع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بعد ما انزل الحجاب فکنت احمل فی ھودج وانزل فیہ فسرنا
وفی اعلاءالسنن:(12/29،ادارةالقرآن)
والذی فی بعض الروایات من خروج عائشۃرضی اللہ عنھاونحوھامن الشواب یوم احد،فان النساءکن یحضرن الجماعات فی زمنہ المبارک صلی اللہ علیہ وسلم لعدم الفتنۃاذذاک ثم نہی عنہ لاجل المخافۃعلیھن فکذلک حضورھن فی الجھادعلی ان غزوۃاحدکانت موضع النفیرالعام لماقددھم العدودارالاسلام و فی مثل ذلک یصیرالجہاد فرض عین علی کل مسلم ومسلمۃ،ولانزاع فیہ وانماالنزاع فیمااذالم یکن فرض عین فافھم۔ واماالعجائزفلابأس بخروجھن للطبخ والسقی ومداواۃالجرحی۔
قال النووی فی شرح مسلم( 2: 116 ) : “وھذہ المداواۃلمحارمھن وازواجھن وماکان منھالنیرھم لایکون فیہ مس بشرۃ الافی موضع الحاجۃ”اﻫ ۔
قلت: و کل ماوردعن الصحابیات من حضورھن القتال مع الصحابۃفی فتوح الشام غیرھا،فلم یکن الاللطبخ والمداواۃلمحارمھن وسقی الماءونحوہ،ولم یکن مقامھن فی الصفوف بل فی الاخبیۃوالخیام،ولم یباشرن القتال الا عندالضرورۃاذاانھزم الرجال وخفن علی انفسھن من دھم العدوفلاحجۃفی مثل تلک الوقائع لمن انکروجوب الحجاب علی النساءفان الصحابیات رضی اللہ عنھن لم یخرجن فی العساکربغیرالحجاب قط ولم یباشرن القتال الاباللثام اذاخفن علی انفسھن والمسلمین ومن ادعی غیرذلک فلیأت ببرھان ۔”
وفی الھندیة:(2/190،رشیدیہ)
ولاتخرج الشواب لمداواۃالجرحی وسقی الماءوالطبخ والخبزلاجل الغزاۃواماالعجائزاللاتی دخلن فی السن فلابأس ان یخرجن فی الصوائف ونحوھامن الجنودالعظام ویداوین المرضی والجرحی ویسقین الماءویخبزن ویطبخن ولکن لایقاتلن
وکذافی عون المعبود:(7/90،قدیمی)
وکذافی معالم السنن:(2/224،المعارف)
وکذافی تکملةفتح الملھم:(3/249،دارالعلوم)
وکذافی صحیح البخاری:(2/56،رحمانیہ)
وکذافی فیض الباری:(5/41،الرشیدیہ)
وکذافی صحیح البخاری:(1/511،رحمانیہ)
وکذافی عمدةالقاری:(14/168،داراحیاءالتراث العربی)
وکذافی الصحیح لمسلم وھامشہ:(2/125،رحمانیہ)
وکذافی مجمع الزوائد:(5/416،دارالکتب)
وکذافی التاتارخانیة:(7/37،فاروقیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمدعمرفاروق بن عبدالمؤمن بہاولپور
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
11/7/1443/2022/2/12
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:12

عورت کااپنےشوہرکانام لیکرپکارناکیساہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

ناپسندیدہ ہے۔

لمافی الفتاوی السراجیہ:(1/319،زمزم)
“یکرہ ان یدعوالرجل اباہ،اوالمرأۃزوجھاباسمہ ۔ “
وفی التاتارخانیة:(18/230،فاروقیہ)
“وفی السراجیۃ:یکرہ ان یدعوالرجل اباہ،اوالمرأۃزوجھاباسمہ ۔ “
وکذافی الھندیة:(5/362،رشیدیہ)
وکذافی الموسوعةالفقہیة:(11/337،علوم اسلامیہ)
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(5/472،الطارق)
وکذافی الشامیة:(9/690،رشیدیہ)
وکذافی حاشیةالطحطاوی علی الدر:(4/208،رشیدیہ)
وکذافی المختصرفی الفقہ الحنفی:(1/419،البشری)

واللہ اعلم بالصواب
محمدعمرفاروق بن عبدالمؤمن بہاولپور
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
23/8/1443/2022/3/26
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:123

اس مسئلے میں تشویش کو ختم فرمائیں دنیا وآخرت میں اللہ تعالیٰ سےماجورہوں (1)حضورعلیہ السلام سے سفر وحضرمیں کونسا عمامہ ثابت ہےاور اسکی لمبائی کتنی ہے؟(2)نیزیہ بھی احادیث مبارکہ سے واضح کریں کہ حضورعلیہ السلام سےسفید عمامہ ثابت ہے یانہیں؟اگرثابت ہے توکس حدیث میں اس کا ذکر موجود ہے،وہ حدیث بتائیں!(3)نیزیہ بھی واضح کریں کہ ایسے علاقے میں کالی پگڑی باندھنا کیساہے جہاں اہل تشیع رہتے ہوں؟

الجواب حامداًومصلیاً

(1)

حضورعلیہ الصلوٰۃوالسلام سے سفر وحضر میں سیاہ،زرداورزعفران کےرنگےہوئےعمامہ کاذکرملتا ہے،البتہ سیاہ کاذکر زیادہ ملتا ہے۔ عمامہ کی لمبائی کےمتعلق مشایخ کرام نےمختلف اقوال نقل فرمائے ہیں کسی خاص مقدارکو متعین نہیں فرمایا،آپ علیہ الصلوٰۃوالسلام عام حالات میں تین ہاتھ،پانچوں نمازوں میں سات ہاتھ اورجمعہ وعیدین میں 12ہاتھ لمبی پگڑی باندھتےتھے،3ہاتھ پگڑی تقریباً1.37 میٹر، 7ہاتھ تقریباً3.20میٹر،اور12ہاتھ پگڑی تقریباً5.48میٹربنتی ہے۔(2)سفیدعمامہ حضور علیہ السلام سے ثابت تو نہیں البتہ سفیدکپڑاآپ علیہ السلام کوپسندتھا۔(3)جائزہے،لیکن انکےمخصوص ایام میں تشبہ ہوتو بچا جائے۔

لمافی جامع الترمذی:(1 /436 ،رحمانیہ)
“عن جابرقال دخل النبی صلی اللہ علیہ وسلم مکۃ یوم الفتح وعلیہ عمامۃ سوداء۔ “
وفی سبل الھدیٰ والرشاد:(7/273،نعمانیہ)
عن ابی ھریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال خرج علینارسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم وعلیہ قمیص اصفر،ورداءاصفر، وعمامۃصفراء
وفی سنن النسائی :(2/761،رحمانیہ)
“عن جعفر بن عمروبن حریث عن ابیہ قال رایت علی النبی صلی اللہ علیہ وسلم عمامۃ حرقانیۃ۔
عن جابران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دخل فتح مکۃ وعلیہ عمامۃ سوداءبغیراحرام۔ “
وفی المواھب اللدنیہ:(1/99،تالیفات اشرفیہ)
“لکن نقل عن النووی انہ کان لہ صلی اللہ علیہ وسلم عمامۃقصیرۃ وکانت ستۃاذرع وعمامۃ طویلۃ وکانت اثنی عشر ذراعاً۔ “
وفی العرف الشذی علی ھامش الترمذی:(1/436،رحمانیہ)
“کانت عمامۃ علیہ السلام فی اکثرالاحیان ثلثۃاذرع شرعیۃ وفی الصلوات الخمس سبعۃ اذرع وفی الجمع اثناعشرذراعاً “
وفی المسوعة الفقھیة:(30/302،علوم اسلامیہ)
“وعن اسماعیل بن عبداللہ بن جعفرعن ابیہ،قال ر ایت علی النبی صلی اللہ علیہ وسلم ثوبین مصبوغین بزعفران رداءوعمامۃ۔”
وفی التعلیق الصبیح:(4/512،رشیدیہ)
“قولہ:من تشبہ بقوم ای شبہ بالکفار مثلاً فی اللباس وغیرہ۔ “
وفی سنن ابی داؤد:(2/207،رحمانیہ)
“عبن عباس قال قال رسول اللہ علیہ وسلم البسوا من ثیابکم البیض فانھامن خیر ثیابکم الخ۔ “
وکذافی شمائل ترمذی:(2/729،رحمانیہ)
وکذافی سبل الھدی والرشاد:(7/273،نعمانیہ)
وکذافی سبل الھدی والرشاد:(7/276،نعمانیہ)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(30/303،علوم اسلامیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمدعمرفاروق بن عبدالمؤمن بہاولپور
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
17/5/1443/2021/12/21
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:36