قرآنِ کریم کی تلاوت کے آخر میں جو “صدق اللہ العظیم” کہا جاتا ہے اس کی کیا حیثیت ہے؟ اور تلاوت کے کچھ آداب بھی بتلادیجیے۔

الجواب باسم ملھم الصواب
قرآنِ کریم کی تلاوت کے آخر میں “صدق اللہ العظیم” کہنا مستحب ہے۔
اور تلاوت کے چند آداب یہ ہیں:( 1)تلاوت سے پہلے مسواک کر لی جائے۔( 2)صاف ستھرا لباس پہن لیاجائے۔( 3)اگر ہوسکے تو قبلہ کی طرف منہ کرلیا جائے۔(4)اگر دورانِ تلاوت منہ میں بلغم آجائے تو بلغم تھوک کر کلی کرلی جائے۔( 5)دورانِ تلاوت اگر جمائی آجائے تو بہتر ہے کہ جمائی کے ختم ہونے تک تلاوت روک دی جائے۔( 6)ٹھہر ٹھہر کر اور الفاظ کو اچھی طرح واضح کرکے تلاوت کی جائے۔( 7)خوبصورت آواز میں تلاوت کرنے کی کوشش کی جائے۔( 8)تلاوت کرنے والے کو چاہیے کہ دورانِ تلاوت روئے بھی، اگر رونا نہ آئے تو رونے کی شکل ہی بنالے۔

لما فی تفسیر القرطبی: (1/27-28، دار احیاء التراث العربی)
ومن حرمتہ ان یستاک و یتخلل فیطیب فاہ. . . و من حرمتہ ان یتلبس . . . کان ابوالعالیۃ اذا قرا اعتم و لبس و ارتدی . . . ومن حرمته أن يستقبل القبلة لقراءته. . .و من حرمتہ ان یتمضض کلما تنخع . . . و من حرمتہ اذا تثائب ان یمسک عن القرائۃ . . . و من حرمتہ ان یقراہ علی تودۃ و ترسیل و ترتیل . . . و من حرمتہ اذا انتھت قرائتہ ان یصدق ربہ، و یشھد بالبلاغ لرسولہ صلی اللہ علیہ و سلم، و یشھد علی ذالک انہ حق، فیقول: صدقت ربنا، و بلغت رسلک، و نحن علی ذالک من الشاھدین، اللھم اجعلنا من شھداء الحق، القائمین بالقسط، ثم یدعو بدعوات
وفی احیاء علوم الدین: (1/277 ، دار احیاء التراث العربی)
الترتیل: ھو المستحب . . . نعتت ام سلمۃ رضی اللہ تعالیٰ عنھا قرائۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم فاذا ھی تنعت قرائۃ مفسرۃ حرفا حرفا . . . البکاء مستحب مع القرائۃ، قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم: “اتلوا القرآن، و ابکوا فان لم تبکوا فتباکوا
وفی احیاء علوم الدین: (1/278 ، دار احیاء التراث العربی)
و لیقل عند فراغہ من القرائۃ: صدق اللہ تعالیٰ و بلغ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم، اللھم انفعنا بہ و بارک لنا فیہ الحمد للہ رب العالمین و استغفر اللہ الحی القیوم
و فی شعب الایمان: (2/363، دار الکتب العلمیہ)
عن عبدالرحمن بن السائب قال: قدم علینا سعد بن مالک بعد ماکف بصرہ، فاتیتہ مسلما فانتسبنی فانتسبت فقال: مرحباً بابن اخی بلغنی انک حسن الصوت بالقرآن سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم یقول: ان ھذا القرآن نزل بحزن و کآبۃ، فاذا قراتموہ فابکوا فان لم تبکوا فتباکوا و تغنوا بہ فمن لم یتغن بہ فلیس منا
و فی کنز العمال: (1-2/152،رحمانیہ)
کان اذا ختم القرآن حمد اللہ بمحامد . . . ثم یقول: الحمد للہ رب العالمین . . . صدق اللہ و بلغت رسلہ و انا علی ذالکم من الشاھدین . . .الخ
و کذا فی احیاء علوم الدین: (1/279، دار احیاء التراث العربی)
و کذا فی الفقہ السلامی و ادلتہ: (2/1101، رشیدیہ)
و کذا فی الفقہ السلامی و ادلتہ: (2/1100، رشیدیہ)
و کذا فی شعب الایمان: (2/367، دار الکتب العلمیہ )
و کذا فی شعب الایمان: (2/372، دار الکتب العلمیہ )

واللہ اعلم بالصواب
محمد زکریا عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
10/5/1442/ 2020/12/26
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:98

اگر کوئی شخص جمعرات کو مغرب کے بعد سورۂ کہف پڑھ لے تو کیا جمعہ کے دن پڑھنے کی فضیلت حاصل ہوجائے گی یا جمعہ کے دن پڑھنا ہی ضروری ہے؟ اور کیا جمعہ کے دن کسی بھی وقت (مغرب سے پہلے پہلے) پڑھی جاسکتی ہے؟

الجواب باسم ملھم الصواب

جمعرات کو مغرب کے بعد سے جمعہ کے دن مغرب سے پہلے پہلے کسی بھی وقت سورۂ کہف پڑھنے سے مسنون فضیلت حاصل ہوجائے گی۔

لما فی الموسوعہ الفقھیہ: (40-190، م: مکتبہ علومِ اسلامیہ)
ان اللیالی کلھا تابعۃ للایام المستقبلۃ، لا للایام الماضیۃ الا فی الحج فانھا فی حکم الایام الماضیۃ
وکذا فی التفسیر المنیر: (8-216، ط: امیر حمزہ کتب خانہ)
وکذا فی سنن الدارمی: (2-546، ط: قدیمی)
وکذا فی تفسیر قرطبی: (10-346، ط: دار احیاء التراث العربی)
وکذا فی المرقاۃ شرح المشکوۃ: (4-678، ط: المکتبہ التجاریہ)
وکذا فی احیاء علوم الدین: (1-187، ط: دار المعرفہ)
وکذا فی الترغیب و الترہیب: (1-297، ط: رشیدیہ)
وکذا فی کنز العمال: (1-287، ط: رحمانیہ)
وکذا فی المستدرک للحاکم: (2-477، ط: قدیمی)
وکذا فی فیض القدیر للمناوی: (6-258، ط: دار الکتب العلمیہ)

و اللہ اعلم بالصواب
کتبہ: محمد زکریا عفی عنہ
دار الافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
10/5/1442/ 2020/12/26
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:102

سمارٹ فون یاکمپیوٹروغیرہ پرانٹرنیٹ استعمال کرنےکےدوران عورتوں کی جوتصویریں باربارسامنےآتی رہتی ہیں اوربغیر ارادےکےان پرنگاہ پڑتی رہتی ہے،شہوت کی نگاہ سےبھی دیکھنےکاامکان پیداہوجاتاہے،اس دیکھنےکاکیاحکم ہے؟شہوت کی قیدہےیانہیں؟یاایک آدھ مرتبہ دیکھناتومستثنیٰ ہوباقی پرعقاب ہو،اس قسم کاکوئی معاملہ تونہیں؟

الجواب حامداومصلیا

سوشل میڈیاکےاستعمال میں غیرمحارم پر نظرکامعاملہ ایسےہی ہےجیسےروڈپرچلتےہوئےغیرمحارم کاہے،ارادہ وقصد کے ساتھ دیکھناناجائزاوربلاارادہ نظرمعاف ہوتی ہے۔

لمافی مشکوٰةالمصابیح:(2/277،رحمانیہ)
“عن بریدۃقال: قال رسول اللہﷺلعلی،یاعلی!لاتتبع النظرۃ النظرۃفان لک الاولی ولیست لک الآخرۃ۔”
وفی الفقہ الاسلامی :(4/2651،رشیدیہ)
وان وقع البصر علی محرم من غیرقصد،وجب ان یصرف عنہ،ولیس علی المرءاثم فی المرۃ الاولی غیرالمقصودۃ،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وان کان لایأمن الشہوۃلاینظرالی وجہہاالالحاجۃضروریۃ،وبہ یظہرانّ حل النظرمقیدبعدم الشہوۃ والافحرام
وفی الہندیة:(5/329،رشیدیہ)
واماالنظرالی الاجنبیات۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وان غلب علی ظنہ انہ یشتہی فہوحرام”کذافی الینابیع
وکذافی المبسوط:(10/153،دارالمعرفت)
وکذافی الدرالمختار:(9/610،رشیدیہ)
وکذافی التاتارخانیہ:(18/95،فاروقیہ)
وکذافی البدائع:(4/294،رشیدیہ)
وکذافی الصحیح لمسلم:(2/212،قدیمی)
وکذافی البزازیہ علی ہامش الہندیة:(6/373،رشیدیہ)
وکذافی التفسیرالمنیر:(9/548،امیرحمزہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمدرفیق غفرلہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
2/5/1443/2021/12/07
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:180

قرآن پاک کی آیت مبارکہ” انما حرم علیکم المیتۃو الدم ولحم الخنزیر وما اھل لغیر اللہ بہ” اس میں” انما “کا لفظ حد بندی کے لیے آتا ہے، اس سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ صرف یہی چیزیں حرام ہیں، حالانکہ ان کے علاوہ اور چیزیں بھی حرام ہیں، صرف ان کو کیوں خاص کیا؟

الجواب حامداًومصلیاً

اس آیت میں تمام حرام چیزوں کا ذکر کرنا مقصود نہیں ہے(حصر حقیقی نہیں ہے)بلکہ جن چیزوں میں کفار و مشرکین نے خود سے حکم لگایا ہوا تھا، ان کے مقابلے میں چند چیزوں کو ذکر کیا گیا ہے(حصر اضافی ہے)۔

لمافی التفسیر المنیر:(4/435،امیر حمزہ)
انما حرم اربعۃ اشیاء ھی :المیتۃ و الدم المفسوح و لحم الخنزیر وما اھل لغیر اللہ بہ، لما فیہ من الضرر المادی والمعنوی الذی یمس العقیدۃ وعبادۃ اللہ ۔۔۔۔لکن الحصر المستفاد من ھذھ الآیۃ وامثالھا امرنسبی لامطلق وھذھ الآیۃ مخصوصۃ بالآیات والاخبار الدالۃ علی تحریم ما حرم من غیر الاربعۃ۔
وفی تفسیر المظھری:(1/170،رشیدیہ)
فان قیل کلمۃ انما للحصر وکم من حرام لم یذکر ؟ قلناالمختار عند الحنفیۃ ماقال نحاۃ الکوفۃ ان کلمۃ انما لیست للقصر بل ھی مرکبۃ من ان للتحقیق وما الکافۃ وعلی تقدیر التسلیم فالقصر اضافی بالنسبۃ الی ماحرمہ الکفارۃ من بحیرۃ وسائبۃ ووصلیۃ و حام ونحوھا واللہ اعلم ۔
وکذافی تفسیر القرطبی:(2/216،دار احیاءالتراث العربی)
وکذافی التفسیر الکبیر:(2/192،علوم اسلامیہ)

 

واللہ اعلم بالصواب
محمداحسن ابراہیم غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
14-2-1443،1443-7-12
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:154

سورۃ زمر کے آخرمیں جہاں جہنم والوں اور جنت والوں کا ذکر ہے وہاں جہنمیوں کے ذکر والی آیت میں ہے”{حَتَّى إِذَا جَاءُوهَا فُتِحَتْ أَبْوَابُهَا}“جبکہ جہاں جنت والوں کا ذکر ہے وہاں یوں ہے”{حَتَّى إِذَا جَاءُوهَا وَفُتِحَتْ أَبْوَابُهَا}“پہلی آیت میں واؤنہیں جبکہ دوسری آیت میں واؤہے۔لہذا اس کی تفسیری و بلاغی وجوہ سے آگاہ کردیں۔

الجواب باسم ملہم الصواب

کافروں کےبارے میں فرمایا گیا ”{حَتَّى إِذَا جَاءُوهَا فُتِحَتْ أَبْوَابُهَا}“کہ ان کے پہنچنےکےبعدجہنم کےدروازے کھولے جائیں گے پہلے سے کھلے ہوئے نہ ہوں گے،تاکہ وہ لوگ وہاں کھڑے ہو کر انتظار کریں ،یہ ان کی اہانت ،تذلیل اور رسوائی کےلیے ہے۔اور متقیوں کے بارے میں فرمایا گیا ”{حَتَّى إِذَا جَاءُوهَا وَفُتِحَتْ أَبْوَابُهَا}“کہ جنت کے دروازے ان کےلیے پہلے سے کھل چکے ہوں گے ،اس سے مقصود اللہ کی طرف سےان کا اعزاز واکرام ہے کہ مہمان کے آنے سے پہلے ان کےلیے دروازے کھول دیے جائیں،اور جنتیوں کو دور سے ہی جنت کے مناظر اور اس کی خوشبوئیں آنا شروع ہو جائیں گی۔

لما فی الجامع لاحکام القرآن للقرطبی:(15/285،داراحیاء تراث)
وقد قیل:ان زیادۃالواو دلیل علی ان الابواب فتحت لھم قبل ان یاتوا لکرامتھم علی اللہ تعالی،والتقدیر حتی اذا جاءوھا وابوابھا مفتحۃ،بدلیل قولہ:{جنات عدن مفتحۃ لھم الابواب}وحذف الواو فی قصۃ اھل النار ،لانھم وقفوا علی النار وفتحت بعد وقوفھم اذلالا وترویعالھم
وفی تفسیر روح المعانی:(24/32،34،داراحیاء تراث)
حتی اذا جاءوھافتحت ابوابھا}لیدخلوھاوکانت قبل مجیئھم غیر مفتوحۃ فھی کسائر ابواب السجون لا تزال مغلقۃ حتی یاتی اصحاب الجرائم الذین یسجنون فیھا فتفتح لیدخلوھا فاذا دخلوھا اغلقت علیھم ،……….{حتی اذا جاءوھاوفتحت ابوابھا}وقرئ بالتشدید،والواو للحال والجملۃ حالیۃ بتقدیر قد علی المشہور،ای جاءوھا وقد فتحت لھم ابوابھا
وکذا فی الکشاف للزمخشری:(4/147،من منشورات البلاغہ)
وکذا فی نظم الدرر:(6/479،دارالکتب العلمیہ)
وکذا فی الاکلیل :(6/348،دارالکتب العلمیہ)
وکذا فی تفسیر ابی السعود:(5/425،الوحیدیہ)
وکذا فی تفسیر البحر المحیط:(7/425،دارالکتب العلمیہ)
وکذا فی تفسیرالبغوی:(4/88،89،دارالمعرفہ)
وکذا فی التفسیر الکبیرللرازی:(9/478،479،480،علوم اسلامیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
10/8/1440-2019/4/16
جلد نمبر:19 فتوی نمبر:38

ایک عورت كوقرآن پڑھنا نہیں آتا، وہ قرآن کھول کر اس پر انگلی رکھ کر صرف دیکھتی رہے تو کیا اس عورت کو ثواب ملے گا؟

الجواب باسم ملھم الصواب

اس عورت کے لیے ضروری ہے کہ وہ قرآن مجید ناظرہ کی تعلیم حاصل کرے ،ہاں جب تک پڑھنا نہ آئےاس وقت تک اگر وہ قرآن مجید کھول کر اس کو دیکھتی رہےتو اس کو زیارت قرآن کا ثواب ان شاء اللہ ملے گا۔

لما فی شرح الطیبی : (4/318، دارالکتب العلمیہ)
“وانما فضلت القراءۃفی المصحف ،لحظ النظر فی المصحف وحملہ ،ومسہ ،وتمکنہ من التفکر فیہ واستنباط معانیہ .”
وکذا فی المعجم الکبیر:(4/486، دارالکتب العلمیہ)
“عن عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ قال :ادیمو االنظر فی المصحف.”
وکذا فی مرقاة المفاتیح:(4/ 274، التجاریہ)
قولہ (وقراءتہ فی المصحف یضعف)۔۔۔۔۔۔ قال الطیبی:لحظ النظر فی المصحف ،وحملہ ،ومسہ وتمکنہ من التفکرفیہ ۔۔۔۔۔۔ وقال ابن حجر (الی) غایۃ لانتھاء التضعف الفی درجۃ لانہ ضم الی عبادۃ القراءۃ عبادۃ النظر فی المصحف
وکذا فی مجمع الزوائد:(7/247،التجاریہ )
“عن عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ قال :ادیمو ا النظر فی المصحف.”
وکذا فی مشکاةالمصابیح):1/191،رحمانیہ)
وکذا فی المصنف عبدالرزاق:(3/362،الکتب الاسلامی)
وکذا فی تحفةالاحوذی:(4/228،قدیمی)
وکذا فی المصنف لابن ابی شیبة:(6/143،کتب العلمییہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد مظہر اقبال عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
17، 7، 1440،2019، 3، 25
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:83

! پارک میں دوران واک دیکھ کر قرآن پڑھنے کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

جائز ہے۔

لما فی الفتاوی التاتارخانية: (18/48، فاروقیہ)
“و سئل ابو الفضل عمن قرا القرآن ماشیا ھل تجوز؟ فقال: نعم.”
وفی الفقہ الاسلامی و ادلتہ: (2/1099، رشیدیہ)
و لا باس بقراءۃ القرآن و ھو مش فی الطریق، و الانسان مضطجع او جالس او راکب، بدلیل ما ثبت عن جماعۃ من السلف قراءۃ الکھف و غیرھا فی الطریق.
وکذافی احیاء علوم الدین: (1/275، دار المعرفہ)
وکذا فی الموسوعة الفقهية: (13/252، علوم اسلامیہ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمدعلیم اللہ غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
21/9/1440، 2019/5/27
جلد نمبر:19 فتوی نمبر:74

کہ فر عون کے دور میں جو جا دو گر حضرت موسی علیہ السلام پر ایمان لائےتھے ،فرعون نے انہیں کہا تھاکہ میں تمہیں سولی پر لٹکادو گا کیا بعد میں ان کو سولیوں پر لٹکا یا بھی گیا تھا یا یہ محض دھمکی تھی ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اس بات میں مفسرین کا اختلاف ہے ،لیکن حافظ ابن کثیر رحمة الله علیہ کا رجحان یہ ہے کہ اس نے انہیں سو لی پر لٹکا دیا تھا،جیساکہ بعض صحابہ رضی اللہ عنھم اور دیگر بزر گوں سے بھی یہی مر وی ہے کہ وہ لوگ صبح کو جادو گر تھےاور شام کو شہید تھے ۔

 

لمافی تفسیر القرآن العظیم:(2/248،دار المعرفة)
بقوله لأقطعن أيديكم وأرجلكم من خلاف يعني يقطع يد الرجل اليمنى ورجله اليسرى أو بالعكس ثم لأصلبنكم أجمعين وقال في الآية الأخرى في جذوع النخل [طه: 71] أي على الجذوع. قال ابن عباس وكان أول من صلب وأول من قطع الأيدي والأرجل من خلاف……. فكانوا في أول النهار سحرة، فصاروا في آخره شهداء بررة، قال ابن عباس وعبيد بن عمير وقتادة وابن جريج كانوا في أول النهار سحرة وفي آخره شهداء
وفی روح المعانی : ( 9/28 ،داراحیاءالتراث العربی )
توفنا مسلمین ) اي ثابتين علي مارزقتنامن الا سلام غير مفتونين من الو عيد ،عن ابن عباس رضي الله عنهما.والكلبي.والسدي انه فعل بهم ما او عد ھم بہ ،وقیل: لم یقدر علیہ لقولہ تعالی لایصلون الیکمابآیتنا انتما ومن اتبعکماالغالبون
وکذافی التفسیر الکبیر : (8/80 ،علوم اسلا میہ ) وکذا فی تفسیرالمظھری : (3 / 68 ،رشیدیہ )
وکذافی نظم الدرر : ( 3/86 ،دارالکتب العلمیہ ) وکذا فی تفسیر البغوی : (2 /189 ،دار المعر فة )
وکذافی الکشاف : (2 /141 ،من مشورات البلاغة ) وکذا فی تفسیرالخازن: (2 /128 ،رشیدیہ )
وکذافی تفسیرالبحر المحیط : (4 /365 ،دار الکتب العلمية ) وکذا فی تفسیرالقر آن العظیم : (3 / 167،دار المعرفة )

واللہ اعلم بالصواب
محمدعلیم اللہ غفرلہ ولوالدیہ
دار الافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
1-4-2019،1440-7-24
جلد نمبر:19 فتوی نمبر:17