آج کل نوجوان لمبےبال رکھتےہیں اورفیشن کےطورپربالوں کوپونی لگالیتےہیں ایسےکرناشرعاکیساہے؟اس بات کی رہنمائ فرمادیں کہ شریعت کےمطابق زلفیں رکھنےوالےکیلئےرات کوسوتےوقت بالوں کوبکھرنےسےبچانےکیلئےپونی ہویاکوئی دوسری عورتوں کےبالوں والی چیزسےباندھناکیساہے؟

الجواب حامداومصلیا

چونکہ جوڑابنانااورپونی وغیرہ ڈالناعرف عام میں عورتوں ہی کےساتھ خاص ہے،اس لیےعورتوں کےساتھ مشابہت کی وجہ سےمردوں کےلیےبالوں کاجوڑابنانا،پونی وغیرہ ڈالناجائز نہیں۔

لمافی صحیح البخاری:(2/874،قد یمی)
“عن ابن عباس قال لعن النبی صلی اللہ علیہ وسلم المتشبھین من الرجال بالنساءوالمتشبھات من النساءبالرجال.”
وفی سنن ابی داؤد:(1/104،رحمانیة)
عن سعیدبن سعیدالمقبری یحدث عن ابیہ انہ رای ابارافع مولی النبی صلی اللہ علیہ وسلم مربحسن بن علی علیھماالسلام وھویصلی قائماوقدغرزضفرۃفی قفاہ فحلھاابورافع فالتفت حسن الیہ مغضبافقال ابورافع اقبل علی صلوتک ولاتغضب فانی سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول ذلک کفل الشیطان یعنی مقعدالشیطان یعنی مغرزضفرہ
وفی بدائع الصنائع:(1/506،رشیدیة)
“ویکرہ ان یصلی عاقصاشعرہّ(بعداسطر)والعقص :ان یشدالشعرضفیرۃحول راسہ کماتفعلہ النساءاویجمع شعرہ فیعقدہ فی مؤخرراسہ.”
وفی المختصرفی الفقہ الحنفی:(422،بشری)
“یکرہ للرجل اذاکانت شعرہ طویلۃان یفتلھا.”
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(2/200،فاروقیة)
وکذافی البحرالرائق:(2/41،رشیدیة)
وکذافی الھندیة:(1/106،رشیدیة)
وکذافی ردالمحتار:(2/492،رشیدیة)
وکذافی غنیةالمتملی:(346،رشیدیة)

واللہ اعلم بالصواب
عبدالصمدغفرلہ
متخصص جامعۃالحسن ساہیوال
07-05-443/2021-12-12
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:176

آج کل ہمارےعلاقےمیں بہت ساری محافل مختلف عنوانات سےہورہی ہیں مثلاسیرت کانفرنس وامثالہ اوراس کی دعوت بذریعہ دعوت نامہ دی جاتی ہےکیاان میں شرکت کرناضروری ہے؟اورشرکت نہ کرنےوالےکوملامت کرنا اور یہ کہناکہ ہم آپ کے جلسہ میں بھی شرکت نہیں کریں گےکیایہ ٹھیک ہے؟اور اس طرح یہ نیت لے کرجاناکہ اگرہم جائیں گے تو کل کویہ ہمارےپاس بھی آئیں گےجائزہے؟اورکیایہ بدعت نہیں بن جاتی؟جب اس کو اتنا لازم سمجھا جائےاورنہ کرنےوالےکوملامت بھی کی جائے۔

الجواب حامداومصلیا

محفل سیرت وغیرہ کاانعقادشرعاایک جائزاوراچھاکام ہےلہذااس میں شرکت باعث اجروثواب ہے۔لیکن اس کولازم قرار دینا اور شرکت نہ کرنےوالےکوملامت کرناجائزنہیں اورنیک مجالس میں حصول ثواب کےلیےہی جاناچاہیےاورمحض اس نیت کےساتھ جاناکہ ہمارےجانےسےوہ لوگ بھی ہماری محفل میں آئینگےدرست نہیں ۔

لمافی الاشباہ والنظائر:(28،قدیمی)
“واماالمباحات فانھاتختلف صفتھا باعتبارماقصدت لاجلہ.”
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(1/224،رشیدیہ)
تختلف صفۃالمباحات والعادات التی تصدرعن الانسان فی الیوم والیلۃباعتبارماقصدت لاجلہ،فاذاقصدت بھا التقوی علی الطاعات او التوصل الیھاکانت عبادۃ،وان لم یقصد بھاالعبادۃلاثواب علیھا
وکذافی الدروالردالمحتار:(2/356،بیروت)
وکذافی حاشیةالطحطاوی:(500،قدیمی)

واللہ اعلم بالصواب
عبدالصمدغفرلہ
متخصص جامعۃالحسن ساہیوال
15-04-1443/2021-11-21
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:109

احادیث مبارکہ میں صریح طور پر آیا ہے”کل مسکر حرام“جبکہ سگریٹ نوشی میں عام مسلمان مبتلا ہیں توکیا یہ حرام کے مرتکب ہیں کیونکہ اس میں کسی درجہ میں نشہ موجود ہے۔اسی طرح نسواراور پان کہ ان میں تواکثرعلماء کو بھی مبتلابہ پایا ہے جبکہ یہ بات عام مشاہد ہے کہ پہلی مرتبہ جب کوئ شخص نسوار اور پان استعمال کرتا ہے تو اس کا سر چکرا جاتا ہےاور بعض مرتبہ تو قے بھی آجاتی ہے۔کیا یہ لوگ بھی گنہگار ہیں؟

الجواب حامداومصلیا

سگریٹ،پان اور نسوار میں نشہ کی وہ مقدارتو نہیں پائ جاتی جس پر حرمت کا حکم لگایا جائے اس لیے عام حالات میں ان کا استعمال حرام نہیں،لیکن بلاضرورت ان چیزوں کااس درجہ استعمال کہ جس سے انسانی صحت کو نقصان پہنچنے کااندیشہ ہو،وہ بہرحال کراھت سے خالی نہیں۔

وفی ردالمحتار:(10/49،رشیدیة)
والتتن الخ)اقول قداضطربت آراءالعلماءفیہ،فبعضھم قال:بکراھتہ(وبعداسطر)قلت:والف فی حلہ ایضاسیدناالعارف عبدالغنی النابلسی رسالۃ سماھا:((الصلح بین الاخوان فی اباحۃ شرب الدخان))وتعرض لہ فی کثیر من تالیفہ الحسان،واقام الطامۃالکبری علی القائل بالحرمۃ او بالکراھۃ،فانھما حکمان شرعیان لابد لھما من دلیل ولا دلیل علی ذلک،فانہ لم یثبت اسکارہ ولاتفتیرہ ولا اضرارہ بل ثبت لہ منافع، فھو داخل تحت قاعدۃ الاصل فی الاشیاہ الاباحۃ،وان فرض اضرارہ للبعض لا یلزم منہ تحریمہ علی کل احد،فان العسل یضر باصحاب الصفراءالغالبۃ،وربماامرضھم مع انہ شفاءبالنص القطعی،ولیس الاحتیاط فی الافتراء علی اللہ تعالی باثبات الحرمۃ اوالکراہۃاللذین لابد لھما من دلیل،بل فی القول بالاباحۃالتی ھی الاصل۔
وفہ الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(5/277،الطارق)
التدخین فی بلاد المسلمین فی مطلع الالف الھجرئیۃ الثانیۃ……وبعد فالذی ینبغی ان یعتمد للافتااناطۃالامر بالضرر و عدمہ،فمتی ثبت ضررہ حرم تناولہ،وان اضر ببعض دون بعض حرم علی المتضررین لا علی غیرھم وان غلب علی الظن التضرربہ حمل علی الکراھۃ
وفی عون المعبود:(10/73،قدیمی) وفی الاشباہ والنظائر:(69،قدیمی)
وفی شرح الحموی:(1/209،ادارۃالقرآن) وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(7/5506،رشیدیة)
وفی الفتاوی التاتارخانیة:(18/432،فاروقیة)

واللہ اعلم بالصواب
عبدالصمدغفرلہ
متخصص جامعۃالحسن ساہیوال
24-03-1443/2021-10-30
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:84

بعض عوام میں یہ بات مشہورہےکہ دوران جماع باتیں کرنے سےاولادگونگی اوربہری پیداہوتی ہے۔اس بات کی شرعی حیثیت وحقیقت کیا ہے؟

الجواب حامدامصلیا

امدادالمفتین(2/856،دارالاشاعت)میں لکھا ہےکہ”حالت جماع میں کلام کرنامکروہ ہے۔لیکن یہ اسوقت ہےجب کسی دوسرےسےکلام کرےاورخودزوجہ سےکلام کرنےمیں مضائقہ نہیں۔

واللہ اعلم بالصواب
عبدالصمدغفرلہ
متخصص جامعۃالحسن ساہیوال
29-04-1443/2021-12-5
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:151

کہ تماشائی کسی کھیل پر جوا لگاتے ہیں تو اس کی وجہ سے کھیلنے والے گنہگار ہونگے یا نہیں ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اگروہ کھیل جوئے کی بنیاد پر کھیلا جارہا ہومثلاان لوگوں نے کھلاڑیوں کے لیےکھیل کا بندوبست کیا ہوہو یا کھیل کا سامان وغیرہ مہیا کیا ہواورکھلاڑیوں کی نیت بھی جوئے کے لیے کھیلنے کی ہو یا کھلاڑیوں کا ان کے ساتھ کوئی معاوضہ طےہو تووہ گناہ میں تعاون کی وجہ سے گنہگار ہونگےاوراگر کھلاڑیوں کی نیت جوئے کی نہ ہوبلکہ وہ محض تفریح کے لیے کھیل رہے ہوتو وہ کھیل ان کے لیے مباح ہے بشرطیکہ شریعت کے کسی امر کی خلاف ورزی نہ پائی جائے۔

لما فی القرآن الکریم: ( 2،المائدۃ)
“ولاتعاونواعلی الاثم والعدوان.”
وفی احکام القرآن للجصاص: ( 2/429 ،قدیمی کتب خانہ )
“وقولہ تعالی:(ولاتعاونواعلی الاثم والعدوان)نھی عن معاونۃغیرناعلی معاصی اللہ تعالی . “
وفی الاشباہ والنظائر: (28،قدیمی کتب خانہ )
“واماالمباحات فانھا تختلف صفتھاباعتبارماقصدت لاجلہ. “
وفی الفتاوی التاتارخانیہ:(18/156،فاروقیہ)
“وفی فتاوی اھل سمرقند:استاجررجلالضرب الطبل ان کان للھولایجوز،لانہ معصیۃوان کان للغزواوالقافلۃیجوز.”
وکذافی الھندیۃ:(5/324،رشیدیہ)
وکذافی ردالمحتار)9/646،بیروت)
وکذافی المبسوط:(16/38،بیروت)
وکذافی بدائع الصنائع:(4/41،رشیدیہ)
وکذافی البحرالرائق:(8/371،رشیدیہ)
وکذافی فتاوی النوازل:(289،الحقانیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(8/63،بیروت)
وکذافی فتاوی السراجیہ:(235،زکریا)

 

واللہ اعلم بالصواب
عبد الصمد غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
29-09-2021/1443-02-21
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:85

جنابت کی حالت میں ناخن اور جسم کے زائد بال کاٹنا کیسا ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

ناپسندیدہ ہے۔

لما فی الھندیہ: ( 5/ 358،رشیدیہ)
 حلق الشعر حالۃ الجنابۃ مکروہ وکذا قص الاظافیر کذا فی الغرائب
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ: ( 4/ 2646 ،رشیدیہ )
ومن الآداب الایحلق شعرہ ولایقلم اظفارہ ولا یخرج دما وھو جنب
وکذافی صحیح البخاری : (1 /106،رحمانیہ )

واللہ اعلم بالصواب
عبد الصمد غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
25-09-2021/1443-02-17
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:33

وہ ڈرامےجن میں اسلامی تاریخ بتائی گئی ہےمثلاارتغل وغیرہ ان کا دیکھنا کیساہے۔

الجواب حامداومصلیا

ان ڈراموں میں موسیقی،بےپردگی اورفحاشی جیسی خرافات ہوتی ہیں،اس لیےیہ ڈرامےدیکھنابھی درست نہیں ہے۔

لمافی تکملة فتح الملھم:(4/164،دارالعلوم کراتشی)
اماالتلفزیون والفدیو،فلاشک فی حرمۃاستعمالھمابالنظرالی مایشتملان علیہ من المنکرات الکثیرۃ،من الخلاعۃوالمجون،والکشف عن النساء المتبرجات اوالعاریات،وماالی ذلک من اسباب الفسوق
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(4/2676،رشیدیة)
اماالتصویرالشمسی اوالخیالی فھذاجائز،ولامانع من تعلیق الصورالخالیۃفی المنازل وغیرھا،اذالم تکن داعیۃللفتنۃکصورالنساءالتی یظھرفیھاشیئ من جسدھاغیرالوجہ والکفین کالسواعدوالسیقان والشعور،وھذاینطبق ایضاعلی صورالتلفازومایعرض فیہ من رقص وتمثیل وغناءمغنیات،کل ذلک حرام فی رأی
وکذافی البحرالرائق:(8/346،رشیدیة)
وکذافی المحیط البرھانی:(8/77،ادارۃالقرآن)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(18/189،فاروقیة)
وکذافی التنویرمع الدر:(9/577،رشیدیة)
وکذافی مجمع الانھر:(4/223،المنار)
وکذافی الفتاوی الخانیةعلی ھامش الھندیة:(3/406،رشیدیة)
وکذافی الفتاوی البزازیةعلی ھامش الھندیة:(6/359،رشیدیة)

واللہ اعلم بالصواب
عبدالصمدغفرلہ
متخصص جامعۃالحسن ساہیوال
02-05-1443/2021-12-07
جلدنمبر:25 فتوی نمبر:176

کیا قرآن پاک ہاتھ میں اٹھا کر نماز پڑھنا جائز ہے؟

الجواب حامداومصلیا

مسلسل ہاتھ میں قرآن اٹھائے ہوئے نماز پڑھنا جائز نہیں ،لیکن اگر کسی فوری ضرورت کی وجہ سے قرآن پاک کو اٹھایامثلاقرآن پاک گرنے لگا تونمازی ہاتھ میں اٹھالےتواس میں حرج نہیں ۔

لما فی فتح الملھم:(3/388،دار العلوم کراچی)
وأما حمل الصبی بدون الأرضاع فلا یوجب الفساد۔۔۔۔۔۔۔۔۔ومثل ھذا أیضا فی زماننا لا یکرہ لواحد منا لو فعل ذلک عند الحاجۃ أما بدون الحاجۃ فمکروہ
وکذا فی فتح الباری :(1/779،قدیمی)
واستدل بہ علی ترجیح العمل بالأصل علی الغالب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔وعلی صحۃ صلاۃ من حمل آدمیا ،وکذا من حمل حیوانا طاہرا
وکذا فی عمدة القاری:(4/304،دار احیا)
وکذا فی الصحیح البخاری :(1/140،رحمانیہ)
وکذا فی الھندیة:(1/102،رشیدیہ)
وکذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/248،الطارق)
وکذا فی الفقہ الاسلامی:(2/1031،رشیدیہ)
وکذا فی بدائع الصنائع:(1/553،رشیدیہ)
وکذا فی البحرالرائق:(2/19،رشیدیہ)
وکذا فی النھر الفائق:(1/273،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ محمد انیس غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃالحسن ساہیوال
26،6،1443/22،1،30
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:115

روحان نام رکھنا جائز ہے؟اس کا معنی کیا ہے؟

الجواب حامداومصلیا

روحان نام رکھنا جائز ہے،اس کا م معنی ہے سہولتیں ،آسانیاں ،راحتیں،رحمتیں۔

لما فی مجلة لغة العربیة العراقیة:(4/585،شاملہ)
روحان یقال یا روحان بمعنی یا للفرح و یا للراحۃ،قلنا یجوز اشتقاق ھذا الحرف من أصل عربی من الراحۃ أو من الترویح کما یقال من الرحمۃ الرحمان ومن الحنان الحنان
وکذا فی السنن أبی داؤد:(2/334،رحمانیہ)
وکذا فی التفسیر الکبیر:(1/437،علوم اسلامیہ)
وکذا فی تفسیر القرطبیی:(17/232،دار احیا التراث)
وکذا فی لغات القرآن:(3/99،دار الاشاعت)
وکذا فی لسان العرب:(5/359،دار احیا التراث)
وکذا فی القاموس المحیط:(1/456،دار احیا التراث)
وکذا فی التفسیر المظہری:(7/23،رشیدیہ)
وکذا فی القاموس الوحید:(682،ادارہ اسلامیات)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ محمد انیس غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃالحسن ساہیوال
15-5-1443/21-12-20
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:51

دارالحرب کسےکہتے ہیں۔

الجواب حامداومصلیا

کسی جگہ کے دارالحرب ہونے کےلیےفقہائے کرام نے بنیادی طور پر تین شرطیں ذکر فرمائی ہیں۔1۔ وہاں صرف کفارومشرکین کے احکام جاری ہوتے ہوں۔2۔ اس میں رہنے والے مسلمانوں یا ذمیوں کو پہلے جو امان حاصل تھی ،اب وہ امان باقی نہ رہے۔3۔ وہ ملک دار الکفر کے ساتھ متصل ہوجائے۔

یہ آخری شرط بظاہر انتظامی معلوم ہوتی ہےاوراس زمانے کے اعتبار سے تھی اب اس کا کوئی اعتبار نہیں ہے،جیساکہ مولانا سیف اللہ رحمانی صاحب نے ذکر فرمایا کہ
رہ گیا دار الاسلام سے متصل ہونا جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا کہ یہ ایسی شرط ہے جو اس زمانہ کے خاص تناظروحالات میں رکھی گئی تھی موجودہ حالات میں جب کہ عالم اسلام کو فوجی اور عسکری بالادستی حاصل نہیں،یہ شرظ قابل عمل نہیں رہی ہے۔
جدید مسائل :(4/46)

لما فی البدائع:(6/112،رشیدیہ)
قال ابو حنیفۃ:انھا لا تصیر دارالکفر الا بثلاث شرائط :أحدھا :ظھور احکام الکفر فیھا۔ولثانی :ان تکون متاخمۃ لدارالکفر۔والثالث:ان لا یبقی فیھا مسلم ولا ذمی ا ٰمنابالامان الاول،وھوامان المسلمین۔
وکذا فی الھندیہ:(2/232،رشیدیہ)
انماتصیر دارالاسلام دارالحرب عند أبی حنیفۃبشروط ثلاثۃ أحدھا:أجراءاحکام الکفارعلی سبیل الاشتہار وأن لا یحکم فیھا بحکم الاسلام ۔والثانی: أن تکون متصلۃ بدار الحرب لا یتخلل بینھما بلد من بلاد الاسلام۔ والثالث: أن لا یبقی فیھامومن ولا ذمی اٰمنا بامانہ الاول الذی کان ثابتا قبل استیلاء الکفار للمسلم باسلامہ وللذمی بعقد الذمۃ
وکذا فی الشامیة:(6/276،رشیدیہ)
وکذا فی الفقہ الحنفی:(3/70،الطارق)
وکذا فی المحیط البرہانی:(7/242،دار احیا)
وکذا فی التاتارخانیة:(7/132،فاروقیہ)
وکذا فی الموسوعة الفقہیة:(20/202،علوم اسلامیہ)
وکذا فی المبسوط:(10/114،دارالمعرفہ)
وکذا فی القول الراجح:(1/488،حقانیہ)
وکذا فی الدر المنتقی:(2/455،المنار)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ محمد انیس غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃالحسن ساہیوال
23-4-1443/21-11-29
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:146