مرحومہ کے سامان کے بارے میں شوہر کہتا ہے کہ یہ میرا ہے ،والدین کہتے ہیں کہ یہ ہماراجہیز کا دیا ہواسامان ہے یا ہماری بیٹی کا ذاتی ہے ،تواب فیصلہ کیسے کریں گے؟

الجوب حامداومصلیا

صورت مسئولہ میں مرحومہ کےوالدین اور شوہر میں سےجواپنےدعوی کو ثابت کر دے،اس کے حق میں فیصلہ ہوگا،اگر کسی کے پاس ثبوت نہ ہوتو جہیز اور جو عورتوں کے مناسب سامان ہو وہ مرحومہ کا ہوگا اور جو صرف مردوں کے مناسب سامان ہویا پھردونوں کے مناسب سامان ہو تووہ قسم کے ساتھ شوہرکا ہوگاَ۔

لما فی الخانیة:(1/401،رشیدیة)
اذا اختلف الزوجان فی متاع موضوع فی البیت۔۔۔۔۔۔فما یکون للنساء عادۃ۔۔۔۔۔فھو للمرأۃ الا ان یقیم الزوج البینۃ علی ذلک وما یکون للرجال ۔۔۔۔۔ فھو للرجل الا ان تقیم المرأۃ البینۃ علی ذلک وما یکون للرجال والنساء۔۔۔۔۔۔فھو للرجل الا ان تقیم المرأۃ البینۃ علی ذلک۔۔۔۔۔۔وان ماتت المرأۃ وبقی الرجل فما یکون للنساء فا لقول فی ذلک قول وارث المرأۃ والباقی وھو المشکل للحی منھما وھو الرجل قال ابو یوسف الحکم بعد موت احدھما ھو الحکم فی حیاتھما
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(9/6826،رشیدیہ)
اذا اختلف الزوجان فی متاع البیت فا دعی کل واحد منھما انہ لہ ولا بینۃ لھما ولا لاحدھما فما کان من متاع النساء۔۔۔۔۔۔حکم بہ للمرأۃ مع یمینھا وما کان من متاع الرجال ۔۔۔۔۔حکم بہ للرجل مع یمینہ وما کان یصلح لھما جمیعا ۔۔۔۔۔۔ فھو للرجل مع یمینہ (وعلی الصفحۃ الآتیۃ)وان مات احد الزوجین واختلف الآخر الحی وورثۃ المیت فا الحکم لا یختلف فی رأی ابی یوسف ومحمد ومالک ففی رأی ابی یوسف القول للزوجۃ ان کانت موجودۃ ولورثتھا ان کانت میتۃ بقدر جھاز مثلھا والزائد عنہ یکون القول فیہ للزوج أو لورثتہ وفی رأی مالک ومحمد یکون القول للزوج بیمینہ ان کان موجودا ولورثتہ بعد موتہ واما رأی ابی حنیفۃ فھو ان القول یکون للحی من الزوجین مع یمینہ فان کان الزوج کان القول قولہ مع یمینہ
وکذا فی الفتاوی الھندیة:(1/329،رشیدیہ)           وکذا فی المحیط البرھانی:4/227،دار احیا )
وکذا فی المبسوط:(5/213،دار المعرفہ)              وکذا فی بدائع الصنائع:(2/611،رشیدیہ)
وکذا فی الفتاوی الولوالجیہ:(1/373،حرمین شریفین)          وکذا حاشیة الطحطاوی:(2/68،رشیدیہ)
وکذا فی الموسوعة الفقھیة:(36/64،علوم اسلامیہ)

 

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ محمد انیس غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن سا ہیوال
2021،11،29/1443،4،23
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:162

جمعہ کی اذان اول کے بعد کھانا کھانا کیسا ہے؟

الجواب حامداومصلیا

اگر کھانے کی رغبت زیادہ ہو اور جمعہ کے فوت ہوجانے کا اندیشہ نہ ہو ،تو کھا سکتے ہیں ،ورنہیں۔

لما فی المحیط البرھانی :(2/474،ادارة القرآن )
وفی فتاویٰ الشیخ الإمام الفقیہ أبی اللیث رحمہ اللہ تعالیٰ :رجل جالس علی الغداء یوم الجمعۃ یسمع النداء إن خاف أن تفوتہ الجمعۃفلیحضرھا بخلاف سائر الصلوات لأن الجمعۃ تفوت عن الوقت أصلا وسائر الصلوات لا وقران مسألتنا من سائر الصلوات إذا خاف ذھاب الوقت فی سائر الصلوات فھناک یترک الطعام ویصلی فی وقتھا کذا ھھنا
وکذا فی السراجیة:(105،زمزم پبلشرز)
اذاکان جالسا علی الطعام فسمع نداء الجمعۃ فإن خاف فوت الجمعۃ ترک الاکل وفی سائر الصلوات لا یدع الأکل مالم یخف خروج الوقت
وکذا فی تقریرات الرافعی:(3/45،رشیدیہ)
وکذا فی بدائع الصنائع :(1/605،رشیدیہ)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ :(2/1282،رشیدیہ)
وکذا فی الدر المنتقیٰ:(1/253،رشیدیہ)
وکذا فی الموسوعة الفقہیة:(27/205،علوم اسلامیہ)
وکذا فی الدر المختار والشامیة:(3/45،رشیدیہ)
وکذا فی التاتارخانیة:(2/593،فاروقیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ محمد انیس غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃالحسن ساہیوال
17،8،1443/22،3،21
جلدنمبر:27 فتوی نمبر:68

میاں بیوی کی نکاح کے بعد باہم کیا حیثیت ہے؟محرم ہیں نا محرم ہیں یا کوئی تیسری صورت؟

الجواب حامداومصلیا

میاں بیوی نکاح سے پہلے نامحرم تھے،لیکن نکاح کے بعد نامحرمیت ختم ہوگئی اور دونوں ایک دوسرے کے لئے حلال ہوگئے۔

لمافی القراٰن الکریم:(النساء:23)
حرِّمت علیکم اُمّھٰتُکُم وبَنٰتُکُم واخوٰتُکُم وعَمّٰتُکُم وخٰلٰتُکُم وبَنٰتُ الاَخ وبنٰت الاُختِ واُمُھٰتُکُم الٰتی اَرضَعنَکُم واخوٰتُکُم من الرّضاعۃِوامّھٰتُ نسائکُم ورَبَائِبکُم الّٰتی فی حُجُورِکُم من نِسَائِکُم الٰتی دَخلتُم بِھنَّ فإن لَم تکُونُوا دخلتُم بِھنَّ فلا جُناحَ علیکُم وحلاٰئِلُ ابنائِکُم الَّذینَ مِن اصلابِکُم واَن تجمَعُوابین الاختین الّا ماقَد سلف اِنَّ اللّٰہ کان غفُوراًرحِیما
وکذافی شرح الوقایة:(2/11،امدادیہ)
وکذافی الھدایة:(2/8،البشری)
وکذافی تنویرمع الدر:(4/67،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(9/6513،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الحنفی:(2/9،الطارق)
وکذافی القراٰن الکریم:(البقرة:223)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(4/3،فاروقیہ)
وکذافی المبسوط:(4/192،دارالمعرفة)
وکذافی الھندیة:(1/267،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:فیصل نذیر غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
1،5،1443/2021،12،6
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:10

اگر قرض دینے والاقرض لینے والے کے گھر میں کھانا کھائے تو کیا یہ”کل قرض جر نفعا“کے تحت داخل ہوگا؟

الجواب حامداومصلیا

اگر محض قرض دینے کی وجہ سے اس کے ہاں کھانا کھا رہا ہے تو ناجائز ہے اور اگر پرانے تعلق یا معمول کے مطابق کھارہا ہے تو جائزہے۔

لمافی اعلاء السنن:(14/513،ادارةالقراٰن)
ولو أ قرضہ قرضا ثم استعملہ عملا لم یکن یستعملہ مثلہ قبل القرض کان قرضا جر منفعۃ ولو استضاف غریمہ ولم یکن العادۃ جرت بینھمابذلک حسب لہ ما اکلہ،لماروی ابن ماجۃ فی سننہ عن انس قال:قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم:(إذا أقرض أحدکم قرضا،فأھدی الیہ أوحملہ علی الدابۃفلا یرکبہاولایقبلہ،إلاأن یکون جری بینہ وبینہ قبل ذلک)
وکذا فی محیط البرھانی:(10/353،ادارةالقراٰن)
وأما دعوۃ المستقرض قال محمد رحمہ اللّٰہ تعالی:ولا بأس بان یجب دعوۃ رجل لہ علیہ دین،قال شیخ الإسلام:ھذا جواب الحکم فأما الافضل ان یتورع عن الإجابۃ اذا علم أنہ لأجل دین أو اشکل علیہ الحال قال شمس الأئمۃ الحلوانی:ما ذکر محمد رحمہ اللہ تعالی محمول علی ماإذا کان یدعوہ قبل الإقراض،اما اذا کان لایدعوہ قبل الاقراض او کان یدعوہ قبل الاقراض فی کل عشرین یوما وبعد الإقراض جعل یدعوہ فی کل عشرۃ أیام أو زاد فی الباجات،فإنہ لایحل
وکذا فی البحرالرائق:(6/204،رشیدیہ)
وکذا فی الھندیة:(3/202،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(9/390،فاروقیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:فیصل نذیر غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
23،8،1443/2022،3،27
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:95

لفظ ”اللہ “بغیروضوکے لکھ سکتے ہیں اور اس کو چھو سکتے ہیں؟

الجواب حامداومصلیا

بغیر وضو لفظ اللہ لکھ اور چھو تو سکتے ہیں،لیکن احتیاط اس میں ہےکہ بغیر وضو لفظ اللہ نہ چھو اجائے۔

لمافی البحرالرائق:(1/350،رشیدیہ)
یکرہ مس کتب الاحادیث والفقہ للمحدث عندھماوعند ابی حنیفۃالاصح أنہ لایکرہ․․․․․․․ورخص المس بالید فی الکتب الشرعیۃالاالتفسیر
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(1/452،رشیدیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(1/402،ادارۃالقراٰن)
وکذافی الھندیة:(1/39،رشیدیہ)
وکذافی الھدایة:(1/64،رشیدیہ)
وکذافی شرح الوقایة:(1/131،امدادیہ)
وکذا فی البحرالرائق:(1/351،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الحنفی:(1/122،الطارق)
وکذافی التنویر مع الدر:(1/536،رشیدیہ)
وکذا فی بدائع الصنائع:(1/141،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:فیصل نذیر غفرلہ
دارالافتاء جامعۃالحسن ساہیوال
18،4،1443/2021،11،24
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:125

مرد کے لئے چاندی کا چھلا پہننا جائز ہے کہ نہیں؟

الجواب حامداومصلیا

ساڑھے چار ماشہ کے بقدریا اس سےکم پہننا جائز ہے۔

لمافی بدائع الصنائع:(4/316،رشیدیہ)
ومنھا الفضۃ،لأن النص الوارد بتحریم الذھب علی الرجال یکون واردا بتحریم الفضۃ دلالۃ فیکرہ للرجال استعمالھا فی جمیع مایکرہ استعمال الذھب فیہ إلا التختم بہ إذا ضرب علی صیغۃ مایلبسہ الرجال ولایزید علی المثقال
وکذافی والفقہ السلامی وادلتہ:(4/2636،رشیدیہ)
واستثنی أئمۃ المذاھب الخاتم الفضی للرجل ،فأباحوا لہ لبسہ والتختم بہ اذا کان قلیلا ومقدارہ عند الحنفیۃ:بقدر مثقال(975․2غم)فمادونہ
وکذافی الھندیة:(5/335،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(18/124،فاروقیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(8/48،ادارة القراٰن)
وکذافی سنن ابی داؤد:(2/227،رحمانیہ)
وکذافی الھدایة:(4/455،رشیدیہ)
وکذافی الشامیة:(9/593،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:فیصل نذیر غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
12،7،1443/2022،2،14
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:165

کہ بہت سے لوگ آج کل بال اس طرح بنواتے ہیں کہ اوپر سے بڑے ہوتے ہیں اور گدی اور کانوں کےاوپر سے قدرے چھوٹے ہوتے ہیں۔کیا اس طرز کی کٹنگ پر بھی ”قزع“کا حکم لگے گا(جس کی حدیث شریف میں ممانعت آئی ہے) یانہیں؟تفصیل سے بیان کریں۔

الجواب حامداومصلیا

”قزع “اس طرح بال بنوانے کو کہتے ہیں،کہ سر کے بعض حصے کاحلق کروا لیا جائے اور بعض کوچھوڑ دیا جائے،لھذا صورت مسئولہ پر”قزع“ کاحکم تو نہیں لگے گا،البتہ اس طرح کی کٹنگ فیشن کےنام پر بالوں کے بیہودہ اسٹائل اور خالص غیر مسلموں اور فاسق وفاجر لوگوں کاشعار بن چکا ہے لھذاان کے ساتھ مشابہت کی بناء پر ناجائزہوگا۔

لمافی الصحیح المسلم:(2/203،قدیمی کتب خانہ)
عن ابن عمر انّ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نہی عن القزع قال قلت لنافع وما القزع قال یحلق بعض راس الصبی ویترک بعض
وکذافی الھندیة:(5/357،رشیدیہ)
ولابأس للرجل أن یحلق وسط رأسہ ویرسل شعرہ من غیرأن یفتلہ وان فتلہ فذلک مکروہ لانہ یصیر مشابہا ببعض الکفرۃوالمجوس فی دیارنا یرسلون الشعر من غیر فتل ولکن لایحلقون وسط الرأس بل یجزون الناصیۃ
وکذافی المختصر فی الفقہ الحنفی:(422،البشری)
وکذافی الشامیة:(6/407،ایچ،ایم سعید)
وکذافی الصحیح البخاری:(2/401،رحمانیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(4/2678،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(18/212،فاروقیہ)
وکذافی سنن ابن ماجہ:(1/394،رحمانیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:فیصل نذیر غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
12/5/1443-2021/12/17
جلدنمبر:26 فتوی نمبر:16

کیااونٹ کے دودھ اور پیشاب سے علاج کیاجاسکتاہے؟

الجواب حامداومصلیا

دودھ سے علاج کر سکتے ہیں،البتہ اونٹ کے پیشاب کے متعلق اگر دین دار ماہر ڈاکٹریہ کہہ دیں کہ اس مرض کاعلاج صرف اونٹ کے پیشاب میں ہی ہے تو ضرورت کی وجہ سے جائز ہے ورنہ نہیں۔

لمافی الشامیة:(6/389،ایچ،ایم،سعید)
وجوزہ فی النھایۃونصہ وفی التھذیب :یجوز للعلیل شرب ابول والدم والمیتۃ للتداوی إذااخبرہ طبیب مسلم أنّ شفاءہ فیہ ولم یجد من المباح مایقوم مقامہ
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(1/313،رشیدیہ)
وأماحدیث العرنیین وأمرہ علیہ السلام لھم بشرب البوال الابل،فکان للتداوی والتداوی بالنجس جائز عند فقد الطاھر الذی یقوم مقامہ
وکذافی شرح معانی الاٰثار:(1/77،رحمانیہ)
وخالفھم فی ذلک اٰخرون فقالواابوال الابل نجسۃ وحکمھاحکم دمائھالاحکم البانھاولحومھاوقالوا امامارؤیتموہ فی حدیث العرنیین فذلک انما کان للضرورۃفلیس فی ذلک دلیل انہ مباح فی غیر حال الضرورۃ لاناقدرأینااشیاءاُبیحت فی الضرورات ولم تبح فی غیر الضرورات
وکذافی التاتارخانیة:(18/141،فاروقیہ)
وکذافی جامع الترمذی:(2/447،رحمانیہ)
وکذافی الصحیح المسلم:(2/67،رحمانیہ)
وکذافی التنویر مع الدر:(9/562،رشیدیہ)
وکذافی الھندیة:(5/355،رشیدیہ)
وکذافی فتح الباری:(1/447،قدیمی کتب خانہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:فیصل نذیر غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
15،5،1443/2021،12،20
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:80

ایک مسلمان مرتد ہو گیا،جس کے ذمہ حقوق اللہ نماز روزہ وغیرہ اور حقوق العباد قرض وغیرہ لازم تھا۔اب وہ مرتد ہونے کے بعددوبارہ مسلمان ہوگیا،تومذکورہ حقوق میں کوئی سابقہ حق اس سے ساقط ہوگیایانہیں؟براہ کرم رہنمائی فرمائیں۔

الجواب حامداومصلیا

مرتد ہونے سے پہلے حالت اسلام میں جو عبادات چھوڑی ہیں اُن کی قضاء لازم ہو گی،اسی طرح حقوق العباد بھی ساقط نہیں ہونگے،البتہ مرتد ہونے کی حالت میں جوحقوق چھوٹے ہیں،اُن کی قضاء نہیں کرے گا۔

لمافی الفقہ الحنفی:(3/97،الطارق)
وتبطل عبادتہ وعلیہ قضاء ماترک من عبادۃ فی إلاسلام کالصلاۃ والصیام لان ترکھامعصیۃوالمعصیۃ تبقی بعد الردۃوعلیہ قضاء الحج لانہ بالردۃ کالکافرالاصلی،فاذا اسلم وھو غنیی فعلیہالحج،لان سببہ البیت الحرام وھو باق بخلاف غیرہ من العبادات التی اداھا لخروج سببھا ولھذالوصلی الظھر مثلا ثم ارتد ثم تاب فی وقت الظہر فعلیہ ان یعید صلاۃ الظھر لبقاء سببہ وھوالوقت
ویواخذالمرتدبحقوق العبادالتی لزمتہ قبل الردۃ،أمابعدالردۃفلایؤاخذبشیٕ منذلک لأن الکافرالحربی لایواخذ بعدالاسلام بماکان اصابہ حال کونہ محاربالنافانّ الاسلایجب ماکان قبلہ وتصح تصرفات المرتد لانھا لاتقبل کما مرمعناواکسابھا مطلقا لورثتھا سواء کانت فی الاسلام او الردۃ
وکذافی الخانیة:(3/582،رشیدیہ)
رجل ارتد والعیاذ باللّٰہ تعالی وعلیہ قضاء صلوات اوصیامات ترکھا فی حالۃ الاسلام ثم اسلم بعد ذلک قال شمس الائمۃ الحلوانی رحمہ اللّٰہ تعالی یقضی ماترک فی الاسلام لان ترک الصلٰوۃ والصیام معصیۃ والمعصیۃ تبقی بعد الردۃ وماادی من الصیامات والصلوات فی اسلامہ ثم ارتد تبطل طاعاتہ لکن لایجب علیہ قضاءھا بعد الاسلام
وکذافی التنویر مع الدر:(6/383،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی الحامدیة:(1/197،قدیمی کتب خانہ)
وکذافی مجمع الضمانات:(686،حقانیہ)
وکذافی المختصر فی الفقہ الحنفی:(342،البشری)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:فیصل نذیر غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
6،5،1443/2021،12،11
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:8

ایک آدمی کا پولٹری فارم ہے اس میں مرغیاں مر جاتی ہیں تو کیا مری ہوئی مرغیوں کا گوشت اپنے مچھلی فارم کی مچھلیوں کو کھلا سکتا ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاًومسلماً

نہیں کھلا سکتا۔

لما فی الھدایہ(4/157،البشریٰ)
ویکرہ شرب دردی الخمر والامتشاط بہ؛لانہ فیہ اجزاء الخمر ،والانتفاع بالمحرم حرام ،․․․․․․․․․․وکذا لا یسقیہا الدواب وقیل لا تحمل الخمر الیہا اما اذا قیدت الی الخمر: فلا باس بہ ،کما فی الکلب والمیتۃ
وفی الحاشیۃ تحت قولہ کما فی الکلب والمیتۃ :فلا تحمل المیتۃ الی الکلب ،ولو قید الکلب الی المیتۃ یجوز․
وفی فقہ البیوع(1/309،معارف القرآن)
اذا تنجس الخبز او الطعام، لا یجوز ان یطعم الصغیر ،او المعتوہ،اوالحیوان الماکول اللحم ․وقال اصحابنا لایجوز الانتفاع بالمیتۃعلی ای وجہ ولا یطعمھا الکلاب والجوارح
وکذا فی الفتاویٰ الھندیہ(5/344،رشیدیہ) وکذا فی الفتاوی التاتارخانیہ(18/502،فاروقیہ)
وفی خلاصہ الفتاوی(4/304،رشیدیہ) وکذا فی البحر الرائق(8/335،رشیدیہ)
وکذا فی المحیط البرھانی(8/444،دار احیاء تراث العربی) وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ(4/6597،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ طیب کان اللہ لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
16/5/1443-2021/12/21
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:70