عمامہ کے شملہ کی شرعی مقدار کیا ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاًو مسلماً

شملہ کی مختلف مقداریں مذکور ہیں۔چار انگلیاں،ایک بالشت،کمر کے آخر تک، کمر کے درمیان تک اور یہ تمام مقداریں جائز ہیں،لیکن بعض فقہاء نے کمر کے درمیان تک کو مستحب قرار دیا ہے۔

لما فی الفتاویٰ الھندیہ(5/330،رشیدیہ)
ندب لبس السواد وارسال ذنب العمامۃ بین الکتفین الی وسط الظھر ․واختلفو فی مقدار ما ینبغی من ذنب العمامۃ منھم من قدّر بشبر ومنھم من قال الی وسط الظھر ومنھم من قال الی موضع الجلوس
وفی المحیط البرھانی(8/38،دار احیاء تراث العربی )
اختلفوا فی مقدار ما ینبغی ان یکون من ذنب العمامۃ،منھم من قدّرہ بشبر،ومنھم من قدّرہ الی وسط الظھر،ومنھم من قال :الی موضع الجلوس
وکذا فی الفتاویٰ التاتارخانیہ(18/105،فاروقیہ)       وکذا فی عمد ۃ القاری(21/307،دار احیاء تراث العربی)
وکذا فی عون المعبود (11/80،قدیمی کتب خانہ)                      وکذا فی اعلاء السنن(17/366،ادارہ القرآن)
وکذا فی الکتاب المصنف(5/178،دارالکتب العلمیہ)             وکذا فی تحفہ الاحوذی(5/413،قدیمی کتب خانہ)
وکذا فی التنویر والدر(10/521،رشیدیہ)
وکذافی ھامش المواھب اللدنیہ علی الشمائل(101،ادارہ تالیفات اشرفیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ طیب کان اللہ لہ
دارالافتاء جامعۃالحسن ساہیوال
13/5/1443-2021/12/18
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:30

بچے کا عقیقہ کرنا واجب ہے،سنت ہے یا مستحب ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

مستحب ہے۔

لمافیالفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید :(5/227،الطارق)
العقیقۃ ھی اسم لما یذبح عن المولود ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔واختلف فی حکمھا، فعند فقھائنا قولان: اباحۃ او تطوع،وقد ذکرھما ابن عابدین فی آخر کتاب الاضحیۃ فقال: یستحب لمن ولد لہ ولد ان یسمیہ یوم اسبوعہ ویحلق راسہ ویتصدق عند الائمۃ الثلاثۃ بزنۃ شعرہ فضۃًاو ذھباً ،ثم یعق عند الحلق عقیقۃ اباحۃ علی ما فی الجامع للمحبوبی،او تطوعاً علی ما فی شرح الطحاوی۔
وفی اعلاء السنن:(17/114،ادارہ القرآن)
ھذا وانما اخذ اصحابنا الحنفیۃ فی ذلک بقول الجمھور وقالوا باستحباب العقیقۃ لما قال ابن المنذر وغیرہ :ان الدلیل علیہ الاخبار الثابتۃ عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وعن الصحابۃ والتابعین بعدہ ،قالوا:وھو امر معمول بہ فی الحجاز قدیماً وحدیثاً قال وذکر مالک فی الموطا :انہ الامر الذی لا اختلاف فیہ عند ھم قال :وقال یحییٰ بن سعید الانصاری التابعی، ادرکت الناس وما یدعون العقیقۃ عن الغلام والجاریۃ 0وممن کان یری العقیقۃ ابن عمر وابن عباس وعائشۃ وبریرۃ الاسلمی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وانتشر عمل ذلک فی عامۃ بلد ان المسلمین شرح المھذب ملخصاً، فزعموا ان الامر کان مختلفا فیہ الصحابۃ والتابعین ثم اتفق الجمھور العلماء وعامۃ المسلمین علی استحبابہ ،فاخذوا بہ وافتوا بالاستحباب ووافقوالجمہور۔
وکذافی الفتاوی الھندیہ:(5/362،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(4/2745،رشیدیہ)
وکذافی الشامیہ:(9/554،رشیدیہ)
وکذافی المختصر فی الفقہ الحنفی (ترجمہ بہشتی زیور):(418،الشریٰ)
وکذافی بدائع الصنائع :(4/204،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ طیب کان اللہ لہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
15،7،1443/2022،2،17
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:72

جب ہم کہتے ہیں کہ فلاں نیکی کا کام کرنے سے صغیرہ گناہ معاف ہوگئے تو کون سے گناہ معاف ہوتے ہیں؟

الجواب حامداًومصلیاً

گناہ صغیرہ وہ ہیں جن کا مرتکب شرعی حد اور سزا کا مستحق نہ ہو، اور اس کے ارتکاب پر قرآن و حدیث میں وعید شدید مذکور نہ ہو اور جو گناہ اتفاقی سرزد ہو گیا اور اس کے ساتھ وہ دل میں خدا تعالیٰ سے ڈرتا ہے۔
مثلاً: (1)غیر محرم کو بغیر قصد دیکھنا۔(2) کسی مسلمان کی ہجو کرنا اگرچہ اشارۃ کنایۃ ہو اور بات سچی ہو۔(3)بالا خانہ وغیرہ پر بغیر ضرورت چڑھنا جس سے لوگوں کے مکانات سامنے پڑیں۔(4)کسی فاسق کے ساتھ بیٹھنا اٹھنا۔(5)شراب کو گھر میں رکھنا۔(6)مسجد میں ایسے کام کرنا جو عبادت نہیں۔(7)زکوٰۃ ردی مال سے ادا کرنا۔(8)اکڑ کر اور اترا کر چلناوغیرہ۔(گناہ بے لذت:71،دارالاشاعت)
نیکی کا کام کرنے سے اس طرح کے گناہ معاف ہوتے ہیں۔

لمافی معارف السنن:(1/37،ایچ ایم سعید)

قولہ حتیٰ یخرج نقیاً من الذنوب: اختلفو ا فی ھذہ الذنوب ھل ھی صغائر فقط دون الکبائر او ما یعمھما، فاختارالمتاخرون انھا الصغائر فقط، لان الحسنات یذھبن السیئات
وفی الموسوعہ الفقہیّہ:(34/150،مکتبہ علوم شرعیہ)
” ومن الضوابط المذکورۃ لکبیرۃ:
قول الزیلعی :ما کان حراماً لعینہ
وقول الماوردی :ما اوجبت الحد او توجہ بسببھا الی الفاعل وعید۔
وما نقلہ القاضی ابو یعلیٰ عن الامام احمد بانھا :کل ذنب اوجب اللہ فیہ حداً فی الدنیا او ختمہ بنار فی الآخرۃ۔
وکذا فی فتح الباری:(1/346،قدیمی کتب خانہ)
وکذا فی عمدہ القاری(3/7،دار احیاء تراث العربی)
وکذا فی اوجز المسالک(2/147،دار الکتب العلمیہ)
وکذا فی فتح الملھم(2/285،مکتبہ دار العلوم کراچی)
وکذا فی تحفہ الاحوذی(1/33،قدیمی کتب خانہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ طیب کان اللہ لہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
16/8/1443-2022/3/20
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:48

شطرنج اور لڈو کھیلنے سے منع کیا گیا ہے کیوں منع کیا گیا ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

شطرنج کھیلنے سے جو منع کیا گیا ہے اس کی بہت سی وجوہات ہیں :مثلاً شرط لگا کر کھیلی جاتی ہے ،اس میں جوا،دھوکہ،جھوٹ اور جھگڑا ہوتا ہے ،اگر یہ سب نہ بھی ہوتو اس کی وجہ سے بلا مقصدوقت کا ضیاع اور شرعی و اخلاقی ذمہ داریوں میں غفلت وسستی ہوتی ہے ۔

لمافی الھدایہ:(4/123،البشریٰ)
” قال :یکرہ اللعب بالشطرنج والنرد والاربعۃ عشر وکل لھو؛ لانہ ان قامر بھا فالمیسر حرام بالنص ، وھو اسم لکل قمار، وان لم یقامر بھا فھو عبث ولھو ،وقال علیہ السلام :لہو المؤمن باطل الا الثلاث :تادیبہ لفرسہ ،ومناضلتہ عن قوسہ ،وملاعبتہ مع اھلہ ۔وقال بعض الناس :یباح اللعب بالشطرنج لما فیہ من تشحیذ الخواطر وتذکیۃ الافھام،وھو محکی عن الشافعی۔
ولنا: قولہ علیہ السلام :من لعب بالشطرنج والنرد شیر فکانما غمس یدہ فی دم الخنزیر۔
وفی الموسوعہ الفقہیہ:(35/269،مکتبہ علوم اسلامیہ)
اجمع المسلمون علی ان اللعب بالشطرنج حرام اذا کان علی عوض او تضمن ترک واجب مثل تاخیر الصلاۃ عن وقتھا ،وکذلک اذا تضمن کذبا او ضرراً او غیر ذلک من المحرمات۔
اما اذا لم یکن کذلک فاختلف الفقھاء علی اقوال :والمذھب عند الحنفیۃ والشافعیۃ وھو قول عند المالکیۃ ان اللعب بالشطرنج مکروہ۔
ماخذ الکراہۃ انہ من اللھو واللعب وجاء فی حدیث جابر بن عمیر رضی اللہ عنہ عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: کل شئ لیس من ذکر اللہ عز و جل فھو لھو او سھو الا اربع خصال :مشی الرجل بین الغرضین، وتادیبہ فرسہ،وملاعبۃ اھلہ، وتعلیم السباحۃ ۔
وکذافی الشامیہ:(9/650،رشیدیہ) وکذافی البحر الرائق:(8/379،رشیدیہ)
وکذافی الفتاویٰ الھندیہ:(5/352،رشیدیہ) وکذافی بدائع الصنائع:(4/305،رشیدیہ)
وکذافی ملتقی الابحر:(4/221،المنار) وکذافی الفتاویٰ التاتارخانیہ:(18/194،فاروقی)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ طیب کان اللہ لہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
18،9،1443/2022،4،20
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:7

شرط لگا کر کرکٹ کھیلنا کیسا ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

یہ جوا ہے جو کہ ناجائز ہے۔

لمافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(4/2662،رشیدیہ)
یحرم بالاتفاق کل لعب فیہ قمار: وھو ان یغنم احدھما، ویغرم الاخر ،لانہ من المیسر ای القمار الذی امر اللہ باجتنابہ فی قولہ تعالیٰ :انما الخمر والمیسر والانصاب والازلام رجس من عمل الشیطان ،فاجتنبوہ
وفی تبیین الحقائق:(6/32،امدادیہ)
وحرم لو شرط المال من الجانبین بان یقول ان سبق فرسک اعطیتک کذا وان سبق فرسی فاعطنی کذا۔
وکذافی التنویر والدر:(9/665،رشیدیہ)
وکذافی الفتاویٰ التاتارخانیہ:(18/73،فاروقیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(8/14،ادارہ القرآن)
وکذافی بدائع الصنا ئع:(4/305،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ طیب کان اللہ لہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
18،9،1443/2022،4،20
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:9

ذکر بالجہر کے بارے میں کیا حکم ہے؟ قرآن وحدیث کی روشنی میں؟

الجواب حامدا ومصلیا

ذکر بالجہر جائز ہے بشرطیکہ آوازبہت زیادہ بلند نہ ہو اور کسی کی بے اکرامی اور تکلیف کا سبب نہ ہو۔

لمافی الصحیح لمسلم:(2/345،رحمانیہ)
عن ابی ھریرۃ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول اللہ عز وجل انا عند ظن عبدی بی وانا معہ حین یذکر نی فی نفسہ ذکرتہ فی نفسی وان ذکرنی فی ملأذکرتہ فی ملأ خیر منھم وان تقریب منی شبرا تقربت الیہ ذراعا وان تقرب الی ذراعا تقربت منہ باعا وان اتانی یمشی اتیتہ ھرولۃ․
وکذافی تفسیر المظھری:(3/40،رشیدیہ)
لعل الصوفیۃ الجشتیۃ قدس اللہ تعالی اسرارھم اختاروا الجھر للمبتدی لاقتضاء حکمۃ وہی طرد الشیطان ودفع الغفلۃ والنسیان وحرارۃ القلب و اشتغال نائر ۃ الحب بالریاضۃ
وکذافی الفتاویٰ الشامیہ:(9/656،رشیدیہ)
واما رفع الصوت بالذکر فجائز کما فی الاذان والخطبۃ والجمعۃ والحج۔ وقد حرر المسا لۃ فی الخیر یہ و حمل ما فی فتاوی قاضی علی الجہر المضر وقال ان ھناک احادیث اقتضت طلب الجہر ، واحادیث طلب الاسرار ، والجمع بینہما بان ذلک یختلف باختلاف الاشخاص والاحوال ، فالاسرارافضل حیث کیف الریاء او تاذی المصلین او النیام․والجہر افضل حیث خلا مما ذکر انہ اکثر عملا ولتعدی فائدتہ الی السامعین ویوقظ قلب الذاکرفیجمع ھمہ الی الفکر و یصرف سمعہ الیہ و یطرد النوم ویزید النشاط
وکذافی جامع الترمذی:(2/677،رحمانیہ)
وکذافی التفسیر المنیر:(5/240،امیر حمزہ کتب خانہ)
وکذافی الفتاوی الھندیہ:(5/315،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:طیب کان اللہ لہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
9/7/1443-2022/2/11
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:168

ماتھے پر اس طرح ٹوپی رکھنا کہ سامنے سے سارے بال چھپ جائیں ضروری ہے یا سامنے سے کچھ بالوں کا ظاہر کرنا بھی درست ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاًومسلماً

روایات میں مطلق ٹوپی پہننے کاذکر ہے کوئی خاص طریقہ مذکور نہیں، لہذا دونوں صورتیں جائز ہیں۔

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ طیب کان اللہ لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
10/5/1443-2021/12/15
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:196

ٹرین کاسفر ٹکٹ چیکر اور گارڈ کی اجازت کے ساتھ بغیر ٹکٹ کرنا کیسا ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

ٹکٹ چیکر اور گارڈ کو اجازت دینے کا اختیار نہیں،لہذا اس طرح بغیر ٹکٹ سفر کرنا جائز نہیں۔ اگر خدا نخواستہ ایسا کر لیا ہو تو اس کا کرایا دینا لازمی ہے جس کی صورت یہ ہے کہ کرائے کے برابر ٹکٹ لے کر ضائع کر دیا جائے۔

لمافی شرح المجلہ :(1/262،رشیدیہ)
لا یجوز لاحد ان یتصرف فی مال الغیر بلا اذنہ وعدم الجواز شامل لجمیع انواع التصرف من استعمال کرکوب، ولبس، ووضع جذع علی حائط ،ودخول دار ،ومرور بارض،ومن اعارۃ،وایداع واجارۃ وصلح ،وھبۃ،وبیع،ورھن،وھدم،وبناء
وفی شرح المجلہ:(1/265،رشیدیہ)
فمن تناول مال احد باحدی ھذہ الطریق فھو ظالم غاصب یجب علیہ ردہ قائما،اومثلہ او قیمتہ ھالکا
وکذافی الدر المختار:(9/334،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(6/4789،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی الھندیہ:(5/119،رشیدیہ)
وکذافی سنن الدار قطنی :(3/22،دارالکتب)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ طیب کان اللہ لہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
15،7،1443/2022،2،17
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:148

انسانی کٹے ہوئے بالوں یا کنگی کے ذریعے اترے ہوئے بالوں کی خریدوفروخت جائز ہے؟

الجواب حامداًومصلیاًومسلماً

جائز نہیں۔

لما فی بدائع الصنائع:(4/333،رشیدیہ)
”واما عظم الادمی وشعرہ فلا یجوز بیعہ لا للنجاسۃ لانہ طاھر فی الصحیح من الروایۃ لکن احتراماً لہ و الابتذا ل بالبیع یشعر بالاھانۃ.“
وفی الفتاویٰ الھندیہ:(3/115،رشیدیہ)
”لا یجوز بیع شعور الانسان ولا یجوز الانتفاع بھا وھو الصحیح.“
وکذا فی المحیط البرھانی:(9/334،ادارہ القران)
وکذافی البحر الرائق:(6/133،رشیدیہ)
وفی کذا الھدایہ:(3/57،رحمانیہ)
وفی کذا النھر الفائق:(3/428،قدیمی کتب خانہ)
وکذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(4/56،الطارق)
وکذا فی الفتاوی الشامیہ:(7/244،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ طیب کان اللہ لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
19/7/1443-2022/2/21
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:194

ہم اپنے والدین کے دو بیٹے اور چار بیٹیاں ہیں، آج سے پندرہ سال پہلے میری والدہ نے اپنی ساری زمین اور مکان ہم دونوں بھائیوں کے قانونا نام لگوا دیا، اس کی وجہ سے میری والدہ اور والد کے درمیان کافی عرصہ سے علیحدگی چل رہی تھی، میرے والد ہم سے الگ رہتے تھے اور میری والدہ کو طلاق بھی نہیں دی تھی، اب والدہ کو اپنی بیماری میں یہ ڈر تھا کہ اس جائیداد میں سے ان کی وفات کے بعد کوئی حصہ قانونا یا شرعا چلا نہ جائے، لیکن اللہ تعالی نے والدہ کو صحت کاملہ سے نوازا، وہ مکمل صحت یاب ہو گئیں، زمین اور مکان والدہ نے بدستورہم دونوں بھائیوں کے نام ہی رہنے دیا، جس پر بہنوں نے بھی کوئی اعتراض نہیں کیا، لیکن آج پندرہ سال بعد بہنیں کہہ رہی ہیں کہ اس جائیداد میں سے ہمیں بھی حصہ دو، جبکہ والدہ ابھی حیات ہیں اور والدہ بھی کہہ رہی ہیں کہ بیٹیوں اور والدہ کاحصہ دے دو ، جبکہ ساری جائیداد پندرہ سال سے قانونا ہمارے نام چلی آرہی ہے، مکمل زمین دس ایکڑ اور مکان دس مرلے کا ہے۔ اب علماءحضرات اس مسئلہ کے بارے میں کیا فرماتے ہیں، شرعا اس کی تقسیم اب کیا ہو گی؟

الجواب حامداًومصلیاً

صورت مسؤلہ میں والدہ نے اپنی زندگی میں ساری جائیداد بیٹوں کو ہبہ کی اور قانونا ہبہ مکمل بھی ہو گیا، لہذا والدہ اور بہنوں کا مطالبہ کرنا تو درست نہیں ہے، البتہ اخلاقی اعتبار سے بیٹوں کو چاہیے کہ اپنی والدہ اور بہنوں کو اس جائیداد میں سے کچھ نہ کچھ ضرور دیں۔

لمافی القرآن المجید:(الرحمٰن :60)
” ھل جزاء الحسان الا الاحسان. “
وفی الخانیة علی ھامش الہندیہ:(3/279،رشیدیہ)
” رجل وھب فی صحتہ کل المال للولد جاز فی القضاء و یکون آثما فیما صنع.”
وفیہ ایضا :(3/272،رشیدیہ)
“لا یرجع فی الھبۃ من المحارم بالقرابۃ کالآباء والامھات وان علو ا و الاولاد وان سفلوا اولاد البنین واولاد البنات فی ذلک سواء.”
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(5/3982،رشیدیہ)
اتفق الائمۃ علی ان الھبۃ تصح بالایجاب والقبول و القبض…. و علی ان تخصیص بعض الاولاد بالھبۃ مکروہ، و کذا تفضیل بعضھم علی بعض
وکذافی البحر الرائق:(7/500،رشیدیہ)
وکذافی رد المحتار :(5/696،ایچ۔ایم۔سعید)
وکذافی المختصر فی الفقہ الحنفی:(395،بشری)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة :(14/460،فاروقیہ)

واللہ اعلم بالصواب
احسن ابراہیم غفر لہ و لوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
3/5/1443-2021/12/8
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:165