ایک آدمی نے اپنی بیوی کی تین طلاقیں دیں، اور لوگوں کو بھی کہتا رہا کہ میں نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں ہیں، کچھ عرصہ بعد وہ انکار کرتا ہے اور بیوی بچوں کو واپس لے آتا ہے، تو برادری و محلہ والوں کو اس کے ساتھ کیا کرنا چاہیے؟

الجواب حامداًومصلیاً

ایسے شخص کو پیار، محبت سے خوب سمجھانا چاہیے، اگر پھر بھی نہ مانے تو ایسے شخص سے قطع تعلقی کر دینی چاہیے۔

لمافی بذل المجھود:(19/79،قدیمی)
اما ما کان من جھۃ الدین والمذھب فھجران اھل البدع والاھواء واجب الی وقت ظہور التوبۃ ومن خاف من مکالمۃ احد وصلتہ مایفسد علیہ الدین او یدخل مضرۃ فی دنیاہ یجوز لہ مجانبتہ والبعد عنہ ورب ھجر حسن خیر من مخالطۃ مؤذیۃ
وفی شرح الطیبی:(9/243،دار الکتب العلمیہ)
یرید بہ ان الھجر ضد الوصل یعنی فیما یکون بین المسلمین من عتب وموجدۃ او تقصیر یقع فی حقوق العشرۃ و الصحبۃ دون ما کان من ذلک فی جانب الدین فان ھجرۃ اھل الاھواء والبدع دائمۃ علی ما مر الاوقات ما لم یظہر منہ التوبۃ والرجوع الی الحق ۔
وکذافی فتح الباری:(10/608،قدیمی)
وکذافی تکملة فتح الملھم:(5/355،دارالعلوم)
وکذافی عون المعبود:(13/122،قدیمی)
وکذافی مرقاة المفاتیح:(8/759،التجاریة)
وکذافی اوجز المسالک الی موطأمالک:(14/166،دارالکتب العلمیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمداحسن ابراہیم غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
16،8،1443/2022،3،20
جلد نمبر:27فتوی نمبر:25

ایک آدمی کا بجلی والا میٹر خراب ہو گیا اوردو ہزار یونٹ آگے چلا گیاپھر ٹھیک ہو گیا ،اب اگر اس کا بل ادا کرے تو کم از کم 20سے 25 ہزار ادا کرنا پڑے گا ،اور اگر اس کو جلا دے اور نیا لگوا لے تو 5 ہزار لگے گا،کیا اس کےلیے میٹر جلانا جائز ہے؟

الجواب باسم ملہم الصواب

ہماری معلومات کے مطابق واپڈا کا ایک شعبہ (میٹر اینڈ ٹیسٹنگ ) کے نام سے ہے،جو اس طرح کے معاملات کو دیکھتاہے،آپ ان کے سامنے اپنا قضیہ رکھیں ،ان شاءاللہ وہ ضرور اس کا کوئی حل نکالیں گے۔

واللہ اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
21/9/1440-2019/5/27
جلد نمبر:19 فتوی نمبر:80

زنا کی وجہ سے جو بچہ پیدا ہو اس کا خرچہ کس کے ذمہ ہے اور کیا وہ زانی یا مزنیہ یا مزنیہ کے شوہر کا وارث ہو گا یا نہیں؟شرعی حکم واضح فرما دیں۔

الجواب باسم ملہم الصواب

ولدالزنا کا خرچہ ماں کے ذمے ہو گا ،اور ماں کا ہی وارث ہوگا۔

لما فی جامع الترمذی :(2/476،رحمانیہ)
عن عمروبن شعیب عن ابیہ عن جدہ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال:ایما رجل عاھر بحرۃاو امۃ فالولد ولد زنا لا یرث ولا یورث ……والعمل علی ھذا عند اھل العلم ان ولد الزنا لا یرث من ابیہ
وفی البحرالرائق:(9/391،رشیدیہ)
ویرث ولدالزنا واللعان من جھۃ الام فقط)لان نسبہ من جھۃالاب منقطع ولایرث بہ،ومن جھۃالام ثابت فیرث بہ امہ واختہ من الام
وکذا فی التاتارخانیہ:(5/428،فاروقیہ)
وکذا فی المحیط البرھانی:(4/353،داراحیاءتراث)
وکذا فی الدرالمختار علی ردالمحتار:(5/167،رشیدیہ)
وکذا فی سنن ابی داؤد:(2/55،رحمانیہ)
وکذا فی ھامش الترمذی:(2/476،رحمانیہ)
وکذا فی ردالمحتار:(10/554،رشیدیہ)
وکذا فی المحیط البرھانی:(23/364،داراحیاءتراث)
وکذا فی بدائع الصنائع:(3/449،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
27/7/1440-2019/4/4
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:132

کف والی قمیص پہننا امام کےلیے درست ہے یا نہیں؟

الجواب باسم ملہم الصواب

اجازت ہے مگرعادت نہ بنائی جائے۔

لما فی سنن ابی داؤد:(2/206،رحمانیہ)
قال عبداللہ ابوعمر مولی أسماء بنت أبی بکر قال رأیت ابن عمر فی السوق اشتری ثوبا شامیا فرأی فیہ خیطا أحمر فردہ فأتیت أسماء فذکرت ذالک لھا فقالت یا جاریۃ ناولینی جبۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فأخرجت لہ جبۃ طیالسۃ مکفوفۃ الجیب والکمین والفرجین بالدیباج
وفی الصحیح للبخاری:(2/385،رحمانیہ)
عن المغیرۃبن شعبۃ قال انطلق النبی صلی اللہ علیہ وسلم لحاجتہ ثم أقبل فتلقیتہ بماء فتوضأوعلیہ جبۃ شامیۃ فمضمض واستنشق وغسل وجھہ فذھب یخرج یدیہ من کمیہ فکانا ضیقین فأخرج یدیہ من تحت بدنہ فغسلھما ومسح برأسہ وعلی خفیہ
وکذا فی الدرالمختارعلی ردالمحتار:(9/586،رشیدیہ)
وکذا فی ردالمحتار:(9/586،رشیدیہ)
وکذا فی عون المعبود:(11/64،قدیمی)
وکذا فی حاشیہ الطحطاوی علی الدر:(4/179،رشیدیہ)
وکذافی التاتارخانیہ:(18/117،118،فاروقیہ)
وکذا فی تکملہ فتح الملہم:(4/87،دارالعلوم کراتشی)

واللہ اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
27/7/1440-2019/4/4
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:147

ایک لومڑی ہے وہ گھر میں آکر چوری کرتی ہے پھر بھاگ جاتی ہے اور بل میں گھس جاتی ہے،کیا ہم اس بل کے سامنے آگ جلا سکتے ہیں تاکہ یہ دھواں بل میں جائے اور لومڑی باہر نکل آئے تاکہ ہم اس کو مار دیں،کیا اس طرح کرنا جائز ہے؟

الجواب باسم ملہم الصواب

جائز ہے۔

لما فی التاتارخانیہ:(18/504،فاروقیہ)
“وفی الھدایۃ:ویجوز اصطیادما یؤکل لحمہ من الحیوان وما لا یؤکل.”
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(4/2826،رشیدیہ)
یباح عندالحنفیۃاصطیاد ما فی البحر والبر،مما یحل أکلہ،ومالایحل أکلہ،غیر أن ما یحل أکلہ یکون اصطیادہ للانتفاع بلحمہ وبقیۃ أجزائہ،وما لا یحل أکلہ یکون اصطیادہ للانتفاع بجلدہ وشعرہ وعظمہ،أو لدفع أذاہ وشرہ،……الا صید الحرم
وکذا فی تنویر الابصار وشرحہ علی ردالمحتار:(10/73،رشیدیہ)
وکذا فی الفقہ الحنفی:(5/250،الطارق)
وکذا فی بدائع الصنائع:(4/191،رشیدیہ)
وکذا فی ملتقی الابحر علی مجمع الانھر:(4/254،المنار)
وکذا فی مجمع الانھر:(4/255،المنار)
وکذا فی الدرالمنتقی علی مجمع الانھر:(4/255،المنار)
وکذا فی اللباب:(3/91،قدیمی)
وکذا فی الھدایہ:(1/263،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
17/7/1440-2019/3/25
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:125

کھڑے ہو کر کنگھی کرنا کیسا ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اماں عائشہ رضی اللہ عنہا ایک واقعہ نقل فرماتی ہیں کہ ایک مرتبہ دوران اعتکاف حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد نبوی شریف کی ایک کھڑکی یا سوراخ سے اپنا سر مبارک میرے حجرے کی طرف نکالا اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر کی کنگھی کی۔

کھڑکی وغیرہ سے سر نکالنا بظاہر کھڑے ہو کر ہی ہو سکتا ہے،لہذا اس واقعہ سے بطور اشارۃ النص معلوم ہوتا ہے کہ کھڑے ہو کر کنگھی کرنا بھی ثابت ہے۔واللہ اعلم وعلمہ اتم

لما فی الصحیح لمسلم:(1/176،رحمانیہ)
عن عائشۃ قالت کان النبی صلی اللہ علیہ وسلم اذا اعتکف یدنی الی راسہ فارجلہ وکان لا یدخل البیت الا لحاجۃ الانسان.
وفی سنن ابی داؤد:(1/356،رحمانیہ)
عن عائشۃ قالت کان النبی صلی اللہ علیہ وسلم یکون معتکفا فی المسجد فیناولنی راسہ من خلل الحجرۃ فاغسل راسہ،وقال مسدد:فارجلہ وانا حائض
وکذا فی شمائل الترمذی علی جامع الترمذی:(2/723،رحمانیہ)
وکذا فی فتح الباری:(10/449،قدیمی)
وکذا فی مخلصیات:(3/358،وزارۃالاوقاف والشؤون الاسلامیہ،شاملہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
13/7/1440-2019/3/21
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:55

قبلہ کی طرف پاؤں کرنا یا تھوکنا کیسا ہے؟نیز قبلہ کی طرف پاؤں کر کے سونا کیسا ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

کعبہ کی بے ادبی و بے حرمتی سخت گناہ ہے اور بے ادبی و بے حرمتی کا تعلق عرف سے ہوتا ہے،تو جس عرف میں کعبہ کی طرف ٹانگیں پھیلانا بے حرمتی سمجھا جاتا ہے وہاں کعبہ کی طرف ٹانگیں کرنا گناہ اور مکروہ تحریمی ہو گا اور جہاں بے حرمتی نہیں سمجھا جاتا وہاں گناہ بھی نہیں ہو گا۔اور تھوکنے سے متعلق یہ حکم ہے کہ نماز اور دعا کی حالت میں مکروہ تحریمی ہے اس کے علاوہ خلاف ادب ہے۔

لما فی الصحیح لمسلم:(1/249،رحمانیہ)
عن ابی سعید الخدری ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم رای نخامۃ فی قبلۃ المسجد فحکھا بحصاۃ ثم نھی ان یبزق الرجل عن یمینہ او امامہ ولکن یبزق عن یسارہ او تحت قدمہ الیسری
وفی الفقہ الاسلامی :(2/959،967،رشیدیہ)
یکرہ فی الصلاۃ ما یاتی:………….16-البصاق او التنخم فی غیر المسجد امامہ او عن یمینہ،لحدیث الشیخین واحمد:[اذاکان احدکم فی الصلاۃ،فانمایناجی ربہ،فلایبزقن بین یدیہ،ولا عن یمینہ].زادالبخاری:[فان عن یمینہ ملکا،ولکن عن یسارہ او تحت قدمہ].ویکرہ البصاق ایضا وھو فی غیر الصلاۃ عن یمینہ وامامہ اذا کان متوجھا الی القبلۃ،اکراما لھا
و فی الھندیہ:(5/322،رشیدیہ)
وضع المصحف تحت راسہ فی السفر للحفظ لا باس بہ وبغیر الحفظ یکرہ،کذا فی خزانۃ الفتاوی
وفی حاشیہ الطحطاوی علی الدر:(1/276،رشیدیہ)
قولہ مد رجلیہ)او رجل واحدۃومثل البالغ الصبی فی الحکم المذکور(قولہ ای عمدا)ای ومن غیر عذراما بالعذر او السھو فلا
وکذافی تنویر الابصار وشرحہ علی ردالمحتار:(2/215،216،رشیدیہ)
وکذا فی ردالمحتار:(2/516،رشیدیہ)
وکذا فیہ:(1/608،رشیدیہ)
وکذا فی حاشیہ کنز الدقائق:(34،قدیمی)
وکذا فی النھر الفائق:(1/287،قدیمی)
وکذا فی البحر الرائق:(2/59،رشیدیہ)
وکذا فی سنن ابی داؤد:(2/179،رحمانیہ)
وکذا فی فیض الباری:(2/48،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
28/6/1440-2019/3/5
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:49

ایک طالب علم نے اپنے داخلہ فارم پر لگانے کے لیے تصویریں بنوانی ہیں ،دو تصویریں مطلوب ہیں جبکہ دکاندار چار سے کم نہیں بناتا ،اگر بناتا ہے تو پیسے پورے لیتا ہے ،مذکورہ صورت میں تصویریں بنوانا کیسا ہے؟نیز احتیاط کی وجہ سے زائد تصویریں بنوا کر اپنے پاس رکھنا جائز ہے یا نہیں؟تاکہ ضرورت کے وقت دوبارہ نہ بنوانی پڑیں ،کیونکہ آج کے دور میں اکثر جگہ پر تصویروں کی ضرورت پڑتی ہے بعض دفعہ جلدی ہوتی ہے۔

الجواب حامداً ومصلیاً

بامر مجبوری ضرورت کی حد تک بنوانا جائز ہے اگر آئندہ بھی ان تصاویر کی ضرورت کے واضح امکانات ہیں تو زیادہ تصاویر بنوانے کی بھی گنجائش ہےورنہ نہیں۔

لما فی الاشباہ والنظائر:(87 ،قدیمی)
الضرورات تبیح المحظورات ،ومن ثم جاز اکل المیتۃ عندالمخمصمۃ،واساعۃ اللقمۃ بالخمر،……ما ابیح للضرورۃ یقدر بقدرھا
وفی تکملہ فتح الملہم:(4 /164،دارالعلوم کراتشی)
الصورۃعندالحاجۃ: ھذاھوحکم الصورۃفی الاصل. اما اتخاذالصورۃالشمسیۃ للضرورۃ اوالحاجۃ کحاجتھا فی جوازالسفر،وفی التاشیرۃ وفی البطاقات الشخصیۃ،او فی مواضع یحتاج فیھا الی معرفۃ ھویۃ المرء،فینبغی ان یکون مرخصا فیہ .فان الفقھاء رحمھم اللہ تعالی استثنوا مواضع الضرورۃمن الحرمۃ

واللہ اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
1440/6/20-2019/2/26
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:22

کیا بیوی اپنے شوہر کو خوش کرنے کے لیے اپنی مرضی سے بال کٹوا سکتی ہے ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

حدیث پاک میں آتا ہے کہ ”لا طاعۃ لمخلوق فی معصیۃ الخالق “اللہ تعالی کی نا فرمانی کر کے مخلوق کو خوش کرنا جائز نہیں ہے ،اور عورتوں کے بال کٹوانے میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی ہے اور حدیث پاک میں ایسوں کے لیے دنیا و آخرت میں لعنت کے الفاظ آئے ہیں ،لہذا خاوند کو خوش کرنے کے لیے بال کٹوانا جائز نہیں ہے ۔

لما فی جامع الترمذی: (1 /433،رحمانیہ )
عن ابن عمر قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم :السمع والطاعۃ علی المرءالمسلم فیما احب وکرہ ما لم یؤمر بمعصیۃفان امر بمعصیۃ فلا سمع ولا طاعۃ
وفی الدرالمختارعلی ردالمحتار:(9 /671،672 ،رشیدیہ)
وفیہ:قطعت شعر راسھا اثمت ولعنت :زاد فی النزازیۃ:وان باذن الزوج ،لاطاعۃ لمخلوق فی معصیۃ الخالق،ولذا یحرم علی الرجل قطع لحیتہ،والمعنی المؤثر التشبہ بالرجال
وکذافی صحیح البخاری : (2 /402،403،رحمانیہ )
وکذا فی المحیط البرھانی : (8 /87،داراحیاءتراث )
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیہ:(18/212،فاروقیہ)
وکذا فی الھندیہ:(5/358،رشیدیہ)
وکذا فی الفقہ الحنفی:(5/388،الطارق)
وکذا فی حاشیہ الطحطاوی:(4/203،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
1440/6/14،2019/01/20
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:140

بعض لوگوں سے سنا ہے کہ قیامت والے دن اللہ تعالی لوگوں پر پردہ ڈالنے کے لیے انہیں ان کی ماؤں کے ناموں سے پکاریں گے قرآن وسنت کی روشنی میں اس کی وضاحت فرما دیں ۔(2)عربی کتابوں میں جس”حمار الوحش“کا ذکر ہے تو بعض حضرات اس سے زیبرا مراد لیتے ہیں ،کیا واقعی ایسا ہی ہے ؟اگر نہیں تو پھر اس سے کونسا جانور مراد ہے ؟

الجواب باسم ملہم الصواب

واضح اور صریح صحیح احادیث میں وارد ہے کہ قیامت کے دن باپ کے نام سے پکارا جائے گا ،اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح حکم فرمایا کہ تم اپنا نام اچھا رکھو کیونکہ قیامت کے دن تمہیں اپنے نام اور باپ کے نام سے پکارا جائے گا۔

لما فی الصحیح للبخاری:(2/439، رحمانیہ)
“عن ابن عمر رضی اللہ عنھما عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال :ان الغادر یرفع لہ لواء یوم القیامۃ یقال :ھذہ غدرۃ فلان بن فلان .”
وفی سنن ابی داؤد:(2/334،رحمانیہ)
” عن ابن عمر رضی اللہ عنھما قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم :انکم تدعون یوم القیامۃ باسمائکم واسماء آبائکم فاحسنوا اسمائکم. “
(وکذا فی الصحیح لمسلمم :(2/93،رحمانیہ)
(وکذا فی اشعہ اللمعات :(4/53،54،رشیدیہ)
(وکذا فی حاشیہ سنن ابی داؤد لشیخ الھند :(2/334،رحمانیہ)
(کذا فی الکشاف للزمخشری :(2/682،من منشورات البلاغہ )
(وکذا فی الجامع لاحکام القرآن للامام القرطبی:(10/296،بیروت)
وکذافی الھامش علی الصحیح للبخاری:(2/439،رحمانیہ)

احادیث میں اور فقہاء کرام سے جس”حمار الوحش“ کی حلت کا ذکر ہے اس سے مراد زیبرا ہی ہے ۔اور شبہ شاید اس بنا ءپر ہوتا ہے کہ بعض عربی لغات میں ”حمارالوحش “سے عام گدھے کی طرح کا ایک جنگلی گدھا مراد لیا گیا ہے ،لیکن بعض معتبر لغات میں یہ صراحت بھی موجود ہے کہ حمار الوحش سے زیبرا ہی مراد ہے اور اسی کے دو نام ہیں :حمارالزرد اور حمار الوحش ۔

المعجم الوسیط :(196،دار الدعوۃ)
“و(حمارالزرد)او الوحش :جنس حیوان من ذوات الحوافر وفصیلۃ الخیل ،معروف بالوانہ المخطۃ.”

وفی المورد (قاموس انکلیزی،عربی): (1380)بحوالہ فتاوی دارالعلوم زکریا:(6/240،زمزم)

“العتابی:حمار الزردحمار وحشی ۔”.(zebra)
(کذا فی الصحیح للبخاری :1/516،رحمانیہ)
(کذا فی تنویر الابصار وشرحہ مع الرد:9/507،508،رشیدیہ)
(کذا فی الفتاوی الولوالجیہ:3/56،الحرمین شریفین)
(کذا فی حاشیہ الطحطاوی علی الدر:4/157،رشیدیہ)
(کذا فی تکملہ فتح الملہم: 3/517، دار العلوم کراتشی)
(کذا فی الفتاوی التاتارخانیہ:18/445،فاروقیہ)
(کذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(4/2798،رشیدیہ

واللہ اعلم بالصواب

سلیم اللہ

دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال

17/6/1440،2019/2/23
جلد نمبر:17 فتوی نمبر:195