جھاڑکر جو تا پہننا سنت ہے ؟

الجواب بعون الملک الوھاب

سنت ہے۔

لما فی کنز العمال:(174/15،رحما نیه)
“من کان یو من باللہ والیوم الآ خر فلا یلبس خفیہ حتی ینفضھما.”
وفی مجمع الزوائد: (177/5،دارالکتب العلمیية)
عن ابی اما مۃرضی اللہ عنہ، قال دعا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بخفیہ یلبسھما،فلبس احدھما الاخری فرمی بھا ، فخرجت منھا حیۃ ، فقال النبی صلی اللہ علیہ وسلم ،من کان یو من باللہ الیوم الآخر،فلا یلبس خفیہ حتی ینفضھما.
وکذافی سبل الھدی والرشاد:(7 /313،263،225، نعمانية)
وکذافی المعجم الکبیر:4/274، دارالکتب العلمية)
وکذافی مسندالفردوس:3/511، دارالکتب العلمية)
وکذافی المواھب اللدینیة :(78 ، ادارہ تالیفات اشرفیہ)
وکذافی مرقاۃالمفاتیح :(8/70، التجارية)
وکذافی مجموعۃرسائل:1/54، ادارۃالقرآن والعلوم)
وکذافی احیاءالعلوم الدین :2(/259، دارالمعرفة)
وکذافی فیض القدیر :(6/274، دارالکتب العلمية )

واللہ اعلم بالصواب
علیم اللہ غفرلہ ولوالدیہ
دارلافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
12/6/1440،2019/2/18
جلد نمبر:17 فتوی نمبر:168

ایک آدمی کی دس ماہ کی بچی ہےمگر حمل دوسرا بھی ہے تقریبا ایک ماہ سے زائد کا اس وجہ عورت کی صحت بھی اور بچی کی صحت بھی خراب رہتی ہے تو کیا اس حالت میں وہ حمل گراسکتے ہیں یا نہیں ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

مذکورہ صورت میں ماہر اور دین دار ڈاکٹرکے مشورے سے حمل گرایا جاسکتاہے، ورنہ نہیں۔

لما فی الشامیة: (3 /176 ،سعید )
وقالوا یباح أسقاط الولد قبل أربعۃ اشھر ولو بلا أذن الزوج (وعن أمتہ بغیر أذنھا)بلا کراھۃ فأن ظھر بھا حبل حل نفیہ ان لم یعد قبل بول
وفی: الھندیة (1 /335 ،رشیدیہ )
“وکذالک المرأۃ یسعھا أن تعالج لأسقاط الحبل ما لم یستبن شیئی من خلقہ وذالک ما لم یتم لہ مائۃ وعشرون یوما
وکذافی الشامیة : (3 /176 ،سعید )
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ : ( 9/ 6601، رشیدیہ)
وکذا فی البنایة: (4 / 759 ،رشیدیہ )
وکذافی النھر الفائق: (2 /276 ،قدیمی )
وکذا فی حاشیة الطحطاوی علی الدر: (2 /76 ،رشیدیہ )
وکذا فی البحر الرائق : ( 3/ 349 ،رشیدیہ )
وکذا فی تبیین الحقائق: ( 2/ 166 ،امدادیہ )
وکذا فی مجمع الانھر : (1 /538 ،المنار )

واللہ اعلم بالصواب
محمداکرام غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
16-7-1440،2019-3-24
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :73

کیا عورت کو غسل کے دوران سارے بال بھگونے پڑیں گے یا صرف ان پر پانی ڈالنے سے غسل ہو جائے گا ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اگر عورت کے بال گندھے ہوے ہوں تو بالوں کی جڑ تک پانی پہچانا ضروری ہے پورے بال بھگونے کی ضرورت نہیں، اگر بال کھلے ہوں تو تمام بالوں کو بھگونا ضروری ہے ۔

لما فی الھندیة: (1/13 ،رشیدیہ )
” وليس على المرأة أن تنقض ضفائرها في الغسل إذا بلغ الماء أصول الشعر وليس عليها بل ذوائبها هو الصحيح. كذا في الهداية.ولو كان شعر المرأة منقوضا يجب إيصال الماء إلى أثنائه
و فی الفقہ الاسلامی وادلتہ : (1/143 ،رشیدیہ )
وھل یجب نقض ضفائر الشعر ؟للعلماء آراء متقاربۃ: قال الحنفیۃ :یکفی بل اصل الضفیرۃ ای شعرالمرأۃ المضفور دفعا للحرج اما المنقوض فیفرض غسلہ کلہ اتفاقا
وکذافی الشامیة: (1/315 ،رشیدیہ )
وکذافی بدائع الصنائع: (1/143 ،رشیدیہ )
وفی البحر الرائق : (1/98،رشیدیہ )
وکذافی الفقہ الحنفی : (1/107 ،الطارق )
وکذافی خلاصة الفتاوی: (1/114 ،رشیدیہ )
وکذافی المحیط البرھانی : (1/223 ،دار احیاء )
وکذافی التاتارخانیة: (1/274 ،فاروقیہ )
وکذافی کتاب الفقہ: (1/103 ،حقانیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمداکرام غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
7-8-1440،2019-04-13
جلد نمبر :19 فتوی نمبر :24

ایک شخص جوانی کی بالکل ابتداء میں ہے اور اس کی بھنووں کے بال اس قدر بڑھے ہوئےہیں کہ دونوں جانب سےلکیروں کی صورت میں سر(کنپٹی)سے جاملتے ہیں اسی طرح ناک کے سرے میں دونوں طرف کے بال اکٹھے ہوجاتے ہیں توان بالوں کو درست کیا جاسکتا ہے۔

الجواب حامداً ومصلیاً

جی ہاں! ان بالوں کواس حد تک درست کیا جا سکتاہےکہ عام انسانوں جیسے ہو جائیں۔

لما فی الھندیة: (5 /358 ،رشیدیة )
” ولاباس باخذ الحاجبین وشعروجھہ ما لم یتشبہ بالمخنث کذا فی الینابیع . “
وفی الشامیة: ( 6/373 ،سعید )
” وفی التاتارخانیۃ عن المضمرات:ولا باس باخذ الحانبین وشعر وجھہ ما لم یشبہ المخنث . “
وکذافی الفتاوی التاتار خانیة : (18 /211 ،فاروقیہ)
وکذا فی المرقاۃ المفاتیح: (8 /209 ،التجاریہ )
وکذا فی الشامیة: (6 /407 ،سعید )
وکذا فی البحر الرائق : (8 /375 ،رشیدیہ )
وکذا فی حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح : (1 /526 ،قدیمی )

واللہ اعلم بالصواب
محمداکرام غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
17-6-1440،2019-2-23
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :19

علماء سے سنا ہے اور کتابوں میں پڑھا ہے کہ اللہ پاک کے نافرمانوں اور باغیوں سے محبت کرنا جائز نہیں۔ والدین کو محبت کی نظر سے دیکھنے کی فضیلت بھی حدیث شریف میں آئی ہے۔ آپ سے سوال یہ ہے کہ جس کے والدین اللہ پاک کے نافرمان اور باغی ہوں، تو ایسے والدین کو بھی محبت کی نظر سے دیکھا جائے یا نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

پہلی بات تو یہ ہے کہ باغیوں اور نافرمانوں کی ذات سے نہیں بلکہ ان کے افعال سے شریعت نے نفرت کا حکم دیا ہے، ان کی ذات تو قابلِ رحم اور قابلِ شفقت ہے کہ ان کو جہنم سے بچایا جائے۔ اور والدین سے متعلق تو خاص طور پر قرآن کریم میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے ”وَإِنْ جَاهَدَاكَ عَلَى أَنْ تُشْرِكَ بِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا وَصَاحِبْهُمَا فِي الدُّنْيَا مَعْرُوفًا“ کہ اگر کافر و مشرک والدین، شرک کی طرف بلائیں تو ان کی اطاعت نہیں کی جائے گی، لیکن اس کے باوجود، ان سے دنیا میں حسنِ سلوک ضروری ہے۔ اور حدیثِ مبارکہ ” مَا مِنْ وَلَدٍ بَارٍّ يَنْظُرُ نَظْرَةَ رَحْمَةٍ إِلَّا كَتَبَ اللّهُ بِكُلِّ نَظْرَةٍ حَجَّةً مَبْرُورَةً “ میں ” وَلَدٍ بَارٍّ “ کے الفاظ ہیں، یعنی جو اپنےوالدین کا فرمانبردار ہو، تو اس کے لیے اپنے والدین کو محبت کی نظر سے دیکھنے پر مقبول حج کا اجر ہے، لہذا والدین جیسے بھی ہوں، اولاد کے لیے ان سے حسنِ سلوک کا معاملہ کرنے، محبت و شفقت سے پیش آنے اور جائز کاموں میں ان کی فرمانبرداری کرنے کا حکم ہے، اور احادیث مبارکہ میں فرمانبردار اولاد کے لیے بےشمار فضائل وارد ہوئے ہیں، اور اولاد کو چاہیے کہ والدین کے لیے دعا کرتے رہیں، اور ان کے مقام اور مرتبہ کا لحاظ کرتے ہوئے ان کی اصلاح کی کوشش کرتے رہیں۔

لما فی القرآن الکریم: (السراء،23 )
“وَقَضَى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُمَا أَوْ كِلَاهُمَا فَلَا تَقُلْ لَهُمَا أُفٍّ وَلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُلْ لَهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا.”
وفیہ أیضاً: ( اللقمان ، 15،14 )
وَوَصَّيْنَا الْإِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ حَمَلَتْهُ أُمُّهُ وَهْنًا عَلَى وَهْنٍ وَفِصَالُهُ فِي عَامَيْنِ أَنِ اشْكُرْ لِي وَلِوَالِدَيْكَ إِلَيَّ الْمَصِيرُ (14) وَإِنْ جَاهَدَاكَ عَلَى أَنْ تُشْرِكَ بِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا وَصَاحِبْهُمَا فِي الدُّنْيَا مَعْرُوفًا
وکذافی تفسیر القرطبی: ( 14/65، دار احیاء تراث )
وکذا فی تفسیر القرطبی: ( 10/238،239، دار احیاء تراث )
وکذافی تفسیر البغوی: ( 3/491، دار المعرفہ)
وکذا فی صفوة التفاسیر: ( 2/492، دار احیاء تراث )
وکذافی أحکام القرآن للجصاص: ( 3/290، قدیمی )
وکذا فی أحکام القرآن للعثمانی: ( 3/266، ادارة القرآن )
وکذا فی الصحیح للبخاری: ( 2/409،رحمانیہ )
وکذا فی شعب الایمان: ( 6/186، دار الکتب العلمیہ )
وکذا فی المرقا ة: ( 8/677، المکتبة التجاریة )
وکذا فی الموسوعة الفقھیة: ( 8/65، علوم اسلامیہ )

واللہ تعالیاعلم بالصواب
محمد عرفان جاوید عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
4/8/1440، 2019/4/10
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :195

ایک مسجد کا میٹر نہیں لگا ہوا، محلہ والوں نے ڈائریکٹ تار لگائی ہوئی ہے، پوچھنے پر بتاتے ہیں کہ بجلی والوں کو پتہ ہے بلکہ ہم نے ایک مرتبہ میٹر کے پیسے بھی دیے ہیں، کیا اس طرح مسجد کی تار لگانا درست ہے، اور ایسی مسجد میں وضو نماز کا کیا حکم ہے، جبکہ محلہ میں دوسری مسجد بھی نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

مذکورہ صورت میں اہلِ محلہ کا ڈائریکٹ تار لگانا درست نہیں ہے، قانونی طور پر میٹر لگوا کر بجلی استعمال کی جائے، ورنہ میٹر لگنے تک کسی قریبی گھر سے کنکشن لے لیا جائے اور ” سب میٹر “ لگوا کراس کے مطابق بل ادا کرتے رہیں، بصورت دیگر تمام اہلِ محلہ اس کے ذمہ دار ہوں گے۔ البتہ ایسی مسجد میں وضو و نماز درست ہے۔

لما فی الشامیة: ( 3/62، رشیدیہ)
“قال فی المعراج: لأن طاعۃ الامام لیس بمعصیۃ فرض.”
وکذافی الھدایة: ( 2/167، رشیدیہ )
“اذ لا یجوز لأحد من المسلمین اخذ مال احد بغیر سبب شرعی کذا فی البحر الرائق.”
وکذافی رد المحتار: ( 2/520، رشیدیہ )
وکذا فی البحر الرائق: ( 5/68، رشیدیہ )
وکذافی الموسوعة الفقہیة: ( 28/296، علوم اسلامیہ )
وکذافی السنن الکبری: ( 6/160، دار الکتب )
وکذا فی المجلة لأحکام العدلیة: ( 27، قدیمی کتب خانہ )
وکذافی بدائع الصنائع: ( 1/107، رشیدیہ )
وکذا فی الفتاوی الولوالجیة : ( 2/405، الحرمین شریفین )
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة : ( 16/512،514، فاروقیہ )

واللہ تعالیاعلم بالصواب
محمد عرفان جاوید عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2/8/1440، 2019/4/8
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :186

سینے کے بالوں کا کیا حکم ہے ، کاٹ لینے چاہییں یا نہیں ؟

الجواب باسم ملھم الصواب

سینے کے بال کاٹنا ادب کے خلاف ہے ، البتہ اگر کوئی ضرورت ہو تو کاٹ سکتے ہیں ۔

لما فی الھندیة:(5/358،رشیدیہ )
“و فی حلق شعر الصدر و الظھر ترک الادب ، کذا فی القنیۃ .
و فی رد المحتار علی الدر المختار:(9/671،رشیدیہ)
“و فی حلق شعر الصدر و الظھر ترک الادب ، کذا فی القنیۃ . “
و فی الفتاوی التاتارخانیة:(18/211،فاروقیہ)
“و فی الیتیمۃ : سألت أبا الفضل عمن حلق شعر صدرہ أو ظھرہ ، ھل لہ ذلک ؟ فقال: ھو تارک الأدب . “
و کذا فی الموسوعة الفقھیة:(18/100،علوم اسلامیہ)
و کذا فی حاشیة الطحطاوی علی الدر:(4/203،رشیدیہ)
و کذا فی المبسوط السرخسی:(4/73،دار المعرفہ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد عرفان جاویدعفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
15/6/1440، 2019/2/21
جلد نمبر :17 فتوی نمبر :180

بالوں میں پیشانی سے گدی کی طرف کنگھی کرنا کہ بال گدی کی طرف چلے جائیں ، یہ سنت سے ثابت ہے ؟

الجواب باسم ملھم الصواب

آپ ﷺ کا بالوں کو گدی کی طرف کرنا احادیث مبارکہ سے ثابت تو ہے ، لیکن یہ سنت نہیں ۔ سنت مبارکہ یہ تھی کہ آپ ﷺ سر مبارک کے درمیان سے مانگ نکالا کرتے تھے ۔

لما فی الصحیح لمسلم: ( 2 / 264 ، رحمانیہ )
عن ابن عباس، قال: كان أهل الكتاب يسدلون أشعارهم، وكان المشركون يفرقون رءوسهم، وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم يحب موافقة أهل الكتاب فيما لم يؤمر به، فسدل رسول الله صلى الله عليه وسلم ناصيته، ثم فرق بعد
و فیہ ایضا فی شرحہ للنووی
“قال العلماء و الفرق سنۃ لانہ الذی رجع الیہ النبی ﷺ . “
و فی فتح الباری لابن حجر : ( 10 / 443 ، قدیمی کتب خانہ )
قوله ( ثم فرق بعد ) في رواية معمر ( ثم أمر بالفرق ففرق ) وكان الفرق آخر الأمرين …. قال والفرق سنة لأنه الذي استقر عليه الحال …. وقد صح أنه كانت له صلى الله عليه وسلم لمة ، فإن انفرقت فرقها وإلا تركها ، فالصحيح أن الفرق مستحب لا واجب، وهو قول مالك والجمهور …. وقال النووي الصحيح : جواز السدل والفرق
و کذا فی الصحیح للبخاری : ( 2 / 877 ، قدیمی ) و کذا فی سنن ابی داؤد : ( 3 / 84 ، دارالکتب العلمیہ )
و کذا فی تکملة فتح الملھم : ( 4 / 551 ، مکتبہ دارالعلوم ) و کذا فی بذل المجھود : ( 17 / 37 ، قدیمی )
و کذا فی شرح الطیبی: ( 8 / 276 ، دارالکتب العلمیہ ) و کذا فی التعلیق الصبیح : ( 4 / 536 ، رشیدیہ )

و اللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد عرفان جاوید عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
28/05/1440 ، 2019/02/04
جلد نمبر :17 فتوی نمبر :118

کرسمس ڈے کے موقع پر عیسائیوں کی طرف سے مسلمانوں کو ہدیہ میں دیا ہوا کیک کھانا جائز ہے یا نہیں ؟

الجواب باسم ملھم الصواب

عام حالت میں تو حلال آمدن والے کافر شخص سے ہدیہ وغیرہ لینے کی اجازت ہے ، مگر جو چیزیں کافر لوگ اپنے مذہبی عقائد و نظریات کی تعظیم وغیرہ کے طور پر تقسیم کرتے ہیں ان کا لینا اور استعمال کرنا جائز نہیں ، اور یہ کرسمس کا کیک خالصتاً عیسائیوں کے ایک غلط نظریہ کا عکاس ہے ، لہذا اس کا کھانا بھی درست نہیں ۔

لما فی المحیط البرھانی : ( 8 / 69 ، دار احیاء تراث العربی )
و لا بأس بطعام الیھود و النصاری کلہ من الذبائح و غیر ھا ، لقولہ تعالی : [و طعام الذین أوتوا الکتاب حل لکم ] من غیر فصل بین الذبیحۃ و غیرھا
و فی الموسوعة الفقھیة : ( 42 / 261 ، علوم اسلامیہ )
نص الحنفیۃ علی انہ لا یجوز الاھداء باسم النیروز کأن یقول عند الاھداء : ھذا ھدیۃ النیروز و المھرجان
و کذا فی صحیح البخاری : ( 1 / 458 ، رحمانیہ )
و کذا فی رد المحتار مع تنویر الأبصار و الدر :(10 / 521 ، رشیدیہ )
وکذا فی الھندیة:(5/ 288 ، الرشید )
و کذا فی فتاوی البزازیة علی ھامش ھندیة : ( 6 / 333 ، الرشید )

و اللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد عرفان جاوید عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
28/05/1440 ، 2019/02/04
جلد نمبر : 17 فتوی نمبر :120

موبائل فون میں میسج کے ذریعے جو سلام بھیجا جاتا ہے ، اس کا جواب دینا واجب ہے یا نہیں ؟ اگر واجب ہے تو تحریری طور پر بھیجنا ضروری ہے یا زبانی کہہ لینا کافی ہے ؟

الجواب باسم ملھم الصواب

موبائل پر میسج کے ذریعے بھیجے جانے والے سلام کا زبان سے جواب دینا واجب ہے ، تحریری طور پر جواب دینا ضروری نہیں ، البتہ اگر میسج کا جواب دینا ہو تو سلام بھی لکھ کر بھیج دے ۔

لما فی شرح النووی علی ھامش الصحیح لمسلم : ( 220 / 2 ، رحمانیہ )
“و بشرط کون الرد علی الفور و لو اتاہ سلام من غائب مع رسول او فی ورقۃ وجب الرد علی الفور “
و فی رد المحتار علی الدر المختار : ( 685 / 9 ، رشیدیہ )
المتبادر من ھذا ان المراد رد سلام الکتاب لا رد الکتاب ، لکن فی الجامع الصغیر للسیوطی : رد جواب الکتاب حق کرد السلام 0 قال شارحہ المناوی : ای : اذا کتب لک رجل بالسلام فی کتاب و وصل الیک وجب علیک الرد باللفظ او بالمراسلۃ و بہ صرح جمع شافعیۃ : و ھو مذھب ابن عباس 0
و کذا فی صحیح البخاری : ( 244/1 ، رحمانیہ )
وکذا فی الصحیح لمسلم:(221 / 2 ،رحمانیة)۔
و کذا فی تکملة فتح الملھم : ( 246 , 245 / 4 ، مکتبہ دارالعلوم )
و کذا فی رد المحتار مع الدر المختار : ( 685 / 9 ، رشیدیہ )
و کذا فی الموسوعة الفقھیة : ( 160 / 25 ، علوم اسلامیہ )
و کذا فی الاذکار للنووی : ( 323 ، دار البشائر الاسلامیہ )

و اللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد عرفان جاوید عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
12/05/1440 ، 2019/01/19

جلد نمبر :17 فتوی نمبر :105