کہ ایسا کالج بنانا جائز ہے یا نہیں ،جس میں لڑکے اور لڑکیاں ایک ساتھ بیٹھ کر پڑھیں؟اور اگربنا لیا ہو تو ایسے کالج کی آمدنی کا کیا حکم ہے؟حلال ہے یا حرام ؟

الجواب باسم ملہم الصواب

اللہ تعالی کا ارشاد ہے : { قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ذَلِكَ أَزْكَى لَهُمْ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا يَصْنَعُونَ (30) وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ } [النور: 30، 31]ان آیات میں تمام مردوں اور عورتوں کو حکم دیا گیا کہ اپنی نظروں کی حفاظت کریں ۔اوردوسری جگہ ارشادہے : { وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنَا إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً } [الإسراء: 32]زنا کے قریب مت جاؤ۔نا محرم کو دیکھنا زنا کے قریب لے جانے کا ذریعہ ہے،اورمتعدداحادیث میں بھی غیر محرم کی طرف دیکھنے سے منع کیا گیا ہے اور اس کو آنکھوں کا زنا قرار دیا گیا ہے اور اس پر سخت وعیدیں آئی ہیں اورایسے لوگ جوبدنظری کرتے یاکراتے ہیں ان پر اللہ کی لعنت کے الفاظ بولے گئے ہیں،مزید یہ کہ بے پردگی اورفیشن کی وباءعام ہے،لہذا مخلوط نظام تعلیم میں بد نظری کا ہونا لازمی اوریقینی بات ہے جو کہ حرام اور نا جائز ہے،لہذا انتظامیہ کوچاہیے کہ لڑکوں اورلڑکیوں کے لیے الگ الگ انتظامات کریں،حصول علم کے لیے مخلوط نظام کی تو کوئی ضرورت ہی نہیں ہے ،یہ تو ”جدت پسندی“ اور”جدیدترقی“کانتیجہ ہےاس لیےمخلوط نظام تعلیم والا کالج وغیرہ نہیں بنانا چاہیے ،اوراگر کسی نے بنالیا ہو تواگرچہ اس کی آمدنی تو حلال ہے لیکن انتظامیہ کو چاہیے کہ جلد از جلد مخلوط تعلیم کو ختم کریں ۔

لما فی القرآن المجید (سورۃالنور:30،31)
قل المؤمنین یغضو ا من أبصارھم ویحفضوا فروجھم ذالک أزکی لھم ان اللہ خبیر بما یصنعون وقل للمؤمنات یغضضن من أبصارھن ویحفضن فروجھن ولایبدین زینتھن
وفیہ ایضا: (الاحزاب :53)
“واذاسالتموھن متاعافسألوھن من وراءحجاب ذالکم أطھرلقلوبکم وقلوبھن۔۔۔۔.”
وفیہ ایضا: (بنی اسرائیل :32)
“ولاتقربواالزنی انہ کان فاحشۃوساءسبیلا.”
وفی السنن الکبری للبیھقی (7/159،التجاریہ)
“وعن الحسن رضی اللہ عنہ مرسلا قال :بلغنی ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال :لعن اللہ الناظروالمنظور الیہ .”
وفی الموسوعہ الفقھیہ (الموسوعہ الفقھیہ:40/343،علوم اسلامیہ)
“یحرم نظرالرجل بغیرعذرشرعی الی وجہ المرأۃ الحرۃ الأجنبیۃ وکفیھا کسائر أعضائھا سواءاخاف الفتنۃمن النظر باتفاق الشافعیۃ أولم یخف ذالک
کذا فی الصحیح للبخاری: (2/450،295،رحمانیہ)
کذا فی الموسوعہ الفقھیہ :(40/343،355،علوم اسلامیہ)
کذا فی تنویرالابصارمع الدر المختار: (9/610،رشیدیہ)
کذا فی حاشیہ الطحطاوی: (4/185،رشیدیہ)
کذافی الھندیہ: (5/327،رشیدیہ)
کذا فی المبسوط للسرخسی: (10/152، دارالمعرفہ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃالحسن ساہیوال
17/6/1440،2019/2/23
جلد نمبر:17 فتوی نمبر:194

کہ ایک شخص نے کسی سے متعلق کہا کہ اگر میں نے فلاں بات کہی ہو تو میں مسلمان نہیں، حالانکہ اس نے وہ بات کہی تھی، تو اس کے لیے تجدید ایمان و نکاح ضروری ہے؟

الجواب باسم ملھم الصواب

عام طور پر جہالت کی وجہ سے اس طرح کے الفاظ اپنی بات کو پختہ کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں، نہ کہ کفر وارتداد کے لیے، اس لیے ان الفاظ سے یہ آدمی کافر نہیں ہو گا اور نا ہی تجدید ایمان و نکاح کی ضرورت ہے، البتہ عام حالات میں اس طرح کے الفاظ استعمال کرنا گناہ کبیرہ اور بد ترین جرم ہے، اس لیے مذکورہ شخص پر کثرت سے توبہ و استغفار لازم ہے۔

لما فی الدرالمختار:(5/51،دارالمعرفہ)
والقسم ایضا بقولہ ان فعل کذا فھو یھودی او نصرانی او فاشھدوا علی بالنصرانیۃ او شریک للکفار او کافر فیکفربحنثہ لو فی المستقبل ، اماالماضی عالما بخلافہ فغموس، سواء علقہ بماض او آت ان کان عندہ اعتقادہ انہ یمین وان کان جاھلا، وعندہ انہ یکفر فی الحلف بالغموس وبماشرۃ الشرط فی المستقبل یکفر فیھا لرضاہ بالکفر
وکذا فی مجمع الانھر:(2/ 272، المنار) وکذا فی المبسوط :(8/134،دارالمعرفہ)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیہ:(6/20، فاروقیہ) وکذا فی بدائع الصنائع:(3/16،رشیدیہ)
وکذا فی المحیط البرھانی:(6/71،احیاءتراث الاسلام) وکذا فی الھندیہ:(2/54،رشیدیہ)
وکذا فی تبیین الحقائق:(3/110،امدادیہ) وکذا فی خلاصة الفتاوی:(2/127،رشیدیہ)
وکذا فی الفقہ الحنفی:(2/314،الطارق)

واللہ اعلم بالصواب
محمد مظہر اقبال غفرلہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
7،5،1440/2019،1،14
جلدنمبر:17 فتوی نمبر:140

 

کیا موبائل پر بات ختم کرنے کے بعد آخر میں سلام کا جواب دینا ضروری ہے؟

الجواب باسم ملهم الصواب

گفتگو كے آغاز اور آخر ميں سلام كرنا سنت ہے۔

لما فی سنن ابی داود : ( 2/327،رحمانیہ )
عن ابی ھریرہ رضی اللہ عنہ قال:قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اذا انتھی احدکم الی المجلس فلیسلم فاذا اراد ان یقوم فلیسلم فلیست الاولی باحق من الآخر
وکذا فی جامع الترمذی : ( 2/ 558،رحمانیہ )
عن ابی ھریرہ رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اذا انتھی احدکم الی المجلس فلیسلم فان بدا لہ ان یجلس فلیجلس ثم اذا قام فلیسلم
وفی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:( 5/ 405، الطارق)
ویسلم علی القوم حین یدخل علیھم ،وحین یفارقھم فمن فعل ذالک شارکھم فی کل خیر عملوہ بعدہ
وکذا فی الاذکار للنووی : (335، دارالبشائر الاسلامیہ )
وکذا فی تحفة الاحوذی :(7/ 517، قدیمی )
وکذا فی بذل المجھود : (20/ 77،قدیمی )
وکذا فی الفتاوی التاتار خانیہ :(18/ 84،فاروقیہ )
وکذا فی الدر المختار : (6/ 416،سعید )
وکذا فی الموسوعةالفقھیة :(25/ 172، علوم الاسلامیہ )
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ :(4/2686،رشیدیہ )

واللہ اعلم بالصواب
محمد مظہر اقبال عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
17، 6، 1440، 2019، 2، 23
جلد نمبر:17 فتوی نمبر:199

شوربے والے سالن میں کوا چونچ مار کر گیا تو سالن کا کیا حکم ہے؟

الجواب باسم ملھم الصواب

مکروہ ہے ۔

لما فی المحیط البرھانی:(1/285،احیاء تراث العربی)
“وکذلک سؤر سباع الطیرکالصقر والبازی والشاھین مکروہ ،وھذا استحسان”
وکذا فی مجمع الانھر :(1/55،المنار)
“وسؤر الھر ۃ والدجاجۃ المخلاۃ وسباع الطیر وسواکن البیت کالحیۃ والفارۃ مکروہ”
وکذا فی الفتاوی التا تا ر خانیہ :(1/351،فاروقیہ)
وکذا فی الفتاوی العالمکیریہ: (1/24،رشیدیہ)
وکذا فی الدر المختار:(1/426،رشیدیہ)
وکذا فی البحر الرائق: (1/232،رشیدیہ)
وکذا فی المختصر القدوری:(9،الخلیل)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(1/282،رشیدیہ)
وکذا فی فتح القدیر:(1/116،رشیدیہ)
وکذا فی الجو ھر ۃ النیرۃ:(1/61،قدیمی)

واللہ اعلم بالصواب
محمد مظہر اقبال عفی عنہ
متخصص جامعہ الحسن ساہیوال
13، 5 ،1440/2019، 1،20
جلد نمبر:17 فتوی نمبر:143

 

کھانے کے بعد انگلیاں چاٹنے کی مسنون تر تیب تو یہ کہ پہلے درمیان والی بڑی انگلی ، پھر شہادت والی انگلی اور آخر میں انگوٹھا چاٹا جائے لیکن اگرکبھی پانچوں انگلیاں کھانے میں استعمال ہوتی ہوں تو ان کو چاٹنے کا مسنون طریقہ کیا ؟

الجواب باسم ملھم الصواب

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عام عادت شریفہ تینوں سے انگلیوں سے کھانا تناول فرمانے کی تھی،اگر چہ بعض روایات میں پانچ انگلیوں سے کھانا بھی معلوم ہوتا ہے، لیکن انگلیاں چاٹنے کا تذکرہ صرف تین انگلیوں کا ہی ملتا ہے، یعنی بڑی انگلی ،پھر شہادت والی ور پھر انگو ٹھا، البتہ بقیہ انگلیوں کو چاٹنے کا طریقہ نہ مل سکا، لہذاان کو کسی بھی طرح چاٹ سکتے ہیں کیوں کہ رویات میں ہاتھ چاٹنے کا ذکر بھی موجود ہے۔

لما فی تکملۃ فتح الملہم:(4/23،دارالعلوم کراچی)
عن کعب بن عجرۃرضی اللہ عنہ قال:رأیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یا کل باصابعہ الثلاث بالابھام، والتی تلیھا،ویلعق السطیٰ ثم تلیھا ثم الابھام
و فی الترغیب ولتر ہیب :(3/105،رشیدیہ)
“عن ابی ہریرہ رضی اللہ عنہ قال : ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم ، اذا اکل احدکم فلیلعق اصابعہ، فانہ لا یدری فی ایتھن البرکۃ”
وکذا فی تحفۃ الاحوذی:(5/528،قدیمی)
وکذا فی مرقاۃ المفاتیح:(8/8،التجاریہ)
وکذا فی شر ح الطیبی: (8/146،الکتب العلمیہ)
وکذا فی بذل المجہود: ( 16/96،قدیمی)
وکذا فی مجمع الزوائد:(5/19،العلمیہ)
وکذا فی ابن ماجہ:(368،رحمانیہ)
وکذا فی المسند الجامع :(10/539،دارالجیل )

 

واللہ اعلم بالصواب
محمد مظہر اقبال عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
25-3-2019،1440-7-17
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:81

 

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے شمائل و مکارم اخلاق کے تذکرے میں متعدد کتابوں میں جہاں آپ صلی اللہ وسلم کے کھانوں کا ذکر ہے وہاں عموما یہ جملہ ملتا ہے “ولَمْ يَكُنْ يَذُمُّ ذَوَاقا۔ َمَا يُطْعِمُ۔ وَلَا يَمْدَحُہُ”جس كا مطلب بظا ہر یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہ تو ذائقو ں کی مذ مت کر تے تھے اور نہ ہی تعریف کر تے تھے ۔اب سوال یہ ہےکہ بعض اوقات کسی پکا نے والے کی تعریف نا گزیر ہو تی۔ اور ظاہری بات ہے کہ جب اس کی تعریف کرنی ہو تو کھانے کی بھی تعریف کرنی پڑے گی تو کیا یہ تعریف کرنا اور جس خصلت کا ذکر ہے اس میں تعارض ہے۔ اور اس جملہ ” لَمْ يَكُنْ يَذُمُّ ذَوَاقا وَلَا يَمْدَحُہُ ” کا صحیح مطلب بھی واضح فر مادیں ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

شمائل ترمذی (ص 203،ادارہ نشریات اسلام)میں اس کا مطلب یہ لکھا ہے
”البتہ کھانے کی اشیاء کی نہ مذمت فرماتے نہ تعریف فرماتے، مذمت نہ فرمانا تو ظاہر ہے کہ حق تعالی شانہ کی نعمت ہے، زیادہ تعریف نہ فرمانا اس لیے تھا کہ اس سے حرص کا شبہ ہوتا ہے البتہ اظہار رغبت یا کسی کی دلداری کی وجہ سے کبھی کبھی خاص خاص چیزوں کی تعریف بھی فرمائی ہے۔

لمافی تحفة الاحوذی :(10/523،قدیمی )
” يعظم النعمة وان دقت ،لا يذم منھا شیئا غیر انہ لم یکن یذم ذواقا ولا یمدحہ . “
وکذا فی دلیل الفا لحین : (3 /200 ،دارالحدیث )
وکذافی ھا مش علی التر مذی : (2 / 38 ،رحمانیہ )

واللہ اعلم بالصواب
محمدعلیم اللہ غفرلہ ولوالدیہ
دار الافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
11-5-2019،1440،9،5
جلد نمبر:19 فتوی نمبر:53

بھنگ پینا کیسا ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

بھنگ پینا حرام ہے۔

لما فی تنویر الابصار مع رد المحتار: (4/458،سعید)
“(و یحرم اکل البنج و الحشیشۃ) ھی ورق القنب(و الافیون) لانہ مفسد للعقل و یصد عن ذکر اللہ و عن الصلاۃ.”
وفی الھداية: ( 1/499، رحمانیہ)
“و من ذھب عقلہ بالبنج و لبن الرماک و عن محمد رحمہ اللہ انہ حرام و یحد شاربہ اذا سکر منہ و یقع طلاقہ اذا سکر منہ کما فی سائر الاشربۃ المحرمۃ.”
وکذافی البحر الرائق: (8/402، رشیدیہ)
وکذا فی حاشية الطحطاوی علی الدر: (4/226، رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی و ادلتہ: (7/5505، رشیدیہ)
وکذا فی اللباب: (3/86، قدیمی)
وکذافی الجوھرة النيرۃ: (2/427، قدیمی)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمدعلیم اللہ غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
21/9/1440، 2019/5/27
جلد نمبر:19 فتوی نمبر:75

ہمارا ڈیپارٹمنٹل سٹورہے جس میں ہم نے سینری وغیرہ بھی رکھی ہیں، جس میں سے بعض پر بڑی یا چھوٹی تصویریں بھی ہوتی ہیں، اور اسی طرح بچوں کے کھلونے جو مجسموں کی صورت میں ہوں یا ان پر تصویریں بنی ہوئی ہوں، اور ٹی شرٹ اور اپر وغیرہ جن پر تصویریں ہوں، ان کے بیچنے کا کیا حکم ہے، اور جو ایک دفعہ خرید لی ہوں ان کا کیا کیا جائے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

واضح چہرے والی تصویر اور بچوں کے ایسے کھلونے وغیرہ جن میں چہرے کے نقوش بالکل واضح ہوں، ان کی خرید و فروخت ناجائز ہے، اور تصویر والی اشیاء مثلا کپڑے اور برتن وغیرہ کی خرید و فروخت جائز ہے، لیکن ان کے استعمال کے لیے تصویر کو مٹانا ضروری ہے۔

لما فی فقہ البیوع: (1/319، معارف القرآن)
و یدخل فی ھذا القسم بیع الاصنام و الصور المجسدۃ، الا اذا قصرت ، و امکن الانتفاع برضاضھا، فیجوز بیعھا. و الاصل فیہ حدیث جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ انہ سمع رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم یقول عام الفتح و ھو بمکۃ: ان اللہ و رسولہ حرم بیع الخمر و المیتۃ و الخنزیر و الاصنام.
وفی زاد المعاد: (4/1260، علمیہ)
وأما تحريم بيع الأصنام، فيستفاد منه تحريم بيع كل آلة متخذة للشرك على أي وجه كانت، ومن أي نوع كانت صنما أو وثنا أو صليبا، وكذلك الكتب المشتملة على الشرك، وعبادة غير الله، فهذه كلها يجب إزالتها وإعدامها، وبيعها ذريعة إلى اقتنائها واتخاذها، فهو أولى بتحريم البيع من كل ما عداها، فإن مفسدة بيعها بحسب مفسدتها في نفسها.
وکذا فی الصحیح للبخاری: (1/296، قدیمی)
وکذا فی فتح الباری: (4/523، قدیمی)
وکذافی المسلم: (2/23، قدیمی)
وکذا فی الشامية: (4/214، دار احیاء تراث العربی)
وکذافی الموسوعة الفقهية: (12/129، علوم اسلامیہ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمدعلیم اللہ غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
22/9/1440، 2019/5/28
جلد نمبر:19 فتوی نمبر:76

کہ نقلی ڈاڑھی استعمال کرنے کا کیا حکم ہے؟بعض لو گ نقلی ڈاڑھی لگا کر ڈارامو ں میں کام کرتے ہیں بعض اوقات ایسا کر دار بھی اداکرنا پڑتا ہے جس کی وجہ ڈاڑھی والوں کی تضحیک اور تحقیر ہوتی ہے اگر چہ بعض اوقات اس کے بر عکس بھی کر دار اداکر تے ہیں بحوالہ حکم ارشاد فر ما دیں ۔

الجواب حامداً ومصلیاً

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی سنت کی تحقیر وتضحیک کر نے والا کفر تک پہنچ جا تا ہے ۔

لمافی الشامية:(4/221،222،ایچ ایم سعید )
قلت: وقد حقق في المسايرة أنه لا بد في حقيقة الإيمان من عدم ما يدل على الاستخفاف من قول أو فعل ويأتي بيانه…….. ثم قال ولاعتبار التعظيم المنافي للاستخفاف كفر الحنفية بألفاظ كثيرة، وأفعال تصدر من المنتهكين لدلالتها على الاستخفاف بالدين كالصلاة بلا وضوء عمدا بل بالمواظبة على ترك سنة استخفافا بها بسبب أنه فعلها النبي – صلى الله عليه وسلم – زيادة أو استقباحها كمن استقبح من آخر جعل بعض العمامة تحت حلقه أو إحفاء شاربه اهـ. قلت: ويظهر من هذا أن ما كان دليل الاستخفاف يكفر به، وإن لم يقصد الاستخفاف لأنه لو توقف على قصده لما احتاج إلى زيادة عدم الإخلال بما مر لأن قصد الاستخفاف مناف للتصديق
وفی الھندیہ: (6 /328 ،ر شیدیہ)
والحاصل انه اذااستخف بسنۃاوحدیث من احادیث علیہ السلام کفروتحت ھذاالاصل فروع کثیرۃذکرنا ھا فی الفتاوی
وکذافیہ : ( 2/263 ،رشیدیہ ) وکذا فی الفتای التاتا رخانية : (7 /306 ،فاروقيه )
وکذافی مجموعة رسائل ابن عابدین : (1 /326 ،محمودیہ ) وکذا فی حجةالله البالغة : (1 / 408 ،قدیمی )
وکذافیہ : (2 /410 ،قدیمی ) وکذا فی البحر الرائق: (5 /202،203 ،رشیدیہ )
وکذافی مجمع الانھر : (2 /506،509 ،المنار ) وکذا فی الموسوعةالفقھية : (26 /،98 ،علوم اسلامیہ )

واللہ اعلم بالصواب
محمدعلیم اللہ غفرلہ ولوالدیہ ولاساتذتہ
دار الافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
1-4-2019،1440-7-24
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:99

ناپا ک بستر کے اوپر بیٹھ کر ذکر وتلاوت کرنےکاکیا حکم ہے ؟ اوراگر اس کے اوپر کوئی چادر بچھائی گئی ہو تو پھر کیا حکم ہے ؟

الجواب حامداً ومصلیا

ناپا ک بستر پر تلاوت کر نا خلاف ادب ہے البتہ اگر اس پر کوئی پاک کپڑا بچھا لیا جا ئے تو پھر کو ئی حرج نہیں ۔

لمافی الموسو عة الفقہية:(13/252،علوم اسلاميه)
” وتسن القراءۃ فی مکان نظیف وافضلہ المسجد ،وکرہ قوم القراءۃ فی الحمام والطریق.
وفی المحیط البرھانی : (7 / 508،داراحیاءالتراث العربی )
ورأيت في «فوائد الفقيه أبي جعفر» : أن قراءة القرآن في الحمام، أو في المغتسل، أو في موضع ينصب فيه الماء الذي غسل به النجاسة مكروه؛ سواء كان خفية أو جهراً؛ لأن هذا يؤدي إلى الاستخفاف بالقرآن؛ أما إذا قرأ القرآن خارج الحمام في موضع ليس فيه غسالة الناس؛ نحو مجلس صاحب الحمام أو الثيابي فقد اختلف علماؤنا فيه قال أبو حنيفة: لا يكره ذلك، وقال محمد: يكره، وليس عن أبي يوسف رواية (82ب2) منصوصة.
وکذافی الھندیہ : ( 5/ 316،رشیدیہ )
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ: (1 / 736، رشیدیہ)
وکذافی حاشية الطحطاوی علي الدر المختار: ( / ، )
وکذا فی الفقہ الحنفی : (1 / 176 ،الطارق )
وکذافی حاشية الطحطاوی علي مراقي الفلاح : ( 1/ 150، رشیدیہ)
وکذا فی خلاصة الفتا وی : (1 / 130 ، رشیدیہ)
وکذافی الشامية: (2 /194، ایچ ایم سعید)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ : ( 2/ 1101،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمدعلیم اللہ غفرلہ ولوالدیہ
دار الافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
1-4-2019،1440-7-24
جلد نمبر:19 فتوی نمبر:14