گاڑیوں میں عورتوں کو بس ہوسٹس کے طور پر اس لئے رکھنا کہ مسافر اس میں زیادہ متوجہ ہوں، جبکہ اس کے متبادل مرد بھی موجود ہوں تو اس کا کیا حکم ہے؟ اور اس طریقہ سے عورتوں اور گاڑی والوں کی آمدن کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

عورت کے لیے شریعت مطہرہ میں پردہ کو فرض قرار دیا گیا ہے، چنانچہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے: ” وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَى …“ اور دوسری جگہ ارشاد ہے: ” قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ذَلِكَ أَزْكَى لَهُمْ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا يَصْنَعُونَ وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ…“ ان آیات میں مردوں اور عورتوں کو اپنی نظروں کی حفاظت کرنے اور نگاہیں نیچی رکھنے کا حکم دیا گیا ہے اور متعدد احادیث میں بھی غیر محرم کی طرف دیکھنے سے منع کیا گیا ہے اور نامحرم کو دیکھنا، ان سے گفتگو کرنا اور معاملات کرنا، زنا کے قریب لے جانے کا بڑا ذریعہ ہیں، اور نامحرم کو دیکھنے پر سخت وعیدیں آئی ہیں۔ عورت کا ایسی جگہ ملازمت کرنا جہاں اس کا اجنبی مردوں سے اختلاط ہوتا ہو، ناجائز اور حرام ہے۔ اور مذکورہ صورت میں عورتوں کا اس جیسی ملازمت کرنے میں یہ تمام مفاسد پائے جاتے ہیں، لہذا ایسی جگہ پر عورتوں کا ملازمت کرنا درست نہیں، اگر کوئی سخت مجبوری ہو تو کوئی ایسا کسبِ معاش اختیار کیا جائے جہاں مردوں کے ساتھ اختلاط نہ ہوتا ہو۔ اور گاڑی مالکان کو چاہیے کہ عورتوں کے بجائے مردوں کو ملازمت پر رکھیں، تاکہ ان مذکورہ مفاسد سے اور اْس وعید سے بچا جا سکے جو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمائی: ” لَعَنَ اللهُ النَّاظِرَ وَالْمَنْظُورَ إِلَيْهِ …“ کہ بد نظری کرنے اور کرانے والے پر اللہ تعالی لعنت فرماتے ہیں، لہذا اس صورتِ حال کے پیشِ نظر عورتوں کو بس ہوسٹس بنانا ناجائز اور حرام کام ہے، کیونکہ اس میں بے پردگی، بد نظری اور مردوں و عورتوں کا اختلاط پایا جاتا ہے۔

لما فی القرآن المجید: ( الأحزاب:33 )
” وقرن فی بیوتکن و لا تبرجن تبرج الجاھلیۃ الأولی.”
و فی القرآن المجید: ( النور:30،31 )
” قل للمؤمنین یغضوا من أبصارھم و یحفظوا فروجھم ذلک أزکی لھم ان اللہ خبیر بما یصنعون و قل للمؤمنات یغضضن من أبصارھن و یحفظن فروجھن و لا یبدین زینتھن.”
وفی السنن الکبری: ( 7/159، دار الکتب العلمیہ )
“و عن الحسن رضی اللہ عنہ مرسلا قال : بلغنی أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم قال: لعن اللہ الناظر و المنظور الیہ.”
وفی الموسوعة الفقھیة: ( 40/343، مکتبہ علوم اسلامیہ )
” يحرم نظر الرجل بغير عذر شرعي إلى وجه المرأة الحرة الأجنبية وكفيها كسائر أعضائها سواء أخاف الفتنة من النظر باتفاق الشافعية أم لم يخف ذلك.”
وفی الشامیة: ( 5/228، رشیدیہ )
قال في الهداية: وأما المتوفى عنها زوجها فلأنه لا نفقة لها فتحتاج إلى الخروج نهارا لطلب المعاش وقد يمتد إلى أن يهجم الليل ولا كذلك المطلقة لأن النفقة دارة عليها من مال زوجها. قال في الفتح: والحاصل أن مدار حل خروجها بسبب قيام شغل المعيشة فيتقدر بقدره، فمتى انقضت حاجتها لا يحل لها بعد ذلك صرف الزمان خارج بيتها
وکذافی الصحیح للبخاری: ( 2/450، رحمانیہ )
وکذا فی النتف فی الفتاوی: ( 338،سعید )
وکذافی بدائع الصنائع: ( 4/39، رشیدیہ )
وکذا فی حاشیة الطحطاوی علی الدر: ( 2/230، رشیدیہ)

واللہ تعالیاعلم بالصواب
محمد عرفان جاوید عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2/8/1440، 2019/4/8
جلد نمبر :18 فتوی نمبر182

شطرنج كھیلنا کیساہے؟اوراس نیت سے کھیلنا کیسا ہےکہ اس سے دماغ تیز ہوتاہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اگرجوےکےساتھ ہوتو حرام ہےورنہ مکروہ ہے۔

لما فی الہندیہ: ( 1/356،رشیدیہ)
ویکرہ اللعب بالشطرنج والنردوثلاثۃعشرواربعۃعشروکل لھوماسوی الشطرنج حرام بالاجماع واماالشطرنج فااللعب بہ حرام عندنا
وفی الفقہ الحنفی: ( 5/424،الطارق)
وکذاالشطرنج،وانماکرہ لان من اشتغل بہ ذھب عناوہ دنیوی وجاءہ العناوہ الاخروي فھو حرام وکبیرۃ عندنا۔۔۔۔وفی الحد یث قال علیہ الصلاۃوالسلام لھو المومن باطل الافی ثلاث،تادیبہ لفرسہ،ومناضلتہ عن قوسہ،وملاعبتہ مع اھلہ.
وکذافی الہداية: ( 4/473،رشيديه)
وکذا فی اعلاءالسنن: (17/458،ادارة القرآن)
وکذافی الفقه الاسلامی: (4/2663، رشیدیہ )
وکذا فی مجمع الانھر: ( 4/222،المنار )
وکذافی الموسوعة الفقهية: ( 35/269،علوم الاسلاميه)
وکذا فی الدرالمختارمع ردالمحتار( 9/650،651،رشيديه)

واللہ اعلم بالصواب
ايثار القاسمی غفر لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
5/8/1440،2019/4/11
جلد نمبر :19 فتوی نمبر :10

تنگ بازووالی قمیص پہنناکیساہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اجازت ہے،مگر عادت نہ بنائی جائے۔

لما فی الصحیح البخاری: ( 2/863،قدیمی)
حدثنا قيس بن حفص۔۔۔۔۔ حدثني المغيرة بن شعبة، قال: انطلق النبي صلى الله عليه وسلم لحاجته، ثم أقبل، فتلقيته بماء، فتوضأ، وعليه جبة شامية، فمضمض واستنشق وغسل وجهه، فذهب يخرج يديه من كميه، فكانا ضيقين، فأخرج يديه من تحت الجبة فغسلهما.
وفی الجامع الترمذی: ( 1/439،رحمانیہ)
حدثنایوسف بن عیسی۔۔۔۔۔عن ابیہ ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم لبس جبۃرومیۃ ضیقۃ الکمین.
وکذافی المحیط البرھانی: ( 8/43،داراحیاء)
وکذا فی تکملة فتح الملهم: (4/87،دارالعلوم كراچی)
وکذافی فتح الباری: ( 10/329، قدیمی)
وکذا فی البحرالرائق: ( 8/349،رشیدیہ)
وکذافی سنن الترمذی: ( 441/،دارالکتب)
وکذا فی موطاامام مالک: ( 24/قدیمی)

واللہ اعلم بالصواب
ايثار القاسمی غفر لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
4/8/1440،2019/4/10
جلد نمبر :19 فتوی نمبر :9

ايك مسجد ميں چھپکلیاں بہت ہیں کیاان کومارنادرست ہے،اگردرست ہےتوان كو مارنےپراجربھی ہےیانہیں ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

جی ان کومارنادرست ہےاوران کومارنےپراجروثواب بھی ہے،چنانچہ ایک حدیث میں ہےکہ چھپکلی کوپہلی ضرب سے مارنےپرسونیکیاںملتی ہیں اوردوسری ضرب پر اس سے کچھ کم اورتیسری ضرب پراس سےبھی کچھ کم اجرملتاہے۔

لما فی الصحيح لمسلم : ( 2/243،رحمانيه)
“حدثناقتيبة بن سعيد۔۔۔۔۔۔من قتل وزغافي اول ضربةكتبت له مائة حسنة وفي الثانيةدون ذلك وفي الثالثةدون ذلك.”
وفی الصحیح البخاری: ( 1/583،رحمانیہ)
“حدثناصدقۃبن الفضل۔۔۔۔ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم امرھابقتل الاوزاغ.”
وکذافی سنن ابن ماجہ: ( 365/رحمانیہ)
وکذا فی جامع الترمذی: (1/405،رحمانیہ)
وکذا فی سنن النسائی: ( 2/32،رحمانیہ)
وکذافی سنن ابی داود: ( 2/373،رحمانیہ)
وکذا فی سنن الکبری: ( 5/345،دارالکتب)

واللہ اعلم بالصواب
ايثار القاسمی غفر لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
5/8/1440،2019/4/11
جلد نمبر :19 فتوی نمبر :8

جوگائےاپناپیشاب پیتی ہے،اس کےدودھ کاکیاحکم ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

گندگی کھانےاورپیشاب پینےکی وجہ سےجس جانورکےگوشت اوردودھ میں بدبوپیداہوجائےاس کےدودھ وغیرہ کےاستعمال کومکروہ کہاگیاہےلیکن گوشت اوردودھ میں واضح بدبوپیدانہ ہوتوبلاکراہت دودھ وغیرہ کااستعمال درست ہے۔

لما فی الہندیہ: (5 /289،290، رشیدیہ)
وروى ابن رستم عن محمد – رحمه الله تعالى – في الناقة الجلالة والشاة الجلالة والبقرة الجلالة: إنما تكون جلالة إذا نتن وتغير لحمها ووجدت منه ريح منتنة فهي الجلالة حينئذ لا يشرب لبنها ولا يؤكل لحمها وبيعها وهبتها جائز، هذا إذا كانت لا تخلط ولا تأكل إلا العذرةغالبافان خلطت فلیست بجلالۃفلاتکرہ
وفی المحیط البرھانی: ( 8/444، داراحیاء)
“والجلالۃالتی تعتاداکل الجیف،ولاتختلط ویکون منتناوانماکرہ الاستعمال ۔۔۔۔فاما یختلط ۔۔۔فلاباس باکل لحمہ والعمل علیھا
وکذافی الشاميه: ( 9/511، رشيديه)
وکذا فی اعلاءالسنن: ( 17/194، اداراةالقرآن)
وکذافی التاتارخانيه: ( 18/502، فاروقيه)
وکذا فی تبيين الحقائق: ( 6/10، امداديه)
وکذافی الفقه الحنفی: ( 5/212،الطارق )
وکذا فی حاشية الطحطاوی علی الدر المختار: ( 4/157،رشیدیہ )

واللہ اعلم بالصواب
ایثارا القاسمی عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
5/8/1440،2019/4/11
جلد نمبر :19 فتوی نمبر :5

ہمارےہاں بعض اوقات خارش کےمریض کےليےگندےگٹروغیرہ کےپانی سےنہانابطورعلاج تجویزکیاجاتاہے،اس کاشرعی حکم بتادیں آیاایساکرناجائزہےیانہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اگراس کےعلاوہ کسی اور چیزسےعلاج ممکن نہ ہوتو ماہر دین دار ڈاکٹرکے مشورےسے ایساکرنا جائزہے ۔

لما فی الہندیہ : (5/355،رشیدیہ)
” يجوزللعليل شرب الدم والبول واكل الميتةللتداوي اذااخبره طبيب مسلم ان شفاءه فيه ولم يجدمن المباح مايقوم مقامه.
وفی الشامية : ( 6/389،سعید)
” (قوله وجوزفي النهايةالخ)ونصه وفي التهذيب يجوزللعليل شرب البول والدم والميتة للتداوي اذااخبره طبيب مسلم ان شفاءه فيه ولم يجدمن المباح مايقوم مقامه.
وکذافی حاشية الطحطاوی علی الدرالمختار : (4/172،رشیدیہ)
وکذا فی الخانیہ : (3 /404،رشیدیہ)
وکذا فی الدرالمختار :(1/210،سعید)
وکذا فی خلاصة الفتاوی:(4/364،365،رشیدیہ)
وکذا فی فتح القدیر :(10/4،5،رشیدیہ)
وکذا فی المحيط البرهانی:(8/82،83،داراحیاء)

واللہ اعلم بالصواب
ایثارالقاسمی غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
5/8/1440،2019/4/11
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :200

السلام علیكم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ” سے زیادہ کوئی الفاظ حدیث سے ثابت ہیں یا نہیں ؟ ایک صاحب غالبا مشکوۃ شریف کے حوالے سے بتلا رہے تھے کہ “ومغفرتہ” کا اضافہ بھی حدیث میں ملتا ہے تحقیق فرمائیں۔

الجواب باسم ملھم الصواب

سلام کے معروف کلمات جو صحیح احادیث سے ثابت ہیں وہ” السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ” تک ہیں اگرچہ “مغفرتہ” کا اضافہ بھی بعض احادیث میں ملتا ہے لیکن ان احادیث پر علماء کرام نے کلام کیاہے اس لیے وہ قابل استدلال نہیں ہیں۔

لما فی جامع الترمذی:(2/556،رحمانیہ)
عن عمران بن حصين، أن رجلا جاء إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: السلام عليكم، قال النبي صلى الله عليه وسلم: عشرثم جاء آخر فقال: السلام عليكم ورحمة الله، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: عشرون. ثم جاء آخر فقال: السلام عليكم ورحمة الله وبركاته، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: ثلاثون.
وفی الھندية:(5/325، رشیدیہ)
والأفضل للمسلم أن يقول: السلام عليكم ورحمة الله وبركاته، والمجيب كذلك يرد، ولا ينبغي أن يزاد على البركات شيء، قال ابن عباس – رضي الله عنهما – لكل شيء منتهى ومنتهى السلام البركات، كذا في المحيط.
وكذا فی سنن ابی داود:(2/365،رحمانیہ)
وکذا فی مشکوة المصابیح:(2/412،رحمانیہ)
وکذا فی مجمع الزوائد:(8/33،دارالکتب العلمیہ)
وکذا فی اوجز المسالك الی مؤطا مالك:(15/118،دارالکتب)
وکذا فی ھامش بذل المجھود:(20/72،قدیمی)
وکذا فی المصنف لعبدالرزاق:(10/390،الاسلامی)
وکذا فی المحیط البرھانی:(8/17،بیروت)

والله اعلم بالصواب
محمد عابد عفی الله عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
26/7/1440، 2019/4/3
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :158

آج کل گھروں میں کمروں کے اندر دروازوںاور کھڑکیوں پر پردےڈال ديئے جاتے ہیں،کیا یہ جائز ہے؟

الجواب باسم ملھم الصواب

اگر ضروت ہو تو دروازوں اورکھڑکیوں وغیرہ پر پردے لٹکانا جائز ہے بشرطیکہ تکبر کی نیت سے نہ ہوں اور ان پر جانداروں کی تصویریں بنی ہوئی نہ ہوں۔

لما فی ردالمحتار:(6/354،سعید)
وفي الغياثية إرخاء الستر على الباب مكروه نص عليه محمد في السير الكبير، لأنه زينة وتكبر. والحاصل: أن كل ما كان على وجه التكبر يكره وإن فعل لحاجة وضرورة لا وهو المختار اهـ هندية وظاهره أنه لو كان لمجرد الزينة بلا تكبر ولا تفاخر يكره لكن نقل بعده عن الظهيرية ما يخالفه تأمل
وكذا فی سنن النسائی:(2/763،رحمانیہ)
وکذا فی الخانية علی ھامش الھندية:(3/412، رشیدیہ)
وکذا فی البزازية علی ھامش الھندية:(6/368،رشیدیہ)
وکذا فی الھندية:(5/331،رشیدیہ)
وکذا فی التاتار خانية:(18/108،فاروقیہ)
وکذا فی البحر الرائق:(8/349،رشیدیہ)
وکذا فی الھداية: (4/456،رحمانیہ)
وکذا فی خلاصة الفتاوی:(4/369،رشیدیہ)
وکذا فی المحیط البرھانی:(8/43،44،بیروت)

والله اعلم بالصواب
محمد عابد عفی الله عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
26/7/1440، 2019/4/3
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :157

: مردوں کے لیے چاندی کی تسبیح استعمال کرنا کیسا ہے؟

الجواب باسم ملھم الصواب

مردوں اورعورتوں دونوں کے لیے چاندی کی تسبیح استعمال کرنا جائز نہیں۔

لما فی الفتاوی الھندیۃ:(5/334،الرشید)
وکذا لا یجوز الاکتحال بمیل الذھب والفضۃ وکذا المکحلۃ وکل ماکان یعودالانتفاع بہ الی البدن کذا فی السراج الوھاج ….. یکرہ الجلوس علی کرسی الذھب والفضۃ والرجال والمراۃ فی ذلک سواء یکرہ النظر فی المرآۃ المتخذ ۃمن الذھب او الفضۃ و ٰیکرہ ان یکتب بالقلم المتخذ من الذھب اوالفضۃ او من دواۃ کذلک ویستوی فیہ الذکروالانثی۔
وکذا فی تنویرالابصار مع شرحہ:(6/341 ، سعید)
وکذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(5/327 ، الطارق)
وکذا فی التاتارخانیہ:(18/121 ، 120 ، فاروقیۃ)
وکذا فی خلاصۃ الفتاوی:(4/371 ، رشیدیۃ)
وکذافی تکملۃ البحر الرائق:(8/ 350 ، 349 ، رشیدیۃ )
وکذا فی الفقہ الاسلامی:(4/ 2632 ، رشیدیۃ)
وکذا فی شرح العینی:(2/373 ، ادارۃالقرآن)
وکذافی الھدایۃ:(4/453 ، رحمانیۃ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد عابد عفی اللہ عنہ
دارالافتاء جامعۃالحسن ساہیوال
17/6/1440 ، 2019/2/23
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :11

جب ماں کے پیٹ میں بچے پر چالیس دن گزر جائیں تو کیا بغیر عذر کے اس کو ضائع کر سکتے ہیں یا نہیں؟ اور کب تک ضائع کر سکتے ہیں؟ اس کی تمام صورتوں کی وضاحت کر دیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

بغیر عذر حمل ضائع کروانا جائز نہیں۔ اگر کو ئی حقیقی عذر ہو تو ماہر اور دین دار ڈاکٹر کے مشورہ سے چار ماہ سے قبل ضائع کروانے کی گنجائش ہے، چار ماہ کے بعد ضائع نہیں کرواسکتے۔

لما فی الفتاوی التاترخانیہ: ( 18/ 202،فارقیہ )
 فنقول اختلف اصحاب رسول اللہﷺ فی العزل۔۔۔الا ان علمائنا قالوا فی المراۃ المنکوحۃ: یشترط رضاھا بالعزل۔۔۔ وفی فتاوی سمر قند: انہ اذا عزل خوفا من الولد السوء لفساد ھذا الزمان فھو جائز من غیر رضی المراۃ(وبعد صفحۃ)وفی الذخیرۃ: و مدۃ استبانۃ الخلق ونفخ الروح مقدرۃ بمائۃ وعشرین یوما، وفی الیتیمۃ: سالت علی بن احمد عن اسقاط الولد قبل ان یصور،فقال: اما الحرۃ فلا یجوز قولا واحدا، وامافی الامۃ فقد اختلفوا فیہ، والصحیح ھوالمنع
وفی روح المعانی : ( 15/66 ،دار احیاء التراث )
{وَلا تَقْتُلُوا أَوْلادَكُمْ خَشْيَةَ إِمْلاقٍ} وظاهر اللفظ النهي عن جميع أنواع قتل الأولاد ذكورا كانوا أو إناثا مخافة الفقر والفاقة
وکذا فی صحیح البخاری: (2 /265و292،291 ،رحمانیہ )
وکذافی الشامیہ: ( 4/335 ،دار المعرفہ )
وکذا فی فتح الملہم: ( 6/ 452 ،دارالعلوم کراچی )
وکذافی الخانیہ علی ھامش الھندیہ: ( 3/410و446 ،رشیدیہ )
وکذا فی الفتا وی الھندیہ: (5 /357،356 ،رشیدیہ )
وکذافی الموسوعہ الفقھیہ: (19 /121،120 ،علوم اسلامیہ )

واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ بن طارق غفر لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
29-07-1440، 2019-04-6
جلد نمبر :18 فتوی نمبر:164