ایک شخص نے دارا لامان سے ایک بچی لی ہے ۔اس کے والدین کے بارے میں کوئی پتا نہیں ہے تو”نادرا”وغیرہ میں بچی کے نام کے ندراج میں یہ شخص والد کی جگہ اپنا نام لکھوا سکتا ہے یا نہیں ؟

الجواب بعون القادر الغفار

کسی بچے کو والد کے علاوہ کسی دوسرے کی طرف منسوب کرنا بالکل جائز نہیں ہے ۔البتہ مذکورہ صورت میں چونکہ بچی کے حقیقی والد کا علم ہی نہیں ہے اور اگر مذکورہ شخص اپنا نام اس بچی کے ساتھ لکھوا دیتا ہے تو اسے سرپرستی اور ایک طرح نسبت حاصل ہو جائے گی اور وہ آئندہ ہمیشہ کے لیے عار سے بچ جائےگی۔لہذا نام وغیرہ کے اندراج کی حد تک اس کی گنجائش معلوم ہوتی ہے۔
لیکن وراثت اور پردے کے معاملے میں یہ لڑکی اجنبی شمار ہوگی ،لہذا اس شخص سے اور اس کے رشتہ داروں سے پردہ کرے گی اور اس کی وراثت کی حق دار بھی نہ ہوگی ۔اگر اس بچی کی عمر 2سال سے کم ہے تو اس شخص کی کوئی محرم خاتون مثلا بیوی ،بہن یا بیٹی اسے اپنا دودھ پلا دے تو ثبوت رضاعت کی وجہ سے پردے کے احکام میں تخفیف ہوجائے گی۔

لما فی سورۃ الاحزاب:(الآیۃ:5،4 )
مَا جَعَلَ اللَّهُ لِرَجُلٍ مِنْ قَلْبَيْنِ فِي جَوْفِهِ وَمَا جَعَلَ أَزْوَاجَكُمُ اللَّائِي تُظَاهِرُونَ مِنْهُنَّ أُمَّهَاتِكُمْ وَمَا جَعَلَ أَدْعِيَاءَكُمْ أَبْنَاءَكُمْ ذَلِكُمْ قَوْلُكُمْ بِأَفْوَاهِكُمْ وَاللَّهُ يَقُولُ الْحَقَّ وَهُوَ يَهْدِي السَّبِيلَ (4) ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ فَإِنْ لَمْ تَعْلَمُوا آبَاءَهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ وَمَوَالِيكُمْ ۔۔۔۔۔۔۔
و فی البحر الرائق:(5/243،رشیدیہ)
(قوله ويثبت نسبه من واحد) استحسانا لاحتياجه إليه أطلقه فشمل الملتقط وغيره۔۔۔۔۔۔ وجه الاستحسان أنه إقرار للصبي بما ينفعه لأنه يتشرف بالنسب ويعير بعدمه۔
وفی المحیط البرھانی:(8/159،دار احیاء التراث)
إذا ادعى الملتقط نسب اللقيط فالقياس أن لا تصح دعوته۔۔۔۔۔وفي الاستحسان: تصح دعوته؛ لأن هذا إقرار على نفسه من وجه من حيث أنه تلزمه نفقته، ويجب عليه أن يحفظه، ثم إن كان ھذا إقراراً على اللقيط فهو إقرار عليه بما ينفعه من كل وجه، وبالالتقاط ثبت لہ هذه الولاية۔
وکذافی فتح القدیر(6/105، رشیدیہ)
و کذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(2 /277،الطارق)
وکذ افی البحر الرائق :(3 /388،رشیدیہ)
و کذافی التفسیر المنیر:(11/257،امیر حمزہ)
و کذافی الصحیح للامام مسلم:(2/326،رحمانیہ)
و کذافی فتح الباری:(6/670،قدیمی)

واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ بن طارق
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
9/5/1440
6/1/2019
جلدنمبر :17 فتوی نمبر :109

اسلام قبول کرنے سے متعلق آداب و احکام اور مسائل تحریر فرمادیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اسلام قبول کرنے کے آداب
جو شخص اسلام قبول کرے تو وہ مندرجہ ذیل تین کام کرے۔(1)سب سے پہلے غسل کرکے صاف ستھرے کپڑے پہن لے۔(2)پھر کسی اللہ والے کی مجلس میں حاضر ہو کر کلمہ شہادت پڑھے ۔(3)اسلام کے علاوہ باقی تمام ادیان سے برائت کا اعلان کرے،اور اسے ”صفت ایمان مُفَصَّل“ و”مُجمَل“ کی بھی تلقین کرائی جائے۔
جب اسلام قبول کرچکے تو درج ذیل تین باتوں کا اہتمام کرے۔(1)کسی متبع شریعت اللہ والے کے ہاتھ پر بیعت کرلے۔(2)جتنا جلد ہو سکے روزمرہ زندگی کے تمام احکام دین بالخصوص نماز و قرآن سیکھنے کا اہتمام کرے۔(3)اگر اس کے نام کے معنی میں شرک یا ناپسندیدگی پائی جاتی ہو تو اسے تبدیل کر کے اچھا نام تجویز کردیا جائے۔

لما فی صحیح البخاری: (1 / 384 ، رحمانیہ)
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، عن إسماعيل، عن قيس، سمعت جريرا رضي الله عنه، يقول: بايعت رسول الله صلى الله عليه وسلم على شهادة أن لا إله إلا الله، وأن محمدا رسول الله، وإقام الصلاة، وإيتاء الزكاة، والسمع والطاعة، والنصح لكل مسلم .
وفی فتح القدیر: ( 6/ 66،رشیدیہ )
وفي شرح الطحاوي: سئل أبو يوسف عن الرجل كيف يسلم؟ فقال: يقول أشهد أن لا إله إلا الله وأن محمدا عبده ورسوله، ويقر بما جاء به من عند الله، ويتبرأ من الدين الذي انتحله.
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ: (4 / 2753، رشیدیہ)
ويسن أن تغير الأسماء القبيحة، وما يتطير بنفيه لخبر مسلم:((أنه صلّى الله عليه وسلم غيَّر اسم عاصية، وقال: أنت جميلة)). وفي الصحيحين أنه غير اسم بَرّة إلى زينب، وهي زينب بنت جحش.
وفی فتح الباری: ( 8/ 109و111 ، قدیمی)
فقال: ((أطلقوا ثمامة)) فانطلق إلى نخل قريب من المسجد، فاغتسل ثم دخل المسجد، فقال: أشهد أن لا إله إلا الله، وأشهد أن محمدا رسول الله، يا محمد، والله ما كان على الأرض وجه أبغض إلي من وجهك، فقد أصبح وجهك أحب الوجوه إلي، والله ما كان من دين أبغض إلي من دينك، فأصبح دينك أحب الدين إلي، والله ما كان من بلد أبغض إلي من بلدك، فأصبح بلدك أحب البلاد إلي، وإن خيلك أخذتني وأنا أريد العمرة، فماذا ترى؟ فبشره رسول الله صلى الله عليه وسلم وأمره أن يعتمر[وبعد صفحہ]وفی قصة ثمامة من الفوائد ۔۔۔ وفيه الاغتسال عند الإسلام .
وکذا فی حیاۃ الصحابہ: ( 1/141و 144و157، دار المعرفہ)
وکذافی البحر الرائق : (5 / 216، رشیدیہ)
وکذا فی التنویر وشرحہ مع الشامیہ: (1 / 339، دار المعرفہ)
وکذافی الموسوعہ الفقہیہ: (4 / 263 ، علوم اسلامیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ بن طارق
دار الافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
28-02-2019 ,1440-06-22
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :52

کفار سے محبت بھی نہیں کرنی چاہیے جیسا کہ قرآن مجید میں ان سے دوستی کرنے سے منع کیا گیا ہے، اور نفرت بھی انسانیت کے ناطے نہیں کرنی چاہیے۔ اب درمیان والی کونسی کیفیت ہو جس کو اپنایا جائے؟ اس کیفیت کی وضا حت کر دیں ۔

الجواب حامداً ومصلیاً

کافروں سے ان کے کفر پر ہوتے ہوئے نہ تو دلی محبت و الفت ہونا چاہیے اور نہ ہی آدمی کے افعال ومعاملات سے ان کافروں کے ساتھ بغض و عداوت ظاہرہونا چاہیے بلکہ دل میں اس لیے رحم ہونا چاہیے کہ یہ بھی اللہ کی مخلوق ہے ، یہ جہنم کی آگ سے کیسے بچ سکتے ہیں؟ اس وجہ سے ان کے ساتھ معاملات کو نرم رکھنا چاہیے، اس سلسلہ کی بہترین تقریر و تحریر حضرت مفتی شفیع صاحب رحمہ اللہ “معارف القرآن” میں فرماتے ہیں:
”دو شخصوں یا دو جماعتوں میں تعلقات کے مختلف درجات ہوتے ہیں، ایک درجہ تعلق کا قلبی موالات یا دلی مودّت و محبت ہے، یہ صرف مومنین کے ساتھ مخصوص ہے غیر مومن کے ساتھ مومن کا یہ تعلق کسی حال میں قطعا جائز نہیں۔ دوسرا درجہ مواسات کا ہے جس کے معنی ہیں ہمدردی و خیر خواہی اور نفع رسانی کے، یہ بجز کفار اہل حرب کے جو مسلمانوں سے برسر پیکار ہیں باقی سب غیر مسلموں کے ساتھ جائز ہے۔۔۔ تیسرا درجہ مدارات کا ہے جس کے معنی ہیں ظاہری خوش خلقی اور دوستانہ برتاؤ کے، یہ بھی تمام غیر مسلموں کے ساتھ جائز ہے، جبکہ اس سے مقصود ان کو دینی نفع پہنچانا ہو یا وہ اپنے مہمان ہوں، یا ان کے شر اور ضرر رسانی سے اپنے آپ کو بچانا مقصود ہو۔۔۔چوتھا درجہ معاملات کا ہے کہ ان سے تجارت یا اجرت و ملازمت اور صنعت و حرفت کے معاملات کئے جائیں، یہ بھی تمام غیر مسلموں کے ساتھ جائز ہے۔

(معارف القرآن : 2/51،50 ، ادارۃ المعارف،کراچی)
واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ بن طارق غفر لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
10-08-1440، 2019-04-16
جلد نمبر :19 فتوی نمبر :31

بعض لوگ نظر بد سے بچنے کے لیے مکان پر کالا برتن رکھ دیتے ہیں، اسی طرح ٹریکٹر وغیرہ پر پرانا جوتا لٹکا دیتے ہیں۔ کیا یہ درست ہے؟ نظر بد سے بچنے کی کوئی تدبیر حدیث میں مذکور ہے یا نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اس طرح کا ٹوٹکا لوگ عموما ایسی چیزوں کو نظر بد سے بچانے میں واقعی مؤثر سمجھ کر اختیار کرتے ہیں، جو کہ سراسر بد اعتقادی اور ناجائز ہے۔ البتہ اس کو محض تدبیر سمجھ کر اور اللہ تعالی کی ذات کو مؤثر حقیقی جانتے ہوئے اختیار کیا جا سکتا ہے ، جس طرح بیماری کے لیے دوا استعمال کی جاتی ہے۔ جیسےآپﷺ نے کھیتی کو نظر بد سے بچانے کے لیے اس میں جا نوروں کی کھوپڑیاں لٹکانے کا حکم دیا۔ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے نظر بد کے علاج کے طور پر ایک بچے کی ٹھوڑی پر کالک لگانے کا حکم دیا ، لیکن لوگوں کو بد اعتقادی سے بچانے کے لیے احتیاط بہتر ہے۔

البتہ نظر بد سے بچنے کے لیے احادیث مبارکہ میں اذکار بھی مو جود ہیں مثلا: اس دعا کا پڑھنا ” أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ، مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ وَهَامَّةٍ، وَمِنْ كُلِّ عَيْنٍ لاَمَّةٍ.” اور صبح وشام تین تین مرتبہ سورۃ الاخلاص، سورۃ الفلق اور سورۃ الناس کا اہتمام کرنا اور کسی اچھی چیز کو دیکھ کر برکت کی دعا دینا ۔

لما فی السنن الکبری للبیھقی: ( 6/ 228، دار الکتب العلمیہ)
” أخبرنا أبو حازم الحافظ ۔۔۔عن عمر بن علي بن حسين , أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أمر بتلك الجماجم تجعل في الزرع من أجل العين . “
وفی کنزالعمال: ( 4/ 15 ،رحمانیہ )
“احرثوا فان الحرث مبارک واکثروافیہ من الجماجم۔(د فی مراسیلہ عن علی بن الحسین). “
وفی مرقاۃ المفاتیح: (8 /305 ،المکتبہ التجاریہ )
 وفي شرح السنة: روي أن عثمان – رضي الله عنه – رأى صبيا مليحا فقال: دسموا نونته كيلا تصيبه العين، ومعنى دسموا: سودوا، والنونة النقرة التي تكون في ذقن الصبي الصغير
وفی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید: ( 5/370 ،الطارق )
” ولھذا قال الفقہاء: لا باس بوضع الجماجم بالزرع والمبطخۃ-الارض التی زرع فیھا البطیخ- لدفع ضرر العین
وکذافی الشامیہ: (9 /601 ،دار المعرفہ )
وکذا فی عمل الیوم واللیلۃ للنسائی : (291 ،دار الباز )
وکذافی روح المعانی : (30 /279 ،دار احیاءالتراث )
وکذا فی تفسیر ابن کثیر : (4 /613 ،دار المعرفہ )
وکذافی سنن ابن ماجہ : ( 385 ،رحمانیہ )

واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ بن طارق غفر لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2-08-1440، 2019-04-8
جلد نمبر :19 فتوی نمبر :2

موجودہ دور میں کوئی کوئی آدمی خاندان میں اللہ پاک کے سب احکام پر عمل کی کوشش کرتا ہے ورنہ سب خاندان والےاللہ کے احکام پر عمل کرنے والے کو انتہا پسند ،دقیانوس ،پاگل وغیرہ کے القابات سے نوازتے ہیں۔ آپ سے سوال ہے کہ اللہ پاک کے احکام پر عمل کرنے کے لیے ایسے قریبی رشتہ داروں سے قطع تعلق ہو جائےتو کیا درست ہے ؟

الجواب باسم ملہم الصواب

قرآن وحدیث میں صلہ رحمی کی بہت تاکید ہے ،لہذا قطع تعلق درست نہیں ۔البتہ ایسے رشتہ داروں کو پیار محبت سے سمجھایا جائے ،اگر باز نہ آئیں تو میل جول کم کر دیا جائے ۔اور احکام اسلام پر اس طرح عمل کیا جائے کہ آپ کے عمل کو دیکھ کر دوسرے لوگوں میں نیکی کا شوق اور رغبت پید اہو ۔

لما فی جامع الترمذی :(2/456،رحمانیۃ)
“عن عبد الله بن عمرو قال: قال رسول اللہ صلى الله عليه وسلم: ”الراحمون يرحمهم الرحمن،ارحموا من في الأرض يرحمكم من في السماء، الرحم شجنة من الرحمن،فمن وصلها وصله الله ومن قطعها قطعه الله“ “هذا حديث حسن صحيح.”
وفی سنن ابی داؤد :(2/331،رحمانیۃ)
“عن ابی ھریرۃ قال قال رسولﷺ لا یحل لمسلم ان یھجر اخاہ فوق ثلث فمن ھجر فوق ثلث فمات دخل النار .”
وفی ھامش علی سنن ابی داؤد :(2/331،رحمانیۃ)
“ومن خاف من مکالمہ احد واصلہ ما یفسد علیہ واللہ او یدخل مضرۃ فی دنیاہ یجوز لہ مجانبتہ والبعدعنہ .”
وکذافی الجامع البیان فی تفسیرالقرآن للطبری:(14/109،دارالمعرفۃ)
وکذافی جامع الترمذی :(2/455،رحمانیۃ)
وکذافی روح المعانی :(14/254،دار احیاء)
وکذافی تفسیر المظھری :(4/210،رشیدیۃ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حافظ عبدالرحیم عفی عنہ ووالدیہ
دارالافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
10/8/1440،2019/4/16
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :197

مادہ منویہ کو ٹیسٹ کرانے کے لیے اس کے اخراج کی صورتوں میں سے ایک جلق لگانا (مشت زنی )بھی ہے تو کیا اس صورت میں جلق لگایا جا سکتاہے ۔

الجواب باسم ملہم الصواب

مشت زنی حرام فعل ہے ،لہذا بیوی سے جماع کے وقت منی کو محفوظ کر لیا جائے لیکن اگر کسی وجہ سے یہ ممکن نہ ہو اور جلق ہی ضروری ہو تو اس کی گنجائش ہے ۔

لمافی الشامیۃ:( 1/27،رشیدیۃ)
” (قولہ الاستمناء حرام )ای با لکف اذاکان لاستجلاب الشہوۃ.”
و فی الفتاوی الھندیۃ:(5 355/،رشیدیۃ)
“یجوز للعلیل شرب الدم والبول واکل المیتۃ للتداوی اذا اخبرہ طبیب مسلم ان شفاءہ فیہ ولم یجد من المباح مایقوم مقامہ .”
وکذافی التنویر وشرحہ:(4 /27،رشیدیۃ)
وکذا فی المحیط البرھانی:( 8/82،دار احیاء)
وکذا فی الفتا وی التاتارخانیۃ: (18/200،فاروقیۃ)
وکذافی الجامع لاحکام القرآن للقرطبی:(12/105 ،دار احیاء)
وکذا فی تفسیر المظھری :(5/93،رشیدۃ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حافظ عبدالرحیم عفی عنہ ووالدیہ
دارالافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
8/8/1440،2019/4/14
جلدنمبر:19 فتوی نمبر:3

اسلام میں ڈاڑھی کی حد کیا ہے ؟یعنی کتنی ہونی چاہیے ،اور منڈوانے والے کا کیا حکم ہے ؟

الجواب باسم ملہم الصواب

ڈاڑھی کم ازکم مٹھی بھر لمبی ہونی چاہیے ،ڈاڑھی منڈوانے والا فاسق ہے ۔

لمافی التنویر وشرحہ:) 6/407،رشیدیۃ)
“واخذ اطراف اللحیۃ والسنۃ فیھا القبضۃ۔۔۔۔۔ولذا یحرم علی الرجل قطع لحیتہ.”
وفی الشامیۃ:( 2/418،رشیدیۃ)
“(قوله: وأما الأخذ منها إلخ) بهذا وفق في الفتح بين ما مر وبين ما في الصحيحين عن ابن عمر عنه – صلى الله عليه وسلم – «أحفوا الشوارب واعفوا اللحية» قال: لأنه صح عن ابن عمر راوي هذا الحديث أنه كان يأخذ الفاضل عن القبضة۔۔۔۔۔وعن النبي – صلى الله عليه وسلم – يحمل الإعفاء على إعفائها عن أن يأخذ غالبها أو كلها كما هو فعل مجوس الأعاجم من حلق لحاهم، ويؤيده ما في مسلم عن أبي هريرة عنه – صلى الله عليه وسلم – «جزوا الشوارب واعفوا اللحى خالفوا المجوس» فهذه الجملة واقعة موقع التعليل، وأما الأخذ منها وهي دون ذلك كما يفعله بعض المغاربة، ومخنثة الرجال فلم يبحه أحد اهـ ملخصا.”
وکذا فی صحیح البخاری :(2 /399،رحمانیۃ) وکذافی سنن ابی داود :(2 /224رحمانیۃ)
وکذا فی فیض الباری :(6/100،قدیمی) وکذافی تحفۃ الاحوذی :(8/49،قدیمی)
وکذا فی البحر الرائق:) 8/375،رشیدیۃ( وکذا فی الموسوعۃ الفقھیۃ الکویتیۃ:( 35/225،اسلامیۃ)
وکذا فی فتح الملہم:(2/708،دارالعلوم) وکذا فی الفتا وی التاتارخانیۃ:( 18/211،فاروقیۃ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حافظ عبدالرحیم عفی عنہ ووالدیہ
دارالافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
29/7/1440،2019/4/6
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :152

عصر کے بعد اور مغرب و عشاء کے درمیان سونا کیسا ہے ؟

الجواب باسم ملہم الصواب

عشاء سے پہلے سونے کو حضور ﷺنے نا پسند فرمایا ہے ۔اگر کوئی مجبوری ہو مثلاً نیند کا غلبہ یا تھکاوٹ وغیرہ تو نماز کے وقت میں جاگنے کا بندو بست کر کے سو سکتا ہے ،مثلاً الارم وغیرہ لگا لے ۔عشاء کا وقت داخل ہونے کے بعد سونا مکروہ ہے ،ایک روایت کے مطابق عصر کے بعد بھی سونا درست نہیں ۔

لما فی موسوعۃ الفقہیۃ :(42/17،علوم اسلامیۃ )
یکون النوم مکروھا فی مو اطن منھا :النوم بعد صلاۃ العصر ۔۔۔۔۔۔ومنہ النوم قبل صلاۃ العشاء بعد دخول وقتھا ان ظن تیقظہ فی الوقت
وفی جامع الترمذی :(1/139،رحمانیۃ )
عن ابی برزۃ قال کان النبی ﷺیکرہ النوم قبل العشاء ۔۔۔۔۔قال ابو عیسی حدیث ابی برزۃ حدیث حسن صحیح
وکذا فی فتح الباری :(2/62،قدیمی )
وکذا فی تحفۃ الاحوذی :(1/534،قدیمی )
وکذا فی معارف السنن: (2/81،سعید)
وکذا فی المستدرک علی الصحیحین :5/215،قدیمی)
وکذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(5/499،الطارق)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حافظ عبدالرحیم عفی عنہ ووالدیہ
دارالافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
13/7/1440،2019/3/21
جلد نمبر : 18 فتوی نمبر : 57

میری ایک بیکری ہے ،کبھی ایسا ہوتا ہے کہ کسی دکان دار کے پاس مال خراب ہو جاتا ہے وہ ہمارے پاس بھیج دیتا ہے اور وہ مال انسانوں کے کھانے کے قابل نہیں ہوتا اور ہمارے قریب میں کوئی ایسا نظم بھی ممکن نہیں ہے کہ جانوروں مثلا بھیڑ بکریوں کو کھلا دیا جائے ،تو کیا ہم اس مال کو جلا سکتے ہیں؟ جلانے کا ایک مقصد تو یہ ہے کہ مال جلد از جلد ٹھکانے لگ جائے ورنہ دو دن بعد وہ جلانے کے قابل بھی نہیں رہتا اور بیماریوں کا سبب بننے کے علاوہ متعلقہ محکمہ کی کاروائی کا باعث ہو سکتا ہے ،دوسرا مقصد یہ بھی ہے کہ اس طرح ہماری لکڑی کی بچت ہو جاتی ہے کہ مال بطور ایندھن استعمال ہو سکتا ہے۔

الجواب باسم ملہم الصواب

بہتر یہ ہے کہ یہ خراب مال جانوروں کو کھلانے کی کوئی صورت بنائی جائے ،اگر ایسی کوئی صورت ممکن نہ ہو تو جلایا جا سکتا ہے ۔

وفی”الفتاوی الھندیۃ”:(5/337،رشیدیۃ)
“ولو غسل یدہ او راسہ بالنخالۃ او احرقھا ان لم یبق فیھا شیئ من الدقیق وھی نخالۃ تعلف بھا الدواب لا باس بہ ۔”
وفی”شرح الحموی علی الاشباہ والنظائر”:(1/102و106،ادارۃالقرآن)
“القاعدۃالثانیۃ:الاموربمقاصدھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔(بعدصفحات)وقالوا:الاکل فوق الشبع حرام بقصد الشھوۃ ،وان قصد بہ التقوی علی الصوم۔۔۔۔۔۔فمستحب۔”
وکذا فی”الفقہ الاسلامی وادلتہ”(4/2592،رشیدیۃ)
وکذا فی”البحرالرائق”(7/337،رشیدیۃ)
وکذا فی”المحیط البرھانی”(8/54،دار احیائ)
وکذا فی”الفتاوی التاتارخانیۃ”(18/135،فارقیۃ)
وکذا فی”الاشباہ والنظائر”(33،31،قدیمی)
وکذا فی”الترمذی”(2/443،رحمانیۃ)
وکذافی”البخاری”(1/99،رحمانیۃ)

واللہ اعلم بالصواب
حافظ عبدالرحیم عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال

29/4/1440،2019/1/6
جلد نمبر :17 فتوی نمبر 65

قبرمیں کھجورکےپتوں کی چٹائی بچھاناکیساہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

مکروہ تحریمی ہے۔

لمافی ردالمحتار:(2/234،سعید)
“ویکرہ ان یوضع تحت المیت فی القبرمضربۃاومخدۃاوحصیراونحوذالک۔۔۔۔۔۔۔ فالکراھۃ تحریمۃ.”
وفی حاشیۃالطحطاوی علی مراقی الفلاح:(608،قدیمی)
” ویکرہ ان یوضع تحت المیت فی القبرمضربۃ،اومخدۃ،اوحصیر،اونحوذالک.”
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(2/1536،رشیدیہ) وکذا فی النھرالفائق :(1/401،قدیمی)
وکذا فی المحیط البرھانی:(3/92،داراحیاء) وکذا فی التاتارخانیہ:(3/68،فاروقیہ)
وکذا فی البحرالرائق:(6/338،رشیدیہ) وکذا فی مراقی الفلاح :(610،قدیمی)
وکذا فی کتاب الفقہ علی مذاھب الاربعۃ:(1/453،حقانیہ)

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
عبدالخالق غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
شوال المکرم1441،15، 7جون2020