نہاد “کے معنی کیا ہیں؟ اور یہ نام رکھنا جائز ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

“نُہاد”(نون کے پیش کے ساتھ) کامعنی ہےمقداراور” نِہاد” (نون کے زیر کےساتھ) کامعنی ہے’اصل،بنیاد،خصلت، عادت)
معنی کے اعتبار سےیہ دونوں لفظ، نام رکھنے کے لئے مناسب نہیں، اس لئے بہتر یہ ہے کہ حضرات انبیاءکرام علیھم السلام، صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اور بزرگان دین رحمھم اللہ کے نام پر یا اچھے اور با مقصد معنی والے نام رکھے جائیں۔

لمافی فرہنگ آصفیہ:(4/3308،فیصل)
” نِہاد :(اسم مؤنث )اصل،بنیاد، خلقت، سیرت۔ ”
وکذا فی المنجد:(841،الشرقیہ،بیروت)
وکذافی لغات فارسی:(522،عمر،لاھور)
وکذافی الشامیة:(9/689،دارالمعرفہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمداحسن ابراہیم غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
20،5،1443-2021،12،25
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:78

پاؤں کے ناخن کاٹنے کا مسنون طریقہ کیا ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

کتب حدیث میں ناخن کاٹنے کا مسنون طریقہ تو مذکور نہیں،البتہ پاؤں کے ناخن کاٹنے کا مستحب طریقہ یہ ہے کہ دائیں پاؤں کی چھوٹی انگلی سے انگوٹھے تک اور پھر بائیں پاؤں کےانگوٹھے سے چھوٹی انگلی تک کاٹنے چاہییں۔

لمافی فتح الملھم:(2 /332 ،دار العلوم)
” یبدا فی الرجلین بخنصر الیمنی الی الابھام ، وفی الیسری بابھامھا الی الخنصر۔ “
وفی الھندیہ:(5/358،رشیدیہ)
” فی الرجل یبدا بخنصر الیمنی و یختم بخنصر الیسری۔”
وکذافی فتح الباری:(10/423،قدیمی)
وکذافی الشامیة :(5/260،دار احیا ءالتراث)
وکذافی بذل المجھود:(17/42،قدیمی)
وکذافی مرقاةالمفاتیح :(8/209،التجاریة)
وکذافی مجمع الانھر:(4/226،المنار)

واللہ اعلم بالصواب
احسن ابراہیم غفر لہ و لوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
12/4/1443-2021/11/18
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:110

کچھ لوگ کہتے ہیں کہ گانا بغیر موسیقی پڑھنا، گنگناناجائز ہے، گانا پڑھنا حرام نہیں، موسیقی حرام ہے، اس بارے میں بتا دیں ۔

الجواب حامداًومصلیاً

بغیر میوزک کے ایسے اشعار و گانے پڑھنا اور گنگنانا جائز ہیں، جن میں خلاف شریعت کوئی بات نہ ہو، مثلاً اللہ تعالی، رسول اللہﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کی طرف جھوٹی بات منسوب نہ ہو، شرکیہ یا کفریہ کلام نہ ہو، فحاشی، عریانی، اور گناہ کی دعوت پر مشتمل مضامین نہ ہو، کسی متعین نامحرم یا بے ریش لڑکے کی تعریف وتحسین نہ کی گئی ہواور ان کی وجہ سے فرائض وواجبات میں سستی اور غفلت لازم نہ آئے وغیرہ۔

لمافی الشامیة:(9/578،دارالمعرفہ)
قراءۃ الاشعار ان لم یکن فیھا ذکر الفسق والغلام نحوہ لاتکرہ وفی الظہیریۃ قیل معنی الکراھۃ فی الشعر ان یشغل الانسان عن الذکر والقراءۃ فلابأس بہ
واعلم ان ماکان حراما من الشعر مافیہ فحش او ھجو مسلم او کذب علی اللہ تعالی او رسولہ ﷺاو علی الصحابۃ او تزکیۃ النفس اوالکذب اوالتفاخر المذموم اوالقدح فی الانساب وکذا مافیہ وصف امرد او امرأۃ بعینھا اذا کان حیین فانہ لایجوز وصف امرأۃ معینۃ حیۃ ولا وصف امرد معین حیّ حسن الوجہ بین یدی الرجال ولافی نفسہ
وفی الخانیة علی ہامش الھندیة:(3/406،رشیدیہ)
اما استماع صوت الملاھی کالضرب بالقضیب وغیر ذلک حرام ومعصیۃ لقولہ علیہ الصلوۃوالسلام استماع الملاھی معصیۃ ۔۔۔۔ اما قراءۃ اشعار العرب ماکان فیھا من ذکر الفسق والخمر والغلام فمکروہ لانہ ذکر الفواحش
وفی الفتاوی التاتارخانیة:(18/187،فاروقیہ)
قراءۃ الاشعار ان لم یکن فیھا ذکر الفسق الغلام ونحوہ لا یکرہ و فی الظہیریۃ وقیل معنی الکراھۃ فی الشعر ان یشتغل الانسان فیشغلہ ذلک عن قراءۃ القرآن والذکر، اما اذا لم یکن ذلک فلابأس بہ ۔۔۔۔استماع صوت الملاھی کالضرب بالقصیب وغیر ذلک حرام من الملاھی۔۔۔۔ وفی النوازل قراءۃ شعر الادب ان کان فیہ ذکر الفسق والخمر والغلام یکرہ۔
وکذافی الفقہ السلامی وادلتہ:(4/2664،رشیدیہ) وکذافی المحیط البرھانی:(8/77،علوم اسلامیہ)
وکذافی البحر الرائق:(8/346،رشیدیہ) وکذافی الھندیة:(5/351،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمداحسن ابراہیم غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
10،7،1443/2022،2،12
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:152

شوہر کا بیوی کے میڈیکل سرٹیفکیٹ پر میڈیکل سٹور کھولنا جائز ہے؟ جبکہ شوہر نے میڈیکل کی تعلیم حاصل نہیں کر رکھی، البتہ اس کو ادویات کی معلومات ہے، اس بارے میں رہنمائی فرما دیں۔

الجواب حامداًومصلیاً

ہماری معلومات کے مطابق میڈیکل سٹور کھولنے کے لیے اپنا سرٹیفکیٹ ہونا قانوناً لازمی ہے، کسی دوسرے کے میڈیکل سرٹیفکیٹ پر میڈیکل سٹور کھولنا، حکومت کے قوانین کی خلاف ورزی ہے اور حکومت کے جائز قوانین کی خلاف ورزی شریعت کی خلاف ورزی ہے۔

لمافی القرآن المجید:(59،النساء)
یاایھاالذین اٰمنو ااطیعوااللہ واطیعواالرسول واولی الامر منکم۔۔۔۔۔
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(8/6197،رشیدیہ)
وحینٔذ تصبح القوانین والتکالیف التی تصدر عن الحاکم واجبۃ التنفیذ، کالالزام بالتجنید الاجباری وفرض الضرائب علی الاغنیاء بالاضافۃ الی الزکاۃ کلما دعت حاجۃ البلاد الی ذلک
وفی الشامیة:(4/264،ایچ۔ ایم۔ سعید)
مطلب فی وجوب طاعۃ الامام، افترض علیہ اجابتہ والاصل فیہ قولہ تعالی واولی الامر منکم وقالﷺ اسمعواواطیعوا ولو امر علیکم عبد حبشی اجدع۔۔۔۔ ولو طلبواالموادعۃ اجیبواالیھاان خیرا للمسلمین۔
وکذافی تفسیر المظھری :(2/143،رشیدیہ)
وکذافی عمدة القاری:(13/218،احیاءالتراث)
وکذافی الموسوعة الفقہیة:(19/33،علوم اسلامیہ)
وکذافی مقالات عثمانی:(2/506،معارف القرآن)
وکذافی الاشباہ والنظائرفی الفقہ الحنفی:(124،قدیمی)
وکذافی الشامیة:(4/145،ایچ۔ایم۔سعید)

 

واللہ اعلم بالصواب
محمداحسن ابراہیم غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
20/7/1443-2022/2/22
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:198

ایک عالِم کے لیے ایسے رشتہ داروں کے ہاں شادی وغیرہ کی تقریب میں جانا کیسا ہے؟ جہاں یقین ہو کہ گانا بجانا ضرور ہو گا۔

الجواب حامداًومصلیاً

اگر امید ہو کہ اس کے جانے سے خرافات وغیرہ ختم یا کم ہو جائیں گی، تو ضرور جانا چاہیے، لیکن اگر یقین ہو کہ ختم یا کم نہ ہوں گی تو پھر نہیں جانا چاہیے۔

لمافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(4/2621،رشیدیہ)
ان علم المدعو بوجود منکر کلعب وغناء وملاہ ونصب تماثیل وصور مجسمۃ علی الحیطان او الاستار او الوسائد قبل حضورہ فلا یحضر۔۔۔۔ فان قدر علی المنع ، منعھم لقولہ ﷺ:من رای منکم منکراً فلیغیرہ بیدہ افان لم یستطع فبلسانہ، فان لم یستطع فبقلبہ و ذلک اضعف الایمان ۔
وفی الھندیة:(5/343،رشیدیہ)
اما اذا علم قبک الحضور فلا یحضر لانہ لایلزمہ حق الدعوۃ بخلاف ما اذا ھجم علیہ لانہ قد لزمہ کذا فی السراج الوھاج وان علم المقتدی بہ بذلک قبل الدخول وھو محترم یعلم انہ لو دخل یترکون ذلک فعلیہ ان یدخل والا لم یدخل
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(5/339،طارق)
وکذافی الشامیة:(5/221،دار احیاء التراث العربی)
وکذافی الموسوعة الفقہیة:(45/239،علوم اسلامیہ)
وکذافی البحر الرائق:(8/364،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(18/190،فاروقیہ)
وکذافی الخانیة علی ھامش الھندیة:(3/406،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمداحسن ابراہیم غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
20/8/1443-2022/3/24
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:62

زیر ناف بال کاٹنے کی حدود کیا ہیں ؟ بغلوں کے بال ختم کرنےکا شرعی طریقہ کیا ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

ناف کے نیچے سخت ہڈی (پیڑ کی ہڈی)سے لے کر پیشاب و پاخانہ کی جگہ اور اس کے ارد گرد جہاں تک جسم کے ناپاک ہونے کا خطرہ ہو وہاں تک بال کاٹے جائیں۔
بغلوں کے بال ختم کرنے کامسنون طریقہ تو اکھیڑنا ہے ،لیکن اگر درد یا تکلیف ہو تو مونڈنا بھی جائز ہے۔

لمافی الشامیة:(5 /261 ،دار احیاءالتراث)
یستحب حلق عانتہ )قال فی الہندیۃ و یبتدئ من تحت السرۃ ولو عالج بالنورۃ یجوز کذا فی الغرائب و فی الاشباہ و السنۃ فی عانۃ المراۃ النتف (قولہ و تنظیف بدنہ )بنحو ازالۃ الشعر من ابطیہ ویجوز فیہ الحلق و النتف اولی
وفی الموسوعة الفقہیة :(18/100،علوم اسلامیہ )
” اما حلق شعر الابط فجائز لمن شق علیہ النتف و الافضل فی النتف “
وکذافی فتح الباری:(10/421،قدیمی)
وکذافی فتح الملھم :(2/332،دارالعلوم)
وکذافی الہندیة :(5/385،رشیدیہ)
وکذافی الموسو عة الفقہیة :(29/233،علوم اسلامیہ)

واللہ اعلم بالصواب
احسن ابراہیم غفر لہ و لوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
29/4/1443،2021/12/5
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:155

زوجین نے ایک دوسرے کو جو تحفے، تحائف دیے ہوئے تھے ،علیحدگی کے بعد ان کے شرعا واپس لینے یا نہ لینے کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

نکاح کے بعد جو تحائف دیے، اب علیحدگی کے بعد ان کو واپس لینا جائز نہیں۔

لمافی سنن ابی داود:(2 /143 ،رحمانیہ)
عن ابن عمر وابن عباس عن النبی ﷺ قال لا یحل لرجل ان یعطی عطیۃ او یھب ھبۃ فیرجع فیھا الا الوالد فیما یعطی ولدہ و مثل الذی یعطی العطیۃثم یرجع فیھا کمثل الکلب یاکل فاذا شبع قاء ثم عاد فی قیئہ
وفی الخانیة علی ہامش الہندیة :(3/273،رشیدیہ)
” اذا وھب احد الزوجین لصاحبہ لا یرجع فی الھبۃ وان انقطع النکاح بینھما.”
وفی المحیط البرھانی :(9/188،علوم اسلامیہ)
“وھب لامراۃ ،ثم تزوجھا ، فلہ ان یرجعھا فیھا ولو وھب لامراتہ ھبۃ ثم ابانھا فلیس لہ ان یرجع فیھا.”
وکذافی بدائع الصنائع :(5/192،رشیدیہ)
وکذافی الھندیہ:(4/386،رشیدیہ)
وکذافی الشامیة:(8/596،دارالمعرفہ)
وکذافی السراجیہ :(407،زمزم)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(14/485،فاروقیہ)

واللہ اعلم بالصواب
احسن ابراہیم غفر لہ و لوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
2/5/1443،2021/12/7
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:1

ختنہ کروانا فرض ہے یا سنت؟ اور کتنی عمر تک کے لڑکے کا ختنہ کروانا چاہیے؟

الجواب حامداًومصلیاً

ختنہ کروانا سنت ہے، اور بچہ کے بالغ ہونے سے پہلے جب بھی برداشت کرنے کی طاقت رکھتا ہو کروا دینا چاہیے، البتہ بعض فقہاء نے سات سے دس سال تک کی عمر لکھی ہے۔

لمافی الموسوعة الفقہیة:(19/27،29،علوم اسلامیہ)
ذھب الحنفیۃ والمالکیۃ ۔۔۔۔الی ان الختان سنۃ فی حق الرجال ولیس بواجب وھو من الفطرۃ ومن شعائر الاسلام و(بعد صفحتین) والاشبہ عند الحنفیۃ ان العبرۃ بطاقۃ الصبی اذ لا تقدیر فیہ، فیترک تقدیرہ الی الرأی، و فی قول: انہ اذا بلغ العاشرۃ لزیادۃ الامر بالصلاۃ اذا بلغھا۔
وفی مجمع الانھر:(4/490،منار)
الختان سنۃ و ھو من شعائر الاسلام و خصائصہ، فلو اجتمع اھل بلدۃ علی ترکہ حربھم الامام ووقت الختان غیر معلوم عند الامام فانہ قال لا علم لی بوقتہ، ولم یرو عنھما فیہ شئی وقیل سبع سنین وقیل لا تختن حتی یبلغ و قیل اقصاہ اثنی عشرۃ سنۃ و قیل تسع سنین، وقیل وقتہ عشر سنین لانہ یؤمر بالصلاۃ
وکذافی مرقاة المفاتیح:(8/209،التجاریہ)
وکذافی تبیین الحقائق:(6/227،امدادیہ)
وکذافی الھندیہ:(6/445 رشیدیہ،)
وکذافی الشامیة:(10/515،رشیدیہ)
وکذافی البحر الرائق:(9/359،رشیدیہ)
وکذافی بدائع الصنائع:(6/419،رشیدیہ)

 

واللہ اعلم بالصواب
محمداحسن ابراہیم غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
21،9،1443/2022،4،23
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:2

ایک حاملہ خاتون کے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں اور سب سے چھوٹا بچہ ابھی گود میں دودھ پیتا ہے، اب یہ خاتون چاہتی ہے کہ چھوٹے بچے کی نشونما اور باقی بچوں کی تربیت صحیح ہو سکے، تو کیا اس کی وجہ اپنا حمل ساقط کروا سکتی ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

اگر حمل کی وجہ سے خدانخواستہ عورت یا دودھ پیتے بچے کی جان کو خطرہ ہو یا کسی بڑی بیماری میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہو تو چار ماہ سے پہلے ماہر اور دین دار ڈاکٹر سے مشورہ کر کے حمل ساقط کروا دیا جا سکتا ہے، صرف بچوں کی تربیت کے لئے حمل کو ساقط کرنا جائز نہیں۔

لمافی المحیط البرھانی:(8 /84،ادارة القرآن)
امراۃ مرضعۃ ظھر بھا حبل وانقطع لبنھا ویخاف علی ولدھا الھلاک، ولیس لاب ھذا سعۃ حتی یستأجر الظئر، ھل یباح لھا ان تعالج فی اسقاط الولد قالوا یباح مادام نطفۃ او علقۃ او مضغۃ لم یخلق لہ عضو لانہ لیس بآدمی
وفی الشامیة:( 9/709،دار المعرفة)
وجاز لعذر)کالمرضعۃ اذا ظھر بھا الحبل وانقطع لبنھا ولیس لابی الصبی مایستأجر بہ الظئر ویخاف ھلاک الولد قالوا یباح لھا ان تعالج فی استنزال الدم ما دام الحمل مضغۃ او علقۃ و لم یخلق لہ عضو وقد روا تلک المدۃ بمائۃ وعشرین یوما.”
وفی الخانیة علی ہامش الہندیة:(3/410،رشیدیہ)
اذا اسقطت بغیر عذر الا انھا لاتأثم اثم القتل المرضعۃ اذا ظھر بھا الحبل وانقطع لبنھا و لیس لابی الصغیر ما یستأجر بہ الظئر ویخاف ھلاک الولد قالوا یباح لھا ان تعالج فی استنزال الدم مادام الحمل نطفۃ او علقۃ او مضغۃ لم یخلق لہ عضو قد رواتلک المدۃ بمائۃ وعشرین یوما
وکذافی الھندیة :(5/356،رشیدیہ)
وکذافی البحر الرائق :(8/376،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة :(18/204،فاروقیہ)
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید :(5/204،طارق)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ :(4/2647،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمداحسن ابراہیم غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
19،5،1443/2021،12،24
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:45

اس مسئلہ میں شریعت مطہرہ کا کیا حکم ہے کہ زید کو اپنے فلاں عزیز کے بارے میں یقین کی حد تک ظن غالب ہے کہ اس کی تمام جائیداد میں رشوت کی آمیزش ہے، کیونکہ وہ سرکار کے کسی محکمے میں عہدہ دار ہے، مگر اس عہدےکی تنخواہ سے اتنی جائیداد بنانا نا ممکن ہے۔ سوال یہ ہے کہ اب اگر زید اپنے اس عزیز سے ملنے کے لیے اس کے گھر جائے تو اس کے گھر کا کھانا وغیرہ کھا سکتا ہے؟ اگر کوئی ہدیہ دے تو قبول کر سکتا ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

اگر معلوم ہو کہ اس عزیز کی طرف سے یہ دعوت و ہدیہ حلال آمدن سے ہے تو پھر قبول کرنا جائز ہے، لیکن اگر معلوم نہ ہو بلکہ مخلوط آمدن ہو تو پھر غلبہ کا اعتبار ہو گا، اگر حلال آمدن زیادہ ہو تو پھر قبول کرنا جائز ہے،لیکن اگر حرام آمدن زیادہ ہو تو پھر قبول کرنا جائز نہیں ۔

لمافی المحیط البرھانی :(8/73،ادارة القرآن)
رجل اھدی الی انسان و اضافہ، ان کان غالب مالہ من الحرام فلا ینبغی ان یقبل و یأکل من طعامہ ما لم یخبر ان ذلک المال حلال استقرضہ او ورثہ، وان کان غالب مالہ من حلال، فلابأس بان یقبل ما لم یتبین لہ ان ذلک من الحرام…. فیعتبر الغالب و یبنی علیہ الحکم
وفی الھندیة:(5/342،رشیدیہ)
اھدی الی رجل شیئا او اضافہ ان کان غالب مالہ من الحلال فلا بأس الا ان یعلم بانہ حرام فان کان الغالب ہو الحرام ینبغی ان لا یقبل الھدیۃ ولا یأکل الطعام الا ان یخبرہ بانہ حلال ورثتی او استقرضتہ من رجل
وکذافی مجمع الانھر:(4/186،منار)
وکذافی فتاوی النوازل :(283،حقانیہ)
وکذافی فقہ البیوع :(2/1021،معارف القرآن)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة :(18/175،فاورقیہ)
و کذافی الخانیة علی ہامش الہندیة:(3/400،رشیدیہ)
وکذافی الموسوعة الفقہیة :(20/334،علوم اسلامیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمداحسن ابراہیم غفرلہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
17،5،1443/2021،12،22
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:46