عدت کے دوران عورت اپنے سسر سے پردہ کرے گی یا نہیں ؟ اور بھی بتائیں کہ عورت ہمیشہ کے لیے سسر پر حرام ہے یا شوہر کی وفات کے بعد سسر نکاح کرسکتا ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

فتنہ اور شہوت کا اندیشہ نہ ہو تو سسر سے پردہ ضروری نہیں ، اورعورت اپنے سسر پر ہمیشہ کے لیے حرام ہوتی ہے ۔ اس لیے شوہر کی وفات کے بعد بھی اس سے نکاح نہیں کر سکتی ۔

لما فی الھندیة:(1/535،رشیدیہ)
وان کان المنزل لزوجھا وقد مات عنھا فلھا ان تسکن فی نصیبھا……وتستتر عن سائر الورثۃ ممن لیس بمحرم لھا کذا فی البدائع
وفی احکام القرآن للجصاص:(2/185،قدیمی)
قال ابوبکرحلیلۃ الابن ھی زوجتہ …….وعقد نکاح الابن علیھا یحرمھا علی ابیہ تحریما مؤبدا
وفی الفتاوی الولوالجیة:(1/359،حرمین)
واماالسبع اللاتی حرمن بالسبب فالام والاخت من الرضاع وام المراۃ والربیبۃ اذادخلت بامھا وحلیلۃ الابن ومنکوحۃ الاب والجمع بین الاختین
وکذافی ردالمحتار:(3/537،سعید)
وکذافی حاشیة الطحطاوی:(2/231،رشیدیہ)
وکذافی التنویر مع الدر:(9/605، رشیدیہ)
وکذافی تفسیر المنیر:(2/650،امیرحمزہ)
وکذافی البدائع:(4/292،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
24/6/1442/2021/2/7
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:56

سیاست میں مولانا فضل الرحمٰن کے کردار پر روشنی ڈال دیں اکثر لوگ کہتے ہیں علماء کو سیاست میں نہیں ہونا چاہیے یا انہوں نے اپوزیشن سے اتحاد کیوں کیا ہے جب کہ مریم نواز ایک خاتون ہے اس کے ساتھ مختلف اجلاس میں شریک ہونا ٹھیک نہیں ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

یہ خیال آج کا نہیں بہت پرانا خیال ہے،پہلے بھی لوگ کہا کرتے تھے کہ علماء کا سیاست سے کیا تعلق؟بات یہ ہےکہ جس عالم کے اندر صلاحیت ہو،وہ صحیح طور پر سیاست کو اور پارٹیوں کو سمجھتا ہو اور اس کے اندر صلاحیت ہو کہ سیاست میں شریک ہو کر دوسروں کو اپنا ہم خیال بنا لے گا،غلط بات پر نکیر کرے گا ،صحیح راہ عمل پیش کرے گااس کا سیاست میں شریک ہونا درست اور مفید ہے اور مولانا فضل الرحمٰن کو بھی اللہ تعالیٰ نے ایسی صلاحیتوں سے نوازا ہے کہ سیاست کے میدان میں انہوں نے ہمیشہ درست راہ عمل پیش کیا اور اپنی قائدانہ صلاحیتوں کے ساتھ اسلام کی ترجمانی کی۔

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:ولی اللہ غُفرلہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
11/7/1443/2022/2/13
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:38

زنا سے جو حمل ٹھہرے اس حمل کو ضائع کرانا(ساقط کرانا)کیسا ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

چار ماہ سے پہلے پہلے ضائع کروانے کی اجازت ہے ،بعد میں نہیں۔

لما فی حاشیة الھدایة:(2/19،البشری)
لم یجز إسقاطہ :أی بالمعالجۃ،وھذاإذا استبان خلقہ، وإن کان غیر مستبین الخلق یجوز،أما فی زماننا یجوزوإن إستبان الخلق،وعلیہ الفتوی
وفی الفتاوی الھندیة:(5/356،رشیدیة)
العلاج لإسقاط الولد إذا استبان خلقہ کالشعروالظفرونحوھمالایجوز وإن کان غیر مستبین الخلق یجوز فی زماننا یجوز علی کل حال وعلیہ الفتوی
وفی الفتاوی السراجیة:(332،زمزم کراچی)
إمراۃ عالجت فی إسقاط ولدہا لم تاثم یستبین شییء من خلقہ
وفی المحیط البرھانی :(8/83،دار احیا تراث)
وفی حاشیة الطحطاوی علی الدّر:(2/212،رشیدیة)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:ولی اللہ غُفرلہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
6/7/1443/2022/2/8
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:150

نیندکےبعداُٹھ کرہاتھ دھونےکےبارےکیاحکم ہے؟کیاسنت ہے،چاہےیقین ہوکہ ہاتھ پاک اورصاف ہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اگرہاتھ پاک ہونےکایقین ہوتوبیدارہونےکےبعدہاتھ دھونامستحب ہے۔

لما فی صحیح البخاری:(1/89،رحمانیہ)
عن أبی ھریرۃان رسول اللہﷺ قال:اذاتوضأاحدکم فلیجعل فی انفہ مآءثم لینتثرومن استجمرفلیوترواذااستیقظ احدکم من نومہ فلیغسل یدہ قبل ان یدخلہافی وضوئہ فان احدکم لایدری این باتت یدہ
وفی فتح الباری:(1/350،قدیمی)
قولہ:(واذااستیقظ..من نومہ)أخذبعمومہ الشافعی،والجمھورفاستحبوہ عقب کل نوم…ثم الأمرعندالجمھورعلی الندب
وکذافی فتح القدیر:(1/17،رشیدیہ)
وکذافی تحفةالأحوذی:(1/116،قدیمی)
وکذافی فتح الملھم:(2/296،دارالعلوم کراچی)
وکذافی البحرالرائق:(1/37،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمدعدنان غفرلہ الکریم
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
1/9/1443/2022/4/3
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:114

ایک آدمی کی بیوی فوت ہوگئی ،دوبچےہیں ،بچوں کی عُمردواورچارسال ہے۔بچوں کاباپ ان کی پرورش خودکرناچاہتاہے،جبکہ بچوں کےننھیال(ماموں ،نانی وغیرہ)بچوں کواپنےساتھ لےجانےپرمُصرہیں ۔ کیاباپ کی موجودگی میں وہ بچوں کوساتھ لےجاسکتےہیں؟جبکہ بچوں کی ماں وفات پاچکی ہے۔

الجواب حامداً ومصلیاً

جی ہاں!ننھیال لےجاسکتےہیں،کیونکہ شرعی طورپرماں کےبعدنانی پرورش کی زیادہ حق دارہے۔البتہ جب وہ بچےسمجھ داری کی عمر(بچہ سات اوربچی نوسال)کوپہنچ جائیں تواس وقت باپ پرورش کاحق دارہوگا۔

لما فی الھندیة:(1/541،رشیدیہ)
احق الناس بحضانۃ الصغیرحال قیام النکاح اوبعدالفرقۃ،الاموان لم یکن لہ ام تستحق الحضانۃ بان کانت غیراھل للحضانۃاومتزوجۃبغیرمحرم اوماتت ،فام الام اولی من کل واحدۃوان علت،فان لم یکن للام ام فام الاب اولی ممن سواھاوان علت کذافی فتح القدیر
وفی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(2/212،الطارق)
وحق الحضانۃللامواذاماتت الام ،اولم تقبل بحضانۃالصغیر،اواسقطت حقھا،اوتزوجت باجنبی،ینتقل حق الحضانۃالی ام الام،ثم الی ام الاب
وفی الھندیة:(1/542،رشیدیہ)
والام و الجدۃاحق بالغلام حتی یستغنی وقدربسبع سنین وقال القدوری یاکل وحدہ ویشرب وحدہ ویستنجی وحدہ وقدرہ ابوبکرالرازی بتسع سنین،والفتوی علی الاول،والام والجدۃاحق بالجاریۃحتی تحیض وفی نوادرھشام عن محمد اذابلغت حدالشھوۃفالاب احق وھذاصحیح ھکذافی التبیین
وکذافی الخانیة:(1/422،رشیدیہ) وکذافی البدائع:(3/457،رشیدیہ)
وکذافی فتح القدیر:(4/331،رشیدیہ) وکذافی البحرالرائق:(4/282،رشیدیہ)
وکذافی مجمع الانھرمع ملتقی الابحر:(2/166،المنار) وکذافی الموسوعةالفقھیة:(17/302،اسلامیہ)
وکذافی تنویرالابصارمع الدر:(3/555،سعید) وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(10/7298،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمدعدنان غفرلہ الکریم
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
14/4/1443/1202/11/20
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:111

عورت کا، عورت کےلیےسَترکیاہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

عورت کاعورت کےلیےسَتر،ناف سےگھٹنوں تک ہے،لیکن احتیاط اسی میں ہےکہ سخت مجبوری کےبغیر ہاتھ،پاؤں اور چہرےکےعلاوہ باقی بدن کی طرف نہ دیکھاجائے۔

لما فی البدائع:(4/299،رشیدیہ)
وﺃماالثالث:وھوبیان مایحل من ذلک ومایحرم للمرﺃۃ من المرﺃۃ.فکل مایحل للرجل ﺃن ینظرإلیہ من الرجل،یحل للمرﺃۃ ﺃن تنظرإلیہ من المرﺃۃ.وکل مالایحل لہ،لایحل لھا.فتنظرالمرﺃۃمن المرﺃۃإلی سائرجسدھاإلامابین السرۃوالرکبۃ.لأنہ لیس فی نظرالمرﺃۃإلی المرﺃۃخوف الشھوۃوالوقوع فی الفتنۃ.کمالیس ذلک فی نظرالرجل إلی الرجل. حتی لوخافت ذلک تجتنب عن النظرکمافی الرجل
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(4/2656،رشیدیہ)
المرﺃۃمع المرﺃۃفی النظرکالرجل مع الرجل،لوجودالمجانسۃوانعدام الشھوۃغالباً،وقدتحققت الضرورۃإلی الانکشاف فیمابین النساء.فیمنع النظرإلی العورۃﺃی مابین السرۃوالرکبۃ،ویجوزماسواھامع ﺃمن الشھوۃ،ویحرم مع الشھوۃوخوف الفتنۃ
وکذافی التاتارخانیة:(18/90،فاروقیہ)
وکذافی فتح القدیر:(10/37،رشیدیہ)
وکذافی الھندیة:(5/327،رشیدیہ)
وکذافی التنویرمع الدر:(6/371،سعید)
وکذافی المحیط البرھانی:(8/25،ادارةالقرآن)
وکذافی البحرالرائق:(8/354،رشیدیہ)
وکذافی الموسوعةالفقہیة:(40/359،اسلامیہ)
وکذافی المبسوط للسرخسی:(10/147،دارالمعرفة)
وکذافی الھدایة:(4/463،رحمانیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمدعدنان غفرلہ الکریم
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
17/8/1443/2022/3/21
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:76

ہم سنیاروں کےپاس کان اورناک چھیدنےکی مشین ہوتی ہے،جس سےہم عورتوں،بچیوں کےناک اورکان چھیدتےہیں اسی طرح عورتوں،بچیوں کوبُندے،بالیاں اورپازیب وغیرہ پہناناپڑجاتی ہیں۔اگربغیرچھوئے،مس کیےیہ امورسرانجام دیں توجائزہےیانہیں؟بسااوقات گاہک مجبورکرتےہیں کہ آپ ناک اورکان چھیددیں،بالیاں وغیرہ پہنادیں۔اگردُکانداریہ کام نہ کریں توگاہک دوسری دکان پرچلےجاتےہیں،پھرزیورات بھی انہیں سےبنواناشروع کردیتےہیں اس میں ہمارانقصان ہوتاہے۔وضاحت فرمادیں

الجواب حامداً ومصلیاً

صورتِ مسئولہ میں چونکہ غیرمحرم مردکےسامنےعورت کےچہرےکاکھلنالازم آرہاہےاورچھونےکابھی غالب گمان پایاجارہاہےاوراس میں کوئی شرعی ضرورت بھی نہیں ہے،اس لیےیہ کام مردکےلیےکرناجائزنہیں ہے۔نیزیہ کام گھروں میں عورتوں اورلیڈی ڈاکٹرسےبھی لیےجاسکتےہیں۔

لما فی تنویرالابصارمع الدر:(1/406،سعید)
وتمنع)المرأۃالشابۃ(من کشف الوجہ بین رجال)لالأنہ عورۃبل(لخوف الفتنۃ)کمسہ وإن أمن الشھو،لأنہ أغلظ ولذاثبت بہ حرمۃالمصاھرۃ
وفی الھندیة:(5/329،رشیدیہ)
النظرالی وجہ الأجنبیۃاذالم یکن عن شھوۃلیس بحرام لکنہ مکروہ کذافی السراجیۃولایحل لہ أن یمس وجھھاولاکفھاوان کان یأمن الشھو
وکذافی مجمع الانھر:(1/122،المنار)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(4/2651،رشیدیہ)
وکذافی المبسوط للسرخسی:(10/152،دارالمعرفة)
وکذافی البحرالرائق:(1/470،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/178،الطارق)
وکذافی الفتاوی السراجیة:(323،زمزم)
وکذافی البدائع:(4/295،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمدعدنان غفرلہ الکریم
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
13/5/1443/1202/12/18
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:34

اگرحاملہ عورت دردِزہ میں فوت ہوجائے،تواس کےحمل کونکالاجائےگا یانہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اگرحمل کےزندہ ہونےکایقین ہوتواسےنکالاجائےگا۔

لما فی الھندیة:(1/157،رشیدیہ)
امراۃماتت والْولَدیضطرب فی بطنھاقال محمدیشق بطنھاویخرج الولدلایسع الاذلککذافی فتاوی قاضی خان
وفی البدائع :(4/310،رشیدیہ)
حامل ماتت فاضطرب فی بطنھاولد،فان کان فی اکبرالری انہ حی یشق بطنھا،لاناابتلیناببلیتین فنختاراھونھماوشق بطن الام المیتۃ،اھون من اھلاک الولدالحی
وکذافی التنویروالدر:(2/238،ایچ۔ایم۔سعید)
وکذافی الخانیة:(1/188،رشیدیہ)
وکذافی التاتارخانیة:(18/221،فاروقیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(8/93،ادارةالقرآن)
وکذافی الفتاوی الولوالجیة:(343،حرمین شریفین)
وکذافی الفقہ الاسلامی والتہ:(2/1557،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی السراجیة:(332،زمزم)
وکذافی خلاصةالفتاوی:(4/344،رشیدیہ)
وکذافی البحرالرائق:(2/330،رشیدیہ)
وکذا فی فتح القدیر:(2/150،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمدعدنان غُفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
17/2/1443/2021/9/25
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:27

چڑیااوردیگرحلال پرندوں کےانڈےکھاناکیساہے؟(2)اسی طرح مرغی وغیرہ کےپنجےکھاناکیساہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

حلال ہے۔

(2)

جائزہے۔

لما فی الموسوعةالفقھیة:(5/153،اسلامیہ)
ان خرج البیض من حیوان مأکول فی حال حیاتہ،أوبعدتزکیتہ شرعاً،أوبعدموتہ، وھوممالایحتاج الی التزکیۃکالسمک، فبیضہ مأکول اجماعاً،الااذافسد
وفیہ ایضاً:(8/266،اسلامیہ)
وھوحل أکل بیض مایؤکل لحمہ من الحیوان،وحرمۃأکل بیض مالایحل أکل لحمہ فی الجملۃ
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(4/2600،رشیدیہ)
وفیہ ایضاً :(4/2778،رشیدیہ)
وکذافی البدائع:(4/190،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الحنفی :(5/195،الطارق)
وکذافی الھندیة:(5/290،رشیدیہ)
وکذافی الشامیة:(6/311،سعید)
وکذافی الفتاوی البزازیة:(6/303،رشیدیہ)
وکذافی المصنف لعبدالرزاق:(4/535،الاسلامی)
وکذافی تنقیح الفتاوی الحامدیة:(2/367،قدیمی)

واللہ اعلم بالصواب
محمدعدنان غفرلہ الکریم
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
17/4/1443/2021/11/23
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:145

بچوں کوبہلانےکےلیےیاشوقیہ طورپر،پرندےپالناکیساہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

جائزہےبشرطیکہ اس کےکھانےپینےوغیرہ کاخیال رکھاجائے۔

لما فی الصحیح البخاری:(2/431،رحمانیہ)
حدثناابوالتیّاح قال سمعت انس بن مالک یقول ان کان النبی لیخالطناحتی یقول لاخٍ لی صغیریااباعُمیرمافعل النُّغیر
وفی الشامیة:(6/401، سعید)
قولہ واماللاستئناس فمباح)قال فی المجتبی رامزاً:لابا س بحبس الطیوروالدجاج فی بیتہ،ولکن یعلفھاوھو خیرمن ارسالھافی السکک.وفی القنیۃرامزاً:حبس بلبلافی القفص وعلفھالایجوز.اقول:لکن فی فتاوی العلامۃ قارئ الھدایۃ:سئل ھل یجوزحبس الطیورالمغردۃوھل یجوزعتقھاوھل فی ذلک ثواب000؟فاجاب:یجوزحبسھا للاستئناس بھا،وامااعتاقھافلیس فیہ ثواب
وفی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(5/438،الطارق)
واماامساک الحمام للاستئناس فمباح فلاباس بحبس الطیوروالدجاج فی بیتہ،ولکنہ یعلفھافھوخیرمن ارسالھافی السکک
وکذافی الصحیح لمسلم:(2/218،رحمانیہ)
وکذافی سنن ابی داوٗد:(2/337،رحمانیہ)
وکذافی مشکوٰةالمصابیح:(2/430،رحمانیہ)
وکذافی مرقاةالمفاتیح:(8/619،التجاریہ)
وکذافی شرح الطیبی:(9/152،دارالکتب)
وکذافی معالم السنن:(3/594،المعارف)
وکذافی عون المعبود:(13/139،قدیمی کتب خانہ)
وکذافی تکملةفتح الملھم:(4/225،دارالعلوم کراتشی)

واللہ اعلم بالصواب
محمدعدنان غُفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
17/2/1443/2021/9/25
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:25