آج کل شادی کے بعد عورتیں اپنے نام کے ساتھ شوہر کا نام زوجہ لکھے بغیر لکھتی ہیں، کیا یہ جائز ہے؟(2) آیت ادعوھم لآبائھم کی وجہ سے اس کو حرام کہنا درست ہے؟ (3)عہدِ نبوی صلی اللہ علیہ و سلم اور عہدِ صحابہ میں اس کا کوئی ثبوت ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اپنے نام کے ساتھ شوہر کا نام لکھنا جائز ہے۔ 2)آیت سے اس نسبت کی ممانعت ثابت ہوتی ہے جو نسب کو تبدیل کرنے کی غرض سے باپ کے علاوہ کی طرف کی جائے ، اور شادی شدہ خواتین اپنے نام کے ساتھ شوہر کا نام محض تعارف کے لئے لکھتی ہیں نہ کہ نسب بدلنے کے لئے۔ 3)قرآنِ کریم، عہدِ نبوی صلی اللہ علیہ و سلم اور عہدِ صحابہ میں اس کے نظائر موجود ہیں، مثلاً قرآن کریم میں امراۃ نوح، امراۃ لوط اور امرۃ العزیز یعنی نو ح کی بیوی، لوط کی بیوی، عزیز کی بیوی۔ اور حدیثِ مبارکہ میں امراۃ ابن مسعود، امراۃ ابی طلحۃ اور امراۃ عبدالرحمن کا ذکر ہے۔

لما فی القرآن الکریم:(سورة التحریم، آیة 10)
ضرب اللہ مثلا للذین کفروا امراۃ نوح و امراۃ لوط
وفیہ ایضاً:(سورة یوسف،آیة 30)
و قال نسوۃ فی المدینۃ امراۃ العزیز تراود فتاھا عن نفسہ
وفی الصحیح للبخاری:(1/280،رحمانیہ)
عن ابی سعید الخدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال خرج رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم فی اضحیٰ او فطر الی المصلیٰ ثم انصرف فوعظ الناس و امرھم… جائت امراۃ ابن مسعود تستاذن علیہ
وفی الصحیح للمسلم:(1/83،رحمانیہ)
عن عراک بن مالک انہ سمع اباھریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ یقول ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم قال لاترغبوا عن آبائکم فمن رغب عن ابیہ فھو کفر
وکذافی الصحیح للبخاری:(1/105،رحمانیہ)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(6/296،علوم اسلامیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
3/5/1442/2020/12/19
جلد نمبر : 22 فتوی نمبر:20

جن گھروں میں شادی شدہ بچے والدین کے ساتھ رہتے ہیں،کھاناپیناایک ساتھ ہوتا ہے،وہاں سسر کوئی فروٹ وغیرہ کھانے کی اشیاء لاتا ہےتو کس صورت میں بہو کوبغیر اجازت زبانی استعمال کرنا جائز ہےاور کس صور ت میں زبانی اجازت ضروری ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

جوچیزیں گھر والوں کے عمومی استعمال کی ہیں،وہ بہوبھی اپنے حصے کی بقدراستعمال کرسکتی ہےاورجوکسی ایک فردکے لیے ہیں،ان کا استعمال بغیر اجازت نہیں کرسکتی۔

لمافی المحیط البرھانی:(8/55،داراحیاتراث)
والمختارأنہ لا بأس بالتناول مالم یتبین النھی إماصریحااوعادۃ
وفی الفتاوی الھندیة:(5/340،رشیدیة)
ولودخل بیت صدیقہ وسخن القدروأکل جازولوأخذمن کرم صدیقہ شیئاًوہویعلم أن صاحب الکرم لا یکرہ ذلک لابأس بہ
وکذافی احکام القرآن:3/487،قدیمی)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(18/144،فاروقیة)
وکذافی السنن الکبری للبیہقی:6/160،دارالکتب)
وکذافی سنن الکبری للبیہقی:6/160،دارالکتب)
وکذافی الجامع لاحکام القرآن:(12/314،موسسة التاریخ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:ولی اللہ غُفرلہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
10/5/1443/2021/12/15
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:173

قبلہ کی طرف پاوَں کر کے لیٹنا کیسا ہے؟

الجواب حامداومصلیا

مکروہ ہے۔

لما فی الہندیة:(5/319،رشیدیة)
ویکرہ مد الرجلین الی الکعبۃفی النوم وغیرہ عمدا وکذالک الی کتب الشریعۃ وکذالک فی حال المواقعۃ الاہل
وفی الخانیة:(18/69،فاروقیة)
ویکرہ مد الرجلین الی القبلۃ فی النوم وغیرہ عمدا وکذالک مدالرجلین الی المصحف
وکذا فی التنویر:(1/655،سعید)
وکذافی تبیین الحقائق:(1/168،امدادیة)
وکذا فی الموسوعة الفقھیة:(4/164،علوم اسلامیة)
وکذا فی الشامیة مع الدر:(1/655،سعید)
وکذافی النھر الفائق :(1/287،قدیمی)
وکذا فی فتح القدیر1/234،رشیدیة)
وکذا فی الکفایة علی الھدایة:(1/132،رشیدیة)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:مدثرشریف غفرلہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
8/12/2021/3/5/1443

جلد نمبر:25 فتوی نمبر:193