بیوی اگرحاملہ ہوجائےتوکتنی مدت تک جماع جائزہے،کیونکہ مشہورہےکہ حاملہ عورت کےساتھ چارماہ کےبعدجماع نہیں کرناچاہیے۔

الجواب حامداً ومصلیاً

آپ نے جوسناہےوہ غلط ہے۔شرعی اعتبارسےحاملہ سےہمبستری جائزہے۔البتہ طبی اعتبارسےرہنمائی کے لیےکسی ماہرڈاکٹرسےرجوع کریں۔

لمافی الصیحح لمسلم: (1 / 537 ،رحمانیہ )
 حدثناسعدبن ابی وقاص ان رجلاجاءالی رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم فقال انی اعزل عن امرأتی فقال لہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لم تفعل ذلک فقال الرجل اشفق علی ولدھااوعلی اولادھمافقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوکان ذلک ضآرّاًضرَّفارس والرّوم
و فی الموسوعةالفقھیة: (44 /47 ،علوم اسلامیہ )
وذھب جمہورالفقھاءﺇلی حل وطءالحامل،واستدلوابماوردعن النبی صلی اللہ علیہ وسلم(أن رجلاًجاءﺇلی رسول اللہ فقال:ﺇنی أعزل عن امرأتی، فقال لہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم:لم تفعل ذلک؟فقال الرجل:أشفق علی ولدھا،فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم:ﺇن کان لذلک فلا،ماضارذلک فارس والروم)
وکذافی مشکوةالمصابیح: (2 / 283، رحمانیہ)
وکذا فی مرقاةالمفاتیح: (6 /345 ،التجاریہ )
وکذا فی الدرالمختار: ( 4/ 377،رشیدیہ )
وکذا فی شرح الطیبی: (6 / 308 ،دارالکتب العلمیہ )
وکذا فی التعلیق الصبیح: ( 4/ 50، رشیدیہ)
وکذا فی فتح الملھم: ( 6/ 459،دارالعلوم )
وکذا فی فتح الباری: (9 /384 ،قدیمی کتب خانہ )

واللہ اعلم بالصواب
محمدامجدڈوگرغفرلہ ولوا لدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
6/12/2022/11/5/1444
جلد نمبر؛28 فتوی نمبر:68

ایک عورت کا شوہرفوت ہوگیا ہے ۔ عدت کے بعد گھر والے اس کا رشتہ کرنا چاہتے ہیں وہ کہتی ہے کہ اگر جنت میں مجھے پہلا شوہر ہی ملے گا تو میں شادی کرتی ہوں ورنہ نہیں کرتی۔اس کو کیا کہا جائے؟

الجواب باسم ملھم الصواب

اگر دنیا میں کسی عورت کے یکے بعد دیگرے ایک سے زائد خاوند ہوں تو اکثر روایات کے مطابق جنت میں جانے کے بعد اس عورت کو اختیار دیا جائے گا کہ وہ جس خاوند کو چاہے اپنے لیے منتخب کر لے اور عورت ایسے خاوند کو اپنے لیے پسند کرے گی جو دنیا میں اس کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آتا رہا۔
بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ عورت آخری خاوند کی زوجہ بنے گی مگر یہ روایات نسبتا ضعیف ہیں۔نیز یہ آخری خاوند کی زوجہ بننا بھی عورت کی رضا مندی سے ہوگا کیونکہ وہاں کوئی چیز بھی جبراً اور خلاف طبیعت نہ ملے گی۔

لما فی تفسیر القرآن العظیم لابن کثیررحمہ اللہ:(4/312،دارالمعرفہ)
عن ام سلمۃرضی اللہ عنہاـ ـ ـ قلت: یارسول اللہ المرأة منا تتزوج زوجین والثلاثۃ والأربعۃ، ثم تموت فتدخل الجنۃ ویدخلون معہا، من یكون زوجہا؟ قال: “یا أم سلمۃ، إنہا تخیر فتختار أحسنہم خلقا، فتقول: یا رب، إن ہذا كان أحسن خلقا معی فزوجنیہ، یا أم سلمۃ ذہب حسن الخلق بخیر الدنیا والآخرة
وفی المعجم الکبیر للطبرانی:(10/25،26،دارالکتب العلمیہ)
عن انس بن مالک رضی اللہ عنہ قال :قالت ام حبیبۃ رضی اللہ عنھا :یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ،المراۃ منا یکون لھا زوجان ثم تموت فتدخل الجنۃ ھی و زوجہا ،لایھما تکون للاول او للآخر؟ قال :تخیر احسنھما خلقا کان معھا فی الدنیا یکون زوجھا فی الجنۃ یا ام حبیبۃ
وکذافی المعجم الاوسط للطبرانی:(4/111،مکتبة المعارف)
وکذا فی مجمع الزوائد:(10/557،دارالکتب العلمیة)
وکذا فی تاریخ بغداد للخطیب:(6/170،دارالکتب العلمیة)
وکذا فی الترغیب و الترھیب:(4/300،رشیدیہ)
وکذا فی المعجم الکبیر للطبرانی:(10/26،105،دارالکتب العلمیة)
وکذا فی کنزالعمال:(16/201،202،رحمانیہ)
وکذا فی صفوة التفاسیر:(3/123،داراحیاء الترث العربی)

واللہ اعلم بالصواب
حررہ فرخ عثمان عفی اللہ عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
13/12/2020/1442/4/27
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:37

آجکل بازاروں میں لطیفوں پر مشتمل چھوٹے بڑے کتابچے مثلاً “لطیفوں کی دنیا “”مسکرائیے”وغیرہ کے عنوان سے عام مل جاتے ہیں ،ان سے متعلق ایک صاحب فرمارہے تھے کہ ان کو پڑھنا اور سننا،سنانا جائز نہیں ،کیونکہ یہ سب جھوٹ ہوتا ہے۔ترمذی شریف کی روایت ہے کہ: “ہلاکت ہے اس شخص کے لیے جو لوگوں کو ہنسانے کے لیے جھوٹ بولے”۔ معلوم یہ کرنا ہے کہ(1)کیا اس صاحب کی بات درست ہے؟(2)کیا ان لطیفوں کا سننا سنانا درست نہیں ؟(3)اس سے آدمی مذکورہ وعید کا مستحق ٹھرتا ہے کہ نہیں ؟(4)کیا ان لطیفوں پر مشتمل کتابچوں کی فروخت جائز ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

(1)

(2)

اللہ تعالیٰ نے انسانی فطرت میں جہاں متانت و سنجیدگی کا عنصر رکھا،وہاں گاہے گاہے ہنسی مزاح ،خوش طبعی اور بے تکلفی کا بھی عنصر ودیعت فرمایا ہے،جس سے دل و دماغ کو سرور اور طبیعت میں نشاط پیدا ہوتا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ ایک روایت کے مطابق آپ ﷺنے فرمایا :”روحوا القلوب ساعۃ فساعۃ”کبھی کبھار اپنے دلوں کو راحت وسکوں پہنچایا کرو”۔(فیض القدیر:4/53،بیروت)لہذا اگر فرضی لطائف کے سننے سنانے سے غرض مثال بیان کرنا ہو ،تعلیمی فائدہ ہویاتفریح و نشاط ہو جس سےطبیعت کی تھکان و سستی دور ہو تو حرج نہیں ،البتہ اگر مقصود محض ضیاع وقت ،جھوٹھے قصے کہانیاں ،لطائف سنانے کو مشغلہ بنا لیا جائےجس سے نتیجتاً شرعی احکام سے غفلت ہو ،انسانی وقار مجروح ہو اورآپس میں حسد و کینہ کا سبب ہو تو یقیناً جائز نہیں۔(3)محض لوگوں کو ہنسانے کے لیے جھوٹ بولاجائےتو مذکورہ وعید کا مستحق ہو گا،یہی اس حدیث مبارکہ کا منشاہے۔(4)علمی،اخلاقی اور نصیحت آموز لطائف و واقعات پر مشتمل کتابچوں کی خریدو فروخت جائز ہے ۔غیر مہذب ،فحش اور اخلاق سوز لٹریچر کی فروخت جائز نہیں۔

لما فی القرآن المجید:(سورةالنور:آیة،19)
إِنَّ الَّذِينَ يُحِبُّونَ أَنْ تَشِيعَ الْفَاحِشَةُ فِي الَّذِينَ آمَنُوا لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ
وفی الجامع للترمذی:(2/506،رحمانیہ)
سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول: «ويل للذي يحدث بالحديث ليضحك به القوم فيكذب، ويل له ويل له
وفی مرقاة المفاتیح:(8/617،تجاریہ)
قال النووی اعلم ان المزاح المنھی عنہ ھو الذی فیہ افراط ویداوم علیہ ،فانہ یورث الضحک ،وقسوۃ القلب ویشغل عن ذکر اللہ والفکر فی مھمات الدین ویؤول فی کثیر من الاوقات الی الایذاء ویورث الاحقاد ویسقط المھابۃ والوقار ،فاما ما سلم من ھذہ الامور فھو المباح الذی کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم یفعلہ علی الندرۃ لمصلحۃ تطییب النفس المخاطب ومؤانستہ،وھو سنۃ مستحبۃ فاعلم ھذا فانہ مما یعظم الاحتیاج الیہ
وکذافی الموسوعة:(37/43،علوم اسلامیہ)
لا بأس بالمزاح إذا راعى المازح فيه الحق وتحرى الصدق فيما يقوله في مزاحه، وتحاشى عن فحش القول، وقد روى ابن عمر رضي الله عنهما: أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: إني لأمزح ولا أقول إلا حقا۔قال البركوي والخادمي: شرط جواز المزاح قولا أو فعلا أن لا يكون فيه كذب ولا روع مسلم وإلا فيحرم
وکذافی الشامیہ:(9/668،رشیدیہ)
وکذافی الھندیہ:(3/116،رشیدیہ)
وکذافی التفسیر المنیر:(11/146،امیر حمزہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(4/2662،رشیدیہ)
وکذافی التعلیق الصبیح علی مشکوة المصابیح:(5/183،رشیدیہ)
وکذافی أحکام القرآن للشیخ شفیع عثمانی رحمہ اللہ:(3/185،196،ادارة القرآن)

واللہ اعلم بالصواب
اسدالرحمن عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
15/9/1442/202/04/28
جلد نمبر:24 فتوی نمبر: 124

عمرہ اور نفلی حج کرنا زیادہ بہتر ہے یا پڑوس، رشتہ داروں یا دیگر غرباء کی مدد کرنا اور غریب گھرانوں کی بچیوں کے نکاح کا انتظام کرنا؟ تفصیل سے مدللا ً بتائیے گا۔

الجواب حامداً ومصلیا

نفل حج و عمرہ کرنا اور فقراء و مساکین پر خرچ کرنا ہر ایک اپنی جگہ نہایت اہمیت و فضلیت والا عمل ہے ۔اس کا تعلق حالات اور حاجت سے ہے ،لہذا جب کبھی لوگ جنگ،آفت سماوی یا وبا وغیرہ سے متاثر ہوں اور فاقہ ،غربت اور حاجت عام ہو جائے تو کوئی شک نہیں ان دنوں حج سے کہیں افضل ایسے لوگوں پر مال خرچ کرنا ہو گا ،لیکن اگر معمول کی زندگی چل رہی ہے تو اس وقت اگر آدمی صاحب وسعت ہو تو غرباء کی ضروریات کا خیال رکھنے کے ساتھ ساتھ نفل حج وعمرہ بھی کر لے تو اس میں کوئی حرج نہ ہو گا ۔یہ سوال صرف نفل حج و عمرہ پر ہی نہیں ہونا چاہیے ،بلکہ مہنگا موبائل،قیمتی گاڑیاں،گھڑیاں اور بڑا گھر خریدتے وقت بھی پیدا ہونا چاہیے۔

لما فی الشامیة:(4/54،رشیدیہ)
الصدقة أفضل من الحج تطوعا، كذا روي عن الإمام لكنه لما حج وعرف المشقة أفتى بأن الحج أفضل، ومراده أنه لو حج نفلا وأنفق ألفا فلو تصدق بهذه الألف على المحاويج فهو أفضل لا أن يكون صدقة فليس أفضل من إنفاق ألف في سبيل الله تعالى، والمشقة في الحج لما كانت عائدة إلى المال والبدن جميعا فضل في المختار على الصدقة. اهـ. قال الرحمتي: والحق التفصيل، فما كانت الحاجة فيه أكثر والمنفعة فيه أشمل فهو الأفضل كما ورد «حجة أفضل من عشر غزوات» وورد عكسه فيحمل على ما كان أنفع، فإذا كان أشجع وأنفع في الحرب فجهاده أفضل من حجه، أو بالعكس فحجه أفضل، وكذا بناء الرباط إن كان محتاجا إليه كان أفضل من الصدقة وحج النفل وإذا كان الفقير مضطرا أو من أهل الصلاح أو من آل بيت النبي – صلى الله عليه وسلم – فقد يكون إكرامه أفضل من حجات وعمر وبناء ربط
وفی منحة الخالق علی البحر:(2/544،رشیدیہ)
قلت قد يقال إن صدقة التطوع في زماننا أفضل لما يلزم الحاج غالبا من ارتكاب المحظورات ومشاهدته لفواحش المنكرات وشح عامة الناس بالصدقات وتركهم الفقراء والأيتام في حسرات ولا سيما في أيام الغلاء وضيق الأوقات وبتعدي النفع تتضاعف الحسنات ثم رأيت في متفرقات اللباب الجزم بأن الصدقة أفضل منه وقال شارحه القاري أي على ما هو المختار كما في التجنيس ومنية المفتي وغيرهما ولعل تلك الصدقة محمولة على إعطاء الفقير الموصوف بغاية الفاقة أو في حال المجاعة وإلا فالحج مشتمل على النفقة بل وزاد إن الدرهم الذي ينفق في الحج بسبعمائة إلخ قلت قد يقال ما ورد محمول على الحج الفرض على أنه لا مانع من كون الصدقة للمحتاج أعظم أجرا من سبعمائة
وکذافی المصنف لابن ابی شیبہ:(3/170،دارالکتب) وکذا فی الترمذی :(1/309،288،رحمانیہ)
وکذا فی التتارخانیہ:(3/686،فاروقیہ) وکذا فی التجنیس والمزید:(2/464،ادارة القرآن)

واللہ اعلم بالصواب
اسدالرحمن عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
26/6/1442/2021/2/9
جلد نمبر:23 فتوی نمبر: 172

ڈکار لینے کے بعد “الحمد للہ”کہنے کا کوئی ثبوت ہے؟

الجواب حامداً ومصلیا

ڈکار کے بعد “الحمد للہ” کا ثبوت نہیں ملتا،بلکہ احادیث میں آپ ﷺ نےاس کی آواز پست کرنے کا حکم دیااور اس پر ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا،تاہم اگر کوئی اپنے نظام انہظام کی درستگی پر اللہ کا شکر کرتے ہوئے “الحمدللہ”کہتا ہےتو حرج نہیں،بلکہ نعمت میں اضافے کا سبب ہو گا۔

لما فی شعب الایمان:(5/26،دارالکتب العلمیہ)
عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: أَكَلْتُ خُبْزًا وَلَحْمًا، ثُمَّ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَجَشَّأْتُ فَقَالَ لِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ” يَا أَبَا جُحَيْفَةَ أَقْصِرْ عَنَّا مِنْ جُشَائِكَ فَإِنَّ أَطْوَلَ النَّاسِ شِبَعًا فِي الدُّنْيَا، أَطْوَلُهُمْ جُوعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ
وفی المعجم الاوسط للطبرانی:(5/69،معارف)
سمعت عبد الله بن عمر، يقول: تجشأ رجل عند النبي صلى الله عليه وسلم فقال: «كف جشاءك، فإن أطولكم شبعا في الدنيا أطولكم جوعا يوم القيامة
وکذافی مرقاة المفاتیح:(8/41،تجاریہ)
وکذا فی التعلیق الصبیح :(6/365،رشیدیہ)
وکذا فی مجمع الزوائد:(5/23،دارالکتب العلمیہ)
وکذا فی تکملہ فتح الملھم :(6/188،دارالعلوم کراچی)

واللہ اعلم بالصواب
اسدالرحمن عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
5/5/1442/2020/12/21
جلدنمبر:22 فتوی نمبر: 54

کیا حکم ہے شریعت مطہرہ کادرج ذیل مسائل کے بارے میں،کہ:(1)دو بیویوں کے درمیان کن چیزوں میں عدل ضروری ہے؟(2)میری دو بیویاں ہیں:ایک شہر میں اور دوسری دیہات میں رہتی ہے۔شہر اور دیہات کی زندگی میں اخراجات کا تفاوت ہونے کے سبب ،میں شہروالی کو زیادہ خرچ دیتا ہوں ،کیا ایسا کرنا درست ہے؟(3)ایک بیوی سے میرے تین بیٹے ہیں اور دوسری سے ایک،اگر میں فی بچہ دس ہزار روپے ماہانہ کے حساب سے تین بچوں والے گھر کو تیس ہزار اور دوسرے گھر میں ایک بچے کو پندرہ ہزار دوں ،تو یہ تفاوت جائز ہے؟یا اولاد کے خرچہ میں برابری لازم ہے؟(4)میں سعودیہ مقیم ہوں۔اپنے بیوی ،بچوں کو وزٹ پر بلاتا ہوں۔جس زوجہ سے میرے تین بیٹے ہیں ان کو وزٹ پر بلانے سے زیادہ پیسے لگتے ہیں۔بسا اوقات اس کا تحمل نہیں کر پاتا،نیز بچوں کی تعلیم بھی متأثر ہوتی ہے،تو اگر میں ایک بچے والی زوجہ کو زیادہ اور دوسری کو کبھی کبھی وزٹ پر بلاؤں تو یہ میرے لیے جائز ہے؟اور ایک کو وزٹ پر بلاتے وقت دوسری بیوی کو بتانا ضروری ہے؟(5)فون پر بات کرتے ہوئے اگر میں نے ایک زوجہ سے ایک گھنٹہ بات کر لی،جبکہ دوسری سے آدھا گھنٹہ بات کر لی یا کچھ دن بات نہ کر سکا تو ایسا کرنا جائز ہے؟

الجواب حامداً وّمصلّیاً

(1)

ایک سے زائد بیویوں کے درمیان تمام اختیاری امور مثلاً کھانے پینے کی چیزوں میں،رہائش و لباس میں،رات گزارنے میں اور دیگر سہولیات میں برابری کرنا ضروری ہے،بیویوں کو وزٹ پر بلانا اور ان سے فون پر بات کرنا بھی،اختیاری امور میں داخل ہےاور غیر اختیاری امور مثلاً جماع اور محبت وغیرہ میں برابری ضروری نہیں۔(2)بچوں کے درمیان ضروریات کے اعتبار سے خرچہ میں کمی و زیادتی کرنا جائز ہےاور تمام کی ضروریات کو پورا کرتے ہوئے برابر خرچہ دینا مستحب ہےاور کسی پر ظلم کا ارادہ ہوئے کم خرچہ دینا جائز نہیں ہے۔

لما فی القرآن الکریم:(النساء:129)
وَلَنْ تَسْتَطِيعُوا أَنْ تَعْدِلُوا بَيْنَ النِّسَاءِ وَلَوْ حَرَصْتُمْ فَلَا تَمِيلُوا كُلَّ الْمَيْلِ فَتَذَرُوهَا كَالْمُعَلَّقَةِ وَإِنْ تُصْلِحُوا وَتَتَّقُوا فَإِنَّ اللَّهَ كَانَ غَفُورًا رَحِيمًا
وفی جامع الترمذی:(1/345،رحمانیة لاھور)
عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال:إذا كان عند الرجل امرأتان فلم يعدل بينهما جاء يوم القيامة وشقه ساقط
وفی التنویر مع شرحه:(3/201،ایچ.ایم.سعید کمپنی کراچی)
يجب أن يعدل فيه) أي في القسم بالتسوية في البيتوتة (وفي الملبوس والمأكول) والصحبة (لا في المجامعة) كالمحبة بل يستحب
وفی الشامیة:(4/444، ایچ.ایم.سعید کمپنی کراچی)
فالعدل من حقوق الأولاد في العطايا والوقف عطية فيسوي بين الذكر والأنثى، لأنهم فسروا العدل في الأولاد بالتسوية في العطايا حال الحياة. وفي الخانية ولو وهب شيئا لأولاده في الصحة، وأراد تفضيل البعض على البعض روي عن أبي حنيفة لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل في الدين وإن كانوا سواء يكره وروى المعلى عن أبي يوسف أنه لا بأس به إذا لم يقصد الإضرار وإلا سوى بينهم وعليه الفتوى
وفی الموسوعة الفقھیة:(33/184.185،علوم اسلامیة چمن)
ذهب الفقهاء إلى أنه يجب على الزوج العدل بين زوجتيه أو زوجاته في حقوقهن من القسم والنفقة والكسوة والسكنى، وهو التسوية بينهن في ذلك،………والعدل الواجب في القسم يكون فيما يملكه الزوج ويقدر عليه من البيتوتة والتأنيس ونحو ذلك، أما ما لا يملكه الزوج ولا يقدر عليه كالوطء ودواعيه، وكالميل القلبي والمحبة. . فإنه لا يجب على الزوج العدل بين الزوجات في ذلك لأنه مبني على النشاط للجماع أو دواعيه والشهوة، وهو ما لا يملك توجيهه ولا يقدر عليه
وکذافی الھندیة:(1/340،رشیدیة کوئٹہ)
وکذافی جامع الترمذی:(1/345، رحمانیة لاھور)
وکذافی صحیح البخاری:(1/454، رحمانیة لاھور)
وکذافی المبسوط للسرخسی:(5/217،دار المعرفة بیروت)
وکذافی تکملة فتح الملھم:(2/68.71،دار العلوم کراچی)

واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم بالصواب
اختر حسین فتح پوری عفا اللہ عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
24/6/1442/2021/2/7
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:35

ایک ستر سالہ شخص جو کہ کافی مالدار ہے ،اپنے عالم بیٹے کو کہتا ہے مجھے شادی کی ضرورت ہے ۔جواباً بیٹے نے کہا ،آپ شادی نہ کریں کیوں کہ دھوکہ دہی کا زمانہ ہے تو کوئی مسئلہ بن سکتا ہے۔اس پر باپ نے کہا جب شریعت اجازت دیتی ہے تو آپ اس کے خلاف رائے کیوں دیتے ہو؟آپ نے شریعت کے خلاف رائے دی ہے اس لئے آپ کافر ہو گئے ہیں۔کیا یہ شخص واقعی کافر ہو گیا ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورتِ مسئولہ میں بیٹے نے کسی دینی بات کا انکار اور استہزاءوغیرہ نہیں کیا ،بلکہ حالات کے ناموافق ہونے کی وجہ سے باپ کو شادی نہ کرنے کاصرف مشورہ دیا ہے۔جس کی وجہ سے وہ کافر نہیں ہوا۔لہٰذا باپ کا بیٹے کو کافر کہنا ناواقفیت پر مبنی ہے۔

لما فی الصّحیح لمسلم:(1/82،رحمانیة لاھور)
عن ابن عمر انّ النّبی صلّی اللّہ علیہ وسلّم قال:اذا اکفر الرجل اخاہ فقد باء بھا احدھما
وفی نیل الاوطار:(1/339،دار الباز مکة المکرّمة)
ادخال کافر فی الملّۃ واخراج مسلم منھا عظیم فی الدین
وکذافی الھدایة:(2/513،رشیدیة کوئٹه)
وکذافی البحر الرائق:(1/613،رشیدیة کوئٹه)
وکذافی سنن ابی داوٗد:(1/365،رحمانیة لاھور)
وکذافی فتح الملھم:(1/427،دار العلوم کراچی)
وکذافی شرح العقائد:(121.90،مجیدیة ملتان)
وکذافی صحیح البخاری:(1/69.61،رحمانیة لاھور)
وکذافی الدر المختار مع شرحه:(4/223.221،ایچ.ایم.سعیدکراچی)

واللہ اعلم بالصواب
اختر حسین فتح پوری عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
23/4/1442/2020/12/9
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:29

ایک عورت کو طلاق ہوئی ہے ،اس کی بیٹیاں کم عمرہیں ۔پوچھنا یہ ہے کہ ماں کب تک اپنی بیٹیوں کو پرورش وغیرہ کے لئے رکھ سکتی ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

نوسال تک۔

لما فی الموسوعة:(17/314،علوم اسلامیة)
و تظل الحضانۃ علی الأنثی قائمۃ حتی تبلغ بالحیض أو الا حتلام أو السن ، وھذا کما فی ظاھر الروایۃ ان کانت الحاضنۃ الأم أو الجدۃ ، أما غیر الأم والجدۃ فانہن أحق بالصغیرۃ حتی تشتھی ، و قدر بتسع سنین و بہ یفتی .و عن محمد أن الحکم فی الأم والجدۃ کالحکم فی غیرھما ، فتنتھی حضانۃ النساء مطلقا أما أو غیرھا ، علی الصغیرۃ عند بلوغھا حد الاشتھاء الذی قدر بتسع سنین ، والفتوی علی روایۃ محمد لکثرۃ الفاسد
وفی التنویر مع الدر :(3/566،سعید)
و الأم والجدۃ) لأم أو لأب (أحق بہا )بالصغیرۃ(حتی تحیض) ای تبلغ فی ظاھر الروایۃ…( و غیرھما أحق بہا حتی تشتھی) و قدر بتسع ،وبہ یفتی،وبنت احدی عشرۃ مشتہاۃ اتفاقا زیلعی (وعن محمد أن الحکم فی لأم و الجدۃ کذلک )وبہ یفتی لکثرۃالفاسد
وکذافی اللباب:(2/218،قدیمی)
وکذا فی التاتار خانیة:(5/273،فاروقیة)
وکذا فی المحیط البرھانی:(4/243،دار احیاءتراث)
وکذا فی الھندیة:(1/542،رشیدیة)
وکذا فی البحرالرائق :(4/287، رشیدیة )
وکذا فی الفقہ الحنفی:(2/213،الطارق)

واللہ اعلم بالصواب
عبد الو ہا ب بن قاسم خان ڈیروی
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
15/9/1442/1202/4/28
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:143

والدین کا ماتھا چومنا شرک کے زمرہ میں آتا ہے یا سعادت ہے ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

والدین کا ماتھا چومنا نہ صرف جائز ہے ، بلکہ باعث فضیلت ہے۔

لما فی شعب الایمان:(6/187،بیروت)
عن ابن عباس ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال من قبل بین عینی امہ کان لہ سترا من النار
وفی التاتارخانیة:(18/257،فاروقیہ)
وقد رخص ابو یوسف التقبیل علی غیر الفم…… للولد علی راس والدیہ
وفی ردالمحتار:(6/380،سعید)
قولہ واما علی وجہ البر فجائز عند الکل) قال الامام العینی بعد کلام فعلم اباحۃ تقبیل الید والرجل والراس والکشح کما علم من الاحادیث المتقدمۃ اباحتھا علی الجبھۃ
وکذافی فیض القدیر:(6/249،بیروت)
وکذافی التنویر مع الدر:(6/367،سعید)
وکذافی الھندیة:(5/369،رشیدیہ)
وکذافی ردالمحتار:(6/384،سعید)
وکذافی البحرالرائق:(8/364،رشیدیہ)
وکذافی تبیین الحقائق:(6/25،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
8/8/1442/2021/3/23
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:91

لوگ کمپریسر لگا کر گیس کھینچتے ہیں ۔ اس کا کیا حکم ہے ؟کیا ایسا کرنا جائز ہے ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

کمپریسر لگاکر گیس کھینچنا ، جہاں قانوناً جرم ہے وہاں شرعاً بھی ناجائز اور گناہ ہے ، کیونکہ جائز امور میں حکومت کی اطاعت کرنا واجب ہے ۔ نیز یہ کام دوسرے لوگوں کی اذیت اور حق تلفی کا باعث بھی ہے جوکہ شریعت کی نظر میں حرام ہے ۔

لما فی القرآن الکریم :(سورة النساء/آیة،59)
یاایھا الذین آمنوا اطیعوا اللہ واطیعواالرسول واولی الامر منکم
وفی الفقہ الاسلامی:(6/4582،رشیدیہ)
ومن المقرر عند الفقھاء ان لاولی الامر ان ینھی اباحۃ الملکیۃ بحضر یصدرمنہ لمصلحۃ تقتضیہ……فان طاعۃ اولی الامر واجبۃ
وفی مشکوٰة المصابیح:(1/261،رحمانیہ)
قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الا لاتظلموا ، الا لایحل مال امرئ الا بطیب نفس منہ
وکذافی الاشباہ والنظائر:(1/125،قدیمی)
وکذافی السنن لابی داؤد:(2/234،رحمانیہ)
وکذافی بذل المجھود:(19/94،قدیمی)
وکذافی الترمذی:(2/485،رحمانیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
5/6/1442/2021/1/19
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:1