زکاۃیاعشرکےپیسےسڑک بنانےمیں یارفاہی کاموں میں خرچ کرسکتےہیں یانہیں ؟

الجواب حامداومصلیا

زکاۃیاعشرکاپیسہ رفاہی کاموں میں خرچ نہیں کرسکتےبلکہ کسی مستحق زکاۃکومالک بناکردیناضروری ہے۔

لمافی الہندیة:(1/188،رشیدیہ)
ولایجوزان یبنی بالزکاۃالمسجدوکذالقناطر،والسقایات،واصلاح الطرقات وکری الانہار،والحج،والجہاد،وکل ما لا تملیک فیہ،ولایجوزان یکفن بھامیت ولایقضی بھادین المیت
وفی التاتارخانیة:(3/208،فاروقیة)
ولاتصرف فی بناء مسجدوقنطرۃ،وفی شرح الطحاوی: ورباط،وفی شرح المتفق :ولایبنی بھاقبر،ولایقضی بھادین میت،ولایعتق عبد،ولایکفن میتاً
وکذافی المختصرفی الفقہ الحنفی:(239،البشری)
کذافی النھرالفائق:(1/462،قدیمی)
وکذافی الباب:(1/149،قدیمی)
وکذافی مجمع الانھر:(1/328،المنار)
وکذافی السراجیة:(156،زمزم)
وکذافی الدروالرد:(3/341،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمدرفیق غفرلہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃالحسن ساہیوال
14/8/1443/2022/3/18
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:21

عشرکن زمینوں میں ہوتاہے؟اورنصف عشرکن زمینوں میں ہوتا ہے؟

الجواب حامداومصلیا

اگرزمین بارش کےپانی سےسیراب ہوتی ہےتواس میں عشر(دسواں حصہ)واجب ہےاوراگرنہریاٹیوب ویل وغیرہ سے سیراب ہوتی ہےتواس میں نصف عشر(بیسواں حصہ)واجب ہےاوراگرسال کاکچھ حصہ بارش کےپانی سےسیراب ہوتی ہےاورکچھ حصہ نہروغیرہ سےتواس میں اکثرکااعتبارہوگا۔

لمافی سنن ابی داؤد:(1/236،رحمانیة)
عن سالم بن عبداللہ عن ابیہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فیماسقت السماءوالانھاروالعیون اوکان بعلاالعشروفیماسقی بالسوانی اوالنضح نصف العشر
وفی المحیط البرھانی:(3/273،ادارۃالقرآن)
وماالسقتہ السماءاوسقی سیحاففیہ العشر،وماسقی بغرب اودالیۃ،اوسانیۃففیہ نصف العشر،وبہ وردالاثرعن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم والمعنی فی التفاوت قدرالمؤنۃوکربھاواذاسقی فی بعض السنۃسیحا،وفی بعضھا بآلۃ فالمعتبر ھو الغالب الاغلب
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(3/277،فاروقیة)
وکذافی المبسوط:(3/4،بیروت)
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/365،الطارق)
وکذافی کتاب الفقہ علی المذاھب الاربعة:(1/521،حقانیة)
وکذافی ردالمحتار:(2/325،ایچ،ایم،سعید)
وکذافی الفتاوی السراجیة:(148،زمزم)
وکذافی حاشیةالطحطاوی علی الدر النختار:(1/418،رشیدیة)

واللہ اعلم بالصواب
عبدالصمدغفرلہ
متخصص جامعۃالحسن ساہیوال
30-01-2022/1443-6-26
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:98

اگر زمین میں فصل کے ساتھ گھاس اگ گئی ہو تو اس میں عشر واجب ہے یا نہیں؟

الجواب حامداًومصلّیاومسلّما

اگر اس گھاس کو بھی بیچا جاتا ہے تو اس پر عشر ہے،ورنہ نہیں۔

لما فی الفتاویٰ الھندیہ(1/186،رشیدیہ)
فلا عشر فی الحطب والحشیش والقصب والطرفاء والسعف لانّ الاراضی لا تستنمی بھذہ الاشیاء بل تفسدھا حتیٰ لو استنمیٰ بقوائم الخلاف والحشیش والقصب و غصون النخل او فیھادلب اوصنوبرونحوھا وکان یقطعہ ویبیعہ یجب فیہ العشر
وفی بدائع الصنائع(2/178،رشیدیہ)
لا عشر فی الحطب والحشیش والقصب الفارسی،لان ھذہ الاشیاء لا تستنمی بھا الارض ولا تستغل بھا عادۃ لان الارض لا تنمو بھا بل تفسد فلم تکن نماء الارض حتیٰ قالوا فی الارض اذا اتخذھا مقصیۃ
وکذا فی الھدایہ(1/183،رشیدیہ)           وکذا فی الشامیہ(3/311،رشیدیہ)
وکذا فی تبیین الحقائق(1/291،امدادیہ)           وکذا فی المحیط البرھانی(3/271،دار احیاء تراث العربی)
وفی النھر الفائق(1/454،قدیمی کتب خانہ)         وکذا فی معارف السنن(5/202،ایچ ایم سعید)
وفی فتاویٰ قاضیخان علیٰ ھامش الھندیہ(1/276،رشیدیہ)          وکذا فی خلاصہ الفتاویٰ(1/247،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ طیب کان اللہ لہ
دارالافتاء جامعۃالحسن ساھیوال
17/4/1443-2021/11/13
جلدنمبر:25 فتوی نمبر:143

کیا گھر میں اگائے گئے درختوں اور سبزیوں پر عشر واجب ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

گھریلو درختوں کے پھلوں اور سبزیوں میں مفتیٰ بہ قول کے مطابق عشر واجب تو نہیں ہے البتہ چونکہ مسئلہ امام و صاحبین رحمھمااللہ کے درمیان مختلف فیہ ہے اس لیے صاحب استطاعت لوگوں کو احتیاطاً اس کا بھی عشر دے دینا چاہیے۔

لمافی الفتاوی التاتارخانیة:(3/277،فاروقیہ)
ولو کان فی دار رجل شجرۃ وفی الینابیع مثمرۃ لایجب فی ذلک عشر وان کان تلک البلدۃ عشریۃ
وفی بدائع الصنائع:(2/18،رشیدیہ)
ویجب العشرفی قلیلہ و کثیرہ فی قول ابی حنیفۃ رحمہ اللہ تعالی لانہ ملحق بالنماء و یجری مجری الثمار والنصاب لیس بشرط فی ذلک عندہ وعندھما شرط ۔۔۔۔ومایوجد فی الجبال من العسل والفواکہ فقد روی محمد عن ابی حنیفۃ رحمھ اللہ تعالی ان فیہ العشر وروی اصحاب الاملاء عن ابی یوسف انہ لاشئ فیہ
وکذافی الھندیة:(1/186،رشیدیہ
وکذافی خلاصة الفتاوی:(1/247،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی السراجیہ:(148،زمزم)
وکذافی المحیط البرھانی:(3/273،ادارة القران)
وکذافی البزازیہ علی ھامش الھندیہ:(4/91،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی الولوالجیة:(1/200،حرمین شریفین)
وکذافی التجنیس والمزید:(2/347،ادارة القران)

واللہ اعلم بالصواب
محمداحسن ابراہیم غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
25/7/1443-2022/2/27
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:3

کہ اگر زمین پر کچھ پانی بغیر خرچے والا یعنی چھپڑوں اور چشموں والا پانی وغیرہ لگا ہو اور کچھ پانی خرچے والا لگا ہو تو اس صورت میں عشر لازم ہو گا یا نصف عشر ؟

الجواب با سم ملھم الصواب

صورت مسئولہ میں دیکھا جا ئے گا ،خرچ والا پانی زیادہ لگا ہےیا بغیر خرچ والا یا دونوں برابر ہیں، پہلی اور تیسری صورت میں نصف عشرلازم ہو گا اور دوسری صورت میں عشر لازم ہو گا۔

لما فی فتاویٰ عالمکیریہ:(1 /186، رشیدیہ)
وما سقی بالدولاب والدالية ففيه نصف العشر، وإن سقي سيحا وبدالية يعتبر أكثر السنة فإن استويا يجب نصف العشر
وکذا فی البحر الرائق: ( 2/416، رشیدیہ)
ونصفہ فی مسقی غرب او دالیۃ ای یجب نصف العشر فیما سقی بآلۃ للحدیث ۔۔۔۔۔۔۔ وان سقی بعض السنۃ بآلۃ والبعض بغیرھا فالمعتبر ا کثرھما۔۔۔۔۔۔۔۔وان استویا یجب نصف العشر نظرا للفقراء کما فی السائمۃ
وکذا فی المحیط البرھانی :(3/274،احیاء تراث العربی)
وکذا فی الدرالمختار: (2 /316، دارالمعرفہ)
وکذا فی المبسوط : (3 /4،دارالمعرفہ)
وکذا فی بدائع الصنائع: (2/185، رشیدیہ)
وکذا فی مجمع الانھر:1 (/320، المنار)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ : (3/1892، رشیدیہ)
وکذا فی جامع الترمذی:(1/ 256، رحمانیہ)
وکذا فی العنایہ: ( 3/ 501، رشیدیہ)

 

واللہ اعلم بالصواب
محمد مظھر اقبال عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
28/5/1440،2019، 2، 4
جلد نمبر:17 فتوی نمبر:139

فصل با لکل تیارتھی لیکن جھگڑےکے دوران اس کو آگ لگ گئی اورساری فصل جل گئی یا بہت معمولی سی حاصل ہوئی،اس صورت میں عشرکاکیاحکم ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ میں جوفصل حاصل ہوئی ہےاسی کےحساب سےعشر نکالا جائےگا،اوراگرکسی نے آگ لگائی ہےتوپھراس سےضمان لیکراس سےجوعشربنتاہےاداکیاجائےگا۔

لما فی الہندیہ: ( 1/186،رشیدیہ)
ویسقط بہلاک الخارج من غیر صنعہ وبہلاک البعض یسقط بقدرہ وان استہلکہ غیر المالک اخذ الضمان منہ وادی عشرہ وان استہلکہ المالک ضمن عشرہ وصاردینافی ذمتہ.
وفی بدائع الصنائع: ( 2/187،رشیدیہ)
وبيان هذه الجملة إذا أتلف إنسان الزرع أو الثمر قبل الإدراك حتى ضمن أخذ صاحب المال من المتلف وأدى عشره، وإن أتلف البعض دون البعض أدى عشر المتلف من ضمانه ،وإن أتلفه صاحبه،أو أكله يضمن عشره ويكون دينا في ذمته، وإن أتلف البعض دون البعض يضمن قدر عشر ما أتلف
وکذافی الفقه الاسلامی وادلتہ: ( 3/1913،رشیدیہ)
وکذا فی البحرالرائق: (2/413،رشیدیہ)
وکذافی الشامية: ( 3/321، رشيديه)
وکذا فی كتاب الفقه: ( 1/524،حقانيه)
وکذافی التاتارخانيه: ( 3/285،فاروقيه)
وکذا فی الفقه الحنفی: ( 1/366،الطارق)

واللہ اعلم بالصواب
ايثار القاسمی غفر لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
1/9/1440،2019/5/7
جلد نمبر :19 فتوی نمبر :52

مقامی بچےجس مدرسہ میں پڑهتےہوں توان کوعشر،زکوۃ ،اورقربانی کی کھالیں،وغیرہ دیناکیساہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

یہ طلبہ اگرواقعی مستحق ہوں تواس مدرسہ میں یہ اشیاءدےسکتےہیں بشرطیکہ انہوں نےمدرسہ کےمنتظم کوعشروزکوۃ لینےکاوکیل بنایاہو۔

لما فی الہندیہ: ( 1/190، رشیدیہ)
“اذاوقع الزکوۃالی الفقیرلایتم الدفع مالم یقبضھااویقبضھاللفقیرمن لہ ولایۃعلیہ نحوالاب والوصی.”
وفی التاتارخانية: (3 /212، فاروقيه)
“ولايجوزالزكوةالااذاقبضهاالفقير،اوقبضهامن يجوزقبضهاله لولايته عليه كالاب والوصي.”
وکذافی خلاصة الفتاوی: ( 1/242، رشیدیہ)
وکذا فی القرآن الکریم: (سورة توبه/60، )
وکذافی البحرالرائق: ( 2/219، رشيديه)
وکذا فی مجمع الانهر: ( 1/328، المنار)
وکذافی المحيط البرهانی: (3 /214،داراحیاء )
وکذا فی الفقہ الاسلامی: ( 3/1962،رشیدیہ )

واللہ اعلم بالصواب
ايثار القاسمی غفر لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
5/8/1440،2019/4/11
جلد نمبر :19 فتوی نمبر :4

پوچھنا تھاکہ ایک آدمی کا کاروبارہےکہ تین چاربھینسیں لےآتاہے اورگابھن ہونےکےبعدجب تیارہوجائیں بیچ دیتاہےاورسال کسی پربھی نہیں گزرتاتوا ن کی زکوۃکا کیاحکم ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ ميں ان بھینسوں کی قیمت پرزکوة آئے گی، لہذادیگراموال زکوۃپرجب سال پوراہو اس دن موجودبھینسوں کی قیمت لگاکردیگرمال کےساتھ ان کی زکوۃ دی جائے گی۔

لما فی الہندیہ: (1/186،رشیدیہ)
” والسائمة هي التي تسام في البراري لقصد الدر والنسل والزيادة في السمن والثمن حتى لو أسيمت للحمل والركوب لا للدر والنسل فلا زكاة فيها، … ولو أسيمت للتجارة ففيها زكاة التجارة دون السائمة.”
وفی المحیط البرھانی: (3/172، دار احیاء )
” و ان كانت للتجارة و رعاها ستة اشهر او سنة، لم تكن سائمة ابدا و هي للتجارة ….. و فيه زكاة التجارة . ”
وکذافی مجمع الانهر: (1/292، المنار)
وکذا فی الدر المختار مع رد المحتار : (3/232،234، رشيديه )
وکذا فی حاشية الطحطاوی علی الدر المختار :(1/397، رشيديه )
وکذا فی الفقه الحنفی فی ثوبه الجديد:(1/360، الطارق )
وکذا فی البحر الرائق:(2/372، رشيديه )
وکذا فی التاتارخانية:(3/137، فاروقيه )
وکذا فی اعلاء السنن:(9/64،65، ادارة القرآن )

واللہ اعلم بالصواب
ایثارالقاسمی غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
1/7/1440،2019/4/7
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :172

میرے بیٹے کی ایک جگہ نسبت طے ہے، میری ہونے والی بہو مستحق زکوۃ ہے ،کیا میں اپنی فصل کا عشر اپنی ہونے والی بہو کو دے سکتا ہوں؟

الجواب باسم ملھم الصواب

دے سکتے ہیں۔

لمافی البحر الرائق:(2/425،رشیدیہ)
“وقيد بأصله وفرعه؛ لأن من سواهم من القرابة يجوز الدفع لهم، وهو أولى لما فيه من الصلة مع الصدقة كالإخوة والأخوات والأعمام والعمات والأخوال والخالات الفقراء.”
وفی بدائع الصنائع:2/162،رشیدیہ)
“ویجوز دفع الزکوۃ الی من سوی الوالدین والمولو دین من الاقارب ومن الاخوۃ والاخوات وغیرھم لانقطاع منافع الاملاک بینھم.”
وکذا فی فتاوی النوازل:(140،حقانیہ)
وکذا فی الموسوعة الفقھیة:(23/177،علوم اسلامیہ)
وکذا فی ردالمحتار :(2/346،سعید)
وکذا فی حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح:(722،قدیمی)
وکذا فی البناية:(3/550،رشیدیہ)
وکذا فی المحیط البرھانی :(3/212،بیروت)
وکذا فی النھر الفائق :(1/463،قدیمی)
وکذا فی خلاصة الفتاوی:(1/242،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد عابد عفی اللہ عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
17/7/1440، 2019/3/25
جلد نمبر : 18 فتوی نمبر :75

 

ہمارے علاقے میں زمین ٹھیکہ پر دی جاتی ہے اور فی ایکڑ تقریبا 50،000 ہزار سے60،000ہزار تک ٹھیکہ ایک سال کا طے ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ فصل پر ہونے والے تمام اخراجات مثلا ہل، کھاد ،سپرے اور پانی سب فصل کاشت کرنے والا کرتا ہے، مذکورہ اخراجات آج کل بہت زیادہ ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اب اس فصل کا عشر زمین کا مالک ادا کرے یا ٹھیکہ پر لینے والا؟

الجواب حامداً ومصلیاً

ٹھیکے پر دی گئی زمین کا عشر ٹھیکے دار ادا کرے گا۔

لما فی الفتاوی الھندیہ: ( 1/187 ،رشیدیہ )
” ولو آجر أرضا عشرية كان العشر على الآجر عند أبي حنيفة – رحمه الله تعالى – وعندهما على المستأجر كذا في الخلاصة . “
وفی کتاب المبسوط: (3 /5 ،دار المعرفہ )
(قال): رجل استأجر أرضا من أرض العشر وزرعها قال عشر ما خرج منها على رب الأرض بالغا ما بلغ سواء كان أقل من الأجر، أو أكثر في قول أبي حنيفة وقال أبو يوسف ومحمد رحمهما الله تعالى العشر في الخارج على المستأجر.
وفی الشامیہ: (3 / 326،325، دار المعرفہ)
قلت: لكن في زماننا عامة الأوقاف من القرى والمزارع لرضا المستأجر بتحمل غراماتها ومؤنها يستأجرها بدون أجر المثل۔۔۔فلا ینبغی العدول عن الافتاء بقولھما فی ذلک.
وکذافی الفتاوی التاتار خانیہ: ( 3/281 ،فاروقیہ-کوئٹہ ) وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ: ( 3/1901 ،رشیدیہ )
وکذافی تنقیح الفتاوی الحامدیہ : ( 1/25 ،قدیمی ) وکذا فی البحر الرائق : (2 /413 ،رشیدیہ )
وکذافی فتح القدیر: (2 /256 ،رشیدیہ ) وکذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید: ( 1/366 ،الطارق )

واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ بن طارق غفر لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
23-07-1440، 2019-03-31
جلد نمبر :18 فتوی نمبر:119