ہمارے کھیتوں میں مختلف قسم کے درخت لگے ہوئے ہیں ،ان سے گوند وغیرہ نکلتا ہے آیا اس گوند پر بھی عشر واجب ہو گا؟

الجواب حامداً ومصلیا

اگر ان درختوں کو گوند کے حصول کے لیے نہیں لگایا گیا تو اس پر عشر واجب نہ ہو گا۔

لما فی الھندیہ:(1/186،رشیدیہ)
ولا عشر فيما هو تابع للأرض كالنخل والأشجار وكل ما يخرج من الشجر كالصمغ والقطران؛ لأنه لا يقصد به الاستغلال
وکذافی التنویر وشرحہ:(3/315،رشیدیہ)
إلا فيهما) لا يقصد به استغلال الأرض (نحو حطب وقصب) فارسي (وحشيش) وتبن وسعف وصمغ وقطران وخطمي وأشنان
وفی البحر الرائق:(2/415،رشیدیہ)
وكذا كل ما يخرج من الشجر كالصمغ والقطران؛ لأنه لا يقصد به الاستغلال
وکذا فی التتارخانیہ:(3/275،فاروقیہ)
وکذا فی فتح القدیر:(2/248،رشیدیہ)
وکذا فی کتاب الفقہ:(1/523،حقانیہ)
وکذا فی مجمع الانہر:(1/319،المنار)
وکذا فی النھر الفائق:(1/454،قدیمی)
وکذا فی الجوھرة النیرة:(1/307،قدیمی)
وکذا فی خلاصة الفتاوی:(1/247،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
اسدالرحمن عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
3/6/1442/2021/1/17
جلد نمبر: 22 فتوی نمبر: 180

پہاڑوں کے پھل دار درختوں مثلا اخروٹ،چلغوزہ اور بیر وغیرہ پر عشر ہو گا یا نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

عشر واجب ہوگا۔

لما فی الھندیہ:(1/186،رشیدیہ)
ویجب فی الجوز واللوزوالکمون والکزبرہ ،ھکذا فی المضمرات.(ثم ذکربعدسطر)وما یجمع من ثمار الاشجارالتی لیست بمملوکہ کاشجارالجبال یجب فیہاالعشرکذا فی الظھیریہ
وفی التنویر وشرحہ:(3/ 313،رشیدیہ)
وکذا) یجب العشر (فی ثمرۃجبل،اومفازۃان حماہ الامام) لانہ مال
مقصود
وکذافی الولوالجیہ:(1/200، حرمین) وکذافی کتاب الفقہ:(1/523،حقانیہ)
وکذا فی البحر الرائق:(2/414،رشیدیہ) وکذا فی المبسوط:(3/3،دارالمعرفہ)
وکذا فی خلاصہ الفتاوی:(1/247،رشیدیہ) وکذافی البدائع:(2/181،رشیدیہ)
وکذا فی فتح القدیر:(2/255،رشیدیہ) وکذافی التاتارخانیہ:(3/276،فاروقیہ)

واللہ اعلم بالصواب
اسدالرحمن عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
14/4/1442/2020/11/30
جلد نمبر:21 فتوی نمبر:186

دریا سے جو مچھلی حاصل کی جاتی ہے اس پر عشر لازم ہوگا یا زکوۃاور مچھلی کے فارم والے شخص پر عشر ہو گا یا نصف عشر؟

الجواب حامداً ومصلیاً

(1)

جو مچھلی دریا سےحاصل کی جاتی ہےاس پر نہ زکوۃ لازم ہے اور نہ عشر۔(2)فارم والا شخص اگر صاحب نصاب ہے تو اس پر زکوۃ لازم ہو گی ورنہ نہیں۔

لما فی کتاب الفقہ:(1/520،حقانیہ)
ولا شئ فیما یستخرج من البحر کالعنبر واللؤلؤوالمرجان و السمک ونحو ذالک الا اذا اعدہ للتجارۃ
وفی المبسوط للسرخسی:(2/211،دارالمعرفہ)
لیس فی السمک واللؤلؤ والعنبر یستخرج من البحر شئ
وکذا فی حاشیہ الطحطاوی علی الدر المختار:(1/316،رشیدیہ)
وکذا فی المحیط البرھانی:(3/163،33،دار احیاء تراث العربی)
وکذا فی البنایہ:(3/486،رشیدیہ)
وکذا فی البحر الرائق:(2/412،رشیدیہ)
وکذا فی التنویر مع ھامشہ:(2/322،ایچ ایم سعید کمپنی)
وکذا فی فتح القدیر:(2/246،225،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
یاسر عر فات جھنگوی عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
28/4/1442/2020/12/14
جلد نمبر:22 فتوی نمبر: 49

کھیتوں میں جودرخت لگائے جاتے ہیں ان کی لکڑی پر عشر ادا کرنا ہو گا ؟

الجواب حامداً ومصلیا

اگر ان درختوں سے لکڑی کا حصول ہی مقصود ہو تو عشر واجب ہو گاورنہ نہیں۔

لما فی البدائع الصنائع:(2/ 178 ،رشیدیہ )
ان یکون الخارج من الارض مما یقصد بزراعتہ نماءالارض وتستغل الارض بہ عادۃ فلا عشر فی الحطب والحشیش القصب الفارسی
وفی البحرالرائق:(2/413 ،رشیدیہ )
وان یکون الخارج منھا مما یقصد بزراعتہ نماء الارض فلا عشر فی الحطب ونحوہ
وفی المحیط البرھانی:(3/271،دار احیاء تراث العربی)
قال ابویو سف ومحمد کل شئی لہ․․․․ویکون مقصودا فی نفسہ یجب فیہ العشر
وکذافی تنویرالابصارمع شرحہ: ( 2/ 327 ،ایچ ایم سعید کمپنی )
وکذا فی الفتاوی التتارخانیة: (3 /284 ،فاروقیہ )
وکذا المبسوط السرخسی:(3۔4/3 دارالمعرفہ بیروت)
وکذا فی کتاب الفقہ:(1/522،حقانیہ)
وکذا فی عالمکیریہ:(1/186،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
یاسر عرفات جھنگوی عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
21/4/1442/2020/12/7
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:51

شہد کی مکھیوں کو پال کر ان سے شہد حاصل کیاجاتا ہے اس شہد پر عشر واجب ہو گا یا نہیں؟اگر ہے تو نصف عشر ہے یا عشر؟کیونکہ اس پر خرچ بھی ہوتا ہےتو جس طرح زرعی پیداوار پر خرچ کی وجہ سےنصف عشر ہے تو کیا یہاں بھی نصف عشر ہو گا؟

الجواب حامداً ومصلیاً

شہد میں عشر واجب ہو گا، خواہ دیسی شہد ہو یا فارمی ہو۔

لما فی جامع الترمذی:(1/254،رحمانیہ)
عن ابن عمر قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فی العسل فی کل عشر ازق زق
وفی البدائع الصنائع:(2/184،رشیدیہ)
ثم انما یجب العشر فی العسل اذا کان فی ارض العشر فاما اذا کان فی ارض الخراج فلا شیئ فیہ لما ذکرنا،ان وجوب العشر فیہ لکونہ بمنزلة الثمر لتولدہ من ازھار الشجر
وفی الھندیة:(1/186،رشیدیہ)
ویجب العشر فی العسل اذا کان فی ارض العشر
وکذافی کتاب الاصل:(2/116،بیروت)
وکذافی الھدایة:(1/219،المیزان)
وکذافی الخانیہ علی ھامش الھندیہ:(1/276،رشیدیہ)
وکذافی التاتارخانیہ:(3/286،فاروقیہ)
وکذافی التنویر مع شرحہ:(2/325،سعید)
وکذافی الجامع لاحکام القراٰن:(10/140،بیروت)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(30/97،علوم اسلامیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہرعفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
19/12/2020/1442/5/3
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:13

آدمی نے اپنی زمین کی کاشت کے لیےایک مزدور آٹھویں حصے پر رکھا ہوا ہے ، پیدا وار آنے کے بعد کیا مالک زمین اس مزدور کے حصے سے عشر ادا کر سکتا ہے یا وہ مزدور خود اداکر ے گا ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

مزدور پر عشر لازم نہیں ہوتا ،لہذا تمام پیدا وار کاعشر مالک ہی ادا کرے گا ۔

لما فی بدا ئع الصنا ئع :(2/174،رشید یة)
وعن ابی حنیفۃ :فیہ روایتان :فی روایۃ العشر فی الخا رج ،وفی روا یۃ :علی رب المال ، و لو دفعھا مزار عۃ فأما علی مذھبھما فا لمزا رعۃ جا ئز ، و العشر یجب فی الخا رج،و الخا رج بینھما فیجب العشر علیھما
وفی ر د المحتا ر:(2/335،سعید)
و الحا صل ان العشر عند الا مام علی رب الارض مطلقا و عند ھما کذ لک لو البذ ر منہ و لو من العا مل فعلیھما و بہ ظھر ان ماذ کر ہ الشا رح ھو قو لھمالما علمت من أ ن الفتوی علی قو لھما بصحۃ المزار عۃ فافھم… أن المزا ر عۃ جائزۃ عند ھما و العشر یجب فی الخا رج و الخا ر ج بینھما فیجب العشر علیھما…و فائد ۃ ذلک السقو ط بالھلاک اذا نیط بالعین و عد مہ ا ذا نیط با لذ مۃ و أوجبا و معھما أحمد العشر علیھما بالحصص لسلا مۃ الخا ر ج لھما حقیقۃ فکان ینبغی للشارح متا بعۃ ما فی أ کثر الکتب ثم اعلم أن ھذا کلہ فی العشر أما الخرا ج فعلی رب الأر ض اجماعا
وفی رد المحتا ر : (2 /335 : سعید)
فا لخارج لہ اما تحقیقا أو تقد یرا لأن البذر ان کان من قبلہ فجمیع الخار ج لہ و للمزا رع أجر مثل عملہ و ان کان من قبل المزا رع فا لخا رج لہ ولر ب الأرب أجر مثل أر ضہ الذی ھو بمنز لۃ الخا رج الاان عشر حصتہ فی عین الخا رج و عشر حصتہ المزا رع فی ذمۃ رب الأ رض
وفی التا تا ر خا نیة: (3 /281، فارو قیة)
و ان دفع أرضہ العشر یۃ مزا رعۃ ان کا ن البذ رمن قبل العا مل فعلی قیاس قو ل أبی حنیفۃ یکون العشر علی صا حب الارض کما فی الا عارۃ ،و عند ھما فی الزرع کما فی الا جارۃ ، و ان کا ن البذ ر من قبل صا حب الأ رض کا ن العشر علی صا حب الأ رض فی قو لھم
وکذافی البحر الر ائق :(2/413،رشید یة)
وکذا فی حا شیة الطحطا وی علی الدر:(1/421،رشید یة)
وکذا فی الھند یة:(1/187،رشید یة)

واللہ اعلم بالصواب
عبد الو ہا ب بن قاسم خان ڈیروی
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2/8/1442/2021/3/17
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:58

ایک سرکاری سکول کے چند اساتذہ نے مل کر ایک خادم رکھا ہو ا ہے جس کو وہ ما ہا نہ تنخواہ اپنے پیسوں سے دیتے ہیں ان کا پو چھنا یہ ہے کہ آیا وہ زکوۃ یا عشر کے پیسوں سے اس کو تنخواہ دے سکتے ہیں ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

زکوۃ یاعشر کی رقم اجرت یامزدوری میں نہیں دی جاسکتی بلکہ کسی مستحق کوبلامعاوضہ دیناچاہیے۔

لما فی الھندیة:(1/190،رشیدیة)
و لو نوی الز کاۃ بما یدفع المعلم الی الخلیفۃ و لم یستأجر ہ ان کان الخلیفۃ بمال لو لم یدفعہ یعلم الصبیان أیضا اجزأہ و الا فلا و کذا ما یدفعہ الی الخدم من الر جال و النساء فی الا عیاد و غیر ھا بنیۃ الزکاۃ
وفی المختصر فی الفقہ الحنفی:(239،البشری)
یجوز أن یدفع الز کاۃالی خدمہ ای :الذین استأجر ھم للخدمۃ ولا یحسب ذلک من أجرتھم
وکذافی الدر المختار:(2/356،ایچ ایم سعید)
وکذا فی البحر الرائق:(2/352،رشیدیة)
وکذا فی خلاصة الفتاوی:(1/243،رشیدیة)
وکذا فی البزازیة علی ھامش الھندیة:(4/86،رشیدیة)
وکذا فی البنایة:(3/562،رشیدیة)
وکذا فی التاتار خانیة:(3/218،فارقیة)
وکذا فی حاشیة الطحطاوی:(1/432،رشیدیة)
وکذا فی الاشباہ والنظائر:(1/457،ادارة القرآن)

واللہ اعلم بالصواب
عبدالوہاب غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
4/5/1442/2020/12/20
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:36

 

پہلے ٹیوب ویل کا استعمال انتہائی کم تھا ، نہری پانی زمین کی ضرورت کو کافی حد تک کافی تھا۔ اب نہری پانی انتہائی کم مقدار میں میسر ہے ، چنانچہ نوے فیصد پانی ٹیوب ویل سے حاصل کیا جاتا ہے اور نہری پانی نہ ہونے کے برابر ہے ۔ اس صورت حال میں عشر کی مقدار میں کچھ کمی واقع ہوسکتی ہے ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ میں زمین کا اکثر حصہ چونکہ ٹیوب ویل کے پانی سے سیراب کیا جاتا ہے جس پر خرچہ ہوتا ہے ، اس لیے زمین کی پیداوار میں عشر کی بجائے نصف عشر (کل پیداوار کا بیسواں حصہ ) واجب ہوگا ۔ اس سے زیادہ کمی نہیں ہوسکتی۔

لما فی التنویر مع الدر:(2/328،سعید)
و)یجب(نصفہ فی مسقی غرب)ای دلو کبیر(ودالیۃ)ای دولاب لکثرۃ المؤنۃ ولوسقی سیحا وبآلۃ اعتبر الغالب
وفی الھندیة:(1/186،رشیدیہ)
وماسقی بالدولاب والدالیۃ ففیہ نصف العشر وان سقی سیحا وبدالیۃ یعتبر اکثر السنۃ فان استویا یجب نصف العشر کذا فی خزانۃ المفتین
وکذافی ردالمحتار:(2/328،سعید)
وکذافی البحرالرائق:(2/416،رشیدیہ)
وکذافی الھدایة:(1/184،رشیدیہ)
وکذافی الصحیح للبخاری:(1/201،قدیمی)
وکذافی تبیین الحقائق:(1/293،امدادیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین بن شین گل عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
18/7/1442/2021/3/3
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:132

جوار اور برسیم کی فصل ایک دفعہ کاشت کرنے کے بعد اس میں سے عشر ادا کردیاجاتا ہے ۔ پھر دوسری مرتبہ اسی کٹی ہوئی جگہ میں پانی اور کھاد ڈالی جاتی ہے ، جس سے مقصود بیج پیدا کرنا ہوتا ہے ، آیا دوبارہ پھر عشر ادا کیا جائے گا؟

الجواب حامداً ومصلیاً

زمین سے جب بھی پیداوار حاصل کی جائے گی ، عشر واجب ہوگا ، لہذا صورت مسئولہ میں دوبارہ عشر واجب ہوگا۔

لما فی البدائع:(2/184،رشیدیہ)
ولان العشر فی الخارج حقیقۃ فیتکرر الوجوب بتکرر الخارج
وکذافی التنویر مع الدر:(2/328،سعید)
وکذافی الشامیة:(2/327،سعید)
وکذافی الھندیة:(1/186،رشیدیہ)
وکذافی البحرالرائق:(2/415،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
3/5/1442/2020/12/19
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:23

ٹھیکہ پر لی گئی زمین کا عشر کل پیداوار سے نکالا جائے گا؟یا اس کے اخراجات مثلاً، ٹھیکہ وغیرہ منہاکر کے پھر عشر نکالا جائے گا؟

الجواب حامداًومصلیاً

زمین ٹھیکہ پر ہو یا اپنی ملکیت میں،کل پیداوار سے عشر نکالا جائے گا۔

لما فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/366،الطارق)
“ویتعلق الواجب بعین المحصول کما قلنا بلا إخراج بذر وأجرۃ العمال وکلف الزرع.”
وفی المحیط البرہانی:(3/290،إدارة القران)
یوخذ العشر من جمیع ما أخرجتہ الأرض ولا یحتسب لصاحبہا ما أنفق علی الغلۃ من سقی أو عمارۃ أو أجرۃ حافظ أو أجرۃ العمال ولا نفقۃ البقر
وکذا فی الفتاوی الشامیة:(3/317،رشیدیة)
وکذا فی الفتاوی الہندیة:(1/178،رشیدیة)
وکذا فی فتح القدیر:(2/257،رشیدیة)
وکذا فی مجمع الأنہر علی ہامش ملتقی الأبحر:(1/320،المنار)
وکذا فی الدر المنتقی شرح ملتقی الأبحر علی ہامشہ:(1/320،المنار)
وکذا فی ملتقی الأبحر:(1/319،المنار)
وکذا فی البحر الرائق:(2/416،رشیدیة)

واللہ تعالی اعلم بالصواب وعلمہ اتمّ
کتبہ:محمد نوید بن اللہ بخش عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
22/06/1443/2022/01/26
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:88