ایک عورت غیر مرد کے ساتھ رات کی تاریکی میں بھاگ جاتی ہے اور اس پر زنا ثابت ہو جاتا ہےاور اس کا تعلق پہلے بھی ثابت ہو جاتا ہے تو اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟ گاؤں والے اس لڑکی کو جان سےمارنا چاہتے ہیں غیرت کی وجہ سے کہ اس نے ہماری عزت کا خیال نہیں رکھالہٰذا لڑکی اور لڑکے کے بارے میں شرعی حکم بتائیں ۔ اور ان دونوں گروہوں کے درمیان صلح کا شرعی حکم کیا ہے؟ لڑکا اگر رشتہ دے کر صلح کر لے تو کر سکتا ہے؟

الجواب حامدا ومصلیا

شرعی اعتبار سےگاؤں والوں کا لڑکی اور لڑکے کو قتل کی سزادینے کا نہ تو اختیار ہے اور نہ ہی ان کے لیے ایسی سزا دینا جائز ہے گاؤ ں والوں کو چاہیے کہ اولا تر غیب و ترھیب سے اصلاح احوال کی کوشش کریں،اگر ایسا ناممکن نظر آئے تو صلاح احوال کی ایک بہترین صورت یہ بھی ہے کہ ان کا نکاح کرا دیا جائے، باقی جرمانے کے طور پر مال یا رشتہ لینا درست نہیں۔

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:طیب کان اللہ لہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
10/7/1443-2022/2/12
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:179

شریعت میں مقتول کے ورثاء کو اپنے مقتول کے قصاص کا جو حق حا صل ہے کہ وہ قاتل سے قصاص اور دیت کے لینے میں بااختیار ہیں، اگر چاہیں تو قصاص لیں، یا دیت لیں، یا معاف کر دیں۔ میر ا سوال یہ ہے کہ کیا ریاست کے صدر مملکت کو یا پنچایت کے فیصل کو ورثاء کی رضامندی کے بغیر کسی ریاستی ذمہ داری اور مجبوری یا مصلحت کے پیش نظر قصاص معاف کرنے کا اختیار ہے یا نہیں؟

الجواب باسم ملھم الصواب

شریعت میں قصاص معاف کرنے کا اختیار صرف اولیاء کو حاصل ہے، ہاں اگر فیصل یا قاضی تر غیب دے کر مقتول کے اولیاء کو قصاص کی معافی پر راضی کر لیں، توبھی درست ہے، لیکن اولیاء کی رضامندی کے بغیر بذات خود قاضی اور صدر وغیرہ کو معافی کا کوئی اختیار نہیں ، البتہ جس مقتول کا کوئی وارث نہ ہو تو قاضی کو قصاص لینےکا یا صلح کرنے کی صورت میں دیت لینے کا اختیار ہوگا۔

لما فی المحیط البرھانی :(20 / 109 ، احیا ء تراث العربی )
فمن لا ولی لہ فی دارالاسلام ……ولو ارادالامام ان یصالح فی ھٰذہ الصورۃ فلہ ذالک ، لان الصلح حصل ممن یملک الاستیفاء ، وھو انفع فی حق جماعۃ المسلمین من الاستیفاء ولو اراد ان یعفوعن القصاص لیس لہ ذٰلک ، لما فیہ من ابطال حق جماعۃ المسلمین بغیر عوض
وفی بدائع الصنائع :(6 / 291 ، رشیدیہ)
“وللامام ان یصالح علی الدیۃ الا انہ لایملک العفو لان القصاص حق المسلمین بدلیل ان میراثہ لھم وانما الامام نائب عنھم فی الاقامۃ وفی العفو اسقاط حقھم اصلا وراسا وھٰذالا یجوز”
وکذا فی البحر الرائق: (9 / 27 ، رشیدیہ )
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ :(7 / 5691 ، رشیدیہ )
وکذا فی البنایہ ( 12 / 120 ، رشیدیہ )
وکذا فی فتح القدیر:(10 / 224 ، رشیدیہ )
وکذا فی الدرالمختار : ( 10 / 175 ، دارالمعرفہ)
وکذا فی الفتاوی العالمکیریہ :(6 / 7 ، رشیدیہ )
وکذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید: (3 / 327 ، الطارق )
وکذا فی حاشیة الطحطاوی : ( 4 / 258 ، رشیدیہ )

واللہ اعلم بالصواب
محمد مظہر اقبال عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
27 /4/ 1440 ، 2019/1/5
جلد نمبر:17 فتوی نمبر:64