میں نے ایک دکان پراپنالیپ ٹاپ مرمت کے لئے دیااوردکان پرآگ لگ گئی جس میں میرالیپ ٹاپ بھی جل گیا،توکیادکان کے مالک پرتاوان آئے گایانہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اگردکان دارکی طرف سے کوئی غفلت یازیادتی نہیں پائی گئی تواس پرتاوان نہیں آئے گا۔

لما فی الشامیة: (9 /109 ،رشیدیة )
ولایضمن ماھلک فی یدہ وان شرط علیہ الضمان)اعلم ان الھلاک امابفعل الاجیراولا،والاول:اما بالتعدی اولا،والثانی:اماان یمکن الاحترازعنہ اولا،ففی الاول بقسمیہ یضمن اتفاقا،وفی ثانی الثانی لایضمن اتفاقا،وفی اولہ لایضمن عندالامام مطلقا،ویضمن عندھمامطلقا
وفی الھندیة: (4 /500 ،رشیدیة )
وحکم اجیرالمشترک ان ماھلک فی یدہ من غیرصنعہ فلاضمان علیہ فی قول ابی حنیفۃ سواء ھلک بامریمکن التحرزعنہ کالسرقۃ والغصب اوبامرلایمکن التحرزعنہ کالحرق الغالب والغارۃ الغالبۃ والمکابرۃ وقال ابویوسف ومحمدان ھلک بامریمکن التحرزعنہ فھوضامن وان ھلک بامرلایمکن التحرزعنہ فلاضمان
وکذافی التاتارخانیة: (15 /282 ،فاروقیة ) وکذافی الھدایة: (3 /435 ،بشری )
وکذافی فتح القدیر: (9 /123 ،رشیدیة ) وکذافی البنایة: (9 /377 ،رشیدیة )
وکذافی البحرالرائق: (8 /47 ،رشیدیة ) وکذافی الفقہ الحنفی: (4 /411 ،الطارق )
وکذا فی بدائع الصنائع: (4 /72 ،رشیدیة )

واللہ اعلم بالصواب
کلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2022/12/17/22/5/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:180

اگر کسی آدمی کانقصان ہوجائے اور کوئی اقرار بھی نہ کرے اور قرائن سے یہ بات معلوم ہورہی ہو کہ فلاں شخص نے نقصان کیا ہے،لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ شخص اس نقصان کا بھی منکر ہوتو کیا اس شخص پر نقصان کا ضمان ہوگا؟

الجواب حامداً ومصلیاً

محض قرائن کی بنا ءپر کسی شخص پر نقصان کا ضمان لازم کرنا صحیح نہیں ہے ۔بلکہ مدعی اپنے دعوی کو ثابت کرنے کے لئے گواہ پیش کرے گا،اگر وہ گواہ پیش نہ کرسکاتو جس کے خلاف دعوی ٰکیا گیا ہے،اسے کہا جائیگا کہ قسم اٹھا ،اگر وہ قسم اٹھا لے کہ میں نے نقصان نہیں کیا تو وہ بری ہوجائیگا ،ورنہ اسے نقصان کا ذمہ دار ٹھہرایا جائیگا۔

لما فی سنن ابن ماجہ:(127،قدیمی کتب خانہ )
“عن ابن عباس قال لو یعطی الناس بدعواھم لادعی الناس دماء رجال واموالھم ولکن الیمین علی المدعی علیہ. “
وفی کتاب المبسوط للشمس الدین:(17/35،دار المعرفة)
الدعوی الصحیحۃ لا توجب الاستحقاق المدعی للمدعی بنفسھا(فان النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال لو اعطی الناس بدعواھم لادعی قوم دماء قوم واموالھم لکن البینۃ المدعی والیمین علی المدعی علیہ
وکذافی مشکوۃ المصابیح:(2/337،رحمانیہ)
وکذا فی الفقہ الحنفی:(3/147،الطارق)
وکذافی الفتاوی التتار خانیہ:(3/5،فاروقیہ)
وکذافی الفتاوی العالمکیریہ:(4/13،رشیدیہ)
وکذافی الھدایة:(3/210،رحمانیہ)
وکذافی شرح الوقایہ:(3/206،رحمانیہ)
وکذافی اللباب فی شرح الکتاب:(3/122،قدیمی کتب خانہ)
وکذافی البحر الرائق:(7/345، رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
احقر محمد عبداللہ غفرلہ ولوالدیہ کوٹ ادو
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2021/10/28
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:101