ایک آدمی سرکاری ملازم ہے ، جس کا کام یہ ہے کہ بینک سے رقم نکلواکر اپنے افسروں کو دیتا ہے ، ان پیسوں میں سود کی رقم بھی ہوتی ہے ۔ کیا اس کا یہ عمل جائز ہے ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

چونکہ صورت مسئولہ میں ملازم ، محض مخلوط رقم کی منتقلی کرنے کی وجہ سے براہ راست سودی معاملہ میں ملوث نہیں ، اس لیے اس ملازمت کی گنجائش ہے ۔البتہ تعاون علی الربا کا شبہ بہر حال موجود ہے، لہٰذا کوئی دوسرا حلال کاروبار ملتے ہی اس ملازمت سے چھٹکارا پالینا چاہیے ۔

لما فی تکملة فتح الملھم:(1/619،دارالعلوم)
واما اذا کان العمل لاعلاقۃ لہ بالربا……جاز فیہ التوظف للنوع الثانی من الاعمال
وفی مشکوة المصابیح:(1/250،رحمانیہ)
عن جابر قال لعن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٰکل الربا وموکلہ وکاتبہ وشاھدیہ وقال ھم سواء رواہ مسلم
وفیہ ایضاً:(6/51،التجاریہ)
قال الطیبی…..فینبغی ان یتحرز عن صریح الربا فیثبت بوجہ من وجوہ المبالغۃ لقولہ تعالی (واحل اللہ البیع وحرم الربا)لکن مع وجل وخوف شدید عسی اللہ ان یتجاوز عنہ
وکذافی مرقاة المفاتیح:(6/51،التجاریہ)
وکذافی التنویرمع الدر:(9/645،رشیدیہ)
وکذافی الشامیة تحتہ:(9/646،رشیدیہ)
وکذافی حاشیةالطحطاوی:(4/197،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
18/7/1442/2021/3/3
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:137

ایک آدمی بینک میں سرکاری ملازم ہے ، اس کا کام یہ ہے کہ وہ بینک سے پیسے نکلواکر اپنے افسروں کو دیتا ہے جن میں سود کے پیسے بھی ہوتے ہیں ۔ کیا اس آدمی کے لیے یہ ملازمت جائز ہے ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

حضرت شیخ الاسلام مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتھم العالیہ نے ایک سوال کے جواب میں ایسی جامع بات ارشاد فرمائی ہے ، جس سے صورت مسئولہ کا حکم واضح ہوجاتا ہے کہ یہ ملازمت جائز نہیں، اس لیے ذیل میں بعینہ ان کی عبارت نقل کی جاتی ہے
”دراصل بینک کی ملازمت ناجائز ہونے کی دو وجہیں ہوسکتی ہیں ، ایک وجہ یہ ہے کہ ملازمت میں سود وغیرہ کے ناجائز معاملات میں اعانت ہے ، دوسرے یہ کہ تنخواہ حرام مال سے ملنے کا احتمال ہے ، ان میں سے پہلی وجہ یعنی حرام کام میں مدد کا جہاں تک تعلق ہے ، توشریعت میں مدد کے مختلف درجات ہیں ، ہر درجہ حرام کا نہیں ، بلکہ صرف وہ مدد ناجائز ہے جو براہ راست حرام کام میں ہو ،مثلا سودی معاملہ کرنا ، سود کا معاملہ لکھنا ، سود کی رقم وصول کرنا وغیرہ ، لیکن اگر براہ راست سودی معاملہ میں انسان کو ملوث نہ ہونا پڑے ، بلکہ اس کام کی نوعیت ایسی ہو جیسے چپڑاسی ، ڈرائیور یا جائز ریسرچ وغیرہ ، تو اس میں چونکہ براہ راست مدد نہیں ہے ،اس لیے اس کی گنجائش ہے ۔
جہاں تک حرام مال سے تنخواہ ملنے کا تعلق ہے ، اس کے بارے میں شریعت کااصول یہ ہے کہ اگر ایک مال ، حرام اور حلال سے مخلوط ہو اور حرام مال زیادہ ہو تو اس سے تنخواہ یا ھدیہ لینا جائز نہیں ، لیکن اگر حرام مال کم ہو تو جائز ہے ۔ بینک کی صورت حال یہ ہے کہ اس کا مجموعی مال کئی چیزوں سے مرکب ہے ، 1- اصل سرمایہ 2- ڈپازیٹرز 3- سود اور حرام کاموں کی آمدنی 4-جائز خدمات کی آمدنی ، اس سارے مجموعے میں صرف نمبر3 حرام ہے ، باقی کو حرام نہیں کہا جاسکتا ، اور چونکہ ہر بینک میں نمبر1 اور نمبر 2کی اکثریت ہوتی ہے ، اس لیے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ مجموعے میں حرام غالب ہے ، لہذا کسی جائز کام کی تنخواہ اس سے وصول کی جاسکتی ہے۔
یہ بنیاد ہے جس کی بناء پر علماء نے فتوی دیا ہے کہ بینک کی ایسی ملازمت جس میں خود کوئی حرام کام نہ کرنا پڑتا ہو ، جائز ہے البتہ احتیاط اس میں ہے کہ اس سے بھی اجتناب کیا جائے۔

لما فی فتاوی عثمانی :(3/395،396،معارف القرآن ، کراچی)

 

واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین کان اللہ لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
18 /7/1442/2021/3/3
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:138

انشورنس کے متعلق کیا حکم ہےاور لائف انشورنس کے بارے میں بتا دیں، کیوں حلال نہیں ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

انشورنس کمپنیوں کے موجودہ طریقہ کار میں “سود” اور بسا اوقات “جُوا اور دھوکہ” کے پائے جانے کی وجہ سے جائز نہیں۔
‘سود’ اس طرح ہے کہ ایک فریق دوسرے فریق کو کم رقم اس شرط پر دے کہ دوسرا فریق اس رقم کے بدلہ اسے کچھ بڑھا کر دے گا، انشورنس کے اندر کم پریمیم کے بدلہ زیادہ رقم کی پالیسی خریدی جاتی ہےاور ‘جُوا’ یہ ہے کہ معاملہ اس طرح ہو کہ کسی غیر یقینی واقعے کی بنیاد پر ایک کا مال بلا معاوضہ دوسرے کے پاس چلا جائے، یعنی یا تو یہ مال ڈوب جائے گا یامزید مال حاصل ہونے کا ذریعہ بنے گا اور ‘دھوکہ’ اس طرح کہ معلوم نہیں کتنی رقم واپسی ہو گی؟ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جتنی رقم دی ہے وہی مع سود ملے اور یہ بھی ہو سکتا ہے حادثے کی صورت میں زیادہ رقم مل جائے۔

لمافی القرآن المجید:(مائدة/90)
یاایھا الذین اٰمنوا انما الخمر والمیسر والانصاب والازلام رجس من عمل الشیطٰن فاجتنبوہ لعلکم تفلحون
وفی بحوث قضایا فقہیة معاصرة:(2/187،معارف القران)
اتفق معٖظم العلماء المعاصرین والمجامع والندوات الفقہیۃ علی حرمۃ التأمین التجاری التقلیدی، لما یشمل علیہ من الغرر والقمار والربا
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(7/5089،رشیدیہ)
ان عقد التأمین التجاری اذا القسط الثابت الذی تتعامل بہ شرکات التأمین التجاری عقد فیہ غرر کبیر مفسد للعقد، ولذا فھو حرام شرعا۔

 

واللہ اعلم بالصواب
محمداحسن ابراہیم غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
10/7/1443-2022/2/12
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:155

کسی اسلامی بینک میں سیونگ اکاؤنٹ کھلوانا کیسا ہے؟

الجواب باسم ملہم الصواب

جو بینک مستند علماءکرام کے زیر نگرانی شرعی اصولوں کے مطابق کام کر تےہیں(مثلا ًمیزان بینک ،البرکۃ بینک وغیرہ )ان میں اکاؤنٹ کھلوانا جائز ہے۔

لما فی الفقہ الاسلامی:(5/3758،رشیدیہ)
بینما المصارف الاسلامیۃ لاغموض فیھا ،وکل اعمالھا واضحۃ،ویھمھا توفیر ثقۃ المتعاملین مع ادارۃ المصرف،ولا تعتمد علی الاقراض بالفائدۃ،وتلتزم بعقدالمشارکۃ(شرکۃ العنان فی الفقہ الاسلامی)مع العمیل او صاحب راس المال،فیساھم الشریک والمصرف فی راس المال والادارۃ،ویقسم الربح بنسبۃ یتفقان علیھا بالتراضی مقدما،اما الخسارۃ فتکون بنسبۃ راس المال،الا اذا کانت الخسارۃ بسبب التعدی او التقصیر
وفی بحوث فی قضایا فقھیہ معاصرہ:(2/162،163،معارف القرآن)
اما حسابات الاستثمارفی البنوک الاسلامیۃ،لیست قروضا،وانما ھی اموال قدمھا اصحابھا علی اساس الشرکۃ او المضاربۃ،…..وانما یقدمونھا لعقودالشرکۃ اوالمضاربۃ،…..وانما یربحون فیھا او یخسرون بطبعیۃ الشرکۃ او المضاربۃ
وفی تکملہ فتح الملہم :(1/575،576،دارالعلوم کراتشی)
والانصاف ان ینظرالدائن فی دینہ :ھل یقرض ذالک اعانۃ للمستقرض؟او یرید ان یشارکہ فی ارباحہ؟فان کان المقصود ھو الاول،فلا حق لہ الا فی راس المال، وان کان المقصود ھو الثانی،فالانصاف ان یشارکہ فی اخطار التجارۃ ایضا،ولا یطالبہ بالربح الااذا ربحت تجارتہ،وانما یمکن ذالک فی المضاربۃ،……واما نظام البنوک فیمکن ان یجری الیوم علی اساس الشرکۃ او المضاربۃ بدل الربا،وقد وضعت لجنۃ من علماء الشریعۃ وعلماء الاقتصاد فی باکستان مخططا لھذا الغرض

واللہ اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
22/9/1440-2019/5/28
جلد نمبر:19 فتوی نمبر:79

حكومت كی طرف سے ايك اسكيم جاری ہوئی ہےکہ بینکوں میں چھوٹے پیمانے پر زمینداروں کے لیے ان کی فصل کے اعتبار سے (مثلا :گندم کی صورت میں فی ایکڑ 30000ہزار اور گنے کے اعتبار سے فی ایکڑ 50000 ہزار روپے )قرض دیا جائے گا، اور وہ قرض 6 ماہ کے اندر اندر ادا کر دیا تو سود بھی نہیں لگے گا ،اگر تاخیر کی تو كچھ سود بھی دینا پڑے گا ، تو اس صورت کا کیا حکم ہے ؟ جبکہ قرض خواہ کو پورا یقین ہے کہ میں چھ ماہ کے اندر اندر ادا ء کر دوں گا، اور مجھے سود نہیں دینا پڑے گا ۔اور چھ ما کے اندر اندر ادا کرنے والا گناہ گا ہو گا ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اگر آدمی ضرورت مند ہو ،کہیں اور سے سود کی شرط کے بغير قرض ملنے کی امید بھی نہ ہواور قرض دار کو سود کی مدت سے پہلے پہلے قرض ادا کرنے کا پورا یقین ہو تو اس کے لیے ایسا قرض لینے کی گنجائش ہے ورنہ نہیں۔

لما فی الفقہ البیوع : ( 1/462، معارف القرآن)
حکم التعاقد مع مصدر البطاقۃ فی حین ان العقد یصرح بان حامل البطاقۃ ان لم یسدد الفاتورۃ خلال فترۃ السماح التی ھی شھر عادۃ فان المصدر یتقاضی علیہ زیادۃ فان مثل ھذا الاشتراط محرم شرعا لکونہ ربا، ولکن یمکن لحامل البطاقۃ التحرز منہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فالمجو ان حاملہ یعتبر معذورا فی الدخول فی ھذا العقد ان شاء اللہ تعالی بعد اخذ الجمیع الاحتیاط اللازمۃ لان لا یلجاء الی دفع الفائدۃ الربویۃ
وکذافی تنویر الابصار: ( 5/165،سعید کراچی )
وکذا فی الموسوعةالفقهيه: (33 /130،علوم الاسلاميه )
وکذا فی الفقه الحنفی فی ثوبہ الجدید: ( 4/ 220،الطارق )
وکذا فی البحر الرائق : (6/ 208، رشیدیہ )
وکذا فی منحةالخالق :(6/208،رشیدیہ )
وکذا فی البناية:( 7/338،رشیدیہ)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ : (5/3698،رشیدیہ )
وکذا فی بدائع الصنائع : (4/400،رشیدیہ )

واللہ اعلم بالصواب
محمد مظہراقبال عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
24-2-2019،18-6-1440
جلد نمبر:17 فتوی نمبر:174