اگرکوئی شخص کسی عذرکی وجہ سےکرسی پربیٹھ کرنمازجنازہ پڑھائے، تواداہوجائےگایانہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اداہوجائےگا۔

لما فی المبسوط للسرخسی:(2/125،دارالمعرفة)
قال ولوان رجلاصلی علی جنازۃوھومریض قاعدًا،وصلی القوم معہ قیامًا،فانہ یجزئھم فی قول ابی حنیفۃوابی یوسف
وفی البدائع:(2/55،رشیدیہ)
ولوکان ولی المیت مریضافصلی قاعدًا،وصلی الناس خلفہ قیامًا،اجزاھم فی قول ابی حنیفۃ وابی یوسف
وکذافی الشامیة:(2/209،ایچ۔ایم۔سعید)
وکذافی الھندیة:(1/164،رشیدیہ)
وکذافی الخانیة:(1/193،رشیدیہ)
وکذافی التاتارخانیة:(3/83،فاروقیہ)
وکذافی الجوھرةالنیرة:(1/265،قدیمی کتب خانہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(3/101،ادارةالقرآن)
وکذافی البحرالرائق:(2/327،رشیدیہ)
وکذافی تبیین الحقائق:(1/242،امدادیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد عدنان غُفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
12/2/1443/2021/9/20
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:26

ایک آدمی ساتویں اپنےبچےکاعقیقہ نہیں کرسکا،اب تین سال گزرگئےہیں ،کیایہ اب عقیقہ کرسکتاہے اوراس کوسنت کاثواب ملےگااوراس میں کس دن کااعتبارکرے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

جی ہاں!اب بھی عقیقہ کیاجاسکتاہےاورعقیقہ کاہی ثواب ملےگااوراس میں اب بھی بچےکی پیدائش کےساتویں دن کااعتبار کرنابہترہے۔مثلاً: بچہ اگر’پِیر‘کوپیداہواتو’اتوار‘ساتواں دن بنتاہے،تواب کسی بھی اتوارکوعقیقہ کرنابہترہے۔البتہ اتوارکےعلاوہ کسی دوسرےدن بھی کیاجاسکتاہے۔

لما فی فتح الباری:(9/742،قدیمی)
ونقل الترمذی عن أھل العلم أنھم یستحبون أن تذبح العقیقۃیوم السابع،فإن لم یتھیأفیوم الرابع عشر،فإن لم یتھیأعق عنہ یوم أحدوعشرین…فنقل الرافعی أنہ یدخل وقتھابالولادۃ،قال :وذکر السابع فی الخبربمعنی أن لاتؤخرعنہ اختیاراً،ثم قال :والإختیارأن لاتؤخرعن البلوغ .فإن أخرت عن البلوغ سقطت عمن کان یریدأن یعق عنہ،لکن إن أرادأن یعق عن نفسہ فعل. وأخرج ابن أبی شیبۃعن محمدبن سیرین قال :لوأعلم أنی لم یعق عنی لعققت عن نفسہ
وفی اعلاءالسنن:(17/118،ادارةالقرآن)
…وفیہ وأنھالاتفوت بالتأخیرعن الیوم السابع وبہ قال الجمھور…وفی الحدیث المذکورأیضاًأنھاإن لم تذبح فی السابع ذبحت فی الرابع عشر،وإلاففی الحادی والعشرین ثم ھکذافی الأسابیع
وکذافی السنن الکبری:(9/510،العلمیہ)
وکذافی الشامیة:(9/554،رشیدیہ)
وکذافی الھندیة:(5/362،رشیدیہ)
وکذافی تنقیح الفتاوی الحامدیة:(2/367،قدیمی)
وکذافی البدائع:(4/204،رشیدیہ)
وکذافی الموسوعةالفقہیة:(30/277،اسلامیہ)
وکذافی عارضةالأحوذی:(6/319،داراحیاء)

واللہ اعلم بالصواب
محمدعدنان غفرلہ الکریم
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
17/9/1443/2022/4/19
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:169

ہم نے ایک جانور خریدا تھا عقیقہ کرنے کے لیے، اب ایک ضرورت کی وجہ سے اس کو بیچنا چاہتے ہیں، تو کیا اس جانور کو بیچ سکتے ہیں؟ بعد میں دوسرا جانور خرید کر عقیقہ کر لیں گے۔ اور کیا دوسرے جانور کی قیمت، پہلے جانور کی قیمت کے برابر ہونا ضروری ہے ؟یا کم زیادہ بھی ہو تو ٹھیک ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

جی ہاں، اس جانور کو بیچ کر دوسرے جانور سے بھی عقیقہ کیا جاسکتاہے،دوسرے کی قیمت پہلے کے برابر ہونا کوئی ضروری نہیں۔البتہ اس کے اوصاف قربانی کے جانور کے ہونے چاہیں۔

لما فی الموسوعہ الفقھیہ الکویتیہ : (30 / 277، علوم اسلامیہ)
وعند الحنفية تباح العقيقة في سابع الولادة بعد التسمية والحلق والتصدق، وقيل: يعق تطوعا بنية الشكر لله تعالى
وفی بدائع الصنائع: ( 4/204 ،رشیدیہ )
ذكر محمد – رحمه الله – في العقيقة فمن شاء فعل ومن شاء لم يفعل، وهذا يشير إلى الإباحة فيمنع كونه سنة
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید: ( 5/ 227 ،الطارق )
وکذا فی اعلاء السنن: ( 17/ 127 ، ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ)
وکذافی الشامیہ: (9 /540 ،دار المعرفہ )
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ: (4 /2747 ،رشیدیہ )

واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ بن طارق
دار الافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
15-06-1440
21-02-2019
جلد نمبر:17 فتوی نمبر :183