درود شریف میں “صلِّ علی” کے نیچے زیر پڑھنی چاہیے؟

الجواب حامداًومصلیاً

جی ہاں!”زیر” پڑھنی چاہیے، عموماًاس کو “صَلّے”(زیرکولمبا کر کے، بڑی “یاء” کی آواز نکال کر) پڑھا جاتا ہے، جو کہ درست نہیں۔

لمافی السنن الکبری:(2/210،دار الکتب العلمیہ)
” عن کعب بن عجرۃ عن النبیﷺ انہ کان یقول فی الصلاۃ اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ ….اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَجِیْدٌ . “
وفی سنن ابی داود:(1/149،رحمانیہ)
عن الحکم باسنادہ0 بھذاقال اللھم صل علی محمد وعلی اٰل محمد کما صلیت علی ابراھیم انک حمید مجیداللھم بارک علی محمد وعلی اٰل محمد کما بارکت علی اٰل ابراھیم انک حمید مجید.
وکذافی مؤطاالامام مالک:(133،رحمانیہ)
وکذافی صحیح ابن خزیمہ:(1/704،شان اسلام)
وکذافی سنن النسائی:(3/34،دارالکتب العلمیہ)
وکذافی مجمع الزوائد:(2/282،دارالکتب العلمیہ)
وکذافی شعب الایمان:(2/189،دارالکتب العلمیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمداحسن ابراہیم غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
10،7،1443/2022،2،12
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:153

جمعہ کی اذان اول اوراذان ثانی کس جگہ دی جائیں؟ مسجد کے اندر یا مسجد سے باہر؟

الجواب حامداًومصلیاً

جمعہ کی پہلی اذان تو عام اذانوں کی طرح ایسی جگہ دی جائے جو مسجد میں داخل نہ ہو اور دوسری اذان مسجد میں خطیب کے سامنے دی جائے۔

لمافی المختصر فی الفقہ الحنفی:(97،بشری)
یستحب ان یوذن علی مکان عال خارج المسجد و یکرہ تنزیھا التاذین فی المسجد الا الاذان الثانی للجمعۃ فانہ یؤذن فی المسجد یدی الخطیب
وفی الموسوعة الفقہیة:(2/363،علوم اسلامیہ)
للجمعۃ اذانان اولھما عنددخول الوقت وھو الذی یؤتی بہ من خارج المسجد علی المئذنۃ ونحوھا والثانی وھو الذی یؤتی بہ اذا صعد الامام علی المنبر و یکون داخل المسجد بین یدی الخطیب
وکذافی الھندیة:(1/149،رشیدیہ)
وکذافی غنیة المتملی:(561،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی السراجیہ:(56،زمزم)
وکذافی الخانیة علی ھامش الھندیة:(1/78،رشیدیہ)
وکذافی حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح:(197،قدیمی)

واللہ اعلم بالصواب
محمداحسن ابراہیم غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
19،5،1443/2021،12،24
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:43

ایک شخص کی فجر کی جماعت رہ گئی جبکہ نماز کا وقت ابھی باقی ہے، کیا وہ اپنی بیوی کو جماعت کروا سکتا ہےیا اکیلے پڑھے؟ نیز اگر کروا سکتا ہے تو بیوی کو کہاں کھڑا کرے گا؟

الجواب حامداًومصلیاً

اس شخص کا اپنی بیوی کے ساتھ جماعت کروانا اکیلے نماز پڑھنے سے تو بہتر ہے، اور بیوی کو بالکل اپنے پیچھے کھڑا کرے گا۔

لمافی الھندیة:(1/82،رشیدیہ)
اذا فاتتہ الجماعۃ لا یجب علیہ الطلب فی مسجد آخر بلاخلاف بین اصحابنا لکن ان اتی مسجدااخر لیصلی بھم مع الجماعۃ فحسن وان صلی فی مسجد حیہ فحسن وذکر القدوری انہ یجمع فی اھلہ و یصلی بھم ۔
وفی المحیط البرھانی:(2/202،ادارة القران)
” وان کان معہ رجل وامرأۃ ،أقام الرجل عن یمینہ والمرأۃ خلفہ۔ “
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(2/280،فاروقیہ)
وکذافیہ ایضاً:(2/274،فاروقیہ)
وکذافی فتح القدیر:(1/353،رشیدیہ)
وکذافی سنن ابی داود:(1/99،رحمانیہ)
وکذافی البحر الرائق:(1/606،رشیدیہ)
وکذافیہ ایضاً:(1/616،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(2/1264،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمداحسن ابراہیم غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
15،8،1443/2022،3،19
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:61

ایک آدمی امام کے پیچھے نماز پڑھ رہا تھا کہ آخری رکعت کے سجدہ میں سو گیا جب امام نے سلام پھیرا تو اسے پتہ چلا،اب وہ کیا کرے،سلام پھیر دے یا تشہد پڑھ کر سلام پھیرے؟اگر سلام پھیر دیا تو اس کی نماز کا کیا حکم ہے؟

الجواب باسم ملہم الصواب

تشہد وغیرہ پڑھ کر سلام پھیرے اگر پہلے سلام پھیر دیا تو نماز نہ ہو گی۔

لما فی الھندیہ:(1/70،رشیدیہ)
ومنھا[الفرائض [القعودالأخیر)مقدارالتشہد…….[وعلی الصفحۃ71]ویجب التشہد فی القعدۃ الأخیرۃوکذا فی القعدۃالأولی وھو الصحیح ھکذا فی السراج الوھاج.”
وفی کنزالدقائق:(22،حقانیہ)
باب صفۃ الصلاۃ:فرضھا التحریمۃ والقیام والقراءۃوالرکوع والسجود والقعودالأخیر قدرالتشہد والخروج بصنعہ،وواجبھا قراءۃالفاتحۃوضم سورۃ وتعیین القراءۃ فی الأولیین ورعایۃالترتیب فی فعل مکرر وتعدیل الأرکان والقعودالأول والتشہد ولفظ السلام.
وکذا فی فی الھندیہ:(1/92،رشیدیہ) وکذا فی المحیط البرھانی:(3/112،داراحیاءتراث)
وکذا فیہ ایضا:(1/138،امدادیہ) وکذا فی الموسوعہ الفقھیہ:(35/186،علوم اسلامیہ)
وکذا فی الفقہ السلامی:(2/1228،رشیدیہ) وکذا فیہ ایضا :(2/807،808،812،رشیدیہ)
وکذا فی تبیین الحقائق:(1/103،104،105،106،امدادیہ) وکذا فی حاشیہ الطحطاوی علی مراقی الفلاح:(251،قدیمی)
وکذا فی تنویرالابصار وشرحہ علی ردالمحتار:(2/414،415،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃالحسن ساہیوال
27/7/1440-2019/4/4
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:146

ایک آدمی نے ظہر کی نماز مسجد میں جماعت سے پڑھی اور اس کے فوراً بعد سفر پر نکل گیا،جب عصر کا وقت داخل ہوا تو عصر کی نماز پڑھ لی ابھی مغرب کا وقت داخل نہیں ہوا تھا کہ اس نے سفر درمیان میں ترک کر کے واپسی شروع کر دی،جبکہ ابھی اس نے سفر شرعی کی مقدار طے نہیں کی تھی،بعد میں اسے یاد آیا کہ میں نے تو ظہر اور عصر بغیر وضو کے پڑھی ہے،اب اس کےلیے ان دو نمازوں کی قضاکا کیا حکم ہے؟یعنی قصر کی قضا کرے گا یا پوری کی قضا کرے گا؟

الجواب باسم ملہم الصواب

چونکہ یہ شخص ظہر کے وقت میں مسافر تھا اس لیے ظہر کی دو رکعات قضا کرے گا،اور عصر کے وقت مقیم بن چکا تھا اس لیے چار رکعات پڑھے گا۔

لما فی الھندیہ:(1/141،رشیدیہ)
رجل صلی الظہر ثم سافر فی الوقت ثم صلی العصر فی وقتہ ثم ترک السفر قبل غروب الشمس ثم ذکر انہ صلی الظہر والعصر بغیر وضوء،یصلی الظہر رکعتین والعصر اربعا
وفی فتاوی قاضی خان علی الھندیہ:(1/169،رشیدیہ)
رجل صلی الظہر فی منزلہ وھو مقیم ثم خرج الی السفر و صلی العصر فی سفرہ فی ذالک الیوم ثم تذکر انہ ترک شیئاًفی منزلہ فرجع الی منزلہ لاجل ذالک ثم تذکر انہ صلی الظہر والعصر بغیر طہارۃ فالواجب علیہ ان یصلی الظہر رکعتین والعصر اربعا لان صلاۃ الظہر کانھا لم تکن وصارت دینافی الذمۃ فی آخر وقتھا
وکذا فی المحیط البرھانی:(2/386،400،داراحیاءتراث) وکذا فی الھندیہ:(1/139،رشیدیہ)
وکذا فی تنویرالابصار وشرحہ علی ردالمحتار:(2/738،رشیدیہ) وکذا فی التاتارخانیہ:(2/506،فاروقیہ)
وکذا فی ردالمحتار:(2/738،رشیدیہ) وکذا فی اللباب:(1/111،قدیمی)

واللہ اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
27/7/1440-2019/4/4
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:145

اگر کوئی شخص سجدہ سہو کرتے وقت بجائے سلام پھیرنے کے سجدہ میں چلا جائے تو کیا وہ دونوں سجدوں کے بعد تشہد شروع کر دے گا یا پہلے سلام پھیرے گا پھر تشہد پڑھے گا؟

الجواب باسم ملہم الصواب

ایسی صورت میں سجدوں کے بعد تشہد پڑھے اور آخر میں سلام پھیر دے۔

لما فی حاشیہ الطحطاوی علی مراقی الفلاح:(462،قدیمی)
قولہ:(وقیل یجب فعلہ بعد السلام)فعلیہ لا یجوز قبلہ لتأدیتہ قبل وقتہ کذا فی الشرح.قولہ:(ما رویناہ)من أنہ صلی اللہ علیہ وسلم سجد بعد التسلیم،وھو لا یقتضی السنیۃ،بل یحتمل الوجوب وعبارۃ الشرح وجہ الظاہر أن فعلہ حصل فی محل مجتھد فیہ فلم یحکم بفسادہ اذ المعنی المعقول من شرعیتہ،وھوالجبر لا ینتفی بوقوعہ قبل السلام ،ولکنہ خلاف السنۃ عندنالما رویناہ،قال فی الھدایۃ:والخلاف فی الاولویۃ،ولاخلاف فی الجواز قبل السلام،وبعدہ لصحۃ الحدیث فیھما
وکذا فی جامع الترمذی:(1/198،رحمانیہ)
وکذا فی مراقی الفلاح :(462،قدیمی)
وکذا فی تنویرالابصاروشرحہ علی ردالمحتار:(2/651،652،رشیدیہ)
وکذا فی البحر الرائق:(2/163،رشیدیہ)
وکذا فی فتح القدیر:(1/517،رشیدیہ)
وکذا فی کتاب الفقہ:(1/384،385،الحقانیہ)
وکذا فی التاتارخانیہ:(2/386،فاروقیہ)
وکذا فی بدائع الصنائع:(1/417،418،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
17/7/1440-2019/3/25
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:124

اشراق کی کم از کم اور زیادہ سے زیادہ کتنی رکعات ہیں؟حوالہ جات کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں

الجواب حامداً ومصلیاً

احادیث سے اشراق کی کم سے کم دو رکعات اور زیادہ سے زیادہ چار رکعات کا ثبوت ہے۔

لما فی الترغیب والترھیب:(1/178،رشیدیہ)
عن ا بی امامۃ رضی اللہ عنہ قال:من صلی الفجر ثم ذکراللہ حتی تطلع الشمس،ثم صلی رکعتین او اربع رکعات لم تمس جلدہ النار
وفی کنز العمال:(7/333،رحمانیہ)
من صلی الفجر فی جماعۃ ثم قعد یذکر اللہ تعالی حتی تطلع الشمس،ثم صلی رکعتین کانت لہ کاجر حجۃ و عمرۃتامۃتامۃتامۃ
وکذافی السنن ابی داؤد:(1/191،رحمانیہ)
وکذا فی شمائل الترمذی مع جامع الترمذی:(2/744،رحمانیہ)
وکذا فی شعب الایمان:(3/420،دارالکتب )
وکذا الترغیب والترھیب:(1/178،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
28/6/1440-2019/3/5
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:30

میری والدہ صاحبہ بوڑھی ہیں ،انہیں سردی بہت زیادہ لگتی ہے،رضائی سے باہر نکلتے ہی کپکپی شروع ہو جاتی ہے ،صبح اور رات کے وقت اگر گرم پانی سے بھی وضوکریں تو بائیں بازو اور گردن میں شدید درد شروع ہو جاتا ہے جو بہت دیر تک رہتا ہے اور یہ درد انہیں پہلے بھی ہوتا ہے لیکن سردیوں میں بڑھ جاتا ہے،دھوپ کے وقت اگر گرم پانی سے وضو کریں تو تو درد زراکم ہوتا ہے ۔تو کیا صبح اور رات کے وقت وہ تیمم کرسکتی ہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

جی! صبح اور رات کو تیمم کر سکتی ہیں۔

لما فی المحیط البرھانی:(1/312،داراحیاءتراث)
ویجوز التیمم للمریض اذا خاف زیادۃ المرض باستعمال الماء
وفی الھندیہ:(1/28،رشیدیہ)
ولو کان یجد الماء الا انہ مریض یخاف ان استعمل الماء اشتد مرضہ او ﺃبطا برؤہ یتیمم لافرق بین ان یشتد بالتحرک کالمشتکی من العرق المدنی والمبطون او بالاستعمال کالجدری ونحوہ
وکذا فی القرآن المجید:(المائدہ:6)
وکذا فی الفقہ الاسلامی:(1/573،رشیدیہ)
وکذا فی الفقہ الحنفی:(1/158،الطارق)
وکذا فی الھدایہ:(1/52،رشییدیہ)
وکذا فی کنزالدقائق وحاشیتہ:(9،حقانیہ)
وکذا فی البحرالرائق:(1/245،رشیدیہ)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیہ:(1/378،فاروقیہ)
وکذا فی کتاب الفقہ:(1/134،الحقانیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
28/6/1440،2019/3/5
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:50

ہمارے ہاں امام صاحب نے عشاء کی نماز میں” { وَمَا يُلَقَّاهَا إِلَّا الَّذِينَ صَبَرُوا}“کی جگہ ” { وَمَا يُلَقَّاهَا إِلَّا الَّذِينَ کفرُوا}“پڑھ دیا تو اس نماز کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اس سے نماز فاسد ہو گئی ہے،دوبارہ پڑھی جائے۔

لما فی الفتاوی التاتارخانیہ:(2 /96،97،فاروقیہ)
وفی الظھیریۃ:ومن قرأ فی صلاتہ مکان قولہ”اولئک اصحاب الجنۃ “”اولئک اصحاب النار“او قرأ”ان الکافرین فی جنات النعیم“”مکان المتقین“او قرأ”الاان حزب اللہ ھم الکافرون“مکان”المفلحون“تفسد صلاتہ عند ابی حنیفۃومحمد رحمھمااللہ ……وفی الغیاثیۃ:ومن العلماءمن یوجب الفسادلقبح المعنی
وفی الفتاوی قاضی خان علی الھندیہ:(1/149،رشیدیہ)
وکذا لو قرا ”واذکر فی الکتاب ادریس “اذکر فی الکتاب ابلیس تفسد صلاتہ.وکذا لو قرﺃ ”انی اخاف ان یمسک عذاب من الرحمن “عذاب من الشیطان تفسد صلاتہ.”ومن یؤمن باللہ ویعمل صالحا یدخلہ جنات“قرا ومن یکفر باللہ تفسد صلاتہ.
وکذافی الھندیہ: (1/80،رشیدیہ)
وکذا فی الفقہ الاسلامی:(2/1038،رشیدیہ)
وکذا فی المحیط البرھانی:(2/67،داراحیاءتراث)
وکذا فی الدرالمختارعلی ردالمحتار:(2/478،رشیدیہ)
وکذا فی ردالمحتار:(2/473،474،رشیدیہ)
وکذا فی حاشیہ الطحطاوی علی الدر:(1/268،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
28/6/1440-2019/3/5
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:48

اگرمقیم نے مسافر امام کی اقتداءظہر یا عصر یا عشاء کی نماز کے آخری قعدہ میں کی یا صرف ایک رکعت رہ گئی تو باقی نما زکیسے پڑھے گا ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مذکورہ میں آخری قعدہ میں ملنے والا کھڑےہونے کے بعد عام طریقے کے مطابق اپنی نماز مکمل کرے گا ۔اگر صرف ایک رکعت رہ جائے توکھڑے ہونے کے بعدپہلی رکعت میں قرات کرے گا پھر قعدہ میں بیٹھ کر تشہد پڑھے گا بقیہ دو میں خاموش رہے گا ،قرات نہیں کرے گا ۔اگر مغرب کی صرف ایک رکعت پالی تو کھڑے ہونے کے بعد دونوں رکعتوں میں قرات کرے گا اور دونوں رکعتوں کے درمیان قعدہ کرے گا اورتشہد پڑھے گا ۔

لما فی المحیط البرھانی:(2 /407،داراحیاءتراث )
ثم اذا اقتدی المقیم بالمسافر وسلم المسافر،یقیم المقیم ویتم الصلاۃ ،کما فعل اھل مکۃ،وھل یقراالمقیم فی ھاتین الرکعتین ؟ فیہ اختلاف المشایخ رحمھم اللہ تعالی،والاصح انہ لا یقرا ،والیہ مال الشیخ الامام ابوالحسن الکرخی رحمہ اللہ تعالی،لانہ لا حق ادرک اول الصلاۃ وقد ادرک فرض القراءۃ
وفی بدائع الصنائع: (2/277 ،رشیدیہ )
ثم اذا سلم الامام علی راس الرکعتین لایسلم المقیم لانہ قد بقی علیہ شطر الصلاۃ فلو سلم لفسدت صلاتہ ولکنہ یقوم ویتمھا اربعا لقولہ صلی اللہ علیہ وسلم اتموا یا اھل مکۃفانا قوم سفر
وکذافی الفتاوی الولوالجیہ:(1/136،الحرمین شریفین) وکذا فی الخانیہ:(1/169،رشیدیہ )
وکذا فی بدائع الصنائع:(1/664الی666،رشیدیہ) وکذا فی سنن ابی داؤد:(1/181،رحمانیہ)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیہ:(2/198و516،فاروقیہ) وکذا فی ردالمحتار:(2/417،رشیدیہ)
وکذا فی تنویرالابصار وشرحہ علی ردالمحتار:(2/735،رشیدیہ) وکذافی الھندیہ:(1/142 ،رشیدیہ )
وکذا فی ھامش کتاب الفقہ:(1/406،الحقانیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
3-4-2019،1440-7-26
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:142