ہماری سیالکوٹ کی جماعت کی 16دن کے لیے اسلام آباد تشکیل ہوئی ہے اور ہم ہر شب جمعہ کے لیے راولپنڈی مرکز جائیں گے،اب ہم وہاں مقیم شمار ہوں گے یا مسافر؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اگر آپ کی یہ نیت ہے کہ ہر شب جمعہ کےلیےمرکز جائیں گے اور رات بھی وہیں گزاریں گے صبح کو واپس آئیں گےتو آپ مسلسل 16دن مسافر شمار ہوں گےورنہ نہیں۔

لما فی الھدایہ:(1 /50،رشیدیہ)
واذا نوی المسافر ان یقیم بمکۃومنی خمسۃ عشر یوما لم یتم الصلاۃ لان اعتبار النیۃ فی موضعین یقتضی اعتبارھا فی مواضع وھوممتنع لان السفر لا یعری عنہ الا اذا نوی ان یقیم باللیل فی احدھما فیصیر مقیما بدخولہ لان اقامۃ المرء مضافۃ الی مبیتہ
وفی بدائع الصنائع:(1/270،رشیدیہ)
واما اتحادالمکان ،فالشرط نیۃ مدۃ الاقامۃ فی مکان واحد،لان الاقامۃ قراروالانتقال یضادہ ولابد من الانتقال فی مکانین،واذا عرف ھذا فنقول اذا نوی المسافر الاقامۃ خمسۃعشر یوما فی موضعین،فان کانامصرا واحدا او قریۃواحدۃصارمقیما لانھما متحدان حکما،……وان کانا مصرین،نحو مکۃ ومنی اوالکوفۃ والحیرۃ او قریتین او احدھما مصروالآخر قریۃ لایصیرمقیما،لانھمامکانان متباینان حقیقۃ وحکما
وکذافی تنویرالابصار وشرحہ علی ردالمحتار:(2 /729،730،رشیدیہ) وکذا فی تبیین الحقائق:(1/212،امدادیہ)
وکذا فی الفتاوی الولوالجیہ:(1/134،الحرمین شریفین) وکذا فی البحرالرائق:(2/232،رشیدیہ)
وکذا فی الموسوعہ الفقھیہ:(27/285،علوم اسلامیہ) وکذا فی مجمع الانھر:(1/240،المنار)
وکذا فی ملتقی الابحرعلی مجمع الانھر:(1/240،المنار) وکذا فی الفتوی التاتارخانیہ:(2/499،فاروقیہ)

 

واللہ اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
1440/6/22-2019/2/28
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:34

ایک شخص نے دو رکعت نفل میں مثلا” صلاۃ الحاجۃ “کی نیت کی،نماز کے دوران اس کا وضو ٹوٹ گیا ۔اب وہ شخص جب ان نفلوں کی قضاکرے گا تو واجب کی نیت کرے گایا نفل کی؟اور اگر نفل کی کرے گا تو کیا اس میں جملہ نیتیں مثلا ”صلاۃ التوبۃ“”صلاۃالحاجۃ “وغیرہ کر سکتا ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

نفل کی قضا کی نیت کرے گااور جملہ نوافل کی نیتیں بھی کرسکتاہے۔

لما فی الاشباہ والنظائر:(45 ،قدیمی)
” وﺃما اذا نوی نافلتین کما اذا نوی برکعتی الفجر التحیۃوالسنۃﺃجزﺃت عنھما .”
وفی الھدایہ:(1/131،رشیدیہ)
“ومن شرع فی نافلۃ ثم افسدھا قضاھا ،وقال الشافی رحمہ اللہ لاقضاء علیہ لانہ متبرع فیہ ولا لزوم علی المتبرع ،ولنا ان المؤدی وقع قربۃ فیلزم الاتمام ضرورۃ صیانۃ عن البطلان .”
وکذافی ردالمحتار :(2/563،574،555،رشیدیہ)
وکذا فی تنویر الابصار وشرحہ علی ردالمحتار:( 2/574،555،رشیدیہ)
وکذا فی البحرالرائق:(2/100،101،رشیدیہ)
وکذا فی بدائع الصنائع:(2/5،رشیدیہ)
وکذا فی المحیط البرھانی:(2/220،داراحیاءتراث)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیہ:(2/288،فاروقیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
22/6/1440-2019/2/28
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:36

نماز جنازہ میں اگر صرف میت مسجد سے باہر ہو اور امام اور باقی سب لوگ مسجد کے اندر ہوں ،تو ایسا کرنا جائز ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اگر کوئی عذر ہو مثلا بارش وغیرہ تو جائزہے ورنہ مکروہ ہے۔

لما فی الھندیہ: (1 /165، رشیدیہ)
وصلاۃ الجنازۃ فی المسجد الذی تقام فیہ الجماعۃ مکروھۃ سواء کان المیت والقوم فی المسجد او کان المیت خارج المسجد والقوم فی المسجد او کان الامام مع بعض القوم خارج المسجد والقوم الباقی فی المسجد او المیت فی المسجد والامام والقوم خارج المسجد ھو المختار کذا فی الخلاصۃ ،ولاتکرہ بعذر المطر ھکذا فی الکافی
وکذافی الموسوعہ الفقھیہ: (16 /35،علوم اسلامیہ)
وکذافی تنویر الابصار وشرحہ علی ردالمحتار: (2 /148،رشیدیہ)
وکذا فی ردالمحتار: (2 /148،رشیدیہ)
وکذا فی غنیہ المتملی:(589،رشیدیہ)
وکذا فی شرح النووی علی الصحیح لمسلم:(1/368،رحمانیہ)
وکذا فی حاشیہ موطاالامام مالک:(180،رحمانیہ)
وکذا فی البحر الرائق:(2/327،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
1440/6/20-2019/2/26
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:23

مسجد کی جماعت ہو جانے کے بعد محلے کے کچھ لوگوں نے دوسری جماعت کرائی تو ان کی نماز کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

مسجد محلہ میں اہل محلہ نے اگر بآواز بلند اذان و اقامت سے نماز اداکرلی ہو تو اس محلہ کے دوسرے لوگوں کے لیے اذان واقامت کے ساتھ دوسری جماعت کرانا جائز نہیں ۔البتہ اگر کوئی عذر مثلاسفر وغیرہ ہو تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے قول کے مطابق بغیر اذان و اقامت کے ،پہلے امام کی جگہ سے ہٹ کر دوسری جماعت کرانے کی گنجائش ہے۔
اور چند صورتوں میں بالاتفاق دوسری جماعت جائز ہے :(1)مسجد محلہ میں غیر اہل محلہ نے جماعت سے نماز ادا کی تو اہل محلہ اذان و اقامت کے ساتھ دوسری جماعت کرا سکتے ہیں ۔(2)اگر اہل محلہ ہی نے بغیر اذان یا آہستہ اذان و اقامت کے ساتھ جماعت سے نماز ادا کی ہو تو اسی محلہ کے دوسرے لوگ بغیر اذان و اقامت کے دوسری جماعت کرا سکتے ہیں ۔(3)اگر اہل محلہ نے جماعت سے نماز ادا کر لی ہو تو غیر اہل محلہ بغیر اذان و اقامت کے دوسری جماعت کرا سکتے ہیں۔(4)راستہ کی مسجد ہو تو اس میں ہر آنے والے گروہ کے لیے دوسری جماعت کرانا جائز ہے۔(5)جس مسجدکاامام ومؤذن مقرر نہ ہوتواس میں اذان واقامت کے ساتھ نہ صرف یہ کہ دوسری جماعت جائزہےبلکہ افضل ہے۔

لما فی الھندیہ:(1 /83،رشیدیہ)
المسجد اذا کان لہ امام معلوم وجماعۃ معلومۃ فی محلۃ فصلی اھلہ فیہ بالجماعۃ لا یباح تکرارھا فیہ باذان ثان،…..وفی الاصل للصدر الشھید اما اذا صلوا بجماعۃ بغیر اذا و اقامۃ فی ناحیۃ المسجد لایکرہ
وفی الفقہ الحنفی :(1/275،الطارق)
ویکرہ تکرار الجماعۃ فی مسجد لہ جماعۃ معلومون کمسجد محلۃ،اذاکانت الجماعۃ الثانیۃ علی ھیئۃ الجماعۃ الاولی،ولا کراھۃ فی تکرارھا اذا کانت فی مسجد علی طریق المسافرین
وفی ردالمحتار:(2 /344،رشیدیہ)
وقدمنا فی باب الاذان عن آخر شرح المنیۃ عن ابی یوسف انہ اذا لم تکن الجماعۃ علی ھیئۃ الاولی لا تکرہ،والا تکرہ،وھو الصحیح،وبالعدول عن المحراب تختلف الھیئۃ،کذا فی البزازیۃ انتھی،وفی التاتارخانیۃ عن الولوالجیۃ:وبہ ناخذ
وکذا فی الفقہ الاسلامی: (2 /1182،رشیدیہ)
وکذا فی بدائع الصنائع :(1/378،رشیدیہ)
وکذا فی الدر المختارعلی ردالمحتار:(2/342،رشیدیہ)
وکذا فی ردالمحتار:(2/342،رشیدیہ)
وکذا فی اعلاء السنن :(4/278،ادارۃالقرآن)
وکذا فی ھامش جامع الترمذی:(1/154،رحمانیہ)
وکذا فی حاشیہ الطحطاوی علی الدر:(1/240،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
1440/6/20-2019/2/26
جلد نمبر:17 فتوی نمبر:192

ایک مسجد میں کافی عرصہ سے نماز ہو رہی ہے،ایک دن ایک نمازی نے موبائل کے ذریعے قبلہ معلوم کیا تو ذرا ٹیڑھا معلوم ہوا جبکہ صف بالکل سیدھی بچھی ہوئی ہے۔ہم نے سنا ہے کہ 45درجے تک نماز ہو جاتی ہے۔پوچھنا یہ ہے کہ جب معلوم ہوگیا کہ قبلہ ذرا ٹیڑھا ہے تو اب بھی پہلے کی طرح سیدھی صف پر نماز پڑھنا کیسا ہے؟”45درجے تک نماز ہو جاتی ہے “یہ بات کہاں سے ثابت ہے؟

الجواب باسم ملہم الصوا ب

کتب فقہ میں ہے کہ اگر قبلہ سے انحراف 45درجے تک ہو تو نماز ہو جاتی ہے،البتہ علامہ شامی رحمہ اللہ اور مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ احتیاط اس میں ہے کہ دائیں بائیں 24درجے سے زیادہ انحراف نہ ہو۔
سوال میں مذکور مسجد کے رخ میں اگر تھوڑا سا فرق ہے تو اپنے حال پر باقی رکھا جائے اور نماز درست ہے اور اگر 24درجے سے زیادہ ہے تو جس قدر ممکن ہو صفوں کو سیدھا بچھا کر نماز پڑھی جائے اور جب مسجد کی نئی تعمیر یا توسیع کرنی ہو تو اس وقت قبلہ بھی درست کر لیا جائے۔
اصول و قواعد کو جانے بغیر صرف compasکے ذریعے قبلہ کا تعین کرنا ٹھیک نہیں ہے،لہذا کسی ماہر فن سے قبلہ کا تعین کرایا جائے،اور ”45 درجے تک نماز ہو جاتی ہے “یہ بات ایک حدیث”مابین المشرق والمغرب قبلۃ“سے سمجھ آتی ہے۔

لما فی جامع الترمذی:(1/188،رحمانیہ)
عن ابی ھریرۃ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال:ما بین المشرق والمغرب قبلۃ،….وقال ابن عمر:اذا جعلت المغرب عن یمینک والمشرق عن یسارک فما بینھما قبلۃ اذا استقبلت القبلۃ.
وفی حاشیہ جواھر الفقہ للشیخ المفتی محمد شفیع رحمہ اللہ:(2/343،344،دارالعلوم کراتشی)
قلت:قد حصل من ھذہ العبارات ان ھھنا قولان مصححان،احدھما ان الانحراف المفسد ان یجاوز المشارق الی المغارب وقدرہ فی الخیریۃ بربع الدائرۃ اعنی خمساو اربعین درجۃ من کل جانب یمینا ویسارا،….والثانی ان المفسدمن الانحراف اذا خرج من المغربین،ومقدار المغربین علی قواعد الھندسۃ ثمان واربعون درجۃ،…..فعلی ھذاالقول یکون الانحراف الجائز من کل جانب من الیمین والیسار اربع وعشرون درجۃ ومجموع الجھۃ ثمان واربعون جھۃ،وعلی القول الاول القدر الجائز خمس واربعون درجۃ فی کل جانب ومجموع الجھۃ تسعون درجۃ،و ھو ربع الدائرۃ،واختار الشامی وغیرہ القول الثانی لما فیہ من الاحتیاط،وکلا الحاشیتین من المولوی محمد شفیع الدیوبندی سلمہ
وکذا فی ردالمحتار:(2/138،رشدیہ)
وکذا فی الفقہ الاسلامی :(1/758،رشیدیہ)
وکذا فی المحیط البرھانی:(2/22،داراحیاءتراث)
وکذا فی بدائع الصنائع:(1/308،رشیدیہ)
وکذا فی البحرالرائق:(1/495،496،رشیدیہ)
وکذا فی الفقہ الحنفی:(1/196،الطارق)
وکذا فی حاشیہ جامع الترمذی:(1/188،رحمانیہ)
وکذا فی الکتاب المصنف لابن ابی شیبہ:(2/142،143،دارالکتب العلمیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
1/9/1440-2019/5/23
جلد نمبر:19 فتوی نمبر:71

ہمیں ساہیوال سے مسافت سفرتک مثلا لاہور جانا ہے اور ٹرین کا وقت عصر کا وقت شروع ہونے سے پندرہ منٹ پہلے کا ہے ،تو کیا ہم ٹرین آنے سے پہلے ہی نماز عصر ادا کر سکتے ہیں ؟کیونکہ خطرہ ہے کہ ٹرین میں نماز نہ پڑھ سکیں ۔

الجواب حامداً ومصلیاً

محض اندیشہ کی بنا ء پر نماز کا وقت شروع ہونے سے پہلے آپ نماز نہیں پڑھ سکتے ،البتہ جب دوران سفر ٹرین میں نماز کا وقت ہو جائے تو عموماً ٹرین میں نماز کے لیے الگ جگہ بنی ہوتی ہے وہاں کھڑے ہو کر نماز پڑھ لی جائے ،اوراگر رش زیادہ ہو اور کھڑے ہو کر نماز پڑھنا ممکن نہ ہو تو بیٹھ کر پڑھ لیں ۔

لما فی القرآن المجید :(سورۃ النساء:103)
” {إِنَّ الصَّلَاةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتَابًا مَوْقُوتًا}.”
وفی المبسوط للسرخسی:(1 /148 ،بیروت )
” فاداء الصلاۃ فی وقتھا او بعد ذھابہ یجوز ولا یجوز اداؤھا قبل دخول الوقت.”
وکذافی الفقہ الحنفی: (1 /181،الطارق)
وکذا فی الفقہ الاسلامی :(1 /728 ،رشیدیہ)
وکذافی الموسوعہ الفقھیہ:(7/170،علوم اسلامیہ)
وکذافی ردالمحتار:(1/370،سعید)
وکذافی الھدایہ:(1/81،المیزان)
وکذافی البنایہ:(2/57،رشیدیہ)
وکذافی البحرالرائق:(1/432،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
1440/6/14،2019/01/20
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:35

واجبات نماز میں ایک واجب بیان کیا جاتا ہے کہ “فرض نماز کی پہلی دو رکعتوں کو قرأت کے لیے مقرر کرنا “مفتی صاحب از راہ کرم اس واجب کی وضاحت فرما دیں

الجواب باسم ملہم الصواب

اس کی وضاحت یہ ہے کہ پہلی دو رکعتوں میں سورۃفاتحہ اور قرأت کرنا واجب ہے اگر پہلی دو رکعتوں میں سے کسی میں قرأت چھوٹ گئی توواجب چھوٹنے کی وجہ سے سجدہ سہو واجب ہو گا ۔لیکن واضح رہے اگر فرض نماز کی پہلی دو رکعتوں میں سے کسی ایک رکعت یا دونوں میں قرأت کرنا بھول جائے تو اگلی رکعتوں میں قرأت کر لے اور اس تاخیر واجب کی وجہ سے آخر میں سجدہ سہو کر لے ۔

لما فی المحیط البرھانی :
فنقول:القرأۃ وجبت فی الاولیین بصفۃ ان یفتتح بفاتحۃ الکتاب، ویرتب علیھا السورۃ،فاذاترک الفاتحۃ فی الاولیین لا یمکنہ ان یقضیھا کذالک ،لانہ لا یزاد علی الفاتحۃ فی الرکعتین الاخریین علی مرۃ واحدۃ،واذا ترک السورۃ فی الاولیین امکنہ القضاء ،لان الفاتحۃمشروع فی الاخریین فیقرأھا ویبنی السورۃ علیھا ،کما فی الرکعۃ الاولی ،فیمکنہ القضاء بمثلہ ۔
(المحیط البرھانی :2/53،54،م:دار احیاء تراث )
وفی بدائع الصنائع :
فصل :اما الواجبات الاصلیۃ فی الصلاۃ فستۃ:منھا قراءۃ الفاتحۃ والسورۃ فی صلاۃ ذات رکعتین ،وفی الاولیین من ذوات الاربع والثلاث حتی لو ترکھما او احدھما ،فان کان عامدا کان مسیئا،وان کان ساھیا یلزمہ سجود السہو وھذا عندنا۔
(بدائع الصنائع :1/394،م:رشیدیہ)
(کذا فی تنویر الابصار وشرحہ:رد المحتار :2/181تا188،م:رشیدیہ)
(کذا فی المحیط البرھانی :2/309،312،م:داراحیاءتراث)
(کذا فی الفتاوی التاتارخانیہ:2/56،57،وایضا:387،388،م:فاروقیہ)
(کذا فی البحرالرائق:1/515،516،وایضا:162،163،م:رشیدیہ)
(کذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:2/808،809،وایضا:1109،م:رشیدیہ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
13/5/1440،2019/1/20
جلد نمبر:17 فتوی نمبر:95

ہمارے دفتر کے امام صاحب قرأت کے دوران ” ث“ اور” س “میں” ز“ اور” ذ “میں اور” ہ “اور” ح “میں فرق نہیں کرتے،بوڑھے ہیں اور سادہ پڑھتے ہیں،جبکہ میں نے الحمدللہ اچھے قاری صاحب سے قرآن پڑھا ہے اور اللہ کے فضل سے تلفظ بھی ٹھیک ہیں،تو کیا ان امام صاحب کے پیچھے میری نماز ہو جاتی ہے؟انتظامی امور کی مجبوری کی وجہ سے میں خود جماعت نہیں کرا سکتااور کسی دوسری مسجد میں نہیں جا سکتا۔

الجواب باسم ملہم الصواب

صورت مسئولہ میں آپ کی نماز ہو جاتی ہے ،البتہ امام صاحب کو چاہیے کہ حروف کی صحیح ادائیگی کی کوشش کریں ۔

لما فی الدر المختار مع حاشیہ الطحطاوی:(1/243،رشیدیہ)
و)اعلم ان(صاحب البیت)ومثلہ امام المسجد الراتب(اولی بالامامۃ من غیرہ)مطلقا.وقال الطحطاوی:(قولہ مطلقا)ای وان اتصف غیرہ بالصفات السابقۃ،وھل الاولویۃھناعلی سبیل الوجوب(قولہ الا ان یکون معہ)ای مع من ذکر من صاحب البیت والراتب
وفی الدر المختار علی ردالمحتار:(2/476،477،رشیدیہ)
ولو زاد کلمۃ أو نقص کلمۃ أو نقص حرفا،أو قدمہ أو بدلہ بآخرنحو:(من ثمرہ اذا أثمر)واستحصد(تعالی جد ربنا)انفرجت بدل (انفجرت)ایاب بدل(اواب)لم تفسد مالم یتغیرالمعنی الا ما یشق تمییزہ کالضاد والظاء فأکثرھم لم یفسدھا
وکذا فی ردالمحتار:(2/478،رشیدیہ)
وکذا فی التاتارخانیہ:(2/82،83،فاروقیہ)
وکذا فی الھندیہ:(1/79،رشیدیہ)
وکذا فی فتاوی قاضی خان علی ھامش الھندیہ:(1/141،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
17/7/1440-2019/3/25
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:121

کیا بغیر خطبہ کے جمعہ ہو جائے گا ؟

الجواب باسم ملھم الصواب

خطبہ ،نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے شرط ہے ،لہذا خطبہ کے بغیر نماز جمعہ ادا نہ ہو گی ۔

لما فی المحیط البرھانی : (2/449،450،داراحیاء تراث)
والشرط الخامس :الخطبۃ،حتی لو صلوا من غیر الخطبۃ ،او خطب الامام قبل الوقت لا یجوز ، والاصل فیہ قول اللہ تعالی:{فاسعوا الی ذکر اللہ }،والمراد منہ الخطبۃ ،وقد امر بالسعی الی خطبۃ ،والامر بالسعی الیھا دلیل علی وجوبھا ،ولان اقامۃ الجمعۃ مقام الظہر عرفت شرعا بخلاف القیاس ،والشرع ما جاء بہ الا مقیدا بالخطبۃ،فان النبی علیہ الصلاۃو السلام ما اقامھا فی عمرہ من غیر خطبۃ۔
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ: (2/1291،1303،رشیدیہ)
یشترط لصحۃ الجمعۃ زیادۃ علی شروط صحۃ الصلاۃ الاحدی عشرۃ المتقدمۃ سبعۃ شرائط عند الحنفیۃ والشافعیۃ،۔۔۔۔۔۔۔۔الخطبۃ قبل الصلاۃ :اتفق الفقھاء علی ان الخطبۃ شرط فی الجمعۃ ،لا تصح بدونھا،لقولہ تعالی :{فاسعوا الی ذکراللہ}[الجمعۃ:9] ھو الخطبۃ ،ولان النبی صلی اللہ علیہ وسلم لم یصل بدون الخطبۃ ۔
کذا فی الموسوعہ الفقھیہ:(19/177،علوم اسلامیہ) کذا فی الھندیہ:(1/145،146،رشیدیہ)
کذا فی الفتاوی التاتار خانیہ:(2/561،فاروقیہ) کذا فی المحیط البرھانی:(2/455،داراحیاءتراث)
کذافی مجمع الانھر :(1/245،246،المنار ) کذا فی الدر المنتقی:(مجمع الانھر ،1/245،المنار)
کذافی بدائع الصنائع:(1/589،رشیدیہ ) کذا فی الفقہ الحنفی:(1/320،الطارق)

 

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃالحسن ساہیوال
14/6/1440،2019/2/20
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:141

کہ اگر ایک گاؤں جس کی آبادی 5000 ہو ،لڑکیوں اور لڑکوں کا ہائی سکول،میڈیکل سٹور ،کپڑے کی دکان ،درزی کی دکان ،کریانہ وجنرل سٹور ،آٹے کی چکی وہاں موجود ہیں ۔نیز گاؤں میں ڈاکٹر ،نمبر دار اور پرائیویٹ کالج وغیرہ ہیں،اس گاؤں میں عرصہ دراز سے جمعہ کی نماز ادا کی جا رہی ہے ،جبکہ اسی گاؤں کا کچھ حصہ جو تقریبا اس سے آدھا کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے اور تقریبا 30سے35 گھروں پر مشتمل ہے ،اس ملحقہ آبادی میں چند ہفتوں سے نماز جمعہ کی ادائیگی شروع ہوئی ہے ،جبکہ یہ آبادی ہر لحاظ سے اسی بڑے گاؤں کا حصہ شمار ہوتی ہے ۔دریافت طلب امر یہ ہے کہ اس چھوٹی بستی میں نماز جمعہ کی ادائیگی درست ہے یا نہیں ؟

الجواب باسم ملھم الصواب

صورت مسئو لہ میں مذکورہ چھوٹی بستی بظاہر اس بڑے گاؤں کی فناء اور اس سے ملحقہ شمار ہوتی ہے اس لیے اس بستی میں نماز جمعہ درست ہے ۔

لما فی رد المحتار لابن عابدین : (3/31،رشیدیہ)
اقول :وینبغی تقیید ما فی الخانیۃ والتاتار خانیۃ بما اذا لم یکن فی فناء المصر لما مر انھا تصح اقامتھافی الفناء ولو منفصلا بمزارع ،فاذا صحت فی الفناء لانہ ملحق بالمصر یجب علی من کان فیہ ان یصلیھا لانہ من اھل المصر کما یعلم من تعلیل البرھان ،واللہ الموفق
وفی الھندیہ: (1/145،رشیدیہ)
وکما یجوز اداء الجمعۃ فی المصر یجوز اداؤھا فی فناء المصر وھو الموضع المعد لمصالح المصر متصلا بالمصر ومن کان مقیما بموضع بینہ وبین المصر فرجۃ من المزارع والمراعی نحو القلع ببخارا لا جمعۃ علی اہل ذالک الموضع وان کان النداء یبلغھم والغلوۃ والمیل والأمیال لیس بشیئ ھکذا فی الخلاصۃ
کذا فی المحیط البرھانی:(2/440 ،دار احیاء تراث) (کذا فی الفتاوی التاتارخانیہ:2/550،فاروقیہ)
کذا فی ملتقی الابحرعلی مجمع الانھر:(1/244،246،247،المنار) کذا فی اللباب فی شرح الکتاب:(1/113،قدیمی)
کذا فی المبسوط للسرخسی:(2/121،122،دارالمعرفہ بیروت) کذا فی الفقہ الحنفی:(1/318،الطارق)
(کذا فی بدائع الصنائع:(1/583،رشیدیہ

واللہ اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
1440/6/14،2019/2/20
جلد نمبر:17 فتوی نمبر:117