ایک مقتدی تک امام کی آواز نہیں پہنچ رہی، امام آیت سجدہ پڑھ کر سجدہ کرتا ہے اور یہ مقتدی جان بوجھ کر کھڑا رہتا ہےکہ مجھ تک آواز نہیں پہنچی، لہذا میں سجدہ نہیں کرتا، ایسے شخص کی نماز کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

یہ شخص جان بوجھ کر سجدہ تلاوت چھوڑنے کی وجہ سے گنہگار ہوا، اس شخص کی نماز تو ہو گئی لیکن اعادہ بہتر ہے۔

(مستفاد من احسن الفتاوی)

لمافی الشامیة:(2/82 ،ایچ۔ایم۔سعید)
” والظاہر ان المقتدی تجب علیہ الاعادۃکالامام ان کان السقوط بفعلہ العمد لتقرر النقصان بلا جابر من غیر عذر. “
و کذا فی الخانیة علی ہامش الہندیة :(1/160،رشیدیہ)
وکذافی بدائع الصنائع :(1/448،رشیدیہ)
وکذافی فتح القدیر :(2/18،رشیدیہ)
وکذافی الھندیہ:(1/133،رشیدیہ)
وکذافی الہدایة :(1/171،میزان)
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید :(1/288،طارق)

واللہ اعلم بالصواب
احسن ابراہیم غفر لہ و لوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
11/5/1443-2021/12/16
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:4

ایک شخص نماز پڑھ رہا ہے، اس کے قریب جہراً قرآن پڑھنا کیسا ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

اگر نماز میں خلل واقع ہو تو نمازی کے قریب جہرا ًقرآن پڑھنا مکروہ ہے۔

لمافی الشامیة:(2 /525 ،دار المعرفہ)
اجمع العلماء سلفاً وخلفاً علی استحباب ذکر الجماعۃ فی المساجد وغیرھا، الا ان یشوش جھرھم علی نائم أو مصل أو قارئ
وفی الموسوعة الفقہیة :(13/257،علوم اسلامیہ)
قد وردت احادیث باستحباب الجھر بالقرآن، واخری باستحباب الاخفاء…. قال النووی والجمع بینھما ان الاخفاء افضل، حیث خاف الریاء او تاذی مصلون او نیام بجھرہ والجھر افضل فی غیر ذلک لان العمل فیہ اکثر
وکذافی المحیط البرھانی :(7/513،علوم اسلامیہ)
وکذافی حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح:(318،قدیمی)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(18/57،فاروقیہ)
وکذافی بذل المجھود :(7/57،قدیمی)
وکذافی غنیة المتملی:(496،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
احسن ابراہیم غفر لہ و لوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
17/5/1443-2021/12/22
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:48

نماز میں سجدہ تلاوت واجب ہوا، تو کیا سجدہ اسی نمازمیں کرنا ضروری ہے یا بعد میں بھی کر سکتا ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

اسی نما ز میں وہ سجدہ کرنا ضروری ہےاگر سجدہ اسی نماز میں نہ کیا تو گناہ گار ہو گا، بعد میں اسکی قضاء بھی نہیں ہے۔

لمافی الشامیة :(2/705،دار المعرفہ)
” لو تلاھا فی الصلاۃ سجدھا فیھا لا خارجھا لما مر و فی البدائع واذا لم یسجد اثم فتلزمہ التوبۃ. “
وفی الموسوعة الفقہیة:(24/233،علوم اسلامیہ)
کل سجدۃ وجبت فی الصلاۃ ولم تؤد فیھا سقطت ولم یبق السجود لھا مشروعات لفوات محلہ واثم من لم یسجد فتلزمہ التوبۃ.
وکذافی الھندیة:(1/134،رشیدیہ)
وکذافی الھدایة:(1/172،میزان)
وکذافی بدائع الصنائع:(1/441،رشیدیہ)
وکذافی شرح العینی:(1/92،ادارة القرآن)
وکذافی المختصر فی الفقہ الحنفی:(181،بشری)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة :(2/468،فاروقیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(2/1129،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/287،طارق)

واللہ اعلم بالصواب
محمداحسن ابراہیم غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
7،9،1443/2022،4،9
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:42

فرض نماز کے بعد اجتماعی دعا سنت ہے یا بدعت؟ یعنی امام اور مقتدی ہاتھ اٹھا کر اجتماعی دعا مانگ سکتے ہیں یا نہیں؟ اگر اجتماعی دعا ثابت نہیں تو کیا انفرادی دعا ہاتھ اٹھا کر مانگ سکتے ہیں ؟

الجواب حامداًومصلیاً

حضور اکرمﷺ نے متعدد احادیث میں فرض نمازوں کے بعد دعا کی ترغیب دی ہے اور اس کو قبولیت دعا کے مواقع میں شمار کیا ہے اور فقہاء امت نے فرض نمازوں کے بعد دعا کو مستحبات میں شمارکیا ہے ، لیکن اجتماعی دعا ثابت نہیں ،البتہ اگر سنت یا مستحب سمجھے بغیر اجتماعی دعا مانگ لی جائے یا پھر اجتماعی دعاوالی صورت بن جائے، تو اس میں کوئی حرج نہیں ،اس میں امام اور مقتدی کو ایک دوسرے کا پابند نہیں ہونا چاہیے۔

لمافی جامع الترمذی 🙁 2/ 662، رحمانیہ)
عن ابی امامۃ قال قیل یا رسول اللہ ای الدعاء اسمع ۔۔۔۔ قال جوف اللیل الاخر و دبر الصلوات المکتوبات۔
وفی فیض الباری:(6/225، رشیدیہ)
لا ریب ان الادعیۃ دبر الصلوات قد تورات تواترا لا ینکر اما رفع الایدی ، فثبت بعد النافلۃ مرۃ او مرتین فالحق بھا الفقھاء المکتوبۃ ایضا و ذھب ابن تیمیۃ و ابن القیم الی کونہ بدعۃ بقی ان المواظبۃ علی امر لم یثبت عن النبیﷺ الا مرۃ او مرتین کیف ھی ؟ فتلک ھی الشاکلۃ فی جمیع المستحبات ، فانھا تثبت طورا فطورا، ثم الامۃ تواظب علیھا نعم نحکم بکونھا بدعۃ اذا افضی الامر الی النکیر علی من ترکھا۔
وکذافی مجمع الزوائد :(10/194،دار الکتب العلمیة)
وکذافی فتح الباری:(11/160،قدیمی)
وفیہ ایضا :(11/160،قدیمی)
وکذافی اعلاء السنن :(3/194،علووم اسلامیہ)

 

واللہ اعلم بالصواب
احسن ابراہیم غفر لہ و لوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
13/4/1443-2021/11/19
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:115

ایک شخص کی آنکھ صبح اتنی دیر سے کھلی کہ مسجد میں نماز ہو چکی تھی، اس نے گھر کی عورتوں کو جمع کر کے ان کو نماز پڑھا دی، اگر نماز ہو گئی ہے تو کیا ایسی حالت میں اکیلے نماز پڑھ لینا بہتر تھا یاجو صورت اختیار کی ہے، یہ بہتر ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

اس شخص کا گھر کی خواتین کےساتھ جماعت کروانا، اکیلے نماز پڑھنے سے تو بہتر ہے، لیکن اگر دوسری مسجد میں جماعت ملنا ممکن ہو تو وہاں جانا زیادہ بہتر ہے۔

لمافی الھندیة:(1 /82 ،رشیدیہ)
اذا فاتتہ الجماعۃ لایجب علیہ الطلب فی مسجد آخر بلا خلاف بین اصحابنا لکن ان اتی مسجدا اخر لیصلی بھم مع الجماعۃ فحسن وان صلی فی مسجد حیہ وذکر القدوری انہ یجمع فی اھلہ و یصلی بھم
وفی المحیط البرھانی:(2/210، ادارة القرآن)
ولو فاتتہ الجماعۃ جمع باھلہ فی منزلہ لما روینا ان النبی علیہ الصلاۃوالسلام جمع باھلہ فی منزلہ حین انصرف من الصلح بعد ما فرغ الناس من الصلاۃ
وکذافی البدائع الصنائع :(1/385،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة :(2/280،فاروقیہ)
وکذافی البحر الرائق :(1/606،رشیدیہ)
وکذافی تبیین الحقائق :(1/133،امدادیہ)
وکذافی فتح القدیر :(1/353،رشیدیہ)
وکذافی المختصر فی الفقہ الحنفی :(142،بشری)

واللہ اعلم بالصواب
احسن ابراہیم غفر لہ و لوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
14/5/1443،2021/12/19
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:44

اگر کسی کی ظہر کی نماز فوت ہو جائے اور پھر عصر کے وقت وہ ادا کرنا چاہے اور ادھر جماعت بھی شروع ہو جائے تو پہلے ظہرکی نماز پڑھے یا عصر کی جماعت میں شامل ہو جائے؟

الجواب حامداًومصلیاً

جس شخص کی نماز قضاء ہوئی ہے،اگر وہ صاحب ترتیب ہے تو پہلے ظہر کی نماز پڑھے، پھر عصر کی نماز ادا کرے، لیکن اگرصاحب ترتیب نہیں تو پہلے عصر کی نماز پڑھے اور پھر ظہر کی پڑھے۔
صاحب ترتیب وہ ہے جس کے ذمہ چھ فرض نمازیں قضا ء نہ ہوئی ہوں ۔

لمافی الفقہ الاسلامی و ادلتہ:(2 /1155 ،رشیدیہ)
ویجب ان یکون القضاء فورا باتفاق الفقہاء سواء فاتت الصلوۃ بعذر ام بغیر عذر ….. ویجب ترتیب قضاءالفوائت عند الجمھور (وبعد اسطر) ومن فاتتہ صلوات رتبھا فی القضاء کما وجبت علیہ فی الاصل لان النبی ﷺشغل عن اربع صلوات یوم الخندق فقضا ھن مرتبا ،ثم قال صلو کما رایتمونی اصلی، الا ان تزید الفوائت علی ست صلوات غیر الوتر، فیسقط الترتیب بینھا، کما سقط فیما بینھا و بین الوقتیۃ.
وفی المحیط البرھانی:(2/349،ادارة القران)
ولو تذکر فی وقت العصر انہ لم یصل الظہر، وھو متمکن من اداءالظھر قبل تغیر الشمس، الا ان عصرہ اوبعض عصرہ یقع بعد التغیر عندنا، یلزمہ الترتیب، ولایجوز اداء العصر قبل قضاء الظہر( وبعد اسطر) و فی القدوری قال ابو حنیفۃ وابو یوسف رحمھما اللہ : اذا فاتتہ ستصلوات ودخل وقت السابعۃ سقط الترتیب، وقال محمد رحمہ اللہ تعالی اذا دخل وقت السادسۃ سقط الترتیب
وکذافی اللباب :(1/96،قدیمی) وکذافی الموسوعة الفقہیة:(34/31،علم اسلامیہ)
وکذافی مراقی الفلاح :(440،قدیمی) وکذافی الھندیہ:(1/122،رشیدیہ)
وکذافی المبسوط:(2/87،دار المعرفة) وکذافی الشامیة:(2/633،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
احسن ابراہیم غفر لہ و لوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
9/5/1443،2021/12/14
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:5

اگر کوئی شخص مرتے وقت اپنی قضاء نمازوں کے فدیہ کی وصیت کر جائے، جبکہ وصیت بھی ایک تہائی مال سے کم ہو تو کیا وارثوں پر اس وصیت کو پورا کرنا ضروری ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

جی ہاں! ضروری ہے۔

لمافی المختصر فی الفقہ الحنفی:(265،بشری)
من فاتتہ صلوات ولم یقضھا حتی مات واوصی بالفدیۃ عن الصلوات الفائتۃ یعطی من ثلث مالہ لکل صلاۃ نصف صاع من بر اوصاع من تمر اوشعیر او قیمتہ۔
وفی الھندیة:(1/125،رشیدیہ)
اذا مات الرجل وعلیہ صلوات فائتۃ فاوصی بان یعطی کفارۃ صلواتہ یعطی لکل صلاۃ نصف صاع من بر و للوتر نصف صاع ولصوم یوم نصف صاع من ثلث مالہ
وفی الخانیة علی ہامش الھندیة :(1/114،رشیدیہ)
“رجل مات وعلیہ صلوات واوصی بان یطعموا عنہ لصلواتہ اتفقوا المشایخ علی انہ یجب تنفیذ ھذہ الوصیة من ثلث مالہ۔”
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(2/458،فاروقیہ)
وکذافی البحرالرائق:(2/498،رشیدیہ)
وکذافی مجمع الانھر:(1/368،منار)
وکذافی حاشیة الطحطاوی علی الدر المختار:(1/464،رشیدیہ)
وکذافی الشامیة:(1/492،دار احیاء التراث)

 

واللہ اعلم بالصواب
محمداحسن ابراہیم غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
21،8،1443/2022،3،25
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:63

ایک بچی جو بالغ ہے اور وہ تراویح اپنے بھائی کے پیچھے پڑھ رہی ہو، تو کیا وہ غلطی پر لقمہ دے سکتی ہے؟ نماز پڑھنے والے سب محرم ہیں، کوئی غیر محرم نہیں ہے۔

الجواب حامداًومصلیاً

صورت مسئولہ میں بھی عورت کے لیے لقمہ دینا ناپسندیدہ ہے۔

لما فی البحرالرائق:(1/470،رشیدیة)
نغمۃ المرأۃ عورۃ وبنی علیہ أن تعلمھا القرآن من امرأۃأحب للرجال والتصفیق للنساء ))فلا یجوز أن یسمعھا الرجل ۔ومشی علیہ المصنف فی الکافی فقال :ولا تلبی جھراًلأن صوتھا عورۃ ومشی علیہ صاحب المحیط ۔۔۔۔۔۔ قیل إذا جھرت بالقرآن فی الصلوۃ فسدت کان متجھا۔
وفی غنیة المتملی:(217،رشیدیة)
بأن نغمۃ المرأۃ عورۃ أن تعلمھا القرآن من المرأۃ احب لان نغمۃھا عورۃ ولھذا قال علیہ السلام التسبیح للرجال والتصفیق للنساء فلا یحسن أن یسمعھا الرجل أذا جھرت بالقرآن فی الصلوۃ فسدت کان متجھاولذا منعھا علیہ السلام عن التسبیح بالصوت لاعلام الإمام بسہوہ الی التصفیق انتھی۔
وفی الصحیح لمسلم:(1/219،رحمانیة)
“عن ابن شھاب قال أخبرنی سعید بن المسیب وأبوسلمۃ بن عبدالرحمٰن انھما سمعا ابا ھریرۃ یقول قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ((التسبیح للرجال والتصفیق للنساء))۔”
وفی ردالمحتار علی الدرالمختار :(2/94،دارالمعرفة)
وفی المبسوط للسرخسی:(1/133،دارالمعرفة)
وفی الفتاوی التاتارخانیة:(2/278،فاروقیة)
وفی الفقہ الإسلامی وأدلتہ:(2/1182،رشیدیة)
وفی الفتاوی الھندیة:(1/85،رشیدیة)
وفی بدائع الصنائع:(1/376،رشیدیة)
وفی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/193،الطارق)

واللہ اعلم بالصواب
محمد احسن ابراہیم غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
23/8/1443،2022/3/27
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:94

ایک شخص شرعی مسافت طے کر کے ایک شہر کے نواحی علاقے میں آ گیا ہے اور اس علاقے کی مختلف بستیوں میں چالیس دن رہنے کی نیت کی ہے، جبکہ بستیوں کا درمیانی فاصلہ ایک سے تین کلو میٹر تک کاہے لیکن کسی بھی بستی میں پندرہ دن پورے نہیں گزارنے تو اس صورت میں یہ شخص مقیم شمار ہو گا یا مسافر؟

الجواب حامداًومصلیاً

اگر ان میں سےہر بستی، دوسری سے الگ اور مستقل حیثیت رکھتی ہے اور دوسری بستی کا ذیلی حصہ نہیں ہے اور سوال سے بھی بظاہر ایسا لگ رہا ہے تو یہ شخص مسافر شمار ہو گا۔

لمافی الھندیة:(1/139،رشیدیہ)
لا یزال علی حکم السفر حتی ینوی الاقامۃ فی بلدۃ او قریۃ خمسۃ عشر یوما او اکثر۔۔۔۔ ولو نوی الاقامۃ خمسۃ عشر یوما فی موضعین فان کان کل منھما اصلا بنفسہ نحو مکۃ ومنی والکوفۃ والحیرۃ لایصیر مقیما وان کان احداھما تبعا للآخر حتی تجب الجمعۃ علی سکانہ یصیر مقیما۔
وفی بدائع الصنائع:(1/269،رشیدیہ)
وان کان مصرین او قریتین او احدھما مصر والاخر قریۃ لا یصیر مقیما لانھما مکانان متباینان حقیقۃ وحکما
وکذافی اللباب:(1/111،قدیمی)
وکذافی المبسوط:(2/108،دارالمعرفہ)
وکذافی البحر الرائق:(2/232،رشیدیہ)
وکذافی تبیین الحقائق:(1/212،امدادیہ)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(2/499،فاروقیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(2/391،ادارة القران)
وکذافی الخانیة علی ھامش الھندیة:(1/166،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/311،طارق)

واللہ اعلم بالصواب
محمداحسن ابراہیم غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
9،9،1443/2022،4،11
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:141

امام یا منفرد نماز کی تیسری رکعت یا پہلی رکعت میں بھول کر قعدہ میں بیٹھ جائے تو محض بیٹھنے سے سجدہ سہو واجب ہو گا ؟یا کسی خاص مقدار بیٹھنے سے سجدہ سہو واجب ہو گا؟

الجواب حامداًومصلیاً

محض بیٹھنے سے سجدہ سہو واجب نہ ہو گا ، بلکہ تین مرتبہ’ سبحان ربی الاعلی’ کہنے کی مقدار بیٹھنے سے سجدہ سہو واجب ہو گا ۔

لمافی البزازیة علی ھامش الہندیہ:( 4/63 ،رشیدیہ)
سہا فی صلاتہ انھا الظہر او العصر او غیر ذلک ان تفکر قدر ما یؤدی فیہ رکن کالرکوع لزم وان قلیلا لا۔
وفی المحیط البرہانی :(2/314،علوم اسلامیہ)
و فی شرح الکافی للصدر الشھید وکان الشیخ الامام الاجل ظہیر الدین المرغینانی یقول لا یجب سجود السہو بقولہ اللھم صل علی محمد و نحوہ ، وانما المعتبر مقدار ما یودی فیہ رکنا
وکذافی الشامیة :(1/469،ایچ۔ ایم۔ سعید)
وکذافی حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح:(474،قدیمی)
وکذافی الفتاوی التاتار خانیة :(2/390، فاروقیہ)
وکذافی مجمع الانھر :(1/221،المنار)

واللہ اعلم بالصواب
احسن ابراہیم غفر لہ و لوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
22/4/1443،2021/11/28
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:122