مقتدی”سمع اللہ لمن حمدہ“کہے گا یا نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

مقتدی”سمع اللہ لمن حمدہ“نہیں کہے گا

لما فی صحیح البخاری: (1/170،رحمانیہ)
عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ قال قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم:انما جعل الامام لیئو تم بہ ،فاذا کبر فکبرواواذرکع فارکعواواذاقال سمع اللہ لمن حمدہ، فقولوا ربنا ولک الحمدو اذاسجد فاسجدواواذاصلٰی جالسافصلوا جلوسا اجمعون
وفی الفتاوی الھندیہ: (1 /74 ،رشیدیہ )
فان کان اماما یقول سمع اللہ لمن حمدہ بالاجماع وان کان مقتدیا یاتی بالتحمید ولا یاتی بالتسمیع بلا خلاف وان کان منفردا یاتی بھما
وفی الفتاوی االتاتارخانیہ:(2/169،فاروقیہ)
ثم یرفع راسہ من الرکوع،فبعدذلک لایخلو: اماان یکون المصلی امامااو مقتدیا اومنفردا، فاذاکان اماما یقول سمع اللہ لمن حمدہ بالاجماع(وعلی الصفحۃ الاتیۃ) وان کان مقتدیا یاتی بالتحمید ولایاتی بالتسمیع بلا خلاف۔
وکذافی البحرالرائق : (1 /552 ،رشیدیہ )
اذا قال الامام سمع اللہ لمن حمدہ فقولوا ربنا لک الحمدفقسم بینھماوالقسمۃ تنافی الشرکۃ
وکذا فی المحیط البرھانی: (2 /118 ،ادارۃ القران )
وکذافی المبسوط: (1 /20 ،دار المعرفہ )
وکذا فی تنویرالابصار: (2 /245 ،رشیدیہ )
وکذا فی الفقہ الاسلامی ادلتہ:(2/891،رشیدیہ)
وکذا فی الھدایہ:(1/98،رشیدیہ)
وکذا فی بدائع الصنائع:(1/491،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ فیصل نذیر غفرلہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
17،2،1443/2021،9،25
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:56

ایک آدمی نے کھانا کھایا اس کے بعداس کے دانتوں سے خون نکل آیااور تھو ک میں واضح نظرآیااور اس نے کلی نہیں کی،بلکہ اس کو نگل گیااور فورا ہی امام نے اسے کہا کہ اقامت کہو اس نےاقامت کہی ،اب پوچھنا یہ ہے کہ(1) اس کا خون نگلناکیساہے؟(2)اس کا اقا مت کہنا کیساہے؟(3)اوراس کی نماز کا کیا حکم ہے ؟

الجواب حامداومصلیا

(1)

اس شخص کا خون نگلنا حرام ہے۔(2)اس شخص کااقامت کہنا مکروہ ہے۔(3)نماز نہیں ہوئی۔

لمافی الموسوعةالفقہیة:(21/25،علوم اسلامیہ)
“اتفق الفقھاء علی أن الدم حرام نجس لایؤکل ولا ینتفع بہ․”
وکذافی المحیط البرھانی:(1/363،ادارةالقراٰن)
“کل مایخرج من بدن الآدمی مما یوجب الوضوءأوالغسل فھو نجس کالغائط والبول والدم․”
وکذافی التنویرالابصار:(2/75،رشیدیہ)
ویکرہ اذان جنب واقامة محدث لاأذانہ}وتحتہ فی الشامیة}ویکرہ أذان جنب لأنہ یصیر داعیا إلی مالا یجیب إلیہ واقامتہ اولی بالکراھةوصرح فی(الخانیۃ)بانہ تجب الطھارۃ فیہ عن اغلظ الحدثین وظاہرہ ان الکراھة تحریمیة
وکذافی الھندیة:(1/54،رشیدیہ)
وکرہ اذان الجنب واقامتہ باتفاق الروایات والاشبہ ان یعاد الاذان ولاتعاد الاقامةولایکرہ اذان المحدث فی ظاہرالروایةھکذا فی الکافی وھو الصحیح کذا فی الجوھرۃ النیرۃ وکرہ اقامتہ ولاتعاد
وکذافی الصحیح البخاری:(1/84،رحمانیہ)
وکذافی الفتاوی اتاتارخانیة:(1/428،فاروقیہ)
وکذافی بدائع الصنائع:(1/301،رشیدیہ)
وکذافی فتح القدیر:(1/10،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(1/729،رشیدیہ)
وکذافی مجمع الانھر:(1/118،المنار)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:فیصل نذیر غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
9،5،1443/2021،12،14
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:14

ایک علاقے میں کئ جگہ جمعہ ہوتا ہے،تو دوکان دار کس جامع مسجد کی پہلی اذان کے وقت دوکان بند کرے گا؟

الجواب حامداومصلیا

قریبی جامع مسجد کی پہلی اذان کا اعتبار ہوگا۔

لمافی رد المحتار:(2/87،رشیدیہ)
والذی ینبغی اجابۃ الأول سواء کان موذن مسجدہ اوغیرہ فان سمعھم معااجاب معتبراکون اجابتہ لموذن مسجدہ
وکذافی فتح القدیر:(1/254،رشیدیہ)
والذی ینبغی اجابۃ الأول سواء کان مؤذن مسجدہ اوغیرہ لأنہ حیث یسمع الاذان ندب لہ الإجابۃ او وجبت…………فإن سمعھم معااجاب معتبرا کون جوابہ لموذن مسجدہ
وکذافی البحر الرائق:(1/452،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(2/1283،رشیدیہ)
وکذافی مجمع الانھر:(1/253،المنار)
وکذافی الھدایة:(1/154،رشیدیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(2/435،ادارة القراٰن)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:فیصل نذیر غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
12،9،1443/2022،،14
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:129

ایک قبرستان جسکی چار دیواری ہے،اس میں کچھ خالی جگہ ہے،کیااس خالی جگہ میں نماز جنازہ پڑھنا جائز ہے؟جبکہ جنازہ پڑھتے وقت سامنے قبریں بھی ہیں۔

الجواب حامداومصلیا

قبروں کے درمیان نماز جنازہ مکروہ ہے۔

لمافی مجمع الزوائدومنبع الفوائد:(3/111،دارالکتب العلمیة)
عن انس بن مالک رضی اللہ عنہ،ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم نھی ان یصلی علی الجنائز بین القبور
وکذافی کتاب الفقہ:(1/241،حقانیہ)
وکذافی معارف السنن:(3/297،ایچ،ایم،سعید)
وکذافی الفقہ الحنفی:(1/233،الطارق)
وکذا فی الصحیح المسلم:(1/368،رحمانیہ)
وکذا فی الھندیة:(1/107،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(2/1534)
وکذافی سنن ابن ماجہ:(1/156)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:فیصل نزیر غفرلہ
دارالافتاءجامعةالحسن ساہیوال
26،3،1443/2021،11،2
جلد نمبر 25 فتوی نمبر:127

فجر کی نماز میں ہی سورج طلوع ہو جائے،تونماز ادا ہو جائے گی یا نہیں؟

الجواب حامداومصلیا

صورت مسئولہ میں نمازفاسد ہوجائے گی۔

لمافی المبسوط:(1/152،دارالمعرفة)
“ولوطلعت الشمس وھو فی خلال الفجرفسدت صلاتہ عندنا.”
وفی بدائع الصنائع:(1/329،رشیدیہ)
وکذالایتصوراداءالفجر مع طلوع الشمس عندنا حتی لو طلعت الشمس وھوفی خلال الصلاۃتفسد صلاتہ عندنا
وفی الفتاوی التاتارخانیة:(2/19،فاروقیہ)
وفی المحیط البرھانی:(2/5،ادارةالقرآن)
وفی اعلاءالسنن:(5/8،ادارةالقران والعلوم الاسلامیہ)
وفی منحة الخالق:(1/436،رشیدیہ)
وفی کتاب الفقہ علی المذاھب الاربعة:(1/165،حقانیہ)
وفی الفقہ الحنفی فی ثوب الجدید:(1/187،الطارق)
وفی الرد المحتار:(2/41،رشیدیہ)
وفی شرح الوقایة:(1/149،امدادیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:فیصل نذیر غفرلہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
24،2،1443/2021،10،2
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:59

ایک شخص نے گھر میں بغیر خطبے کے عید کی نماز پڑھائی جبکہ اس کے پیچھے مقتدی ایک مرد اور دو عورتیں تھیں آیااب نماز ہوگئی یا نہیں اور ایسا کرنے سے امام گناہ گار ہوگا یا نہیں؟

الجواب حامدا ومصلیا

عید کی نماز صحیح ہونے کی شرائط میں سے ایک شرط یہ ہے کہ امام کے علاوہ تین مرد مقتدی ہوں اور ایک شرط یہ ہے کہ وہاں لوگوں کو نماز کی عام اجازت ہو،ان دونوں شرائط کے نہ ہونے کی وجہ سے صورت مسئولہ میں عید کی نماز نہیں ہوئی۔

لمافی تنویرالابصارمع الدر:(2/151،ایچ،ایم ،سعید)
شرائط صحة الجمعۃ منھا)(الجماعة)واقلھا ثلاثة رجال (قال فی الشامیۃ تتہ)اطلق فیھم فشمل العبید والمسافرین والمرضی والامیین والخرسی لصلاحیتھم للامامةفی الجمعة
وکذافی کتاب الفقہ:(1/327،حقانیہ)
“الاذان العام من الامام الحاکم فلاتصح الجمعة فی مکان یمنع منہ بعض المصلین∙”
وکذافی شرح الوقایة:(246،امدادیہ)
وکذافی مجمع الانھر:(1/254،المنار)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(2/1389،رشیدیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(2/483،ادارةالقران)
وکذافی الھندیة:(1/85،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی الخانیہ:(1/182،رشیدیہ)
وکذافی فتح القدیر:(2/68،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:فیصل نذیرغفرلہ
دارالافتاءجامعةالحسن ساہیوال
24،2،1443/2021،10،31
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:96

چند مرد و عورتیں اکھٹے بیٹھے ہوئے تھے، ایک شخص نے آیت سجدہ پڑھ لی تو انہوں نے ایک عورت سے کہا آپ سجدہ تلاوت کی امامت کرو،ہم آپ اقتداء میں سجدہ تلاوت کر لیتے ہیں ،پھر ان سب نے ایسا کر لیا تو اس کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداومصلیا

سجدہ تلاوت ادا ہو گیا،مگر یہ طریقہ مناسب نہ تھا۔

لمافی الشامیة:(2/711،رشیدیہ)
والمتابعۃ ھنا وان کانت لیست اقتداء حقیقۃ ولذا صح متابعۃ المرأۃ فیھا وتقدم السامع علی التالی
وکذافی البحر الرائق:(2/224،رشیدیہ)
لایؤمر التالی بالتقدیم ولا بالصف ولکنہ یسجد ویسجدون معہ حیث کانوا وکیف کانواوذکر ابوبکر ان المرأۃ تصلح اماما للرجل فیھا
وکذافی النھر الفائق:(1/343،قدیمی)
وکذافی المختصر فی الفقہ الحنفی:(183،البشری)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(2/1134،رشیدیہ)
وکذافی مجمع الانھر:(1/237،المنار)
وکذافی الھندیة:(1/134،رشیدیہ)
وکذافی فتح القدیر:(2/25،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:فیصل نذیر غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
17،8،1443/2022،3،21
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:59

سجدہ تلاوت کرنے کا طریقہ کیا ہے؟

الجواب حامداومصلیا

سجدہ تلاوت کرنے کاافضل طریقہ یہ ہے کہ کھڑے ہو کربغیر ہاتھ اٹھائےتکبیر کہتے ہوئے سجدے میں جائیں اور کم ازکم تین مرتبہ سبحان ربی الأعلیپڑھیں،پھر تکبیر کہتے ہوئے کھڑے ہوجائیں،البتہ اگر بیٹھ کر تکبیر کہتے ہوئے سجدہ کیا تو یہ بھی جائز ہے۔

لمافی المختصر فی الفقہ الحنفی:(180،البشری)
کیفیۃ سجودالتلاوۃ أن ینحط للسجود مکبّرا من غیر أن یرفع یدیہ ویسبح فی السجود ثلاث تسبیحات،ثم یرفع رأسہ من السجود مکبرا والأفضل لمن أرادان یسجد للتلاوۃ أن یقوم ثم یخر للسجود مکبرا،ثم یرفع رأسہ من السجود ویقوم بعد السجود أیضا ولکن ان لم یقم قبل السجود ولابعدہ :جازایضا
وکذافی الھندیة:(1/135،رشیدیہ)
فاذا اراد السجود کبر ولایرفع یدیہ وسجد ثم کبر ورفع راسہ ولا تشھد علیہ ولاسلام……………ویقول فی سجودہ سبحان ربی الاعلی ثلاثا ولا ینقص عن الثلاث کما فی المکتوبۃ………المستحب انہ اذا اراد ان یسجد للتلاوۃ یقوم ثم یسجد واذارفع رأسہ من السجود یقوم ثم یقعد
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/287،الطارق)
وکذافی التنویر مع الرد:(2/699،رشیدیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(2/363،ادارة القراٰن)
وکذافی البحر الرائق:(2/223،رشیدیہ)
وکذافی السراجیة:(90،زمزم)

 

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:فیصل نذیر غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
23،8،1443/2022،3،27
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:97

آئینہ کے سامنے کھڑےہوکرنمازپڑھنا کیسا ہے،جبکہ حالت قیام میں اگر نظر سامنے کی طرف جائے تو مکمل عکس بھی نظر آتا ہے۔

الجواب حامدامصلیا

اگرآئینہ کی وجہ سے نماز کے خشوع میں خلل واقع ہو تو مکروہ ہے،ورنہ نہیں

لما فی المختصر فی الفقہ الحنفی:(149،البشری)
یکرہ ان یصلی فی موضع یخاف فیہ علی نفسہ الضحک أوالخلل بالخشوع أو شغل البال
وکذا فی حاشیةطحطاوی:(276،قدیمی کتب خانہ)
ومنھا نظر المصلی سواء کان رجلا أو امرأۃ إلی موضع سجودہ قائما حفظا لہ عن النظر إلی مایشغلہ عن الخشوع
وکذا فی الھندیة:(1/73،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی السراجیة:(73،زمزم)
وکذافی فتاوی النوازل:(87،حقانیة)
وکذافی التنویر مع الدر:(2/520،رشیدیہ)
وکذافی تبیین الحقائق:(1/164،امدادیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:فیصل نذیر غفر لہ
دارالافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
14،5،1443/2021،12،19
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:54

اندھیرے میں نماز پڑھنا کیسا ہے؟اوراگر اندھیرے میں نماز پڑھنے کے اعتبار سے فرائض،واجبات اور نوافل میں کوئی فرق ہو حکم کے اعتبار سے تو اسکی رہنمائی بھی فرمائیں۔

الجوب حامداومصلیا

اندھیرے میں نماز پڑھنا جائز ہےاوراندھیرے میں نماز پڑھنے کے اعتبار سےفرائض،واجبات اور نوافل میں حکم کے اعتبار سے کوئی فرق نہیں۔

لمافی بدائع الصنائع:(1/309،رشیدیہ)
وان کان عاجزا بسب الاشباہ وھو ان یکون فی المفازۃ فی لیلۃ مظلمۃ او لا علم لہ بالامارات الدالۃ علی القبلۃ،فان کان بحضرتہ من یسالہ عنھا لایجوز لہ التحری لما قلنا بل یجب علیہ السوال
وکذا فی الصحیح البخاری:(1/121،رحمانیہ)
عن عائشۃ رضی اللہ عنہا زوج النبی صلی اللہ علیہ وسلم انھا قالت کنت انام بین یدی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ورجلای فی قبلتہ،فاذا سجد غمزنی فقبضت رجلی واذا قام بسطھما قالت والبیوت یومئذ لیس فیھا مصابیح
وکذا فی الھندیة:(1/64،رشیدیہ)
رجل صلی فی المسجد فی لیلۃ مظلمۃ بالتحری فتبین انہ صلی الی غیر القبلۃ جازت صلاتہ لانہ لیس علیہ ان یقرع ابواب الناس للسوال عن القبلۃ
وکذا فی تبیین الحقائق:(1/102،امدادیہ)
وکذا فی خلاصةالفتاوی:(1/70،رشیدیہ)
وکذا فی شرح الوقایة:(158،امدادیہ)
وکذافی الھدایة:(1/92،رشیدیہ)
وکذافی التجنیس والمزید:(1/424،ادارۃ القراٰن)
وکذافی مجمع الانھر:(1/127،المنار)
وکذافی جامع الترمذی:(1/188،رحمانیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:فیصل نذیر غفرلہ
دارالافتاء جامعۃالحسن ساہیوال
21،4،1443/2021،11،27
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:126