میں ایک یونیورسٹی کا سٹوڈنٹ ہوں،ہم نے اس یونیورسٹی میں ایک جگہ کو نماز کے لئے مختص کر رکھا ہے،جو نہی وقت نماز آتا ہے ہم جماعت سے نماز ادا کر لیتے ہیں،سوال یہ دریافت کرنا ہے کہ کیا اس جگہ نماز پڑھنے سے ہمیں مسجد جیسا ثواب ملے گا یا نہیں اور تحیۃ المسجد کاکیا حکم ہےپڑھنی چاہیے یا نہیں؟

الجواب حامداومصلیا

صورت مسئولہ میں جماعت کا توثواب ملے گا ۔لیکن مسجد کا ثواب نہیں ملے گااور اس جگہ تحیۃ المسجد بھی نہیں پڑھی جائے گی کیونکہ وہ مسجد کے ساتھ خاص ہے۔

لمافی الفتاوی النوازل:(63،حقانیہ)
“والصلاۃ فی البیت بالجماعۃ لاینال فضل الجماعۃ بالمسجد․”
وکذافی الصحیح المسلم:(1/282،رحمانیہ)
عن أبی ھریرۃ رضی اللّٰہ عنہ قال:قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم صلوۃ الرجل فی جماعۃ تزید علی صلوتہ فی بیتہ وصلوتہ فی سوقہ بضعا وعشرین درجۃ
وکذافی فتح الملھم:(4/11،دار العلوم کراچی)
وکذافی الفقہ الحنفی:(1/259،الطارق)
وکذافی المختصر فی الفقہ الحنفی:(162،البشری)
وکذافی کتاب الفقہ:(2/286،حقانیہ)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(2/280،فاروقیہ)
وکذافی التنویروالردوالشامیة:(2/340،رشیدیہ)
وکذافی الموسوعة الفقہیة:(37/201،علوم اسلامیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(2/1170،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمدانیس غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃالحسن ساہیوال
3،7،1443/2022،2،5
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:132

! ایک شخص نے ٹرین میں اپنے اندازے سے قبلہ کی سمت سمجھ کر فرض نماز پڑھ لی ،کچھ سفر کرنے کے بعد معلوم ہوا کہ رخ کافی پھراہوا تھا ،تو اس کی نماز کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداومصلیا

اگر نماز پڑھنے سے پہلے سمت معلوم کرنے میں اس نے پوری توانائی خرچ کی ہے ،مثلا وہاں پر کوئی واقف حال شخص موجود تھا اس سے پوچھ کر یا مساجد کا رخ نظر آرہا تھاان کو دیکھ کر یا بآسانی موبائل وغیرہ کے ذریعے قبلہ کی سمت معلوم کر کے یا اگر ان میں سے کوئی بھی صورت ممکن نہیں تھی ،تو پھر اچھی طرح سوچ و بچار کر کے قبلہ کا اندازہ لگا کر نماز پڑھی ہے ،تو نماز ہو گئی ،لوٹانے کی ضرورت نہیں ہے،ورنہ وہ نماز لوٹانا پڑھے گی۔

لما فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/197،الطارق)
ویستدل علی القبلۃ برؤیۃ محاریب المسجد فإن لم توجد فبسؤال من یعلم با لقبلۃ ممن تقبل شھادتہ من أھل ذلک المکان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔وإذا کان فی صحراءأو بحر یستعین لمعرفۃ القبلۃ بالنجوم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔أو یستعین بالآلات الموضوعۃ لذلک وان لم یجد وسیلۃ لمعرفۃ القبلۃ یجتھد ویصلی إلی الجھۃ التی أداہ إلی أنھا ھی القبلۃ فإن علم أنہ أخطأ فی اجتھادہ بعد ماصلی فلا إعادۃ علیہ۔
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(1/759،رشیدیہ)
یجب التحری والإجتھاد فی القبلۃ أی بذل المجھود لنیل المقصود بالدلائل علی من کان عاجزاً عن معرفۃ القبلۃ واشتبھت علیہ جھتھا ولم یجد أحداثقۃ یخبرہ بھاعن علم أی یقین و مشاھدۃ لعینھا فمن وجدہ اتبعہ ۔۔۔۔۔۔ومن لم یجد ثقۃ یقلد اعتمد علی الدلائل کا لفجر والشفق والشمس و القطب وغیرہ من الکواکب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ان تیقن الخطأ فی إجتھادہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔إن کان بعد الصلاۃ صلی الصلاۃ القادمۃ ولا إعادۃ علیہ لما مضی لإتیانہ بما فی وسعہ
وکذا فی التنویر والدر:(2/138،رشیدیہ)
وکذا فی الشامیة:(2/140،رشیدیہ)
وکذا فی الھندیة:(1/64،رشیدیہ)
وکذا فی البحرالرائق:(1/499،رشیدیہ)
وکذا فی الموسوعة الفقہیة:(4/71،رشیدیہ)
وکذا فی بدائع الصنائع:(1/309،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ محمد انیس غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃالحسن ساہیوال
15،9،1443/22،4،17
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:139

ایک حدیث میں ہے کہ کتے کی طرح سجدہ میں نہ جاؤاس حدیث کو لے کر اہلحدیث کہتے ہیں کہ ہماری خواتین کا سجدہ(حنفی مسلک کا)صحیح نہیں ہے۔

الجواب حامداومصلیا

حدیث شریف میں مردوں کو حکم دیا گیا ہے کہ سجدے میں کتے کی طرح اپنی کہنیاں زمیں پر نہ بچھائیں،بلکہ کہنیاں زمین سے اٹھی ہوئی اور پہلووں سے دور ہوں ،جبکہ عورتوں کو حکم دیا کہ وہ سمٹ کر اور زمین سے چمٹ کر سجدہ کریں،اس بارے میں چندروایات ملاحظہ ہوں

عن أبی سعید الخدری صاحب رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم عن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم أنہ قال:(خیر صفوف الرجال الأول وخیر صفوف النساء الصف الآخر)وکان یأمر الرجال أن یتجافوافی سجودھم ویأمر النساءینخفضن فی سجودھن وکان یأمرالرجال أن یفرشوا الیسریٰ وینصبواالیمنیٰ فی التشھد ویأمر النساءأن یتربعن وقال(یامعشر النساءلا ترفعن ابصارکن فی الصلاۃ تنظر ن إلی عورات الرجال)
(السنن الکبری للبیہقی:2/314،دارالکتب)

حضرت ابوسعید خدری رضی اللّٰہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں،کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مردوں کے لئے پہلی صف سب سے بہترین صف ہے اور عورتوں کے لئےآخری صف سب سے بہترین صف ہے آپ مردوں کو حکم دیا کرتے تھے کہ وہ سجدے میں اپنے پیٹوں کو جدا رکھیں اور عورتوں کو حکم دیا کرتے تھے کہ وہ سمٹ کر سجدہ کریں اور مردوں کو حکم دیا کرتے تھے کہ وہ تشہد میں اپنا بایاں پاؤں بچھالیں اوردایاں کھڑا کر لیں اور عورتوں حکم دیا کرتے تھے کہ وہ اپنے پاؤں کو زمین پر بچھالیں۔

عن عبد اللّٰہ بن عمر رضی اللّٰہ قال قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم:(إذا جلست المرأۃ فی الصلاۃوضعت فخذھا علی فخذھاالأخری وإذاسجدت ألصقت بطنھا فی فخذیھاکأسترمایکون لھا وانّ اللّٰہ تعالیٰ ینظر الیھا ویقول :یاملائکتی أشھد کم انی قد غفرت لھا
(السنن الکبری للبیھقی:2/314،دارالکتب)

حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایاجب عورت نماز میں بیٹھےتواپنی ایک ران کو دوسری ران پر رکھے ارو جب سجدہ کرے تو اپنے پیٹ کورانو ں کے ساتھ ملا لے،کیونکہ اس میں اس کے لئے سب سے زیادہ پردہ ہےاور اللہ تعالیٰ اس عورت کی طرف دیکھ کرفرماتے ہیں کہ اے میرے فرشتو! تم گواہ رہو کہ میں نے اس عورت کی بخشش کردی۔

عن یزیدبن أبی حبیب ،أن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم مر علی امرأتین تصلیان فقال:اذا سجدتما فضما بعض اللحم الی الأرض فإن المرأۃ لیست فی ذلک کالرجل
 (السنن الکبری للبیھقی:2/314،دارالکتب)

حضرت یزید بن حبیب سے روایت ہے کہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم دو عورتوں کے پاس سےگزرے جو نماز پڑھ رہی تھیں تو آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:جب تم دونوں سجدہ کروتواپنے جسم کو زمین کے ساتھ ملا لوکیونکہ اس معاملے میں عورت مرد کی طرح نہیں ہے۔

قال ابراھیم النخعی:کانت المرأۃ تؤمر اذا سجدت ان تلزق بطنھا بفخذھا کیلا ترتفع عجزتھا ولا تجافی کما یجافی الرجل
(السنن الکبری للبیہقی:2/314،دارالکتب)

حضرت ابراھیم النخعی رضی اللّٰہ فرماتے ہیں کہ عورت کو حکم ہے کہ وہ سجدہ میں اپنا پیٹ اپنی رانوں کے ساتھ ملالے تاکہ اس کی سرین بلند نہ ہواورپیٹ کو رانوں سے جدا نہ کرے جیسا کہ مرد جدا کرتے ہیں۔

عن ابی اسحاق عن الحارث قال:قال علی رضی اللّٰہ عنہ إذا سجدت المرأۃ فلتضم فخذیھا
(السنن الکبری للبیھقی:2/314،دارالکتب)

حضرت حارث سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ نے فرمایا:جب عورت سجدہ کرے تو اپنی رانوں کو ملا لے۔

وکذافی اعلاءالسنن:(3/26،ادارة القراٰن والعلوم الاسلامیہ)
وکذافی السراجیہ:(64 ،دارالعلوم زکریا)
وکذافی الفقہ الحنفی:(1/223،الطارق)
وکذافی البحرالرائق:(1/561،رشیدیہ)
وکذافی الھندیة:(1/75،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:محمدانیس غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
9،7،1443/2022،2،11
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:177

آٹھ طالب علموں نے اپنی اپنی نشست پر بیٹھ کر استاد کو بلند آواز سے ایک ایک کر کے سورۃ علق سنائی کتنے سجدے واجب ہوں گے؟

الجواب حامداومصلیا

سب پر ایک ہی سجدہ واجب ہو گا۔

لما فی الھندیة:(1/134،رشیدیہ)
ومن حکم ہذہ السجدۃ التداخل حتی یکتفی فی حق التالی بسجدۃ واحدۃ وان اجتمع فی حقہ التلاوۃ والسماع وشرط التداخل اتحاد الآیۃ واتحاد المجلس حتی لو اختلف المجلس واتحدت الآیۃ او اتحد المجلس واختلفت الآیۃ لاتتداخل
وکذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/288،الطارق)
ولو کررہا فی مجلس واحدکفتہ سجدۃ واحدۃ بشرط اتحاد الآیۃوالمجلس وتکفی سجدۃ واحدۃأذا تکرر سماعہ لہا فی مجلس واحد وعلی ہذا لو قرأہا جماعۃ وسمعہا بعضہم من بعض کفتہم سجدۃ واحدۃ ویتکرر وجوب السجود بتکررمجلس التلاوۃ او باختلاف المتلو والمسموع
وکذا فی الشامیة:(2/712،رشیدیہ)
وکذا فی التاتارخانیة:(2/466،فاروقیہ)
وکذا فی خلاصة الفتاوی:(1/184،رشیدیہ)
وکذا فی البحر الرائق:(2/220،رشیدیہ)
وکذا فی بدائع الصنائع:(1/430،رشیدیہ)
وکذا فی المحیط البرہانی:(2/364،دار احیا التراث)
وکذا فی المبسوط:(2/5،دار المعرفہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ محمد انیس غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃالحسن ساہیوال
6،5،1443/21،12،11
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:170

عورت کمرے میں نماز پڑھ رہی ہو اس کے بال کھل جائیں اور کوئی بھی نہ دیکھے تو اس کی نماز ہو جائے گی؟

الجواب حامداومصلیا

دوران نماز اگر عورت کے بال چوتھائی حصہ کے بقدر یا اس سے زیادہ ایک رکن یعنی تین مرتبہ سبحان اللہ کہنے کی مقدار کھلے رہیں ،تو نماز فاسد ہو جائے گی ،ورنہ نہیں ۔

لما فی بدائع الصنائع:(1/307،رشیدیہ)
وذکر محمدفی الزیادات :ما یدل علیٰ أن حکم الغلیظۃ والخفیفۃ واحد فأنہ قال فی إمرأۃ صلت فانکشف شییٔ من شعرھا وشییٔ من ظھرھا وشییٔ من فرجھا وشییٔ من فخذھا، إنہ إن کان بحال لو جمع بلغ الربع منع أداء الصلاۃ وان لم یبلغ لا یمنع۔
وکذا فی التاتارخانیة:(2/24،فاروقیہ)
“إمرأۃ صلت وشعرھا ما تحت الأذنین مکشوفۃ قدر الربع لاتجوز صلاتھا لأنھا عورۃ۔”
وکذا فی المختصر فی الفقہ الحنفی:(100،البشریٰ)
وکذا فی البحرالرائق:(1/467،رشیدیہ)
وکذا فی الھندیة:(1/58،رشیدیہ)
وکذا فی المبسوط :(1/197،دار المعرفة)
وکذا فی المحیط البرھانی:(2/14،دار إحیا التراث)
وکذا فی التنویر والدر:(2/95،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد انیس غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃالحسن ساہیوال
17،8،1443/22،3،21
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:70

ایک آدمی نے کسی میت کاایک دفعہ جنازہ پڑھ لیا اب دوسری دفعہ کسی وجہ(ولی نےپہلے جنازہ نہیں پڑھاتھا )سے جنازہ پڑھا جا رہا ہے،تو اس شخص کے لیے دوبارہ پڑھنا کیسا ہے؟

الجواب حامداومصلیا

اس شخص کے لیے دوبارہ نماز جنازہ پڑھنا جائز نہیں ہے۔

لما فی الدر المختار:(2/145،رشیدیہ)
“لیس لمن صلی علیھا أن یعید مع الولی لأن تکرارھاغیر مشروع”
وکذا فی الفقہ الاسلامی:(2/1511،رشیدیہ)
“وان صلی الولی لم یجز لأحد أن یصلی علیہ بعدہ لأن الفرض تأدی بالأول والتنفل بالصلاۃ علی الجنازۃ غیر مشروع”
وکذا فی البحر الرائق:(2/318،رشیدیہ)
ولو أعادھا الولی لیس لمن صلی علیھا أن یصلی مع الولی مرۃ اخریٰ”
وکذا فی الھندیة:(1/163،رشیدیہ)
وکذا فی الشامیة:(2/145،رشیدیہ)
وکذا فی تبیین الحقائق:(1/240،امدادیہ)
وکذا فی فتح القدیر:(2/123،رشیدیہ)
وکذا فی مجمع الانھر:(1/269،المنار)
وکذا فی النھر الفائق:(1/392،قدیمی کتب خانہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ محمد انیس غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃالحسن ساہیوال
16،5،1443/21،12،21
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:62

فجر کی نماز میں تکبیر اولیٰ کوپانے کے لئے فجر کی سنتوں کو چھوڑ نا کیسا ہے؟جبکہ یقین ہو کہ سنتیں پڑھ کر جماعت کے ساتھ فرائض میں شریک ہو جاؤں گا۔

الجواب حامداومصلیا

صرف تکبیر اولیٰ کو پانے کے لئے فجر کی سنتوں کو چھوڑ نا مناسب نہیں اور جان بوجھ کر ایسا کرنے سے سنت چھوڑنے کا گناہ ہوگا،البتہ اگر جماعت سے رہ جانے کا خوف ہو تو پھر جماعت کے ساتھ ملنا بہتر ہے۔

لمافی السنن ابوداؤد:(1/187،رحمانیہ)
عن أبی ھریرۃ رضی اللّٰہ عنہ قال قال رسول اللّٰہ صلیٰ اللّٰہ علیہ وسلم :لاتدعو ھما وان طردتکم الخیل
وکذافی المحیط البرھانی:(2/238،ادارة القراٰن)
رجل انتھی الی الامام والناس فی صلاۃ الفجر،ان خشی أن تفوتہ رکعۃ من الفجر بالجماعۃ ویدرک رکعۃ،صلی سنۃ الفجر رکعتین عند باب المسجد،ثم یدخل المسجد فیصلی مع القوم وان خاف أن تفوتہ الرکعتان جمیعا لواشتغل بالسنۃدخل مع القوم فی صلاتھم،الاصل فی ھذا أن تکبیرۃالافتتاح لھا فضیلۃ عظیمۃ ……………وکذلک سنۃ الفجر لھا فضیلۃ عظیمۃ …………ومھما امکن الجمع بین الفضیلتین لاترک أحدھما فإذا کان یدرک رکعۃ من الفجر مع الامام امکنہ احراز الفضیلتین،فإنہ اذاصلٰی رکعتی الفجر فقداحرز فضیلتھما واذا أدرک مع الامام رکعۃواحدۃ فقدادرک رکعۃ واحدۃ مع الامام حقیقۃوأدرک الرکعۃ الاخریٰ معنی……………فدل أنہ امکن الجمع بین الفضیلتین ولایترک احدھما أو نقول لوترک رکعتی الفجر فانہ لایصلیھا أصلاولواشتغل بھما،ثم دخل مع الامام ینال ثواب أصل الصلاۃ بالجماعۃ،أنما یفوتہ کما لہ وکان ھذا أولٰی․
وکذافی بدائع الصنائع:(1/640،رشیدیہ)
انہ لواشتغل باحرازفضیلۃ تکبیرۃالافتتاح لفاتتہ فضیلۃ رکعتی الفجر أصلا ولواشتغل برکعتی الفجر لمافاتتہ فضیلۃ تکبیرۃالافتتاح من جمیع الوجوہ،لانہ باقیۃمن کل وجہ ما دامت الصلاۃباقیۃ،لأنہ تکبیرۃ الافتتاح ھی التحریمۃ وھی تبقی مادامت الأرکان باقیۃ فکانت تکبیرۃ الافتتاح باقیۃ ببقاء التحریمۃ من وجہ فصار مدرکا من وجہ وصار مدرکا ایضا فضیلۃ الجماعۃ……………ولانہ ادرک اکثر الصلاۃ،لأن الفائت رکعۃ لاغیرہ والمستدرک رکعۃ وقعدۃ وللأکثر حکم الکل فکان الأشتغال برکعتی الفجر أولی،بخلاف مااذا کان یخاف فوت الرکعتین جمیعا

 

وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/297،الطارق)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(2/1057،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(2/309،فاروقیہ)
وکذافی التنویروالدر:(2/549،رشیدیہ)
وکذافی البحرالرائق:(2/86،رشیدیہ)
وکذافی التجنیس والمزید:(2/100،ادارة القران)
وکذافی فتح القدیر:(1/455،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:محمدانیس غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
6،7،1443/2022،2،8
جلدنمبر:26 فتوی نمبر:139

ایک آدمی نے امام کے ساتھ پوری چار رکعت پڑھیں،لیکن جب امام نے سلام پھیرا تووہ بھول کر کھڑا ہو گیا اورپانچویں رکعت کے درمیان اسے یاد آگیا کہ وہ بھولے سے کھڑا ہوا ہے،لیکن پھر بھی اس نے پانچویں رکعت پوری کر کے پھر سلام پھیراتو کیا اس کی نماز ہو گئی؟

الجواب حامداومصلیا

صورت مسئولہ میں یہ شخص پانچویں رکعت کےلیےبھول کر کھڑا ہواتھا،مگرپھر جب اسے یاد آگیا کہ یہ میری پانچویں رکعت ہے،تو اس شخص نے نسیان کو طول دیا ہے جس کی وجہ سے فرض میں تأخیر ہوگئی،لہذا اس آدمی پر سجدہ سہو واجب ہے ،سجدہ سہو ادا نہ کرنے کی صورت میں نماز کا دوبارہ پڑھنا ضروری ہوگا۔

لما فی الھندیة:(1/126،رشیدیہ)
ولا یجب السجود الا بترک واجب أوتأخیرہ أو تأخیر رکن أو تقدیمہ أوتکرارہ
وکذا فی بدائع الصنائع:(1/426،رشیدیہ)
رجل صلّٰی الظھر خمساثم تذکر۔۔۔۔۔۔۔۔فان قعد فی الرابعۃ قدر التشھد وقام الی الخامسۃفإن لم یقیدھا بالسجدۃ حتی تذکر یعود إلی القعدۃویتمھا ویسلم لما مر وإن قیدھا بالسجدۃ لا یعود عندنا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔فالأولی ان یضیف إلیھا رکعۃ أخریٰ لیصیرالہ نفلا ۔۔۔۔۔۔۔۔ ولولم یضف إلیھا رکعۃ أخریٰ فی الظھر بل قطعھا لا قضاء علیہ عندنا
وکذا فی الھندیة:(1/129،رشیدیہ)
وکذا فی المبسوط :(1/228،دارالمعرفہ)
وکذا فی الشامیة:(2/268،رشیدیہ)
وکذا فی خلاصة الفتاویٰ:(1/178،رشیدیہ)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(2/1111،رشیدیہ)
وکذا فی المحیط البرھانی:(2/317،دارإحیا)
وکذا فی البحر الرائق:(2/184،رشیدیہ)
وکذا فی التاتارخانیة:(2/404،فاروقیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ محمد انیس غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃالحسن ساہیوال
15،8،1443/22،3،19
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:31

اگر نماز میں سجدےکےدوران کسی کےدونوں پاؤں زمین سےاٹھ جائیں تو نماز کا کیا حکم ہے؟اس میں جان کر اٹھانےاوربھول کر اُٹھ جانے کی صورت میں کوئی فرق ہے؟

الجواب حامداومصلیا

اگرسجدے میں پاؤںزمین پررکھنے کےبعداُٹھ جائیں تواس صورت میں نمازتوہوجائے گی،لیکن بغیر عذرایساکرنامکروہ ہے اور بھول جانے کی صورت میں کوئی حرج نہیں۔

لمافی الھندیة:(1/70،رشیدیہ)
ولوسجد ولم یضع قدمیہ علی الارض لایجوز ولو وضع احداھما جاز مع الکراھۃ ان کان بغیر عذر
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/207،رشیدیہ)
ویکرہ تحریما رفع القدمین عن الأرض أثناءالسجود
وکذافی البحرالرائق:(1/555،رشیدیہ)
وکذافی التنویر مع الدر:(2/167،رشیدیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(2/83،ادارةالقراٰن)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(2/125،فاروقیہ)
وکذافی العنایة:(1/311،رشیدیہ)
وکذافی حاشیة الطحطاوی:(283،قدیمی کتب خانہ)
وکذافی کتاب الفقہ:(1/203،حقانیة)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:فیصل نذیر غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
14،5،1443/2021،12،19
جلدنمبر:26 فتوی نمبر 55

ٹرین میں یاکسی ایسی جگہ میں جہاں نامحرم مردوں کے دیکھنے کا شبہ ہو،وہاں عورتوں کا نقاب کرکے نماز پڑھنا کیساہے؟کیابغیر عذر کے بھی منہ چھپا کر نماز پڑھنا جائز ہے؟

الجواب حامداومصلیا

بے پردگی کے خوف سے عورت کانقاب کرکے نمازپڑھناجائز ہے،لیکن بلاعذر منہ چھپا کر نماز پڑھنا مکروہ ہے۔

لمافی المحیط البرھانی:(2/137،ادارةالقراٰن)
یکرہ للمصلی أن یغطی فاہ فی الصلاۃ،لماروی ابو ھریرۃ رضی اللّٰہ عنہ(أنّ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نھی أن یغطی المصلی فاہ فی الصلاۃ)وھذا الذی ذکرناہ فی غیر حالۃ الغذر
وکذافی التنویر مع الدر:(1/406،ایچ،ایم،سعید)
وتمنع)المرأۃالشابۃ(من کشف الوجہ بین رجال )لالأنہ عورۃ بل(لخوف الفتنۃ)کمسہ وإن أمن الشھوۃ،لأنہ اغلظ ۔ وقال تحتہ فی الشامیۃ:(وتمنع المرأۃ)أی تنھی عنہ وإن لم یکن عورۃ(قولہ بل لخوف الفتنۃ)أی الفجور بھا قاموس أو الشھوۃ والمعنی تمنع من الکشف لخوف ان یری الرجال وجھھا فتقع الفتنۃ،لانہ مع الکشف قد یقع النظر الیھا بشھوۃ
وکذافی کتاب الفقہ:(1/238،حقانیہ)
“وأن یغطی الرجل فاہ وھذاان کان بغیر عذر وإلافلا یکرہ․”
وکذافی الھندیة:(1/118،رشیدیہ)
وکذافی حاشیةالطحطاوی:(350،قدیمی کتب خانہ)
وکذافی سنن ابی داؤد:(1/103،رحمانیہ)
وکذافی ا لفتاوی التاتارخانیة:(2/199،فاروقیہ)
وکذافی بدائع الصنائع:(1/506،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:فیصل نذیر غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
20-5-1443/2021-12-25
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:81