تین محرم(دو بھائی ایک بہن ) گھر میں جماعت کے ساتھ نمازپڑھتے ہیں،تو ایک بھائی امام ہو اور ایک بھائی اور ایک بہن مقتدی ،تو اس صورت میں ان کے کھڑے ہونے کی طریقہ کیا ہوگا؟

الجواب حامداً ومصلیاً

ایک بھائی امام کی دائیں جانب کھڑا ہو اور بہن ان دونوں کے پیچھےکھڑی ہو۔

لما فی صحیح المسلم:(1/281،رحمانیہ)
” عن انس بن مالک رضی اللہ عنہ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صلی بہ بامّہ اوخالتہ قال فاقامنی عن یمینہ واقام المراۃخلفنا . “
وفی السنن الکبریٰ للبیھقی:(3 151/دارالکتب العلمیہ)
اخبرہ انہ سمع ابا بکرۃ مولی ابن عباس رضی اللہ عنہ یقول:قال ابن عباس رضی اللہ عنہ صلیت الی جنب النبی صلی اللہ علیہ وسلم وعائشۃرضی اللہ عنھا خلفنا تصلی معنا وانا الی جنب النبی صلی اللہ علیہ وسلم اصلی معہ
وفی المحیط البرھانی:(2/252،داراحیاءتراث)
” وان کان معہ رجل ایضا یقیمہ عن یمینہ والمراۃ خلفھما. “
وکذافی سنن ابی داؤد:(1/99،رحمانیہ)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیہ:(2/247،فاروقیہ)
وکذافی الفتاوی العالمکیریہ:(1/88،رشیدیہ)
وکذافی رد المحتارعلی الدرالمختار:(2/368،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی النوازل:(80،الحقانیہ)
وکذافی البحر الرائق:(1/616،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد عبد اللہ غفرلہ ولولدیہ کوٹ ادو
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
13/5/1443/2021/12/18
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:27

ایک شخص ایک عرصے تک مغرب کی نمازمیں تیسری رکعت میں فاتحہ کےساتھ سورۃ ملاتا رہا ،یہ سمجھ کرکہ تیسری رکعت میں بھی سورۃ ملائی جاتی ہے اور کئی بار اس نے جماعت بھی کرائی ہے توان نمازوں کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اس کی نمازیں تو ہوگئیں ہیں ،لیکن مسنون یہ ہے کہ صرف فاتحہ پڑھے۔

لما فی المحیط البرھانی:(2/310،دار احیاء تراث)
” وا قرا فی الاخیرین من الظہر والعصر الفاتحہ والسورۃ ساھیا… فلا سھو علیہ،ھو المختار. “
وفی المختصر فی الفقہ الحنفی:(179،البشریٰ)
” لو قرا سورۃ بعد الفاتحۃ فی احدی الرکعتین الاخیرتین للفرض او فی کلتیھما :لا یلزمہ سجود السھو. “
وکذافی الفتاویٰ العالمکیریہ:(1/126،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی التاتار خانیہ:(2/392،فاروقیہ)
وکذافی البحر الرائق:(2/127،رشیدیہ)
وکذافی فتاوی النوازل:(101،الحقانیہ)
وکذافی غنیة المتملی:(460،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی السراجیہ:(88،دارالعلوم زکریا)
وکذافی بدائع الصنائع:(1/406،رشیدیہ)
وکذافی الجوھرۃ النیرۃ:(1/200،قدیمی کتب خانہ)

واللہ اعلم بالصواب
احقر محمد عبداللہ غفرلہ ولوالدیہ کوٹ ادو
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
8/5/1443/2021/12/12
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:189

خروج بصنع المصلی فرض ہے یا واجب ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

راجح قول کے مطابق خروج بصنع المصلی فرض ہے۔

لما فی غنیة المتملی:(291،رشیدیہ)
والسابعۃ)من الفرئض ..(وھی الخروج من الصلوۃبفعل المصلی) فانہ فرض(عند ابی حنیفۃ خلافا لھما
وفی کتاب المبسوط:(1/125،دار احیاء تراث)
ان الخروج من الصلوۃ بصنع المصلی فرض عند ابی حنیفۃ وعندھمالیس بفرض
وکذافی مجمع الانھر:(1/135،المنار)
وکذافی الفتاوی التاتار خانیہ:(2/130،فاروقیہ)
وکذافی رد المختار علی الدر المختار:(2/170،رشیدیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(2/85،دار احیاء تراث)
وکذافی کنزالدقائق:(22،حقانیہ)
وکذافی النھر الفائق:(1/196،قدیمی کتب خانہ)

واللہ اعلم بالصواب
احقر محمد عبداللہ غفرلہ ولوالدیہ کوٹ ادو
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
23/4/1443/2021/11/29
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:149

کسی شخص کو سجدہ سہو کے وجوب میں شک ہے اوروہ شک کی وجہ سے سجدہ سہو کرلیتا ہے،تو اس کی نماز کا کیاحکم ہے؟یعنی جس میں بغیر ضرورت کے محض شک کی وجہ سے سجدہ سہو کیا جو کہ واجب نہ تھا۔

الجواب حامداً ومصلیاً

محض شک کی وجہ سے سجدہ سہو نہیں کرنا چاہیے،لیکن اگر کبھی غلطی سے کرلیا تو نماز ہوجائے گی۔ائندہ خیال رکھنا چاہیئے۔

لما فی المحیط البرھانی:(3/113،داراحیاء تراث)
واذا ظن الامام ان علیہ سھوا فسجد للسھو وتابعہ المسبوق فی ذلک ثم علم أنہ لم یکن علی الامام سھو،ففیہ روایتان :فی إحدی الروایتین:تفسدصلاۃ المسبوق،وبہ اخذ عامۃ المشایخ،وفی اإحدی الروایتین لا تفسد،وبھذاالروایۃ کان یفتی الشیخ الاسلام ابو حفص فإن لم یعلم أنہ لم یکن علی الامام سھو لم تفسد صلا ۃ المسبوق بلا خلاف
وفی:البحر الرائق (2/176،رشیدیہ)
المسبوق إذا تابع المسبوق فی سجود السھوثم تبین أنہ لم یکن علی الامام سھو حیث تفسد صلاۃ المسبوق لکونہ اقتدی فی موضع الانفراد لا لزیادۃ السجدتین
وکذافی خلاصة الفتاوی:(1/163،دار احیاء تراث)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیہ:(2/427،فاروقیہ)
وکذافی الدر المختار:(1/599،رشیدیہ)
وکذافی بدائع الصنائع للکاسانی:(1/421،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی النوازل:(103،الحقانیہ)
وکذافی الفتاوی السراجیہ:(89،زمزم)

واللہ اعلم بالصواب
محمد عبداللہ غفرلہ ولوالدیہ کوٹ ادو
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
14/5/1443/2021/12/19
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:50

ایک آدمی قیام پر قادر ہے اور رکوع وسجود پر قادر نہیں ہے تو وہ کھڑے ہوکر نماز ادا کرے یا بیٹھ کر؟

الجواب حامداً ومصلیاً

ایسے شخص کو ضرور قیام کرناچاہیئے اور رکوع کا اشارہ کھڑے ہوکر بھی کر سکتا ہے ،بیٹھ کر بھی ،جبکہ سجدہ کا اشارہ بیٹھ کرکرے۔ اگر کسی مشقت کے بغیر وہ دوسری رکعت کے لئے کھڑا ہوسکتا ہے تو دوسری رکعت بھی پہلی رکعت کی طرح پڑھے اور اگر بیٹھ کر اٹھنے میں زیادہ مشقت ہو تو باقی نماز بیٹھ کر اشارہ ہی سے پوری کرلے۔
البتہ اگر کسی نے حنفیہ کے مشہور مسلک پر عمل کرتے ہوئے پوری نماز بیٹھ کر پڑھ لی تو اسکی نماز بھی ہوجائے گی۔

لما فی فتح القدیر:(2/7،رشیدیہ)
وان قدر) ای المریض علی القیام دون الرکوع والسجود بان کان مرضہ یقضی ذلک (لم یلزمہ)المنفی اللزوم فافادانہ لو اوما قائما جاز،الا ان الایماء قاعدا افضل لانہ اقرب الی السجود وقال خوہرزادہ یؤمی للرکوع قائما وللسجود قاعدا ،ثم ھذامبنی علی صحۃ المقدمۃ القائلۃ الرکنیۃ القیام لیس الا للتوسل الی السجودوقد اثبتھابقولہ لمافیھامن زیادۃ التعظیم:ای السجدۃ علی وجہ الانحطاط من القیام فیھا نھایۃ من التعظیم وھو الطلوب،فکان طلب القیام لتحقیقہ،فاذاسقط سقط ماوجب لہ وقد یمنع ان الشرعیۃ لھذا علی وجہ الحصر بل لہ ولما فیہ نفسہ من التعظیم کما یشاھد فی الشاھد من اعتبارہ کذلک حتی یحبہ اھل التجبر لذلک فاذا فات احد التعظیمی صار مطلوبا بما فیہ نفسہ۔ویدل علی نفی ھذہ الدعوی ان من قدر علی القعود والرکوع والسجود لاالقیام وجب القعود مع انہ لیس فی السجود عقبیہ تلک النھایۃ لعدم مسبوقیۃ بالقیام
وفی اعلا السنن:(7/202،ادارۃ القرآن)
ان الرکنیۃ القیام قد ثبتت بالنص وھو قولہ تعالٰی:(وقومواللہ قانتین)وقولہ صلی اللہ علیہ وسلم لعمران: (صل قائما فان لم تستطع فقاعدا) وبالاجماع ،فلایسقط وجوبہ عن القادر علیہ بالقیاس الذی ذکرتموہ ، فان القیاس اضعف الدلائل لایجوز معاوضۃ القطی لہ
وکذافی حاشیہ الطحطاویہ علی مراقی الفلاح :(434،قدیمی)
وکذافی المحیط البرھانی :(3/47،دار احیاءتراث)
وکذافی المبسوط للسرخسی :(1/213،دار المعرفة)
وکذافی الفتاوی العالمکیریہ:(1/136،رشیدیہ)
” لوعجز عن الرکوع والسجود و قرر علی القیام فالمستحب ان یصلی قاعدا بایماء وان صلی قائما بایماء جاز عندنا. “

واللہ اعلم بالصواب
احقر محمد عبداللہ غفرلہ ولوالدیہ کوٹ ادو
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2/5/1443/2021/12/7
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:187

ایک گاؤں میں بہت عرصہ پہلے کچھ لوگوں نے بغیر تحقیق کے جمعہ نماز شروع کردی تھی اس گاؤں میں ایک دوسری مسجد والوں نے علماء کرام سے مسئلہ پوچھا تو علماء کرام نے کہا اس گاؤں میں جمعہ کی نماز نہیں ہوتی، تواس دوسری مسجد والوں نے پھر بھی اپنی مسجد میں میں جمعہ نماز شروع کردی ہے ۔تو کیا اس دوسری مسجد والوں کی نماز جمعہ ٹھیک ہوگی ؟اور وہ پہلی جامع مسجد جس میں بہت عرصہ پہلے سے جمعہ شروع ہے اسکا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

جمعہ وعیدین کی ادائیگی کے لیے فقہاء کرام نے شہر یا بڑی بستی ہونا لازم قرار دیا ہے کہ جس میں اکثر ضروریات زندگی میسر ہوں مثلا:بازار ہو ،کوئی بااثر شخص ہو جو لوگوں کےآپس کے معاملات حل کرواسکے۔مفتی ہو جو لوگوں کو مسائل بتائے۔الغرض انسان کی دینی ودنیاوی ضروریات کا حل موجود ہو چونکہ مذکور ہ بستی میں بظاہر یہ شرائط موجود نہیں، لہذاجمہور کے نزدیک یہاں جمعہ وعیدین ادا کرنا بھی جائز نہیں۔البتہ اب تک جو جمعہ نمازیں ادا کی گئی ہیں انکو لوٹانا ضروری نہیں ۔کیونکہ حر ج شدیدلازم آئیگا ،اس لئے دانش مندی اور محبت سے یہ جمعہ بند کروانے کی کوشش کی جائے،لیکن اس میں فتنہ وفساد اور شرانگیزی کا ڈر ہو تو بعض فقہاء کرام جن میں مفتی کفایت اللہ دہلوی ﷫صاحب بھی ہیں ان کے نزدیک جہاں جمعہ شروع ہوچکا ہے وہاں جمعہ جاری رکھنے کی بھی اجازت ہے(کفایت المفتی :5/161،م:ادارۃ الفاروق کراچی)علماء کرام کے عدم جوازکے فتویٰ کے باوجود ،بستی کی دوسری مسجد میں جمعہ شروع نہیں کرنا چاہیئے۔

واللہ اعلم بالصواب
محمد عبداللہ غفریہ ولوالدیہ کوٹ ادو
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
24/10/1443/2021/10/31
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:102

چالیس گھروں پر مشتمل بستی جس میں ضروریات زندگی کا تقریبا سامان ملتا ہے، لیکن وہاں ڈاکخانہ ،سرکاری دفاتر وہسپتال میسر نہیں۔اس بستی میں جمعہ اداکرنا کیساہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

جمعہ کے لئےایسا بڑا شہر یا قصبہ ہونا ضروری ہے کہ جس میں انسان کی عمومی ضروریات زندگی کی تمام چیزیں میسر ہوں، اسکی کچھ علامات بھی فقہاء کرام نے لکھی ہیں مثلا:اس میں بازار ہوں،پختہ سڑکیں ہوں،ڈاکٹر اور حکیم موجود ہو،ڈاکخانہ ہو اور آٹا چکی موجودہو۔ضروری کاریگرمثلا:لوہار،ترکھان وغیرہ موجود ہوں، غرض جہاں عام ضروریات زندگی انسان کو حاصل ہوجاتی ہوں وہ شہر ہے۔ اس میں جمعہ نماز پڑھنا جائز ہے۔چونکہ آپ کی بستی میں مذکورہ بالا سہولیات میسر نہیں لہذا اس میں جمعہ پڑھنا درست نہیں۔

لما فی الفتاویٰ العالمگیریہ:( 1/145،رشیدیہ)
” والمصر فی ظاہر الروایۃ الوضع الذی یکون فیہ مفت وقاض یقیم الحدود وینفد الاحکام و بلغت ابنیتہ ابنیۃ منی . “
وفی بدائع الصنائع:(1/585،رشیدیہ)
روی عن ابی حنیفۃ انہ بلدۃکبیرۃ فیھا سکک واسواق ولھا رساتیق وفیھا وال یقدر علی انصاف المظلوم من الظالم بحکمہ وعلمہ اوعلم غیرہ والناس یرجعون الیہ فی الحوادث وھو الاصح
وکذافی الفتاوی التاتار خانیہ:( 2/ 549،فاروقیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:( 2/ 439،دار احیا تراث)
وکذا فی رد المحتار علی الدر المختار:( 3/6، دارالمعرفة)
وکذافی البحر الرائق :(2/245، رشیدیہ)
وکذا فی البنایہ فی شرح الھدایہ:( 3/49، رشیدیہ)
وکذافی وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(2/1694،رشیدیہ)
وکذا فی مجمع الانھر:(1/246،المنار)
وکذا فی غنیة المتملی:(551 ، رشیدیہ )

واللہ اعلم بالصواب
محمد عبداللہ غفرلہ ولوالدیہ کوٹ ادو
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2021/10/27
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:103

کہ کیا کسی صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات ملتی ہے کہ انہوں نے ساری زندگی ایک وتر ادا کیا ہے ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

جی ہاں! حضرت ابن عمر کے بارے میں متعدد روایات ملتی ہیں کہ انہوں نے ساری زندگی ایک وتر ادا کیا ہے۔

لما فی صحیح البخاری للامام محمد بن اسماعیل البخاری: ( 2/208 ،رحمانیہ )
“عن نافع عن عبداللہ بن عمر کان یسلم بین الرکعۃ والرکعتین فی الوتر حتی یامر ببعض حاجتہ.”
وکذافی موطا مالک: (109 ،قدیمی کتب خانہ )
وکذا فی مشکٰوۃ المصابیح : ( 1/ 115)
وکذا فی مختصر المختصر من المسند الصحیح: ( 2/ 260،شان اسلام )
وکذا فی الاستذکارلابن عبدالبر: ( 2/113 ،دار الشروق )
وکذا فی المستدرک للحاکم علی الصحیحین: ( 1/410 قدیمی کتب خانہ ، )
وکذا فی الکتاب المصنف لابن ابی شیبة فی الآحادیث والآثار: ( 2/89 ،دارالکتب العلمیہ )
وکذا فی مسندالامام الطحاوی: ( 3/ 374 ،الحرمین )
وکذا فی نیل الاوطار: ( 3/ 53 ،دارالباز )

جبکہ تین وتر کا ثبوت بھی متعدد روایات سے ملتا ہے،پہلی روایت “سنن نسائی شریف “کی ہے جس میں حضرت ابی بن کعب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل نقل کرتےہیں کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی وتر تین رکعت ادا کیا کرتے تھےاور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وتر کی ہر رکعت کی خاص سورت کا بھی ذکر فرمایا، روایت ملاحظہ ہو

لما فی سنن النسائی للامام ابی عبدالرحمٰن: (1/269،رحمانیہ)
“عن ابی بن کعب قال کان رسول اللہ صلی للہ علیہ وسلم یقرافی الوتر بسبح اسم ربک الاعلی وفی الرکعۃ الثانیۃ بقل یا ایھا الکافرون وفی الثالثۃ بقل ھواللہ احدولا یسلم الا فی آخرھن ویقول یعنی بعد التسلیم سبحان الملک القدوس ثلٰثا

حضرت ابی بن کعب سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر کی پہلی رکعت میں سورۃ الاعلی اور دوسری رکعت میں سورۃ الکافرون اور تیسری رکعت میں سورت اخلاص پڑھتے تھےاور تیسری رکعت کے بعدسلام پھیرتے تھےاورسلام پھیرنے کے بعد “سبحان الملک القدوس “تین مرتبہ پڑھتے تھے۔

دوسری روایت مستدرک حاکم ہے اس میں بھی واضح طور پر معمول مذکور ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تین وتر ایک سلام کے ساتھ پڑھتے تھے،چنانچہ روایت درج ذیل ہے

وفی المستدرک للحاکم علی الصحیحن (1/ 414، قدیمی کتب خانہ)
“عن عائشۃ قالت کان رسول اللہ علیہ وسلم یوتر بثلاث لا یسلم الا فی آخرھن . “

حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تین وتر ایک سلام کے ساتھ ادا کرتے تھے۔

وکذا فی مشکوٰة المصابیح :(1/ 115،رحمانیہ)
وکذا فی الکتاب المصنف لابن ابی شیبة: (2/81، دارالکتب العلمیہ)
وکذا فی السنن الکبریٰ للامام ابی بکراحمد بن حسین:(3/45، دارالکتب العلمیہ)
وکذا فی المصنف للحافظ الکبیرابی بکر عبدالرزاق:(3/20،المکتب الاسلامی)
وکذا فی: شرح معانی الآثار للامام ابی جعفراحمد بن محمد:(1/186،رحمانیہ)

جن روایات میں حضرت ابن عمر کے ایک وتر والا عمل موجود ہے اس کے مندرجہ ذیل جوابات دیئےجاسکتے ہیں۔

1

حضرت ابن عمر ایک وتر ادا کرتے تھے جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تین وتر کا روایات میں صراحتا ذکر ہے اور جب صحابی کا عمل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کے مقابلے میں آجائے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فعل کو صحابی کے فعل پر ترجیح دی جائے گی، لہذا یہاں بھی تین وتر کو ایک وتر پر ترجیح دی جائے گی۔

2

حضرت عقبہ بن مسلم نے حضرت ابن عمر سے وتر کے متعلق سوال کیا تو حضرت ابن عمر نے پوچھا کہ تم دن کے وتر کے متعلق جانتے ہو؟تو حضرت عقبہ بن مسلم نے فرمایا جی ہاں! وہ تومغرب کی نماز ہے۔ حضرت ابن عمر نے فرمایا کہ تم نے سچ کہا،تو حضرت عقبہ بن مسلم نے اعلان کیا کہ حضرت ابن عمر بھی تین وتر کے قائل ہیں اور اصول یہ ہے کہ جب قول اور فعل میں تعارض ہوجائے تو قول کو ترجیح دی جاتی ہے،لہذایہاں تین وتر کو ترجیح حاصل ہے۔

(ماخوذ:عمدة القاری:7/5،دارالعلوم کراتشی)

لما فی عمدة القاری:(7/5،داراحیاتراث)
“قال الطحاوی ففی ھذہ الآثارانہ کان یوتر بثلاث ولکن یفصل بین الواحدۃ والاثنتین (فان قلت)ھذا یوید مذھب من قال ان الوتر رکعۃ واحدۃ (قلنا) ان ابن عمر لما سالہ عقبۃ بن مسلم عن الوتر،فقال اتعرف وتر النھار؟قال:نعم صلاۃ المغرب قال صدقت او احسنت فھذا ینادی باعلیٰ صوتہ ان الوتر ابن عمر ثلاث رکعات کصلاۃ المغرب فالذی روی عنہ مما ذکرنا فعلہ وھذاقولہ والاخذ بالقول اولیٰ لانہااقویٰ وقد قلنا ان الحسن البصری حکیٰ عن اجماع المسلمین علی الثلاث بدون الفصل
وفی فتح الملھم(4/160،دار العلوم )
ابن عمر)کان یسلم بین الرکعتین والرکعۃ فی الوتر،حتیٰ انہ کان یامر ببعض حاجتہ، ولایبعد ان یقال:ان مارواہ ابن عمر مرفوعا من الفصل بالتسلیم بین الشفع والوتر:الرکعۃ الرکعتان منہ،بالتسلیم سلام التشھد،ثم لما کان سلام التشھد عندہ کسلام التحلیل کما مر منقولا من الفتح فرع علیہ ماھو مقتضاہ فی رایہ من اباحۃ الکلام وغیرہ والافلم ینقل ھوولاغیرہ فی المرفوع الکلام بین الرکعۃ والرکعتین اصلا

واللہ اعلم بالصواب
احقر محمدعبداللہ غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
17-2-144 3/2021 -09-25
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:37

مسافر آدمی شہر میں جمعہ کے دن ظہر کی نماز باجماعت اداکرسکتا ہے؟یا نہیں

الجواب حامداً ومصلیاً

مسافر آدمی کا جمعہ کے دن شہر میں نماز ظہر باجماعت ادا کرنا مکروہ تحریمی ہے۔

لما فی تنویر الابصار والدر: (2/36،دارالمعرفة)
وکرہ) تحریما(لمعذور ومسجون)ومسافر (اداظہر بجماعۃ فی مصر) قبل الجمعۃ وبعدھا.”
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ :(2/1334،رشیدیہ)
” قال الحنفیۃ یکرہ تحریما ان یصلی المعذورون من مسافر ومسجون ومریض وغیرھم بجماعۃ یوم الجمعۃ. “
وکذافی المحیط البرھانی:(2/473،داراحیا تراث) وکذا فی خلاصة الفتاوی: (1/211،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیہ:(2/590،فاروقیہ) وکذا فی الدرالمنتقے:(1/25،المنار)
وکذا فی کتاب البسوط لشمس الدین السرخسی:(2/35، دارالمعرفة) وکذافی بدائع الصنائع:(1/605،رشیدیہ)
وکذافی کتاب الاصل المعروف بالمبسوط للامام محمد:(1/335،عالم الکتب)

واللہ اعلم بالصواب
احقر محمد عبداللہ غفریہ ولوالدیہ کوٹ ادو
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
19/3/2021
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:100

مسبوق کوامام کےقعدہ اخیرہ میں تشہدپڑھ لینے کےبعد کیا کرنا چاہیے خاموش رہنایادرودپڑھنایاکچھ اورپڑھنا؟

الجواب حامداومصلیا

مسبوق کوچاہیےکہ تشھدٹھہرٹھہرکرپڑھتارہےپھربھی اگرامام کےسلام پھیرنےسےپہلےتشھدمکمل ہوجائےتو”اشھدان لاالہ اللہ “کو دہراتارہے۔

لمافی الھندیة:(1/91،رشیدیة)
ومنھا)ان المسبوق ببعض الرکعات یتابع الامام فی التشھدالاخیرواذااتم التشھدلایشتغل بمابعدہ من الدعوات ثم ماذایفعل تکلموافیہ وعن ابن شجاع انہ یکررالتشھدای قولہ اشھدان لا الہ الااللہ واھوالمختارکذافی الغیاثیۃ۔والصحیح ان المسبوق یترسل فی التشھدحتی یفرغ عندسلام الامام کذا فی الوجیزللکردری
وفی الدرالمختار:(1/511،ایچ،ایم،سعید)
“واماالمسبوق فیترسل لیفرغ عندسلام الامامہ،وقیل یتم وقیل یکررکلمۃالشھادۃ.”
وفی ردالمحتار:
فیترسل)ای یتمھل وھذاماصححہ فی الخانیۃوشرح المنیۃفی بحث المسبوق من باب السھووباقی الاقوال مصحح ایضا قال فی البحروینبغی الافتاءبمافی الخانیۃکمالایخفی،ولعل وجھہ کمافی النھرانہ یقتضی اخرصلاتہ فی حق التشھد ویاتی فیہ بالصلاۃوالدعاء،وھذالیس اخرا۔قال ح:وھذافی قعدۃالامام الاخیرۃکماھوصریح قولہ لیفرغ عندسلام امامہ، واما فیما قبلھامن القعدات فحکمہ السکوت کمالایخفی ومثلہ فی الحلیۃ(قولہ وقیل یکررکلمۃالشھادۃ)کذافی شرح المنیۃ۔ والذی فی البحروالحلیۃوالذخیرۃیکررالتشھدتامل
وکذافی البحرالرائق:(1/575،رشیدیة)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(2/197،رشیدیة)
وکذافی المحیط البرھانی:(2/135،ادارۃالقرآن)
وکذافی الفتاوی البزازیةعلی ھامش الھندیة:(4/60،رشیدیة)
وکذافی الفتاوی الخانیة علی ھامش الھندیة:(1/103،رشیدیة)
وکذافی فتح القدیر:(1/401،رشیدیة)

واللہ اعلم بالصواب
عبدالصمدغفرلہ
متخصص جامعۃالحسن ساہیوال
07-05-1443/2021-12-12
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:178