اگرکوئی وارث اپنے کسی مورث کی قضاءنمازوں کافدیہ اداکرناچاہےتووہ کتنی مقدارہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

فدیہ کی مقدارمحتاط قول کےمطابق سوادوکلوگندم یااس کی قیمت ہے۔

لمافی الھندیة:(1/125،رشیدیہ)
“اذامات الرجل وعلیہ صلوات فائتۃفاوصیٰ بان تعطی کفارۃصلواتہ یعطی لکل صلاۃنصف صاع من بر ۔ “
وفی الشامیةومتنہ:(2/643،رشیدیہ)
ولومات وعلیہ صلوات فائتۃواوصیٰ بالکفارۃیعطی لکل صلاۃنصف صاع من بر) کالفطرۃ۔
قولہ: ( نصف صاع من بر) أی: اومن دقیقہ اوسویقہ،اوصاع تمراوصاع زبیب اوشعیراوقیمتہ،وھی افضل عندنا لاسراعھابسدحاجۃالفقیر ۔
وکذافی حاشیةالطحطاوی علی الدر:(1/307،رشیدیہ)
وکذافی التاتارخانیہ:(2/459،فاروقیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(2/1152،رشیدیہ)
وکذافی خلاصةالفتاویٰ:(1/192،رشیدیہ)
وکذافی غنیةالمتملی:(1/535،رشیدیہ)
وکذافی المختصرفی الفقہ الحنفی:(1/265،البشری)
وکذافی الفتاویٰ السراجیة:(1/103،زمزم)
وکذافی الموسوعةالفقھیة:(32/67،رشیدیہ)
وکذافی الھندیہ:(1/125،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمدعمرفاروق بن عبدالمؤمن بہاولپور
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
8/9/1443/2022/4/10
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:122

ایک آدمی فوت ہوااورقضا نمازوں کےفدیہ کی وصیت کی تھی اب ورثاءنےغربت کی وجہ سےایک فقیر متعین کیاجسےوہ ہرنمازکافدیہ دیتےہیں اور وہ فقیرانہیں وہ فدیہ بطورصدقہ واپس دیتاہےاس طرح مسلسل فدیہ چلتارہتاہےکیااس طرح فدیہ اداہوجائےگا؟

الجواب حامداًومصلیاً

اگروراثت کےتہائی مال سےنمازوں کافدیہ مکمل کیاجاسکتاہےتوفقیرکوبلاشرط دیاجائےاوراگرتہائی مال سےیہ فدیہ پوراکرنا ممکن نہ ہوتوپھریہ وصیت پوراکرنالازم ہی نہیں ہے۔
باقی افضل یہی ہےکہ اس طرح کی حیلہ سازی سےبچاجائےلیکن اگرکوئی یہ حیلہ اختیارکرےتونتیجےمیں امیدہےکہ میت کی نمازوں کافدیہ قبول ہوجائے۔

لمافی الھندیة:(1/125،رشیدیہ)
وان لم یترک مالایستقرض ورثتہ نصف صاع ویدفع الی مسکین ثم یتصدق المسکین علی بعض ورثتہ ثم یتصدق ثم وثم حتی یتم لکل صلاۃماذکرناکذا فی الخلاصۃ ۔
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(2/1152،رشیدیہ)
وتوخذالکفارۃوفدیۃالصوم: من ثلث مال المتوفی فان لم یکن لہ مال یستقرض وارثہ نصف صاع مثلا،ویھبہ للفقیر،ثم یھبہ الفقیرلولی المیت ویقبضہ،ثم یدفعہ الولی للفقیر،فیسقط من الصلاۃوالصوم بقدرہ،وھکذاحتی یتم اسقاط ماکان علیہ من صلاۃوصوم
وکذافی التاتارخانیة:(2/458،فاروقیہ)
وکذافی متن الشامیہ:(2/644،رشیدیہ)
وکذافی خلاصةالفتاوی:(1/192،رشیدیہ)
وکذافی حاشیةالطحطاوی علی الدر:(1/308،رشیدیہ)
وکذافی مراقی الفلاح (متن حاشیةالطحطاوی) :(1/439،قدیمی)
وکذافی البحرالرائق:(2/160،رشیدیہ)
وکذافی غنیةالمتملی:(1/535،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمدعمرفاروق بن عبدالمؤمن بہاولپور
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
8/9/1443/2022/4/10
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:119

خارج صلاۃ کسی آدمی پرسجدہ تلاوت واجب ہواتووہ دوران تلاوت اپنی جگہ پربیٹھےبیٹھےسجدہ اداکرسکتا ہےیاکھڑےہوکرقیام سےسجدہ کی طرف آناضروری ہے؟2:اسی طرح اگرمتعددسجدےایک وقت کررہاہوتوہرسجدےکیلئےقیام سےسجدہ کی طرف آناضروری ہےیا بیٹھےبیٹھےمتعددسجدے کرسکتاہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

1،2

:ایک سجدہ کرناہویامتعدد،بیٹھےبیٹھےبھی کرسکتاہے،لیکن بہتریہ ہےکہ ہرسجدےکیلئےقیام سےسجدہ کی طرف آئےاور سجدہ کےبعدکھڑاہوجائے۔

لمافی حاشیةالطحطاوی علی مراقی الفلاح:(1/497،قدیمی)
قولہ:( وندب القیام) کماندب النزول لمن تلاھاراکبالیسجدھاعلی الارض۔ قولہ:( روی ذلک عن عائشۃ) لان الخرورالذی مدح بہ اولئک فیہ اکمل،وفی السید،ویندب ان یقوم،ویخرساجدا،ولوکان علیہ سجدات کثیرۃ، ویستحب اذافرغ منھاان یقوم اﻫ ملخصاَ
وفی البحرالرائق:(2/223،رشیدیہ)
وفی المضمرات: یستحب ان یقوم ویسجدویقوم بعدرفع الرأس من السجدۃولایقعد اﻫ ۔ والثانی غریب۔ وافادفی القنیۃ انہ یقوم لھاوان کانت کثیرۃوارادان یسجدھامترادفۃ
وکذافی مجمع الانھر:(1/236،المنار)
وکذافی الشامیة:(2/700،رشیدیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(2/363،داراحیاءالتراث)
وکذافی التاتارخانیة:(2/464،فاروقیہ)
وکذافی الھندیة:(1/135،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(2/1141،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/286،الطارق)
وکذافی حاشیةالطحطاوی علی الدر:(1/323،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمدعمرفاروق بن عبدالمؤمن بہاولپور
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
8/9/1443/2022/4/10
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:118

امام نےمغرب کی نمازمیں آیت سجدہ پڑھی اورسجدہ کیا ایک آدمی وضوکررہاتھا اس نے وہ آیت سنی، اب وہ آدمی آخری قعدہ میں شریک ہوا، وہ سجدہ کیسےکرےگا؟

الجواب حامداًومصلیاً

نمازمکمل کرکےسجدہ تلاوت کرلے۔

لمافی التنویروالدروالرد:(2 /704 ،رشیدیہ)
ومن سمعھامن امام)ولوباقتدائہ بہ( فائتم بہ قبل ان یسجد)الامام لھا(سجدمعہ،و)لوائتم (بعدہ لا) یسجد اصلاً ، کذا اطلق فی الکنز تبعا للاصل (وان لم یقتد بہ) اصلا (سجدھا) وکذا لو اقتدیٰ بہ فی رکعۃ اخریٰ علیٰ ما اختارہ البزدوی وغیرہ وھو ظاھرالھدایۃ
قولہ (وکذا۔ ۔ ۔الخ)ای یسجدھاولکن بعدالفراغ من الصلوۃ۔

 

وکذافی الھندیة:(1/133،رشیدیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(2/375،داراحیاءالتراث)
وکذافی حاشیة الطحطاوی:(1/325،رشیدیہ)
وکذافی فتح القدیر:(2/17،رشیدیہ)
وکذافی ھامش الھدایة:(1/147،رشیدیہ)
وکذافی التاتارخانیة:(2/476،فاروقیہ)
وکذافی البحرالرائق:(2/215،رشیدیہ)
وکذافی مجمع الانھر:(1/233،المنار)
وکذافی شرح العینی:(1/92،ادارةالقرآن)

واللہ اعلم بالصواب
محمدعمرفاروق بن عبدالمؤمن بہاولپور
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
29/4/1443/2021/12/4
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:152

ایک آدمی نےبھول کرسورۃِفاتحہ سےقبل سورت پڑھ لی تواسکی نماز کاکیاحکم ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

سجدہ سھو لازم ہوگا۔

لمافی الشامیة:(2/188،رشیدیہ)
“قولہ:( علی کل السورۃ) حتی قالوا: لوقرأحرفامن السورۃساھیاثم تذکریقرأالفاتحۃثم السورۃ،ویلزمہ سجودالسھو ۔ “
وفی مراقی الفلاح متن حاشیةالطحطاوی:(1/249،قدیمی)
و) یجب ( تقدیم الفاتحۃعلی) قراءۃ( السورۃ) للمواظبۃحتی لوقرأمن السورۃابتداءفتذکریقرأالفاتحۃ،ثم یقرأ السورۃویسجدللسھو ۔ “
وکذافی حاشیةالطحطاوی علی الدر:(1/208،رشیدیہ)
وکذافی النھرالفائق:(1/197،قدیمی)
وکذافی البحرالرائق:(1/516،رشیدیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(2/311،داراحیاء)
وکذافیہ ایضا :(2/309،داراحیاء)
وکذافی التاتارخانیة:(2/391،فاروقیہ)
وکذافی الھندیة:(1/126،رشیدیہ)
وکذافی تبیین الحقائق:(1/193،امدادیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمدعمرفاروق بن عبدالمؤمن بہاولپور
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
10/9/1443/2022/4/11
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:116

نمازی کی جیب میں اگر خون کی تھیلی ہو تو اس صورت میں اس کی نماز ادا ہوجائے گی یا نہیں؟یا نماز سے پہلے خون کی تھیلی کو جیب سے باہر نکال کر رکھنا ضروری ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

نماز نہیں ہوگی،تھیلی کو باہر رکھنا ضروری ہے۔

لما فی الفتاویٰ العالکیریہ:(1/62،رشیدیہ)
رجل صلیٰ وفی کمہ قارورۃ فیھا بول لاتجوز الصلاۃ سواء کانت ممتلئۃ او لم تکن ،لان ھذا لیس فی مظانہ ومعدنہ
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(1/735،رشیدیہ)
بخلاف مالو حمل قارورۃ فیھا بول فلاتجوز صلاتہ،لانہ فی غیر معدنہ
وکذافی الفتاوی التاتار خانیہ:(2/354،فاروقیہ)
وکذافی البحرالرائق:(1/465،رشیدیہ)
وکذافی ردالمحتار:(2/92،رشیدیہ)
وکذافی حاشیة الطحطاوی علی الدر المختار:(1/190،رشیدیہ)
وکذافی الحیط البرھانی:(2/280،داراحیاءتراث)

واللہ اعلم بالصواب
محمد عبداللہ غفرلہ ولوالدیہ کوٹ ادو
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
12/8/1443/2022/3/15
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:45

ایک آدمی کا مرض الموت میں نمازوں کا فدیہ ادا کرنا کیسا ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

جائز نہیں ،مگر فدیہ کی وصیت کرسکتا ہے۔

لما فی الفتاوی العالمکیریہ:(1/125،رشیدیہ)
سئل الحسن بن علی عن الفدیۃ عن الصلوات فی مرض الموت ھل یجوز؟فقال :لا، وسئل حمیر الوبری ویوسف بن محمد عن الشیخ الفانی ھل تجب علیہ الفدیۃ عن الصلوات ؟کما تجب علیہ من الصوم وھو حیّ؟فقال:لا
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(2/1153،رشیدیہ)
ولایصح للمرء فی حال حیاتہ ان یفدی عن صلاتہ فی مرضہ،فلا فدیۃ فی الصلاۃ حال الحیاۃ بخلاف الصوم فانہ یجوزبل تجب الفدیۃ عنہ
وکذافی الفتاوی التاتارخانیہ:(2/459،فاروقیہ)
وکذافی ردالمحتار علی الدر المختار:(2/646،دارالمعرفة)

واللہ اعلم بالصواب
محمد عبداللہ غفرلہ ولوالدیہ کوٹ ادو
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
7/9/1443/2022/4/9
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:102

موبائل پر ریکاڈنگ شدہ آیت سجدہ سنیں تو اس سے سجدہ تلاوت کا کیا حکم ہے؟ سجدۃ تلاوت واجب ہوتا ہے یا نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

نہیں۔

لما فی الفتاوی العالمکیریہ:(1/132،رشیدیہ)
” ولاتجب اذا سمعھا من الطیر . “
وفی المحیط البرھانی:(2/362،داراحیاءتراث)
” واذا سمعھا من الطیر لایجب علیہ السجدۃ. “
وکذافی الفتاوی التاتار خانیہ:(2/462،فاروقیہ)
وکذافی الفتاوی السراجیة:(92،زمزم)
وکذافی البحرالرائق:(2/213،رشیدیہ)
وکذافی حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح:(485،قدیمی کتب خانہ)
وکذافی خلاصة الفتاوی:(1/184،رشیدیہ)
وکذافی رد المحتار:(701/2،دارالمعرفة)
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/287،الطارق)
وکذافی حاشیة الطحطاوی علی الدر المختار:(1/324،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد عبداللہ غفرلہ ولوالدیہ کوٹ ادو
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
24/8/1443/2022/3/28
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:109

دوران ولادت نماز کا وقت داخل ہوجائے تو عورت پر اس وقت کی نماز فرض ہوگی یا نہیں؟نیز اگر دوران ولادت خون بھی جاری ہو تو نماز کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسؤلہ میں اس خاتون پر نماز فرض نہ ہوگی۔

لما فی الصحیح البخاری:(1/108،رحمانیہ)
عن ابی سعید الخدری قال خرج رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فی اضحیٰ وافطر الی المصلی فمرعلی النساء…الیس اذا حاضت لم تصل ولم تصم قلن بلیٰ قال فذلک من نقصان دینھا
وفی الفتاوی العالمکیریہ:(1/38،رشیدیہ)
” ان یسقط عن الحائض والنفساء الصلاۃ فلا تقضی . “
وفی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/118،الطارق)
“یحرم علی المراۃ اثناء الحیض والنفاس الصلاۃ فرضا کانت اؤواجبۃ اؤ سنۃاؤ نفلا”
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(1/624،رشیدیہ)
وکذافی حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح:(141،قدیمی کتب خانہ)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیہ:(1/479،فاروقیہ)
وکذافی رد المحتار:(1/532،رشیدیہ)
وکذافی الموسوعةالفقھیة:(41/7،علوم اسلامیہ)
وکذافی خلاصةالفتاوی:(1/233،رشیدیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(1/401،داراحیاءتراث)

واللہ اعلم بالصواب
محمد عبداللہ غفرلہ ولوالدیہ کوٹ ادو
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
24/8/1443/2022/3/28
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:110

دو آدمی جماعت کرارہے ہوں اور امام بائیں جانب کھڑا ہونے کی بجائے دائیں جانب کھڑا ہوجائے اور جماعت کرادے تو اس کی نماز کا کیاحکم ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

ایسا کرنا مکروہ ہے لیکن نماز ہوجائے گی اور سنت چھوڑنے کا گناہ ہوگا۔

لما فی المحیط البرھانی:(2/273،فاروقیہ)
واذا کان مع الامام رجل أو صبی یعقل الصلاۃ قام عن یمینہ وھو المختار ،وفی الفتاوی العتابیہ:ویکرہ أن یقوم عن یسارہ
وفی الفتاوی العالمکیریہ:(1/88،رشیدیہ)
” ولو وقف علی یسارہ جاز وقد اساء کذا فی محیط السرخسی . “
وکذافی البحر الرائق:(1/616،رشیدیہ)
وکذافی بدائع والصنائع:(1/391،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(1/1264،رشیدیہ)
وکذافی مجمع الانھر:(1/165،المنار)
وکذافی اللباب فی شرح الکتاب:(91،قدیمی کتب خانہ)
وکذافی فتاوی النوازل:(80،الحقانیہ)
وکذافی الجوھرۃ النیرة:(1/71،الحقانیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد عبداللہ غفرلہ ولوالدیہ کوٹ ادو
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
13/5/1443/2021/12/18
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:28