ایک حافظ قرآن نماز تراویح میں قرآن پاک آہستہ پڑھتے ہیں(ائمہ حرمین کی طرز پر بلا تکلف) جبکہ اس کے مقتدی کہتے ہیں کہ قرآن جلدی پڑھا کریں،اس طرح وقت زیادہ لگتا ہے اور ہم سارے دن کے تھکے ہوئے ہوتے ہیں؛سوال یہ ہے کہ امام صاحب کس حد تک مقتدیوں کی بات ماننے کا پابند ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

مقتدیوں کی رعایت رکھتے ہوئے حافظ صاحب اس قدر تیز پڑھ سکتے ہیں جس میں الفاظ سمجھ آئیں اور تجوید کا بھی کسی حد تک لحاظ رہے پھر بھی مقتدی راضی نہ ہوں تو بہتر یہ ہےچھوٹی سورتوں سے تراویح پڑھائے،پورے قرآن کا ختم نہ کرے۔

لما فی الشامیة:(2/601،رشیدیة)
۔۔۔۔۔۔۔۔فقد تتغیر الاحکام لاختلاف الزمان فی کثیر من المسائل بحسب المصالح ولذا قال فی البحر:فالحاصل أنّ المصحح فی المذہب أن الختم سنۃ لکن لا یلزم منہ عدم ترکہ إذا لزم منہ تنفیر القوم وتعطیل کثیر من المساجد خصوصاً فی زماننا فالظاہر اختیار الأخف علی القوم
وفی بدائع الصنائع:(1/646،رشیدیة)
وأما فی زماننا:فالأفضل أن یقرأ الإمام علی حسب حال القوم من الرغبۃ والکسل فیقرأ قدر ما لا یوجب تنفیر القوم عن الجماعۃ۔۔۔۔۔۔۔۔۔والأفضل تعدیل القراءۃ فی الترویحات کلہا۔۔۔۔۔۔۔
وکذا فی القرآن الکریم:(المزمل:4)
وکذا فی احکام القرآن للجصاص:(3/701،قدیمی)
وکذا فی الجامع لاحکام القرآن:(19/37،مؤسسہ التاریخ العربی)
وکذا فی مرقاة المفاتیح:(4/699،دار الکتب)
وکذا فی الشامیة:(2/601،رشیدیة)
وکذا فی المحیط البرہانی:(2/253،ادارة القرآن)
وکذا فی الہندیة:(1/117،رشیدیة)
وکذا فی التاتارخانیة:(2/325،فاروقیة)

واللہ تعالی اعلم بالصواب وعلمہ اتمّ
کتبہ:محمد نوید بن اللہ بخش عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
17/09/1443/2022/04/19
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:178

اگر کسی شخص نے وفات سے پہلے اپنی قضاء نمازوں کے فدیہ کی وصیت کی،قضاء نمازیں اتنی زیادہ ہیں کہ وہ ترکہ کے ثلث سے زیادہ سے پوری ہو ں گی،کیا اس وصیت کو پورا کرنا ضروری ہے؟ شریعت مطہرہ اس بارے میں کیا راہنمائی فرماتی ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

اگر وصیت ترکہ کی تہائی سے پوری نہ ہو تو جو بالغ ورثہ خوش دلی سے اجازت دیں(نا بالغ ورثہ کی اجازت کا اعتبار نہیں ہو گا) ان کے حصے سے باقی وصیت پوری کی جائے گی۔

لما فی رد المحتار:(10/358رشیدیة)
“إذا أجاز بعض الورثۃ جاز علیہ بقدر حصتہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔.”
وفی التاتارخانیة:(2/458،فاروقیة)
رجل مات وعلیہ صلوات کثیرۃ فأوصی أن یطعموا عنہ بصلاتہ اتفق المشایخ علی أنّہ یجب تنفیذ ہذہ الوصیۃ من ثلث مالہ
وکذا فی الشامیة:(3/467،رشیدیة)
وکذا فی الہندیة:(1/125،رشیدیة)
وکذا فی الخانیة:(1/114،رشیدیة)
وکذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ:(1/441،الطارق)
وکذا فی البحر الرائق:(2/160،رشیدیة)
وکذا فی ملتقی الأبحر:(1/367،المنار)
وکذا فی مجمع الأنہر:(1/367،المنار)
وکذا فی الدر المنتقی:(1/367،المنار)
وکذا فی الفقہ الاسلامی:(2/1152،رشیدیة)

واللہ تعالی اعلم بالصواب وعلمہ اتمّ
کتبہ:محمد نوید بن اللہ بخش عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
17/08/1443/2022/03/21
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:75

مغرب کی نماز میں پہلے قعدہ میں دونوں طرف سلام پھیر دیا،بات نہیں کی تھی کہ یاد آگیا، اب وہ تیسری رکعت کے لیے کھڑا ہو گیا اور نماز مکمل کر لی،اس نماز کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

صورت مسئولہ میں اگر نماز توڑنے والا کوئی کام نہیں کیا اور سجدہ سہو کر لیا تو نماز ہو گئی ورنہ نہیں

لما فی الشامیة:(2/673،رشیدیة)
ویسجد للسہو ولو مع سلامہ) ناویا(للقطع) لأن نیۃ تغییر المشروع لغو(ما لم یتحول عن القبلۃ أو یتکلم) لبطلان التحریمۃ.(وفی الرد) قولہ:(لبطلان التحریمۃ)أی: بالتحوّل أو التکلم
وفی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/283،الطارق)
إذا عرض لہ الشک بعد انتہاء الصلوۃ لا عبرۃ لہ إلا أن یغلب علی ظنّہ أنّہ نقص شیئا فی صلوتہ فیعید صلوتہ إن فعل بعد السلام فعلا یمنع البناء وإلا أتی بالمتروک وسجد للسہو
وکذا فی الشامیة:(2/657،رشیدیة)
وکذا فی المحیط البرہانی:(2/308،ادارة القران)
وکذا فی مجمع الأنہر شرح ملتقی الأبحرعلی ہامشہ:(1/185،المنار)
وکذا فی الدر المنتقی شرح ملتقی الأبحر علی ہامشہ:(1/185،المنار)
وکذا فی النہر الفائق:(1/279،قدیمی)
وکذا فی الفتاوی الہندیة:(1/126،رشیدیة)
وکذا فی بدائع الصنائع:(1/505،رشیدیة)
وکذا فی البحر الرائق:(2/172،رشیدیة)

واللہ تعالی اعلم بالصواب وعلمہ اتمّ
کتبہ:محمد نوید بن اللہ بخش عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
20/05/1443/2021/12/25
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:76

دوران ِنماز ِتراویح امام نے غلط پڑھا اور اگراس جماعت میں خواتین بھی پردے میں نماز تراویح پڑھ رہی ہوں تو کیا اب عورت لقمہ دے سکتی ہے؟(خواہ محرم ہو یا نا محرم ہو) اور اگر لقمہ دے تو کیا حکم ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

عورت کو کسی اجنبی کی موجودگی میں بلند آواز سے بات کرنے سے سختی سے منع کیا گیا ہے بالخصوص جہاں فتنے کا اندیشہ ہو،اس لیے امام کو لقمہ نہیں دے سکتی،اگر دے دیا تو اس سے نماز فاسد نہیں ہوگی۔

لما فی الدر المختار مع الرد:(2/96،رشیدیة)
صوتھا علی الراجح(وفی الرد تحت ھذا القول)قولہ(وصوتہا) :معطوف علی المستثنی یعنی أنہ لیس بعورۃ حینئذٍ قولہ( علی الراجح) :عبارۃ(البحر) عن( الحلیۃ) أنہ الأشبہ وفی(النھر) وھوالذی ینبغی اعتمادہ ومقابلہ ما فی (النوازل) :نغمۃ المرأۃ عورۃ وتعلمھا القرآنَ من المرأۃ احب قال علیہ الصلوۃ والسلام :(التسبیح للرجال والتصفیق للنساء) فلا یحسن أن یسمعھا الرجل وفی(الکافی) :ولا تلبّی جھراً لأن صوتھا عورۃ ومشی علیہ فی(المحیط)۔۔۔۔۔۔۔۔۔قال فی الفتح: وعلی ھذا لو قیل اذا جھرت بالقراءۃ فی الصلوۃ فسدت کان متّجھاً
وفی البحر الرائق:(1/470،رشیدیة)
وصرح فی(النوازل) بأن نغمۃ المرأۃ عورۃ وبنی علیہ أن تعلمھا القرآن من المرأۃ أحب الیّ من تعلمھا من الأعمی ولذا قال صلی اللہ علیہ وسلم(التسبیح للرجال والتصفیق للنساء) فلا یجوز أن یسمعھا الرجل ومشی علیہ المصنف فی الکافی فقال ولا تلبی جھراً لأن صوتھا عورۃ ومشی علیہ صاحب المحیط فی باب الاذان وفی(فتح القدیر): وعلی ھذا لو قیل اذا جھرت بالقرآن فی الصلوۃ فسدت کان متجھاً وفی شرح المنیۃ:الاشبہ: أن صوتھا لیس بعورۃ وانما یؤدی الی الفتنۃ کما علل بہ صاحب الھدایۃ وغیرہ فی مسئلۃ التلبیۃ ولعلہن انما منعن من رفع الصوت بالتسبیح فی الصلوۃ لہذا المعنی ولا یلزم من حرمۃ رفع صوتھا بحضرۃ الأجانب أن یکون عورۃ کما قدمناہ
وکذا فی الفقہ الاسلامی وأدلتہ:(1/755،رشیدیة)
وکذا فی احکام القرآن للجصاص:(3/528،قدیمی)
وکذا فی صحیح المسلم:(1/219،رحمانیة)
وکذا فی فتح الملہم:(3/246،دار العلوم کراچی)
وکذا علی حاشیةکنز الدقائق:(20،حقانیة)
وکذا فی فتح القدیر:(1/267،رشیدیة)
وکذا فی غنیة المتملی:(217،رشیدیة)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة:(2/115،فاروقیة)

واللہ تعالی اعلم بالصواب وعلمہ اتمّ
کتبہ:محمد نوید بن اللہ بخش عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
12/05/1443/2021/12/17
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:23

ایک معذور آدمی کرسی کے اوپر بیٹھ کر نماز پڑھ رہا ہے،آیا اس کرسی کےنیچے والی جگہ کا پاک ہونا ضروری ہے یا نہیں؟اور اسی طرح کرسی کے اوپر بیٹھ کر اس کے پاؤں زمین پر لگ رہے ہیں یا اگر نہ بھی لگیں تو اس کے پاؤں کے نیچے والی جگہ کا بھی پاک ہونا ضروری ہے یا نہیں؟ معذور کے پاؤں زمین پر لگنے یا نہ لگنے کی صورت میں اگر حکم میں کوئی فرق ہو تو وہ بھی واضح فرما دیں اور اسی طرح کرسی کا بھی پاک ہونا ضروری ہے کہ نہیں؟

الجواب حامداًومصلیاً

کرسی کے نیچے کی جگہ اور کرسی کا وہ حصہ جو زمین کو چھورہا ہے،کا پاک ہونا ضروری نہیں ہے۔البتہ بقیہ کرسی کا پاک ہونا ضروری ہے اور اگر کرسی پر بیٹھ کر پاؤں زمین پر رکھے ہوں تو پاؤں کے نیچے کی جگہ کا بھی پاک ہونا ضروری ہے۔

لما فی المحیط البرہانی:(2/20،دار إحیاء التراث)
وإذا صلی علی موضع نجس وفرش نعلیہ وقام علیہما جاز ولو کان لابسا لہما لا یجوز لأنہما یکونان تبعا لہ حینئذٍ۔۔۔۔۔۔إذا کان علی مکعبہ وعلی نعلیہ نجاسۃ جاز عند محمد رحمہ اللہ تعالیٰ خلافاً لأبی یوسف رحمہ اللہ تعالی ولو کان لم یخرج رجلیہ وصلی فیہما إن کان واسعا فہو علی الخلاف وإن کان ضیّقا لم یجز بلا خلاف
وفی الفتاوی الخانیة علی ہامش الہندیة:(1/62،رشیدیة)
ولو کانت الارض نجسۃ فخلع نعلیہ وقام علی نعلیہ جاز أما إذا کان النعل ظاہرہ وباطنہ طاہراً فطاہر وإن کان ما یلی الأرض منہ نجسا فکذالک وہو بمنزلۃ ثوب ذی طاقین أسفلہ نجس وقام علی الطاہر وقد مر وإن کان الرجل فی نعلیہ أو فی مکعبہ لا یجوز
وکذا فی کتاب التجنیس والمزید:(1/396،إدارة القرآن) وکذا فی النہر الفائق:(1/181،قدیمی)
وکذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/175،الطارق) وکذا فی الفتاوی الہندیة:(1/62،رشیدیة)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة:(2/31،فاروقیة) وکذا فی البحر الرائق:(1/465،رشیدیة)
وکذا فی المبسوط للسرخسی:(1/204،دار المعرفة)
وکذا فی الفتاوی البزازیة علی ہامش الہندیة:(4/34،رشیدیة)

واللہ تعالی اعلم بالصواب وعلمہ اتمّ
کتبہ:محمد نوید بن اللہ بخش عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
01/05/1443/2021/12/07
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:18

ایک آدمی نے اپنے گھر سے 50کلو میٹر کا سفر طے کرکے ایک مقام پر 10دن قیام کیا ،پھر آگے 60 کلو میٹر مزید سفر طے کرکے ایک مقام پر پہنچنا ،یہاں اس کا 10دن ٹھہرنے کا ارادہ ہے ۔آیا اب یہ نماز میں قصر کرے گا یا نہیں؟

الجواب حامداومصلیا

اگر شروع سے ہی صرف اس پہلے مقام تک جانے کا ارادہ تھا ،پھر وہاں سے دوسرے مقام تک جانے کا ارادہ تھا تودونوں مقاموں پرپوری نماز پڑھے گااور اگر شروع سے ہی دوسرے مقام پر جانے کا ارادہ تھاتودونوں مقاموں پر قصر کرےگا۔

لما فی الہندیة(1/139،رشیدیة)
لابدللمسافر من قصد مسافۃ مقدرۃ ثلاثۃ ایام حتی یترخص برخصۃ المسافرین والالا یترخص ابداولو طاف الدنیا جمیعھابان کان طالب آبق۔۔۔۔۔۔۔۔الخ
وفی تبیین الحقائق (1/209،امدادیة)
واما الثانی وھو بیان اشتراط قصد السفر فلابد للمسافر من قصد مسافۃ مقدرۃبثلاثۃ ایام حتی یترخص برخصۃ المسافرین والا لایترخص ابدا ولوطاف الدنیا جمیعھا بان کان طالب آبق او غریم ونحو ذلک
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ :(2/1342،رشیدیة) وکذافی المراقی الفلاح :(424،قدیمی )
وکذافی المحیط البرھانی :(2/389،ادارةالقرآن) وکذافی النتف فی الفتاوی :(51،سعید)

 

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ :مدثر شریف غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
11/2/2022/9/7/1443
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:172

ایک آدمی کی اپنی بیوی سے اکثرو بیشتر لڑائی ہو تی رہتی ہے اور وہ اپنی بیوی کودھکے دے کر گھرسے نکال دیتا ہے اور کہتا ہےکہ” تو اپنے میکے چلی جا” کیا ان الفاظ سے طلاق ہو گی یا نہیں؟

الجواب حامداومصلیا

اگر شو ہر نے مذکورہ الفاظ سے طلاق کی نیت کی ہے تو واقع ہو جائے گی ورنہ نہیں۔

لما فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(9/6799،رشیدیہ)
طلاق الکنایۃ ھو کل لفط یحتمل الطلاق وغیرہ ولم یتعارفہ الناس فی ارادۃ الطلاق مثل قول الرجل لزوجتہ الحقی باھلک ،اذھبی،اخرجی۔۔۔۔۔الخ
وفی البدائع الصنائع:(3/169،رشیدیہ)
وقولہ الحقی باھلک یحتمل الطلاق،لان المراۃ تلحق باھلہا اذاصارت مطلقۃ، ویحتمل الطرد والابعاد عن نفسہ مع بقاء النکاح واذااحتملت ھذہ الطلاق وغیر الطلاق فقد استتر المراد منھا عند السامع فافتقرت الی النیۃ لتعیین المراد ۔۔۔۔۔الخ
وکذا فی النتف فی الفتاوی :(209،سعید)
وکذافی المحیط البر ھانی:(4/428،دار الاحیاء)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(4/460،فاروقیة)
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبة الجدید:(2/180،الطارق)
وکذافی اللباب فی شرح الکتاب :(2/171،قدیمی)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:مدثر شریف غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
15/4/1443/2021/11/21
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:107

اگر آدمی چاررکعت نماز سنت کی نیت کرے اور دورکعت پڑھ کر عمداسلام پھیردے تو ان کا کیا حکم ہے ؟اور اگر یہ خطرہ ہو کہ اگر چار رکعت پوری کروں گا تو اتنی دیر میں نکسیر پھوٹ جائے گی اور نماز پوری نہیں کر سکوں گا ،اس لیے وہ دو رکعت پر نمازتوڑ دے تو کیا حکم ہے ؟

الجواب حامداو مصلیا

اگرسنت مؤکدہ تھیں تو چاروں رکعت کی قضاء کرے گا اور اگر غیر موکدہ تھیں تو دو رکعت مکمل ہو گئیں بقیہ دو کی قضاء اس پر لازم نہ ہو گی ۔

لما فی الشامیة:(2/578،رشیدیہ)
علی اختیار الحلبی وغیرہ )حیث قال فی شرح المنیۃ اما اذا شرع فی الاربع التی قبل الظہروقبل الجمعۃ او بعد ھا ثم قطع فی الشفع الاول او الثانی یلزمہ قضاءالاربع باتفاق
وفی المحیط البر ھانی :(2/221،ادارة القرآن )
قال وکل رکعتین افسدھما فعلیہ قضاء ھما دون ماقبلھما لما مر ان کل شفع صلاۃ علی حدۃ فلایفسد الشفع الاول لفساد الشفع الثانی
وکذا فی الفقة الاسلامی وادلتہ :(2/1068،رشیدیة)
وکذافی تبیین الحقائق :(1/174،امدادیة)
وکذافی بدائع الصنا ئع :(2/5،رشیدیة)
وکذا فی الہندیة:(1/114،رشیدیة)
وکذا فی الفتاوی التاتار خانیة:(2/277،فاروقیة)
وکذا فی الحلبی الکبیر :(393،رشیدیة)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ مدثر شریف غفرلہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
23/3/2022/19/8/1443
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:54

اگر بیوی نماز میں سستی کرے تو کس حد تک اسےتنبیہ کی جاسکتی ہے، آیا اسے مارا بھی جاسکتا ہے ؟

الجواب حامداومصلیا

پہلے مرحلے میں پیارومحبت سے خوب سمجھا یا جائے اور بہترین انداز سے تر غیب دی جائے ۔دوسرے مرحلے میں ڈانٹ ڈپٹ کی جائے اور تیسرے مرحلے میں بستر الگ کر دیا جائے ،اگر کوئی صورت بھی مفید نہ ہو تو آخری مرحلے میں بالکل مجبور ہو کر معمولی سا مارابھی جاسکتاہے ،جس سے جسم پر نشانات نہ پڑیں۔

لما فی البحرالرائق :(5/82،رشیدیة)
وظہر ان الزوج لایجب علیہ ضرب زوجتہ اصلا و ظہر بہ ایضا ان لہ ضربہافی اربعۃ مواضع لکن وقع الاختلاف علی جواز ضربہا علی ترک الصلاۃ فذکر ھناک تبعا لکثیر انہ یجوز وفی النہایۃ تبعا لمافی کافی الحاکم انہ لایجوز لہ لان المنفعۃ لاتعود الیہ بل الیہا ولیس فی کلام المصنف مایقتضی انہ لیس لہ ضربہا فی غیر ھذہ اربعۃ اشیاء ولہذا قال الولوالجیی فی فتاواہ للزوج ان یضر ب زوجتہ علی اربعۃ اشیاء وما فی معناہ ففی قولہ وما فی معناہ افادۃ عدم الحصر مھما فی معناہ
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ :(7/5607 ،رشیدیة)
والزوج لہ تعزیر زوجتہ فی امر النشوز واداء حق اللہ کاقامۃ الصلاۃ وصیام رمضان بما یراہ مناسبا فی اصلاح زوجتہ من زجر لان کل ہذہ من باب انکارالمنکر والزوج من جملۃ المکلفین بالامر بالمعروف والنہی عن المنکر
وکذافی الفتاوی الولوالجیة:(2/298،الحرمین )
وکذا فی التنویر مع الدروالرد:(4/78،ایم ،سعید )
وکذا فی شرح ملتقی الابحر :(2/375،رشیدیة)
وکذافی فتح القدیر:(7/337،رشیدیة)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:مدثرشریف غفرلہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
14/9/1443/2022/4/16
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:143

ایک شخص شروع نماز میں شریک تھادرمیان میں اُس کاوضوٹوٹ گیاتووضوکےبعداپنی نمازپربناءکرسکتاہے؟ اسی طرح وضوءکےدوران جورکعتیں رہ گئیں وہ امام کے سلام پھیرنےسے پہلے ادا کرے یاسلام پھیرنےکےبعد؟

الجواب حامداًومصلیاً

اگریہ شخص بناءکی شرائط پرعمل کرتاہےتوواپس آکراپنی نمازپربناءکرسکتاہے، جورکعتیں وضوکے دو ران رہ گئیں وہ پہلے اداکرے اورپھرامام کےساتھ شریک ہوجائے،اگروہ آکرامام کےساتھ شریک ہوگیا اوربقیہ رکعتیں امام کے سلام پھیرنےکےبعداداکرتاہےتویہ بھی جائزہے۔

لمافی الموسوعةالفقہیة:(17/125،علوم اسلامیہ)
وقال الحنفیہ:اِن سبق المصلی حدث توضأوبنیٰ،لماوردفی الحدیث:عن عائشۃرضی اللہ عنھاعن النبیﷺانہ قال:من اصابہٗ قئی ،اورعاف،اوقلس،اومذی،فلینصرف فلیتوضأثم لیبن علی صلاتہ وہوفی ذالک لایتکلم (رواہ ابن ماجہ:1/85))وفی صفحہ125)وان کامقتدیافانصرف وتوضأفان لم یفرغ من الصلاۃفعلیہ ان یعودلانہ فی حکم المقتدی بعد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ثم اذاعادینبغی ان یشتغل اوّلابقضاءماسبق بہ فی حال تشاغلہ بالوضوء،لانہ لاحق،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ولوتابع امامہ اوّلا ثم اشتغل بقضاء ماسبق بہ بعدتسلیم الامام جازت صلاتہٗ
وفی البدائع:(1/516،رشیدیہ)
واختلف فی الحدث السابق:وہوالذی سبقہ من غیرقصد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔قال اصحابنا:لایفسدالصلاۃ،فیجوزالبناءاستحسانا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(وفی صفحہ523)وان کان مقتدیافانصرف وتوضأ،فان لم یفرغ امامہ من الصلاۃفعلیہ ان یعودلانہ فی حکم المقتدی بعد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ثم اذاعادینبغی ان یشتغل اوّلابقضاءماسبق بہ فی حال تشاغلہ بالوضوء،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وولوتابع امامہ اوّلا،ثم اشتغل بقضاءماسبق بہ بعدتسلیم الامام ،جازت صلاتہ عندعلمائناالثلاثۃ
وکذافی ردالمحتار:2/423،دارالمعرفت) وکذافی مجمع الانہر:(1/177،المنار)
وکذافی الہندیہ:(1/93،رشیدیہ) وکذافی التاتارخانیہ:(2/359،فاروقیہ)
وکذافی المبسوط:(1/169،دارالمعرفت) وکذافی خلاصةالفتاویٰ:(1/140،رشیدیہ)
وکذافی المحیط البرہانی:(2/284،ادارةالقرآن) وکذافی اللباب:(1/94،قدیمی)

واللہ اعلم بالصواب
محمدرفیق غُفرلہٗ
متخصص جامعۃالحسن ساہیوال
22/4/1443/2021/11/28
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:140