ایک آدمی شروع سے امام کے ساتھ نماز میں شریک رہا۔ امام کو غلطی لگی ، اس نے سجدہ سہو کے لیے سلام پھیرا ، لیکن مقتدی نے سلام پھیرے بغیر امام کے ساتھ سجدہ سہو کرلیا ، کیا اس کی نماز ہوگئی؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ میں مقتدی کی نماز تو ہوگئی ہے ، لیکن جان بوجھ کر ایسا کرنے کی وجہ سے مقتدی گنہگار ہوا۔

لما فی الدر المختار:(2/78،سعید)
و علیہ لو اتی بتسلیمتین سقط عنہ السجود و لو سجد قبل السلام جاز و کرہ تنزیھاً
وفی بدایةالمجتھد:(1/183،قدیمی)
فکانھم اتفقوا علی ان الاتباع واجب لقولہ علیہ السلام انما جعل الامام لویؤتم بہ
وکذافی البحر الرائق:(2/163،رشیدیہ)
وکذافی الھندیة:(1/125،رشیدیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(2/308،بیروت)

 

واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
03/05/1442/2020/12/19
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:22

اقامت کے وقت ہاتھ باندھ کر کھڑا ہونا کیسا ہے؟ بعض لوگ اس کو بدعت کہتے ہیں ، کیا یہ درست ہے ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

قرآن وسنت اور فقہاء کی عبارات میں اس کا کہیں ثبوت نہیں،اس لیے دین کا حصہ سمجھ کر ایسا کرنا بدعت ہے ۔

لما فی القرآن الکریم:(سورةالحشر/آیة،7)
وماآتاکم الرسول فخذوہ ومانھاکم عنہ فانتھوا
وفی مشکوةالمصابیح:(1/27،رحمانیہ)
عن عائشۃ رضی اللہ عنھا قالت قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من احدث فی امرنا ھذا ما لیس منہ فھو رد
وفی السنن لابی داؤد:(2/290،رحمانیہ)
قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم من صنع امرا علی غیر امرنا فھو رد
وکذافی مرقاةالمفاتیح:(1/365،التجاریہ)
وکذافی بذل المجھود:(18/71،قدیمی)
وکذافی السنن لابن ماجة:(1/100،رحمانیہ)
وکذافی تفسیرالمنیر:(4/455،امیرحمزہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
28/5/1442/2021/1/13
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:157

نمازمیں آدمی کے دل میں جو خیالات آتے ہیں اور بسا اوقات آدمی دل میں کوئی بات کرتا ہے زبان پر اس بات کو نہیں لاتا تو کیا نماز فاسد ہوجائے گی؟

الجواب حامداًومصلیاً

محض خیالات آنے سے نماز فاسد نہیں ہوگی۔

لمافی الصحیح لمسلم:(1/104،رحمانیة)
عن أبی ھریرۃ قال قال رسول اللہ ﷺان اللہ تجاوزلأمتی ما حدثت بہ انفسھا مالم یتکلموا أو یعملوابہ
وفی الموسوعةالفقھیة:(43/148،علوم اسلامیة)
إذاغلب الوسواس علی اکثرالصلوۃ لا یبطلھا لأن الخشوع سنۃ،والصلوۃ لاتبطل بترک سنۃ
وفی الفقہ الحنفی:(1/246،الطارق)
ویشترط لفساد الصلوۃ بالکلام أن یکون الکلام مسموعاًللمتکلم،وألا لا یعد کلاماً
وفی حاشیة الطحطاوی علی الدر:(1/194،رشیدیة)
وفی ردالمحتارعلی الدرالمختار:(1/417،ایچ ایم سعید)
وفی الفقہ الإسلامی وأدلتہ:(1/781،رشیدیة)
وفی الفتاوی التاتارخانیة:(2/242،فاروقیة)
وفی صحیح البخاری:(606،دارالفکر،بیروت)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:ولی اللہ غُفرلہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
17/9/1443/2022/4/19
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:165

میاں بیوی اگر جماعت کروائیں تو کیا بیوی اقامت کہہ سکتی ہے؟اور لقمہ دے سکتی ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

صورت مسئولہ میں بیوی کا اقامت کہنا اور لقمہ دینا مکروہ ہے،لہٰذا ایسی صورت میں شوہر ہی اقامت کہے۔

لما فی البحرالرائق:(1/470،رشیدیة)
نغمۃ المرأۃ عورۃ وبنی علیہ أن تعلمھا القرآن من امرأۃأحب للرجال والتصفیق للنساء ))فلا یجوز أن یسمعھا الرجل ۔ومشی علیہ المصنف فی الکافی فقال :ولا تلبی جھراًلأن صوتھا عورۃ ومشی علیہ صاحب المحیط ۔۔۔۔۔۔ قیل إذا جھرت بالقرآن فی الصلوۃ فسدت کان متجھا
وفی غنیة المتملی:(217،رشیدیة)
بأن نغمۃ المرأۃ عورۃ أن تعلمھا القرآن من المرأۃ احب لان نغمۃھا عورۃ ولھذا قال علیہ السلام التسبیح للرجال والتصفیق للنساء فلا یحسن أن یسمعھا الرجل أذا جھرت بالقرآن فی الصلوۃ فسدت کان متجھاولذا منعھا علیہ السلام عن التسبیح بالصوت لاعلام الإمام بسہوہ الی التصفیق انتھی
وفی الصحیح لمسلم:(1/219،رحمانیة)
عن ابن شھاب قال أخبرنی سعید بن المسیب وأبوسلمۃ بن عبدالرحمٰن انھما سمعا ابا ھریرۃ یقول قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ((التسبیح للرجال والتصفیق للنساء))
وفی ردالمحتار علی الدرالمختار :(2/94،دارالمعرفة)
وفی المبسوط للسرخسی:(1/133،دارالمعرفة)
وفی الفتاوی التاتارخانیة:(2/278،فاروقیة)
وفی الفقہ الإسلامی وأدلتہ:(2/1182،رشیدیة)
وفی الفتاوی الھندیة:(1/85،رشیدیة)
وفی بدائع الصنائع:(1/376،رشیدیة)
وفی الفقہ الحنفی:(1/193،الطارق)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:ولی اللہ غُفرلہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
17/8/1443/2022/3/21
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:77

مسبوق آدمی امام کے قعدہ اخیرہ میں بھول کرامام کے ساتھ سلام پھیر دیتاہےاور پھر کھڑا ہوکر اپنی نماز مکمل کرلیتاہے،تو سجدہ سہو اس پر ضروری ہوگا یانہیں؟

الجواب حامداًومصلیاً

صورت مسئولہ میں مسبوق پر سجدہ سہوکرنا ضروری ہے۔

لما فی المحیط البرہانی:(2/335،ادارة القرآن)
واذاسلم المسبوق حین سلم الامام ساھیاً، بنی علی صلوتہ وعلیہ سجودالسہو، وانہ لایخرجہ عن حرمۃ الصلوۃ، واماوجوب سجدۃالسہوفلانہ حین سلم الامام، صارہوکالمنفرد، وقدسہاحین سلم، فیلزمہ سجدتاالسہو
وفی حاشیةالطحطاوی علی الدر:(1/312،رشیدیة)
والمسبوق یسجد مع امامہ)ولایسلم معہ بل یقوم الی القضاءفان سلم عامدافسدت والالا ولاسجود علیہ ان سلم قبل الامام اومعہ وان سلم بعدہ لزمہ لانفرادہ بحر
وکذافی ردالمحتار:(2/659،رشیدیة)
وکذافی بدائع الصنائع:(1/422،رشیدیة)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(2/426،فاروقیة)
وکذافی تبیین الحقائق:(1/195،امدادیة)
وکذافی الفقہ الحنفی:(1/281،الطارق)
وکذافی الفتاوی السراجیة:(90،زمزم)
وکذافی البحرالرائق:(2/176،رشیدیة)
وکذافی المجمع الانھر:(1/222،المنار)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:ولی اللہ غُفرلہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
20/2/1442/2021 /9/28

ایک آدمی نے دعائے قنوت کی جگہ بھول کر سورۃ فاتحہ پڑھ لی پھر دعائے قنوت بھی پڑھ لی تو سجدہ سہولازم ہوگایانہیں؟

الجواب حامداًومصلیاً

نہیں۔

لمافی الفتاوی السراجیة:(115،زمزم کراچی)

لیس فی القنوت دعاء موقت من لم یعرف ((اللھم إنا نستعینک))یقول:((ربناأتنا فی الدنیا حسنۃ))(إلی آخرہ)وھواختیارمشایخ بخارارحمھمااللہ تعالیٰ۔أو یقول ((اللھم اغفرلنا))ویکررذلک ثلاثاوھواختیار مشایخ سمرقندرحمھم اللہ۔وبہ أخذ)أبواللیث رحمہ اللہو وقیل مقدارالقیام فی القنوت قدر سورۃ((إذااالسماءانشقت))

وفی بدائع الصنائع:(1/614،رشیدیة)

وأما دعاء القنوت فلیس فی القنوت دعاء موقت کذا ذکرالکرخی فی کتاب الصلوۃ؛لأنہ روی عن الصحابۃ أدعیۃ مختلفۃ فی حال القنوت ۔۔۔۔۔۔اللھم انانستعینک،لان الصحابۃ رضی اللہ عنھم اتفقواعلی ھذا فی القنوت فالأولی أن یقرأہ،ولو قرأ غیرہ جاز،ولو قرأمعہ غیرہ کان حسناً

وفی ردالمحتار علی الدرالمختار:(2/534،رشیدیة)
وفی الفتاوی الھندیة:(2/341،فاروقیة)
وفی فتح القدیر:(1/446،رشیدیة)
وفی الفقہ الإسلامی وأدلتہ:(2/1002،رشیدیة)
وفی المحیط البرھانی:(2/267،داراحیاتراث)
وفی غنیةالمتملی:(417،رشیدیة)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:ولی اللہ غُفرلہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
15/9/1443/2022/4/17
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:166

جمعہ سے پہلے والی سنتیں اگر رہ جائیں،تو کیا ان کو بعد میں ادا کرنا ضروری ہے؟نوافل سے پہلے ادا کریں گے یا بعد میں؟

الجواب حامداًومصلیاً

جی ہاں!یہ سنتیں بعد میں ضرور ادا کرنا چاہیے،ان سنتوں کی حدیث میں بہت فضیلت بیان کی گئی ہے اور نوافل کو ان سے مؤخر کرنا چاہیے۔

لمافی الفتاوی الھندیة:(1/112،رشیدیة)
وأماالأربع قبل الظھر إذافاتتہ وحدہابان شرع فی صلوۃ الإمام ولم یشتغل بالأربع فعامتھم علی أنہ یقضیھابعدالفراغ من الظھر ما دام الوقت باقیا وھوالصحیح وعلیہ الفتوی
وفی الفتاوی التاتارخانیة:(2/302،رشیدیة)
وأمالأربع قبل الظھر إذافاتتہ وحدھا،بأن شرع فی صلوۃ الإمام ولم یشتغل بالأربع ،ھل یقضیھا بعد الفراغ من الظھر ما دامت الوقت باقیا؟فقد اختلف المشایخ فیہ،بعضھم قالوالا یقضیھا ،وعامتھم علی أنہ یقضیھا وھکذا روی عن أبی حنیفۃ
وفی الفتاوی الھندیة:(1/112،رشیدیة)
وفی الحقائق یقدّم الرکعتین عندھماوقال محمدرحمھم اللہ تعالیٰ یقد الأربع وعلیہ الفتوی
وفی المحیط البرھانی:(2/235،داراحیاتراث)
وفی الفتاوی الفقہ الإسلامی وأدلتہ:(2/1058،رشیدیة)
وفی ردالمحتارعلی الدرالمختار:(2/525،رشیدیة)
وفی الفتاوی السراجیة:(118،زمزم کراچی)
وفی جوھرۃ النیرۃ:(1/188،قدیمی)
وفی غنیة المتملی :399،رشیدیة)
وفی الفقہ الحنفی:(1/298،الطارق)
وفی بدائع الصنائع:(1/643،رشیدیة)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:ولی اللہ غُفرلہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
15/8/1443/2022/3/19
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:37

کسی آدمی کی ٹانگوں میں درد ہے،اس حالت میں وہ آدمی چل کر کام کاج کرتا ہے،لیکن نمازبیٹھ کر پڑھتاہے،تو ایسے آدمی کی نماز کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

اگر وہ شخص کھڑے ہونے اور رکوع اور سجدے پر قادر ہےتو بیٹھ کر پڑھنے سے اس کی نماز نہیں ہوگی اور اگر وہ کھڑا تو ہوسکتاہے،لیکن رکوع اور سجدہ پر قادر نہیں تو ایسے شخص کو ضرور قیام کرنا چاہیےاور رکوع کا اشارہ کھڑے ہو کربھی کر سکتا ہے،بیٹھ کر بھی،سجدہ کا اشارہ بیٹھ کر کرلےاور اگر کسی مشقت کے بغیروہ دوسری رکعت کے لیےکھڑا ہو سکتا ہےتو دوسری رکعت بھی پہلی رکعت کی طرح پڑھےاور اگر بیٹھ کر اٹھنے میں زیادہ مشقت ہوتو باقی نمازبیٹھ کر اشارہ ہی سے پوری کرلے۔
البتہ اگر اس شخص نے پوری نماز بیٹھ کرپڑھ لی تو حنفیہ کے مشہور مذہب کے مطابق اس کی نماز ہو جائیگی۔

لما فی فتح القدیر:(2/7،رشیدیة)
وإن قدر)أی المریض علی القیام دون الرکوع والسجودبأن کان مرضہ یقتضی ذلک قولہ:(لم یلزمہ)المنفی اللزوم فأفاداأنہ لو أوماقائماًجاز،الّاأن الایماءقاعداًأفضل لأنہ أأقرب الی السجود،وقال خواہر زادہ:یومئ للرکوع قائماًوللسجودقاعداً،ثم ھذامبنی علی صحۃ المقدمۃ القائلۃرکنیۃالقیام لیس الا للتوسل الی السجود،وقداثبتہابقولہلما فیھامن زیادۃ التعظیم:أی السجدۃعلی وجہ الانحطاط من القیام فیھا نھایۃ التعظیم وھو المطلوب،فکان طلب القیام لتحقیقہ،فإذا سقط سقط ما وجب لہ،وقد یمنعأن شریعتہ لھذا علی وجہ الحصربل لہ ولما فیہ نفسہ من التعظیم کما یشاھد فی الشاھدمن اعتبارہ کذلک حتی یحبہ أھل التجبرلذلک،فإذافات احد التعظمین صارمطلوباًبما فیہ نفسہ ۔ویدل علی نفی ھذہ الدعوی أن من قدر علی القعود والرکوع والسجودلا القیام وجب القعودمع أنہ لیس فی السجود عقیبہ تلک النہایہ لعدم مسبوقیۃ بالقیام۔
وفی الفتاوی الھندیة:(1/136،رشیدیة)
لو عجزعن الرکوع والسجودوقدر علی القیام فالمستحب أن یصلی قاعداًبایماءوان یصلی قائمابایماءجاز عندنا
وفی البنایة:(2/774،رشیدیة)
وأن قدرعلی القیام ولم یقدر علی الرکوع والسجودلم یلزمہ القیام ویصلی قاعداًیومئ إیماء)وقال زفر والشافعی لم یسقط عنہ القیام فی ھذہ الحالۃ،لأنہ رکن فلا یسقط بالعجزعن ادراك رکن
وکذافی حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح:(434،رشیدیة)
وکذافی المحیط البرھانی:(3/27،دار احیاتراث)
وکذافی المبسوط للسّرخسی:1/213،رشیدیة)
وکذا فی اعلاء السنن:(7/202،ادارةالقرآن)
وکذافی اعلاءالسنن:(7/201،ادارۃ القرآن)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:ولی اللہ غُفرلہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
3/5/1443/2021/12/8
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:25

ایک شخص ان پڑھ ہونے کی وجہ سے قرأت پر قادر نہیں اور دوسرا شخص عذر کی وجہ سجدہ نہیں کرسکتا تو ان دونوں میں سے امام کون ہوگا؟یا اکیلے اکیلے نماز پڑھ لیں؟

الجواب حامداًومصلیاً

صورت مسئولہ میں دونوں میں سے کوئی بھی امام نہیں بن سکتا،اس لیے اکیلے اکیلے نماز پڑھ لیں۔

لمافی الفتاوی الھندیة:(1/84،رشیدیة)
ویجوز اقتداء المعذور بالمعذوران اتحدعذرھما وان اختلف فلایجوز
وفی ردالمحتارعلی الدرالمختار:(1/578،رشیدیة)
قولہ ومعذوربمثلہ الخ)أی إن اتحد عذرھما،وإن اختلف لایجوز
وفی البحرالرائق:(1/241،رشیدیة)
وفی مجمع الأنھر:(1/167،المنار)
وفی فتح القدیر:(1/377،رشیدیة)
وفی تبیین الحقائق:(1/141،امدادیة)
وفی الفتاوی السراجیة:(98،زمزم کراچی)
وفی الفقہ الإسلامی وأدلتہ:(2/1245،رشیدیة)
وفی الفتاوی التاتارخانیة:(2/254،فاروقیة)
وفی کتاب الفقہ:(353،360،رشیدیة)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:ولی اللہ غُفرلہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
16/9/1443/2022/4/18
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:164

اگرامام رکوع میں ہو،تونیاشامل ہونےوالامقتدی،تکبیرکہتےہوئےہاتھ اٹھائےیانہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

جی ہاں!یہ مقتدی تکبیرکہتےہوئےہاتھ اٹھائےگا۔

لما فی المبسوط للسرخسی:(1/10،دارالمعرفة)
قال اذاارادالرجل الدخول فی الصلوۃکبّرورفع یدیہ حذاءاذنیہ
وفی الھندیة:(1/73،رشیدیہ)
اذاارادالدخول فی الصلوۃکبّرورفع یدیہ حذاءاذنیہ
وکذافی التاتارخانیة:(2/48،فاروقیہ)
وکذافی الخانیة:(1/85،رشیدیہ)
وکذافی البدائع:(1/465،رشیدیہ)
وکذافی کتاب الاصل:(1/28،عالم الکتب)
وکذافی المحیط البرھانی:(2/30،ادارةالقرآن)
وکذافی تنویرالابصار:(1/479،سعید)
وکذافی الھدایة:(1/97،المیزان)
وکذافی کنزالدقائق:(24،حقانیہ)
وکذافی الفتاوی السراجیة:(61،زمزم)
وکذا فی القدوری:(24،الخلیل)

واللہ اعلم بالصواب
محمدعدنان غفرلہ الکریم
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
19/3/1443/2021/10/26