فر ض نما ز کے بعد اجتما عی د عا کی شر عی حیثیت کیا ہے ؟ یہ اجتما عی دعا کا عمل کب شر وع ہو ا ؟ تفصیلی جو اب مطلوب ہے ۔

الجواب حامداً ومصلیاً

فر ض نما ز و ں کے بعد مطلقا د عا ما نگنے کی تر غیب تو حد یث سےثا بت ہے البتہ اجتما عی طو ر پر دعا ثا بت نہیں ، لیکن اس کو سنت یا مستحب شما ر کیے بغیر ،اجتما عی د عا کی صو رت بن جا ئے تو کو ئی حر ج بھی نہیں ۔

لما فی جا مع التر مذ ی:(2/662،ر حما نیة)
عن ابی أ مامۃ قال قیل یا رسو ل اللہ ای الد عا ء اسمع… قا ل جو ف اللیل الآ خر ود بر الصلو ات المکتو با ت
وفی فیض البا ری :(6/225،رشید یة)
لا ر یب ان الأ د عیۃ دبر الصلو ات قد تو ا تر ت تو ا ترا لا ینکر أ مّا ر فع الأ ید ی ، فثبت بعد النا فلۃ مرّۃ ، او مر تین ،فأ لحق بھا الفقہا ء المکتو بۃ ایضاً .و ذ ھب ابن تیمیۃ ،و ابن القیم الی کو نہ بد عۃ. بقی ان المو اظبۃ علی ام لم یثبت عن النبی صلی اللہ علیہ و سلم الا مرّۃ او مر تین کیف ھی ؟فتلک ھی الشا کلۃفی جمیع المستحبا ت ، فا نھا تثبت طورافطو راثم الأ مۃ تواظب علیھا .نعم نحکم بکو نھا بد عۃ اذا افضی الأمر الی النکیر علی من تر کھا
وکذافی مر قاة الفا تیح:(3/50،التجا ریة)
وکذا فی عمل الیو م و اللیل :(52،مکة المکر مة)
وکذا فی مشکوٰة المصا بیح :(1/90،ر حما نیة)
وکذا فی اعلا ء السنن:(3/206،ادار ة القرآن )

 

واللہ اعلم بالصواب
عبد الو ہا ب بن قاسم خا ن ڈ یر وی
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
5/8/1442/1202/3/20
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:44

فجر کی دو رکعت سنت اگر رہ جائیں تو طلوع کے بعد ان کی قضا کا کیا حکم ہے ؟ اور آیا یہ سنت شمار ہوں گی یا نفل ؟اسی طرح ظہر کی پہلی چار سنتیں رہ جا ئیں تو ان کی قضا کا کیا حکم ہے ؟ کیا وہ بھی سنت شمار ہوں گی یا نفل ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئو لہ میں اگر فجر کی صرف سنتیں رہ جائیں تو بہتر یہ ہے کہ طلو ع کے بعد زوال سے پہلے پہلے پڑھ لی جائیں کیو نکہ روایات میں ان کی بہت تا کید آئی ہے ،البتہ یہ نفل شمار ہو نگے ،اور ظہر کی رہ جانے والی پہلی سنتو ں کی فرض کے بعد ادائیگی میں تو اتفاق ہے ،اور سنت یا نفل ہونے میں اختلاف ہے، صحیح یہ ہے کہ سنتیں شمار ہونگی ۔

لما فی رد المحتار :(2/57،سعید)
قولہ ولا یقضیھا الا بطر یق التبعیۃ الخ )ای لا یقضی سنۃ الفجر الا اذا فاتت مع الفجر فیقضیھا تبعا لقضائہ لو قبل الزوال ، ومااذا فا تت وحد ھا فلا تقضی قبل طلوع الشمس بالاجماع ، لکرا ھۃ النفل بعد الصبح .وأما بعد طلو ع الشمس فکذ لک عند ھما …وقال الخلاف فی أنہ لو قضی کان نفلا مبتدأ او سنۃ ، کذا فی العنا یۃ یعنی نفلا عند ھما سنۃ عند ہ.
وفی البنایة:(2/685،رشید یة)
لأن عائشۃ رضی اللہ عنھا روت ان علیہ السلام فاتتہ الأربع قبل الظہر فقضا ھا بعد ہ… ثم اختلفوا ھل یکو ن الأربع الذی یقضیہ بعد الظھر فی الو قت ھل تکون سنۃ او نفلا مبتدأ… وقیل یکون سنۃ وھو قول صاحبیہ و ھو الأظھر
وکذافی التاتار خانیة:(2/302،فارو قیة)
وکذافی التنویر مع الدر:(2/58،سعید)
وکذافی البحر الر ائق:(2/132،رشید یة)
وکذافی المحیط البر ھانی :(2/234،دار احیاء تراث)
وکذافی حاشیة الطحطاوی علی الدر:(1/300،رشید یة)
وکذافی ملتقی الأبحر :(1/211،المنار)
وکذافی فتح القد یر :(1/292،رشید یة)

واللہ اعلم بالصواب
عبد الو ہاب غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
4/6/1442/2020/1/18
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:200

چندافرا د قید ہیں تو کیا جیل میں جمعہ کے دن ظہر کی نماز ادا کر سکتے ہیں ؟ (2)ظہر کی نماز ضروری تھی ، جمعہ پڑھ لیا تو کیا حکم ہے ؟(3)جمعہ کی نما ز ضرو ری تھی ، مگرظہر کی نماز پڑھ لی تو کیا حکم ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اگرجیل ایسی جگہ ہے جہاں جمعہ کی شرائط پائی جائیں تو جمعہ پڑھنا جائز ہے ،اگر جیل ایسی جگہ ہے جہاں جمعہ کی شرائط نہیں پائی جاتیں تو جمعہ پڑھنا جائز نہیں ہے ۔(2) ظہر کی نماز ضروری تھی( دیہات میں) لیکن جمعہ پڑھ لیا تو جمعہ جائز نہیں ، بلکہ ظہر پڑھنا ضروری ہے۔(3) جہاں جمعہ ادا ہو تا ہو وہاں جمعہ پڑھنا ضروی ہے ،بلا وجہ جمعہ چھوڑ کر ظہر کی نماز پڑھنا درست نہیں، البتہ اگر کسی نے جمعہ چھوڑ کر ظہر پڑھ لی تو فر ض ذمہ سے سا قط ہو جائیگا۔

لما فی ملتقی الا بحر :(1/252،المنار)
ومن لا جمعۃ علیہ ان ادا ھا أجزتہ عن فرض الوقت …و من لا عذر لہ لو صلی الظہر قبلھا جاز مع الکرھۃ
وفی المحیط البر ھانی :(2/395،داراحیاء تراث)
قال فی ”السیر الکبیر“: و الأسیر من المسلیمن فی ایدی أھل الحرب ھم لہ قاھرون ، أن أقاموا بہ فی موضع یرید ون أن یقیموا بہ خمسۃ عشر یوما ، فعلیہ أن یکمل الصلاۃ ، وان کان الأسیر لا یریدون أن یقیم معھم (وان کان الاسیر یرید ان یقیم) فی موضع خمسۃ عشر یوما ، فأخرجوہ من ذلک المو ضع یریدون مسیرۃ ثلاثۃ أیام قصر الصلاۃ،لأن الأسیر مقھور مغلوب فی ایدیھم ، وکان سفر ہ واقا متہ بھم کالعبد مع مولاہ، و القا ئد مع الأعمی ، والتلمیذ مع الا ستاذ
وکذافی الھند یة:(1/148،رشید یة)
وکذا فی بدائع الصنائع:(1/582، رشید یة)
وکذا فی البحر الرائق:(2/266، رشید یة)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(2/1332، رشید یة)
وکذا فی الموسوعة الفقھیة:(4/222،علوم اسلامیة)
وکذا فی القدوری:(36،الخلیل)

 

واللہ اعلم بالصواب
عبد الو ہا ب بن قاسم خان ڈیروی
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
7/9/1442/1202/4/20
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:105

جمعہ کے دو خطبوں کے در میان ہاتھ اٹھاکر دعا کرناجائز ہے ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

ہاتھ اٹھا کر دعا کر نا تو جائز نہیں ،البتہ دل ہی دل میں دعا کر لی جائے۔

لما فی التنویر :(2/158،سعید )
اذا خرج الامام) )….فلاصلاۃ ولا کلام الی تمامھا )وقال ابن عابدین تحت (قو لہ ولا کلام ) …وقال البقالی فی مختصرہ واذا شرع فی الد عاء لایجوز لقوم رفع الیدین ولا تأ مین باللسان جھرا فان فعلوا ذلک أثموا وقیل اساءوا ولا اثم علیھم والصحیح ھو الاول و علیہ الفتوٰی وکذا لک اذا ذکر النبی صلی اللہ علیہ وسلم لا یجو ز ان یصلو ا علیہ بالجھر بل بالقلب وعلیہ الفتوٰی
وفی الفقہ الا سلامی و اد لتہ :(2/1316،رشید یة)
ویکرہ تحر یما عند الحنفیۃ الکلام من قریب او بعید، ورد السلا م ، وتشمیت العاطش ،وکل ماحرم فی الصلاۃ حرم فی الخطبۃ ، فیحرم أکل وشرب وکلام ، ولو تسبیحا او امرا بمعروف ،بل یجب علیہ أن یستمع و یسکت
وکذافی المختصر فی الفقہ الحنفی:(203،البشری)
وکذا فی حاشیة الطحطا وی علی مرا قی الفلاح:(518،قدیمی)
وکذا فی التاتار خانیة:(2/576،فا رو قیہ )
وکذا فی الھند یة:(1/147،رشید یة)
وکذا فی المحیط البر ھانی :(2/463،دار احیاء تراث)
وکذا فی کتاب الفقہ :(1/341،الحقا نیة)
وکذا فی الفقہ الحنفی:(1/320،الطارق)
وکذا فی البحر الرائق:(2/259،رشید یة)

واللہ اعلم بالصواب
عبدالوہاب غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
17/5/1442/2021/1/2
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:117

جمعہ کی سنن قبلیہ2 رکعت پڑ ھنے کی بھی گنجا ئش نہیں ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

جمعہ سے پہلے چا رسنت مؤ کد ہ ہیں دو رکعت پر اکتفا ء د و رست نہیں اگر دو پڑھ لیں تو وہ ظہر سے پہلے وا لی ما ثو ر سنت شما ر نہیں ہونگی ۔

لما فی الھند یة :(1/112،رشید یة)
و قبل الظہر والجمعۃ و بعد ھا أر بع کذا فی المتو ن و الا ر بع بتسلیمۃ و ا حد ۃ عند نا حتی لو صلا ھا بتسلیمتین لا یعتد بہ عن السنۃ
وفی التنو یر مع الد ر :(2/12،سعید )
و سن) مؤ کد ا (أربع قبل الظہر و) أ ر بع قبل (الجمعۃ و) أر بع( بعد ھا بتسلیمۃ )فلو بتسلیمتین لم تنب عن السنۃ
وکذافی الشا میة:(2/13،سعید)
وکذا فی فتح القد یر :(1/459،رشید یة)
وکذا فی العنا یة:(1/461،رشید یة)
وکذا فی حا شیة الطحطا وی علی الدر:(1/284،رشید یة)
وکذا فی البحر الر ائق :(2/87،رشید یة)
وکذا فی منحة الخا لق علی البحر الرا ئق:(2/87،رشید یة)

 

واللہ اعلم بالصواب
عبد الو ہاب بن قا سم خا ن ڈ یر وی
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2/8/1442/2021/3/17
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:101

کیا چھو ٹے بچو ں کی نماز کا لعد م ہو تی ہے چھو ٹے نابالغ بچے اگر نماز پڑھ رہے ہو ں کیا ان کے آگے سے گزرسکتے ہیں؟

الجواب حامداً ومصلیا

چھوٹے بچو ں کی نماز معتبر ہے اگر چہ فرض نہیں لہذا نماز کے ادب کا تقاضا یہ ہے کہ ان کے آگے نہ گز راجا ئے۔

لما فی التجرید :(2/859،محمو د یة)
احتجوا :بما روی عن النبی صلی اللہ علیہ و سلم انہ قا ل (مر وا صبیا نکم با لصلا ۃ لسبع ،واضربوا ھم علیھا لعشر ، وفر قوا بینھم فی المضاجع )فد ل علی ان صلا تہ صحیحۃ ، و الا لکان لا یؤ مر بھاولا یضرب علی تر کھا
وفی الاشباہ والنظا ئر :(3/22،ادار ة القر آن )
و تصح عبا دا تہ و ان لم تجب علیہ
وفی حا شیة الطحطا وی :(305،قد یمی )
لأن النبی صلی اللہ علیہ و سلم شرع فی صلا تہ منفر دا ، ثم ا ئتم بہ ابن عبا س ، و أن صلاۃ الصبی صحیحۃ
وکذافی المو سو عة الفقھیة:(27/26،علوم اسلا میة)
وکذا فی النھر الفا ئق :(1/251،قد یمی)
وکذا فی مشکوٰة المصا بیح:(1/59،رحما نیة)
وکذا فی فتح القد یر :(1/369،رشید یة)
وکذا فی جامع التر مزی :(1/186،رحما نیة)

واللہ اعلم بالصواب
عبد الو ہاب غفر لہ ولو الدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
26/6/1442/2021/2/9
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:169

اقامت کا مسنون طریقہ کیا ہے ؟یعنی کتنے کتنے کلمات ایک سانس میں کہے جائیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اقامت کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ دو دو کلموں کو ایک سانس میں کہاجائے یعنی ایک سانس میں چار مرتبہ ”اللہ اکبر اللہ اکبر“پھر ایک سانس میں دو مرتبہ ”اشھدان لاالہ الااللہ“ پھر ایک سانس میں دو مرتبہ ”اشھدان محمدا رسول اللہ“ پھر ایک سانس میں دو مرتبہ”حیّ علی الصلاۃ“ پھر ایک سانس میں دو مرتبہ” حیّ علی الفلاح“ پھر ایک سانس میں دو مرتبہ” قد قامت الصلاۃ“ پھر ایک سانس میں” اللہ اکبر اللہ اکبر“ اور” لاالہ الا اللہ“۔
اقامت اذان کی بنسبت جلدی جلدی کہنی چاہیے اور اقامت میں بھی اذان کی طرح ”حیّ علی الصلاۃ، حیّ علی الفلاح“کہتے وقت دائیں بائیں جانب چہرہ گھمایاجائے۔

لما فی الھندیة :(1/56،رشیدیة)
و یترسل فی الاذان ویحدر فی الاقامۃ وھذا بیان الاستحباب… والترسل أن یقول اللہ اکبر اللہ اکبر ویقف ثم یقول مرۃ أخری مثلہ وکذلک یقف بین کل کلمتین الی آخر الاذان والحدر الوصل والسرعۃ
وفی المحیط البرھامی:(2/93،دار احیاءتراث)
و یترسل فی الاذان ویحدر فی قال علیہ الصلاۃ والسلام لبلال :اذا اذنت فترسل واذاأقمت فاحدر
وکذافی المختصرفی الفقہ الحنفی:(97،البشری)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(1/706،رشیدیة)
وکذافی الجوھرة النیرة:(124،قدیمی)
وکذافی اللباب :(1/75،قدیمی)
وکذافی التاتار خانیة:(2/143،فاروقیة)
وکذافی بدائع الصنائع:(1/369، رشیدیة)
وکذافی البحرالرائق:(1/447، رشیدیة)

 

واللہ اعلم بالصواب
عبد الو ہا ب بن قاسم خان ڈیروی
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
12/9/1442/1202/4/25
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:154

لوگوں سے سنا ہے کہ فجر کی نماز سے لےکر اشراق کے وقت تک جہا ں نماز پڑھی ہے ادھر بیٹھے رہو تو اشراق کی صحیح فضیلت حاصل ہو گی کیا اس کی کو ئی حقیقت ہے ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

نماز اشراق کی پو ری فضیلت اور مکمل ثواب کا وہ شخص مستحق ہے جو نماز فجر مسجد میں باجماعت ادا کرے یا بوجہ معذو ری گھر میں پڑھے اور اسی جگہ بیٹھا رہے اورذکر الٰہی میں مشغول رہے پھر وقت مکروہ نکل جانے کے بعد دو رکعت یاچار رکعت اشراق اداکرے ۔البتہ اگر کسی شرعی یا طبعی حاجت کی وجہ سے اپنی جگہ سے اٹھ کر چلاجائے اور پھر حاجت سے فراغت کے بعد نماز اشراق ادا کرلے تو اشراق کے ثواب کو حاصل کر لے گا مگر نسبۃ کم ۔

لما فی السنن ابی داؤد:(1/191،رحمانیہ)
معاذ بن انس الجھنی عن ابیہ ان رسو اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال من قعد فی مصلی ہ حین ینصرف من صلوٰۃ الصبح حتی یسبح رکعتی الضحی لا یقول الاخیراغفر لہ خطایاہ وان کان اکثر من زبد البحر
وفی عون المعبود :(4/101،قد یمی)
عن سھل بن معاذ بن انس الجھنی)….(من قعد)ای استمر (فی مصلی ہ )من المسجد أو البیت مشتغلا بالذکر او الفکر او مفیدا للعلم او مستفیدا و طائفا بالبیت( حین ینصرف )ای یسلم( من صلاۃ الصبح حتی یسبح) ای الی ان یصلی (رکعتی الضحی) ای بعد طلوع الشمس وارتفاعھا (لا یقول) ای فیما بینھما( الا خیرا )ای و ھو ما یتر تب علیہ الثواب ، واکتفی بالقول عن الفعل (غفر لہ خطا یاہ) ای الصغا ئر و یحتمل الکبائر قال علی القا ری
وکذافی اعلاء السنن :(7/30،ادارة القرآن )
وکذا فی مشکوٰة المصابیح:(1/116،دار الحدیث)
وکذا فی مرقاة المفاتیح:(3/396،التجار یة)
وکذا فی جامع التر مذی :(1/220،رحما نیة)
وکذا فی الصحیح لمسلم :(1/235،قد یمی)
وکذا فی الکتاب المصنف :(2/133،دار الکتب العلمیة)
وکذا فی التر غیب والترھیب : (1/267،رشید یة)
وکذا فی مجمع الز وائد :(2/413،دار الکتب العلمیة)

واللہ اعلم بالصواب
عبد الو ہا ب غفر لہ ولو الدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
26/6/1442/2021/2/9
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:160

ایک شخص کہتا ہے کہ” السلام “کے”م“ سے پہلے سلام نہیں پھیرنا چاہئے کیونکہ اس سے پہلے انسان نماز میں ہوتا ہے اگر سلام پھیر لے گا تو نماز میں التفاتِ وجہ پایا جائے گا اس لئے السلام کہنے کے بعد چہرہ پھیرنا ضروری ہے،کیا مسئلہ درست ہے ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اختتامِ نماز کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ دائیں بائیں چہرہ پھیر تے ہوئے السلام علیکم کے کلمات کہے جائیں لہٰذا اس آدمی کی مذکورہ بات کی صراحت فقہاءِ کرام کی عبارات میں کہیں نہیں ملتی اور یہ التفاتِ وجہ اختتامِ صلاۃ کے لئے ہے اس لئے اس میں کوئی حرج نہیں ہے ۔

لما فی الھندیة:(1/76،رشیدیة)
ثم يسلم تسليمتين) تسليمة عن يمينه وتسليمة عن يساره ويحول في التسليمة الأولى وجهه عن يمينه حتى يرى بياض خده الأيمن وفي التسليمة الثانية عن يساره حتى يرى بياض خده الایسر…ويقول: السلام عليكم ورحمة الله
وفی المحیط البرھانی:(2/128،داراحیاء)
فیسلم بتسليمتين تسليمةعن يمينه وتسليمة عن یسارہ ويحول في التسليمة الأولى وجهه عن يمينه وفي التسليمة الثانية عن يساره …..وعندنا يقول: السلام بالألف واللام
وکذافی الھدا یة:(1/104،رشید یة)
وکذا فی فتح القد یر:(1/327،رشید یة)
وکذا فی بدائع الصنائع:(1/502،رشید یة)
وکذا فی التاتار خانیة:(2/188،رشید یة)
وکذا فی ملتقی الا بحر: (1/154،المنار)
وکذا فی منیة المصلی:(101،مجید یة)
وکذا فی رد المختار علی الدر:(2/293،رشید یة)

واللہ اعلم بالصواب
عبدالوہاب غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
28/6/1442/2021/2/11
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:166

ایک شخص کے ہاتھ اور منہ آگ سے جل گئے ہیں ، جس کی وجہ سے وضو اور تیمم نہیں کرسکتا ۔ اب نماز کیسے پڑھے ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

یہ صاحب بغیر وضو اور تیمم کے نماز پڑھے گا ۔ اس عذر کی وجہ سے ، اگر رکوع و سجود پر قادر نہ ہو ، تو بیٹھ کر اشارہ سے بھی نماز پڑھ سکتا ہے ۔

لما فی الفقہ الاسلامی:(1/607،رشیدیہ)
من عجز عن الوضو و التیمم معاً بمرض ونحوہ کمن کان بہ قروح لایستطیع معھا مس البشرۃ بوضوء ولاتیمم وحکمہ….. ایجاب الصلاۃ علیہ عند الجمہور
وفیہ ایضاً:(1/407،رشیدیہ)
اما مقطوع الیدین والرجلین اذا کان بوجہہ جراحۃ ، فیصلی بغیر طھارۃ و لاتیمم ولا یعید علی الاصح
وفی الدر المختار:(1/80،سعید)
من قطعت یداہ ورجلاہ وبوجہہ جراحۃ یصلی بلاوضوء ولاتیمم ولایعید قال…… فی الاصح
وکذافی الولوالجیة:(1/104،حرمین)
وکذافی البدائع:(1/171،رشیدیہ)
وکذافی حاشیة الطحطاوی:(1/53،رشیدیہ)
وکذافی کتاب القفہ:(1/92،حقانیہ)
وکذافی فتاوی النوازل:(1/109،حقانیہ)
وکذافی الھندیة:(1/5،رشیدیہ)
وکذافی الجوھرة النیرة:(1/205،قدیمی)

واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
24/6/1442/2021/2/7
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:57